سنگ باریده۔۔۔جہاز جیسے ہی کوئٹہ ائیرپورٹ پر لینڈ کیا اپنے ملک کی مٹی کی سوندھی سی خوشبو نے میرا استقبال کیا۔ ائیرپورٹ پر رش دیکھ کر کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ رات کاآخری پہر ہے۔ ہر سو پھیلی روشنی دیکھ کر د ن کا گمان ہوتاتھا، کہیں اپنوں سے ملنے کی خوشی دکھ رہی تھی تو کہیں بچھڑنے کا خوف صاف دکھ رہا تھا۔ تمام عمومی کاروائیوں کے بعد ائیر پورٹ کی عمارت سے باہر نکلتے ہی میں نے اپنی چادر کو اپنے وجود کے گرد اچھی طرح لپیٹ لیا ۔ ہم سب کے سوار ہوتے ہی نرسنگ نے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا عندیہ دیا۔ بچے اشتیاق سے کھڑکی سے نظر آتے مناظر کو دیکھ رہے تھے اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ یہ خطہ آج بھی ویسا ہی ہے انکی روایات انکی اقدار کچھ بھی تو نہیں بدلا ان گزرے بیس سالوں میں کچھ بدلا ہے یا نہیں ؟ ہاں بدلا تو ہے یا شاید ترقی کے نام پر شہر کے خاص حصے کو ہی دورحاضر کے مطابق بنایا گیا ہے۔ شہر کوئٹہ کو چاند کی روشنی نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا اور اس وقت یہ کسی جادونگری کا دیس لگ رہا تھا پراسرار سا۔۔۔۔اور میں اس اسرا ر میں اس قدر گم تھی کہ نرسنگ کے پکارنے پر بھی انکی جانب متوجہ نہیں ہوئی پھر عائشہ نے مجھے زور سے ہلایا تو ہڑبڑا کرانکی جانب متوجہ ہوئی۔”ممی با آپ سے بات کررہےہیں۔ “ ”اوہ سوری مجھے اندازہ نہیں ہوا۔“ میں نے شرمندگی سے جواب دیا۔”کوئی بات نہیں ، مریم میں کہہ رہا تھا کہ بچے تھک گئے ہونگے تو آپ چاہیں تو ہم رات کوئٹہ میں ہی ٹھہر جاتے ہیں، صبح ناشتے کے بعد پھر سفر کرلینگے آپ کیا کہتی ہیں؟ “نرسنگ نے پیچھے مڑ کر میری رائے لینا چاہی مگر انکے نظریں چرانے پر میں سمجھ گئی کہ وہ بھی میری طرح دل سے سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں محض ہماری بےآرامی کی وجہ سے رکنے کا سوچا ہے۔ ” نہیں ڈھائی تین گھنٹے کا ہی سفر ہے اب قلعہ پہنچ کر ہی آرام کرلینگے۔“ میرا جواب سن کر انھوں نے ڈرائیور کو سفر جاری رکھنے کا کہا اور بچوں سے باتوں میں لگ گئے۔ میرے اور نرسنگ کے تین بچے ہیں سعد اللہ اور سیف اللہ سترہ سال کے ٹوئنز ہیں اور بیٹی عائشہ جوکہ تیرہ سال کی ہے۔ سعد اور سیف نے اپنی سیٹ پیچھے کر کے اب آرامدہ پوزیشن میں نیم دراز ہوگئے تھے وہ پیجیرو کی سب سے پچھلی سیٹ پر تھے ، نرسنگ ڈرائیور کے ساتھ اگلی نشست پر تھے اور میں اور عائشہ درمیان والی سیٹ پر تھے۔ دونوں بیٹے قدرے مطمئن تھے اور سفر کو فلحال سر پر سوار نہیں کیا ہوا تھا جبکہ عائشہ بہت اداس اور ڈری ہوئی تھی، سارا راستہ میرا ہاتھ تھامے رہی اور ابھی بھی میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا میں اسکی اضطراری کیفیت سمجھ رہی تھی مگر اسکو مطمئن کرنے میں فلحال ناکام تھی۔ اسکو ہمارا لندن سے واپسی کا فیصلہ کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا، جب سے ہم نے اسے بتایا کہ اب ہم ہمیشہ کیلئے واپس قلعہ سیف اللہ جا رہے ہیں تب سے اب تک اس نے بہت رونا دھونا کیا کہ میں کبھی بھی پاکستان نہیں گئی اور اب اچانک وہ بھی سب کچھ ختم کرکے جانا اسکو سمجھ نہیں آرہاتھااور شاید ابھی اسکو سمجھ آنا بھی نہیں تھا اور شاید پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ نرسنگ نے اسکے رونے پر اپنا فیصلہ نہیں بدلا تھا ورنہ وہ کبھی اسکی بات نہیں ٹالتا تھا شاید وہ کبھی ٹال بھی نہیں سکتا تھا۔ یا شاید اسکی عمر بھی ایسی تھی کہ ابھی وہ بہت سی باتوں کو سمجھنے سے کاثر تھی۔ جبکہ سیف اور سعد نے اس سب صورتحال پر بہت سمجھداری کا مظاہرہ کیا تھا انھوں نے کوئی سوال جواب نہیں کیا تھا ویسے انکا بنتا بھی نہیں تھا کیونکہ وہ دونوں ہی میرے اور نرسنگ کے زندگی کے بہت سے رازوں سے واقف تھے۔کیونکہ نرسنگ نے کبھی بھی ان سے کچھ نہیں چھپایاتھا بلکہ وہ ہمیشہ کہتا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں سے اپنی اچھائیاں اور برائیاں کچھ نہیں چھپانا چاہئےتاکہ آگے زندگی میں جاکر انکو اپنے رشتوں کو انکی خامیوں سمیت اپنانے میں کوئی مشکل نہ ہو۔ نرسنگ کے بارے میں میری اپنی ذات کو لیکر جو بھی رائے ہومگر میں یہ بلاجھجک کہہ سکتی ہوں وہ باپ بہت اچھا ہے ناصرف اپنے بیٹوان کا بلکہ عائشہ میں تو اسکی جان بستی ہے اور میں ہمیشہ دعا کرتی ہوں کہ انکا آپس کا بونڈ ہمیشہ ایسا ہی رہے۔“Mummy , mummy !I am scared , my friends told me that it’s a very backward area and there are no such good educational opportunities.”عائشہ نے میرا ہاتھ دبا کر آہستہ آواز میں سوال کیا۔ ابھی میں جواب دینے کیلیے الفاظ جوڑ رہی تھی کہ نرسنگ نے پیچھے مڑ کر اسکا ہاتھ تھام لیا اور پیار سے سمجھانے لگا۔”بچے آپ کیوں پریشان ہورہی ہو با ہیں نہ۔ آپ لوگ ممی کے ساتھ کوئٹہ میں رہوگے اور ادھر بہت اچھے انسٹیٹیوٹ ہیں اور جیسے میں نے آپ لوگوں سے پرامس کیا ہے کہ فائنل ڈسیژن آپ کا اپنا ہوگا کہ پاکستان میں رہنا ہے یا واپس لندن ۔ اور ہمیشہ یاد رکھنا ہم آپکے ساتھ ہیں trust me ۔“ نرسنگ نے ہاتھ بڑھا کر اسکے گال کو تھپتپھایا اور میری جانب تسلی دیتی نظروں سے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گاڑی نیشنل ہائی وے پر رواں دواں تھی دور دور تک کوئی زی روح نہیں تھا۔ کئی لمحوں کے بعد اس خاموشی میں کوئی پاس سے گزرتی گاڑی کی آواز ارتعاش پیدا کر دیتی تھی۔ ہم لوگ قلعہ سیف اللہ کی جانب سفر جاری کیے ہوئے تھے۔ پچھلی گاڑی میں سامان کے ساتھ گارڈز تھے، سامان بھی کوئی کم تھا آخر کو تو بیس سال سے بسے گھرکو پیچھے چھوڑ کر آرہے تھے، اور اب شاید سامان سے زیادہ سوچوں اور ذمہ داریوں کا بوجھ زیادہ تھا جس نے ہمیں نڈھال کیا ہوا تھا۔ شاید واپسی کے سفر کی اپنی ہی الگ تھکان ہوتی ہے خیر نرسنگ اور میرے لیے تو سفرکا آغاز بھی بہت دشوار تھا جسکی نظر نجانے کتنے سال ہوگئے تھے۔” مریم آپ بھی تھوڑی دیر آرام کرلیں ابھی ہمیں ٹائم لگ جائے گا۔“ نرسنگ نے پانی کی باتل پکڑاتے ہوئے کہا۔”شکریہ! جی میں کوشش کرتی ہوں آپ بھی دوا لے لیں اپنی اور چاہیں تو پچھلی سیٹ پر آجائیں تھوڑی دیر۔ “ ایک مدت کے بعد میں نے انکا مجھ سے نظریں چرانا صاف محسوس کیا۔”شکریہ۔ “ مختصراً جواب آیا اور میں سمجھ گئی کہ انکو بھی اس وقت خاموشی اور سکون چاہئے۔ میں نے عائشہ کا سر اپنے گود میں رکھا اور اس پر چادر پھیلا کر اپنا سر سیٹ کی ٹیک کے ساتھ لگا کر آنکھیں موند لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Sang Bareedah By Ayesha Verdan Episode 1

