اگلے روز صبح سے ہی حویلی میں بہت چہل قدمی تھی ۔ امو جان سب کام ملازماؤں کو سمجھانے لگی ہوئی تھیں کہ اگلے دو تین دن کیا کام کرنا اور کب کرنا ہے۔ جب سے آبگینے تائی کو شیاٹیکا کا مسئلہ ہوا تھا پوری حویلی کا کام امو جان پر آگیا تھا اور اب جبکہ انکو تین چار دن کیلئے جانا تھا تو وہ بہت ہی پریشان تھیں کہ پیچھے کے معاملات درست طریقے سے ہوتے رہیں۔” کیا ہوگیا ہے گل , اتنا کیا کام کے لئے ہلکان ہونا ہوجائیگا سب کام میں بھی ہو اور نورے(امو جان کی خاص ملازمہ )کو بھی تم یہیں چھوڑے جا رہی ہوپھر کس بات کی فکر اتنے سال بعد ہی تمہیں باہر نکلنے کا موقع ملا ہے تو آرام سے سکون سے گزارو۔ “ آبگینے تائی نے ہال جوکہ عورتوں کے استعمال میں تھا میں موجود تخت پر بیٹھتے ہوئے امو جان کو کہا جو ابھی نورے پر غصہ کر رہی تھیں کی جلدی جلدی کام ختم کرے۔”خور مجھے آپکی فکر ہے آپ کیسے اکیلے رہوگے آپ بھی ہمارے ساتھ چلو نہ نرسنگ سے بھی مل لینا۔ میں بھی جانا نہیں چاہ رہی تھی مگر اس لڑکی کہ دماغ کا آپکو پتہ اب خان کو کہہ دیا کہ سیر پر جانا ہے تو جانا ہے اب یہاں کہ بھی سو کام ہیں مگر نہیں میری کوئی کونسا سنتا ہے۔ “ امو جان جو پہلے ہی عائشہ پر غصہ تھیں اب آبگینے تائی کی ہمدردی پا کر اپنا دل ہلکا کرنے لگیں۔”گل بچیاں ہیں انکا بھی دل کرتا ہوگا کہیں آئیں جائیں تو اس میں کیا حرج ہے اور مجھے لگتا ان سے زیادہ تمہیں ضرورت ہے ایک تھوڑا ماحول بدلنے کی۔ کیا مجھے نہیں دکھتا کہ تم تو اپنے بھائیوں کے بھی نہیں جاتیں سالوں بیت گئے۔ “ تائی نے انکو تخت پر ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا اور ساتھ ہی نورے کو قہوہ لانے کا کہا۔ ”آپکو وہاں نہ جانے کی وجہ معلوم تو ہے اتنے سال بیت گئے انھوں نے کونسا مجھے یاد کیا ہے۔ “ امو جان اپنے میکہ کا ذکر کرتے ہوئے افسردہ ہوگئیں ” تمہارا بھی کوئی ثانی نہیں گل عائشہ کی خاطر اپنے سگے رشتے چھوڑ دیے کہ وہ اسکے وجود کو ماننے سے انکاری تھے اور خود آج تک اسکو ممتا کے لمس سے روشناس نہیں کروایا وہ بچی کہتی کچھ نہیں مگر اسکی آنکھوں میں صاف دکھتا ہے کہ وہ تمہارا اظہار چاہتی ہے تمہاری ممتا کو محسوس کرنا چاہتی ہے اسکو اتنا نہ ترساؤ گل۔ جہاں اتنا ظرف دکھایا وہاں اپنی آغوش بھی اسکے لیے کھول دو یقین جانو تم بھی پر سکون ہوجاؤگی۔ “ انھوں نے محبت سے اموجان کو سمجھایا اور قہوہ کی پیالی انکی جانب بڑھائی۔”خورے ( پشتو میں بہن ) آپ واقعی شاعر کی بیٹی ہیں اف اتنی مشکل زبان بولتی ہیں ۔ “ امو جان نے لہجے کو سرسری سا بناتے ہوئے بات بدلی اور تائی آبگینے سمجھ گئیں کہ وہ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتی ۔ ”ہاں بھئی اپنے علاقے کہ واحد اردو کے شاعر کی بیٹی ہوں آخر میں اور خود بھی شاعرہ ہی ہوں تم یہ کیوں بھول جاتی ہو ، اور شاید اب تک اس قبیلے کی سب سے پڑھی لکھی خاتون بھی ۔ “ انھوں نے ہنستے ہوئے بادام منہ میں ڈالا ۔ ”جی جی مجھے یاد ہے کیسے آغا جان نے بڑے خان سے چھپ کر آپکو ایف اے کے امتحان دلوائے تھے، اف کیا وقت تھا جب وہ آپکو ڈاکٹر کے چیک اپ کے بہانے کوئٹہ امتحان دلوانے جاتے تھے تب تو یہاں آس پاس کسی علاقے میں کوئی خاص کالج بھی نہیں تھا۔“ اب وہ دونوں ماضی کی باتیں کرنے لگیں”آغا جان کا یہ احسان میں کبھی نہیں بھولونگی کیسے بیٹیوں کی پیدائش کے بعد خان اور خانی کی بیٹے کی خواہش کو ضد بننے پر انھوں نے مجھے حوصلہ دیا تھا اور خود کو مصروف کرنے کیلئے تعلیم کا سہارا لینے کا راستہ دکھایا اور دیکھ لو نرسنگ کی پیدائش کے بعد ہی ایف اے مکمل ہوا میرا۔ تمہیں بھی سب نے کتنا کہا تھا کہ میٹرک کے بعد آگے پڑھ لو مگر تم نہ مانیں۔ “ وہ اپنے ماضی کی اچھی یادوں کو یاد رکھے ہوئے تھیں اور اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ شاہد خان ایک آئیڈیل مرد تھے ہر رشتے میں توازن رکھنے والے اور وہ اپنی علاقے اور اپنے سے جڑے رشتوں کےلئے مثبت ترقی کے خواہاں تھے۔” آپکو معلوم ہے مجھے پڑھائی کا کوئی خاص شوق نہیں تھا ہاں کہانیاں جتنی مرضی پڑھوا لو ۔“ اب وہ دونوں دھیما دھیما ہنسنے لگیں پاس کام کرتی ملازماؤں نے ان دونوں کو یوں ہنستا دیکھ کر حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا کیونکہ وہ دونوں اکثر چپ چاپ اپنا کام کرنے کی عادی تھیں ۔ مگر ماضی کی اچھی یادیں خاموش سے خاموش انسان کو بھی مسکرانے پر مجبور کردیتی ہیں۔” مگر دیکھو تمہاری بیٹیاں تم پر نہیں گئیں انکو تو اتنا شوق ہے پڑھنے کا اب دیکھو عائشہ انگلش لٹریچر اور مریم سائنس پڑھنا چاہتی ۔ “”وہ ہے نہ خجستہ میرے جیسی دیکھنا لگے باندھے ایف اے کرلے بہت ہے بس اسکو کہانیاں پڑھوالو اور اب تو خیر سے لکھنا بھی شروع کیا ہوا پچھلی بار نرسنگ کو دی تھی اس نے اپنی کہانی کہ کسی شمارے میں چھپوانے کیلئے۔ اور مزے کی بات بتاؤں ان سب کو لگتا کہ ہمیں جیسے یہ نہیں معلوم ۔ مگر یہ کیا جانیں ماؤں کو تو سب پہلے سے معلوم ہوتا ہے۔ “ اب کی بار ہلکا سا قہقہہ لگا کر دونوں ہنسیں۔” شکریہ ! مجھے معلوم ہے آپ نے مجھے اپنے پاس میری پریشانی کم کرنے کیلئے بٹھا یا تھا ۔“ امو جان نے مسکراتے ہوئے عقیدت سے آبگینے تائی کا ہاتھ ہونٹوں سے لگایا۔”گل مجھے معلوم تمہارے دل کو کیا چیز پریشان کر رہی ، اسکی تربیت تم نے کی ہے وہ بہت مضبوط ہے اسکے آگے پڑھنے کے فیصلے پر خوش ہو جاؤ مجھے معلوم تم کہو یا نہ کہو مگر تم عائشہ کے بغیر رہنے کا سوچ کر پریشان ہو۔ “ تائی آبگینے نے امو جان کے دل کی بات انکے سامنے رکھ دی مگر وہ آگے سے کچھ نہ بولیں اور بس ایک آنسو انکی آنکھ سے چھلک گیا۔ وہ اندر سے اسکے لئے ایسی ہی تھیں مگر بظاہر سخت پتھر۔”میں دیکھتی ہوں بچیوں نے جانے کی تیاری کرلی کہ نہیں خان آتے ہی ہونگے وہ باہر گئے ہیں قبیلے کے کچھ کام دیکھنے ، آپ بتائیں کچھ منگوانا ہو تو کوئٹہ سے۔ میںنہ وغیرہ کے کپڑے تو میں لیتی آؤنگی ۔ “ امو جان نے اٹھتے ہوئے کہا ”نہیں جو تمہیں بہتر لگے لے لینا ہاں البتہ ابھی نرسنگ کےلئے میں نے کھانا بنوایا ہے وہ میں پیک کروا دیتی ہوں ۔ “وہ بھی کچن کی جانب چل دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Sang Bareedah By Ayesha Verdan Episode 3

