قسط نمبر 4” کیا نام لیا تم نے جیسیکا؟؟؟“ بہرام خان کی خوفزدہ آواز سنائ دی۔” ہاں جیسیکا بہرام خان!!!“ بہرام خان کو لگا جیسے وہ کسےلی طوفان کی ضد میں ہیں ، کیتھرین کے الفاظ نے وہاں موجود ہر شخص کے پیروں تلے سے زمیں کھینچ لی تھی۔” کیسے ؟کیسے کرسکتی ہو تم میرے ساتھ ایسا، اس معصوم کے ساتھ ایسا، یہ اسکا حق تھا اسکا باپ مسلمان تھا ، ظلم ہوگیا اسکے ساتھ گناہ ہوگیا مجھ سے۔۔۔ “ وہ سہارے کیلئے صوفہ پر بیٹھ گئے اور اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں گرا لیا۔ اس وقت ہر شخص بے آواز رو رہا تھا اور وہ معصوم بچی جو لگ بھگ 7, 8 سال کی تھی ایک کونے میں کھڑی اپنی زندگی کے فیصلے ہوتے دیکھ رہی تھی، اسکی نیلی آنکھوں میں خوف تھا اس معصوم کو تو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ اسکی ماں اسکو ہمیشہ کیلئے ادھر چھوڑنے آئی ہے۔ ” آبگینے آپ اس بچی کو اندر لے جائیں ، مریم اور نرسنگ کے پاس، وہ یہاں پریشان ہورہی ہے۔“ آغاجان کی بارعب آواز نے اس خاموشی کو توڑاآبگینے اسکو لیکر باہر آگئیں جہاں بچے بیٹھک سے کان لگائے کھڑےتھے مریم اور خجستہ کو کچھ سمجھ نہیں آیا مگر نرسنگ اتنا بڑا ضرور تھا کہ اندر ہوتی باتوں کو سمجھ سکتا۔”مریم ، خجستہ ادھر آؤ بیٹا بہن کو اندر لیکر جاؤ اور ساتھ کھیلو شاباش نرسنگ آپی کو بلا کر لاؤ ان سے کہنا اسکو کچھ کھانا کھلا دیں لمبے سفر سے آئی ہے۔ “ انھوں نے پیار سے بچوں کو سمجھایا وہ خود بھی نہیں جانتی تھیں کہ اس پیاری سی بچی کی زندگی کا کیا فیصلہ ہوگا۔ انکو اندر بھیج کر وہ واپس بیٹھک میں آگئیں جہاں کیتھرین اور بہرام آمنے سامنے کھڑے تھے” اب کیا چاہتی ہو تم مجھ سے؟“ ” مجھے ڈائیورس کرو تاکہ میں آگے بڑھ سکوں تم نے تو پلٹ کر دوبارہ نہ دیکھا میں نے بہت انتظار کرلیا اب بس۔“ بلاشبا اس عورت نے بھی بہت برداشت کیا تھا کہاں کوئی کسی جانے والے کے پلٹنے کیلئے سالوں انتظار کرتا ہے۔”اور ہاں میں اب جیسیکا کی ذمہ داری بھی نہیں لےسکتی ، اسکا باپ ہے اسکا اپنا خاندان ہے تو میں کیوں سنبھالوں، اگر تم اسکو قبول نہیں کرتے تو میں اسکو چرچ کے حوالے کردونگی ۔ “” تم نے ایسا کیا تو میں تمہاری جان لے لونگا“۔ وہ غصہ میں یکدم آگے بڑھے مگر آغاجان نے بیچ میں آکر انکو روک دیا”پاگل ہوگئے ہو کیاعقل سے کام لو۔ اورخاتون ہم آپکے مطالبات ماننے کو تیار ہیں مگر ڈاکیومنٹس میں کچھ دن لگ جائینگے تب تک آپکو یہاں پاکستان میں ہی رہنا ہوگا۔“ ” جی اگلے پورا ہفتہ میں اسلامآبادمیں ہوں آپ مجھے پیپرزبھجوادیئے گا۔“ کیتھرین اپنا بیگ اٹھا کر آگے بڑھی اور پھر واپس پلٹی اور بہرام کے سامنے آکر رکی ” بہرام میں تمہارے ساتھ sincere تھی مگر شاید ہمارا ساتھ نہیں لکھا تھا، بس اتنا کہونگی کہ اپنی بیٹی کا خیال رکھنا وہ بہت معصوم ہے اور تم سے بہت پیار بھی کرتی ہے مگر میں شایداس سے تمہاری بے رخی کا بدلہ ہی لیتی رہی اسکو کبھی ماں کے لمس سے روشناس نہ کرواسکی ۔ “ اس نے تلخی سے اپنے آنسو صاف کئے اور چل دی۔”مل تو لو اس سے جاتے جاتے۔ “ اس نے اپنے پیچھے نرسنگ کی آواز سنی” نہیں ۔“ اس نے پلٹنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی تھی مگر جیسے ہی وہ داخلی دروازہ عبور کرنے لگی باہر باغیچے میں کھیلتی جیسیکا کی نظر اس پر پڑی اور وہ روتے ہوئے اسکے پیچھے بھاگی” mom please stop, don’t leave me alnoe please mom!!!“آبگینے نے آگے بڑھ کر اسکو تھاما مگر وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپتی رہی۔ بہرام خان اسکو گود میں تھامے اندر لے آئے۔ ”گل، میں آج ایک بار پھر آپ سے کچھ مانگنا چاہتا ہوں، میرا مان رکھینگی امیدکرتا ہوں “ وہ گل مینہ کے سامنے آکر رکے وہ جو اتنی دیر سے خاموش کھڑی اس ساری کاروائی کو دندھلائی نظروں سے دیکھ رہی تھیں ہوش میں آئیں، ایک نظر اس بچی پر اور اسکا ہاتھ تھامے بہرام پر ڈالی اور اپنے قدم بڑھادئے مگر اگلے ہی لمحے انکو رکنا پڑا کیونکہ انکا ہاتھ بہرام کے ہاتھ میں تھا۔” خان ابھی مجھے جانے دیں برائے مہربانی !!“ تلخی بھرے بھیگے لہجے میں انھوں نے اپنا ہاتھ چھڑوایا” پلیز گل !“ اور گل انکے جڑے ہاتھ دیکھ کر وہیں رک گئیں”میں سب کا گناہ گار ہوں آپکا، کیتھرین اس ور سب سےزیادہ اس معصوم کا۔ لالہ میں تو اسکا بنیادی حق بھی نہیں دے سکا بے دین رہی میری بچی خدا مجھے معاف کردے ۔“ اس وقت بہرام خان جیسا مضبوط انسان کسی بچے کی طرح رو رہا تھا۔ آغا جان نے آگے بڑھ کر انکو اپنے ساتھ لگایا اورحوصلہ دیا ۔” میں آج اعلان کرتا ہوں یہ میری بیٹی عائشہ ہے ، عائشہ بہرام خان اور میں اسکا باپ اور گل اسکی ماں۔“ انھوں نے بہت امید سے گل کی جانب دیکھا” گل کیا آپ میری بیٹی کو میری باقی اولاد کی طرح مسلمان بنائینگی اسکی تربیت ایک مسلمہ کے طرز پر کرینگی اسکو مریم اور خجستہ کی بڑی بہن ہونے کامان دینگی؟“
Sang Bareedah By Ayesha Verdan Episode 4

