Cousin Based Feudal System based Haveli base

Sang Bareedah By Ayesha Verdan Episode 5

جب ساون بادل چھائے ہوںجب پھاگن پھول کھلائے ہوںجب چندا روپ لٹاتا ہوجب سورج دھوپ نہاتا ہویا شام نے بستی گھیری ہواک بار کہو تم میری ہو ۔۔۔۔گلوکار کی آواز گاڑی میں گونج رہی تھی ، باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی جوکہ منظر کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر رہی تھی ، وہ دونوں نفوس اس وقت گانے کی شاعری میں کھوئے ہوئے تھے۔ آج نرسنگ عائشہ کو کوئٹہ چھوڑنے جا رہا تھا ، اسکی یونیورسٹی شروع ہوگئی تھی پچھلی گاڑی میں گارڈز اور ملازمہ ساتھ تھے جو اب کوئٹہ والے گھر میں مستقل عائشہ کے ساتھ رہنے تھے۔ ” عائشہ!!!“ نرسنگ کی آواز سن کر عائشہ نے چونک کر اسکی جانب دیکھا وہ نجانے کتنی دیر سے باہر کے نظاروں میں کھوئی ہوئی تھی۔” جی؟ “ اس نے سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا” ایسا کیا ہے باہر جو ساتھ بیٹھے شخص سے بھی زیادہ خاص ہے، کب سے آپ مجھ معصوم کو نظرانداز کئے ہوئے ہیں؟ “عائشہ کی نظریں خود بخود جھک گئیں۔” فرمائیے مادام !“ نرسنگ نے سٹیرنگ سے ایک ہاتھ ہٹا کر عائشہ کا ہاتھ تھام لیا، اور اسکے ہاتھ کی پشت سہلانے لگا۔”آپپ کچھ کھائینگے؟ جوس پانی امو جان نے گاڑی میں رکھوایا تھا۔ “ اس نے جھجکتے ہوئے بات بدلنے کی کوشش کی اور اپنا ہاتھ آہستگی سے چھڑوانے کی کوشش کی مگر نرسنگ پر اسکی مزاحمت کا کوئی اثر نہ ہوا۔” مادام آپ بات نہ بدلیں ۔ میں ان لمحوں کو محسوس کرنا چاہتا ہوں بس۔“؀تمہارے ہیں کہو اک دن کہو اک دنکہ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے سب کچھ تمہارا ہےکہو اک دنجسے تم چاند سا کہتے ہو وہ چہرہ تمہارا تھاستارہ سی جنہیں کہتے ہو وہ آنکھیں تمہاری ہیں۔۔۔اگلا گانا شروع ہوچکا تھا عائشہ نے فوراً سے آگے بڑھ کر کیسیٹ پلئیر کا بٹن دبادیا۔ اسکی اس حرکت پر نرسنگ کا زور کا قہقہہہ بلند ہوا۔”سیریسلی یار! اب اس پر بھی اعتراض ہے تمہیں لڑکی۔ شاید یہ ہی میری ترجمانی کردیں مگر اسکو بھی بند کردیا۔ “” سدھر جائیں نرسنگ خان! آپ جانتے ہیں پچھلی گاڑی میں میرے بابا کے گارڈز ہیں شکایت لگادی تو ۔“ اس نے شرارت سے دانتوں تلے زبان دبائی۔” اوووو یعنی کہ سردار کی بیٹی ہونے کی دھمکی لگا رہی ہیں، ویسے آپکو بتاتا چلوں آپ ناصرف سردار کی بیٹی ہیں مادام بلکہ سردار کی بیوی بھی ہیں ۔“ نرسنگ نے آنکھ دبا کر اسکی جانب دیکھا۔ عائشہ نے بےساختہ اسکے کندھے پر مکہ جڑدیا۔”اف ظالم لڑکی! “ گاڑی میں اسکی ہنسی کی جلترنگ پھیل گئی اور نرسنگ مبہوت سا اسکو دیکھنے لگا۔” نرسنگ !!!“ اس نے تنبیه کرتے ہوئے اسکو گھورا اور اپنے ہاتھ سے اسکا چہرہ سامنے کرتے ہوئے رخ دوبارہ کھڑکی جانب موڑ دیا۔ ”چلیں محترمہ آپکو کوئٹہ ہوٹل کی آج چائے پلاتے ہیں۔ “ چندلمحوں بعد نرسنگ نے سٹاپ پر گاڑی پارک کرتے ہوئے کہا۔ عائشہ نے فوراً چادر اپنے چہرے پر گرالی اب صرف اسکی نیلی آنکھیں نظر آرہی تھیں ، اسکی اس حرکت پر نرسنگ کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا اور آگے بڑھ کر اس نے اپنے لب اسکی پیشانی پر رکھ دئے۔“Thanks for being mine، you are a blessing for me.”ساتھ ہی وہ گاڑی سے چائے لینے اتر گیا اور عائشہ اپنی دھڑکنوں کا شمار ہی کرتی رہ گئی، مسکراتے ہوئے اس نے اپنی ہتھیلیاں گالوں پر رکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا، نرسنگ اور عائشہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے، عائشہ کی ڈگری ختم ہوتے ہی بابا جان کا انکی شادی کا ارادہ تھا، میرا بھی بولان میڈیکل کالج میں داخلہ ہوگیا تو میں بھی عائشہ کے ساتھ کوئٹہ میں رہنے لگی تھی۔ روز شام کو ہم حویلی کال ضرور کرتے تھے ، خجستہ اور امو جان سے لمبی بات ہوتی تھی، بابا جان اکثر ہمارے پاس چکر ضرور لگاتے تھے، جیسے ہی ٹرم بریک آتی ہم دونوں فوراً قلعہ پہنچ جاتے تھے۔نرسنگ نے اس دوران سپیشلایزیشن کے امتحان بھی دے دئے تھے وہ کبھی کراچی میں ہوتے تھے یا قلعہ میں، جبکہ خجستہ نے بمشکل ایف اے ہی کیا تھا امو جان کے بہت کہنے پر اس نے کمپیوٹر کے مختلف کورسز ضرور کرلیے تھے۔ اس سارے ٹائم میں سب سے دکھ کی بات یہ تھی کہ تائی جان اب ہم میں نہیں رہی تھیں اور انکے انتقال کے بعد امو جان پر ہی تمام ذمہ داریاں آگئی تھیں۔ اور امو جان جوکہ اب قبیلے کی اور خاندان کی بڑی تھیں اپنے فرائض بخوبی انجام دے رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔عائشہ کا آخری سمسٹر چل رہا تھا ، ہم عید کی چھٹیوں میں قلعہ واپس جا رہے تھے وہ مجھے قدرے چپ اور پریشان لگی ، آدھا راستہ گزر چکا تھا مگر وہ بلکل خاموش بیٹھی تھی میں کب سے اسکو نوٹ کر رہی تھی بلآخر اس سے پوچھ ہی لیا۔” کیا بات ہے عائشہ سب خیریت ہے نہ کب سے خاموش بیٹھی ہو کوئی بات ہے شئیر کرنے والی کیا؟ “”نہیں ایسے ہی شاید سر میں درد ہے اسلئے۔ “ اسکا اندازسراسر ٹالنے والا تھا”کوئی دوا لے لو اپنی آنکھیں دیکھو کتنی سرخ ہورہی ہیں اموجان بابا جان اور نرسنگ لالہ اسطرح تمہیں دیکھ کر پریشان ہوجائینگے۔ “ مجھے اسکی فکر ہورہی تھی میں جانتی تھی کہ کوئی بات اسکو پریشان کر رہی ہے مگر وہ شاید بتانا نہیں چاہ رہی۔”شاید viva کی ٹینشن ہےواپس آتے ہی تو ہے۔ “ اس نے سیٹکی پشت سے سر ٹکالیا اپنی طرف سے اس نے میری تسلی کروادی تھی مگر مجھے نجونے کیوں اسکے لئے ڈر لگ رہا تھا ۔” پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہوجائگا۔ اللہ تمہیں کامیاب کریں سب خوشیاں تمہارا نصیب بنیں، تمہاری زندگی مکمل اور پرسکون ہو۔“ میں جب بھی اسکے لئے دعا کرتی دل سے کرتی تھی بلکہ اسکے لئے دعا کرنے کا دل کرتا تھا وہ مجھے اتنی ہی پیاری تھی۔”آج تم نے اپنی پوری دعا نہیں دی مجھے ۔ “ اس نے ایک دم سے آنکھیں کھول کر میری جانب دیکھا”مطلب؟ “ میرے لہجے میں حیرت کے ساتھ پریشانی بھی تھی” بھئ تم ہمیشہ مجھے دعا دیتی ہو خوشیوں کی زندگی وہ بھی نرسنگ کے سنگ مگر آج تم کہنا بھول گئیں ۔“ اسکو ہنستے ہوئے دیکھ کر مجھے بھی ہنسی آگئی” اف ڈرادیا تھا لڑکی مجھے ، ہاں بھئی نرسنگ کے سنگ، ویسے عائشہ تم بہت پیار کرتی ہو نہ ان سے۔ “ میں نے ہمیشہ کا سوال دہرایا”ہاں بہت زیادہ وہ میرے لئے بہت خاص ہیں ، وہ بہت اچھے اور مخلص ہیں اور تمہیں معلوم ہے مجھے انکی کیا بات سب سے اچھی لگتی ہے ، میں انکے لئے بہت خاص ہوں بہت اہم ہوں۔ اگر میری جگہ انکی زندگی میں کوئی اور لڑکی ہوتی وہ اسکے لئے بھی اتنے کھرے ہوتے اتنے ہی سچے ہوتے۔ “ اس نے ایک جزب میں مجھے لاجواب کردیا تھا۔آہ عائشہ میں تمہیں کیا بتاؤں تم آج بھی انکے لئے اتنی ہی خاص ہو اتنی ہی اہم ہو۔ وہ واقعی رشتے نبھانے میں بہت سچے ہیں بہت کھرے ہیں مگر وہ کسی دوسری کے ساتھ ویسے نہیں ہیں جیسے تمہارے ساتھ۔۔۔۔ ؀ راز الفت چھپا کردیکھ لیا دل بہت کچھ جلا کر دیکھ لیا اور کیا دیکھنے کو باقی ہے آپ سے دل لگا کر دیکھ لیا وہ میرے ہو کر بھی میرے نہ ہوئے ان کو اپنا بنا کر دیکھ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے واپس آنے سے گویا اموجان اور باباجان کو نئی زندگی

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Cousin Based

Pehli Mohabbat By Ibraam Malik Libra (Complete PDF)

You Can Download The Novel From The Following Media Fire Link Or Read Online From Drive Link. Click The Novel