Cousin Based Feudal System based Haveli base

Sang Bareedah By Ayesha Verdan Episode Last

”کیسی ہو؟ بہت سال لگادئے آنے میں؟ سب بہت یاد کرتے تھے تمہیں۔ “ سفید لباس ملبوس وہ میرے سامنے بیٹھی تھی، اسکے چہرے پر نظر ہی نہیں پڑ رہی تھی ایک روشنی کا ہالہ تھا شاید ، ناقابل بیان تھی اسکی خوبصورتی اور سب سے بڑھ کر اسکے چہرے پر پھیلا سکون، شاید یہ بے سکونی ، افراتفری اسی دنیا کے باسیوں کی وصف ہے ۔” بس ڈر گئی تھی خوف آتا تھا اس جگہ سے اس علاقے سے اپنوں سے۔ اسی لئے وہاں اپنی دنیا بسالی تھی مگر سکون ادھر بھی نہیں تھا۔“ میری نظریں سامنے لگی بوگن ویلیا کی بیل کا طواف کر رہی تھیں۔” یہ امو جان نے لگوائی تھی ادھر، دیکھو کتنی پھیل گئی ہے نہ وہ روز آتی ہیں ادھر میرے ساتھ ساتھ اسکا بھی خیال رکھتی ہیں۔“” اور بابا جان؟“ میرے سوال پر اس نے اداسی سے آسمان کی جانب دیکھا” وہ نہیں آتے مریم مجھ سے خفا ہیں نہ وہ ابھی تک۔ انکو لگتا کہ میرا قصور تھا اس سب میں، مجھے تو معلوم بھی نہ تھا کہ وہ امو جان کے بھائیوں کے ساتھ مل کر میرے خلاف سازش کرےگا۔“” نہیں عائشہ وہ تم سے خفا نہیں ہیں بلکہ وہ تو خود سے ناراض ہیں کہ تمہیں بچا نہیں سکے اس سازش سے، آج تک خود کو تمہارا قصوروار مانتے ہیں۔ تڑپتے ہیں تمہارے لئے روتے ہیں گڑگڑاتے ہیں ۔ انکو معاف کردو عائشہ وہ بہت بوڑھے ہوگئے ہیں ان میں ہمت نہیں ہے اس گلٹ کے ساتھ رہنے کی اب ۔“ میں نے اسکے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے التجا کی۔”میں کون ہوتی ہوں معاف نہ کرنے والی مریم ۔ مجھے تو نہ کل ان سے شکوہ تھا نہ آج، میں تو سمجھتی تھی وہ مجھ سے ناراض ہیں جو کبھی ملنے ہی نہیں آئے۔ انھیں کہنا بہت یاد کرتی ہوں انکو ، انکی عائشہ ان سے آج بھی بہت پیار کرتی ہے بہت زیادہ ۔ “ اس نے اپنےآنسو صاف کرنےکے لئے ہاتھ اٹھایا تو مجھے لگا جیسے ہرسو ایک سوندھی سی خوشبو پھیل گئی ہو۔” تم خوش ہو نرسنگ کیسا ہے خیال رکھتا ہے نہ تمہارا؟ “ اس نےمسکراتے ہوئے میری جانب دیکھا اور میں کئی لمحے بس اسکو دیکھے گئی”کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ بھئی نرسنگ کا پوچھ رہی ہوں کیسا ہے تمہارا تو مجھے معلوم ہے ابھی تک ویسی ہی ہوگی اسے دیکھ کر شرما جاتی ہوگی ہے نہ؟ “ اسکی ہنسی آج بھی اتنی ہی دلفریب تھی”تمہیں مجھ سے نفرت نہیں ہوتی عائشہ نرسنگ تمہارا تھا بلکہ ابھی بھی تمہارا ہی ہے ، میں معلوم نہیں کیوں بیچ میں آگئی، کیوں اموجان نے تمہارے جانے کے بعد ضد کر کے ہماری شادی کروادی کیوں اس امتحان سے گزار ہمیں ،میں کیسے روز قیامت تم سے نظریں ملاؤنگی، تمہیں معلوم ہے کتنے سال لگ گئے مجھے اس رشتے کو سنبھالنے میں سمجھنے میں ، جب کبھی نرسنگ نے پیشقدمی کی میرے قدم پیچھے کی جانب ہو جاتے تھے عائشہ مجھے لگتا تھا میں تمہارا حق غضب کر رہی ہوں ، تمہاری مجرم بن گئی میں عائشہ مگر میں کیا کرتی میں پہلے مجبور تھی امو جان بابا جان کی وجہ سے اور اب اپنی اولاد کی وجہ سے پلیز معاف کردو مجھے۔“ میرا بس نہیں چل رہاتھا کہ میں بھی اسی زمین میں خود کو درگور کرلوں اگر اس نے مجھ سے سوال کرلیا کہ مریم تم تو میری محبت کی گواہ تھیں میری رازدار تھیں پھر میرے حق پرمیرےشوہر پر کیوں نقب لگائے بیٹھی ہو تومیں کیا وضاحت دونگی اور اگر سوال آیا کہ رشتہ مجبوری میں ہوا تو بیچ میں محبت کی گنجائش کیونکر نکال لی اپنے دل پر پہرے کیوں نہ باندھ لیے۔ کیسے جواب دونگی اسکو میں ۔”مجھے کیوں تم سے نفرت ہوگی مریم، میری جان بستی تھی تم سب میں اور تم تو میرے لئے بہت خاص ہو معلوم ہے کیوں ؟ “ میں نے سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا” کیونکہ سب سے زیادہ میرے لئے تم دعا کرتی تھیں یاد ہے تم مجھے ہر وقت دعا دیتی تھیں اور میں اس وقت اپنے دل میں تمہارے لئے بھی وہ سب مانگ لیتی تھی جو تم میرے لئے مانگتے تھیں ہاں مگر اس وقت نرسنگ نہیں اس جیسا ضرور ہمسفر تمہارے حق میں دعا کرتی تھی دیکھوتو وہ ہی مل گیا اور ایک راز کی بات بتاؤں تمہیں مجھے معلوم تھا کہ امو جان کی شروع سے نرسنگ کے لئے تمہاری خواہش تھی سو جب مجھے سزا کے لئے لیکر جا رہے تھے تو میں نے امو جان سے اپنی آخری خواہش کا اظہار کیا تھا جانتی ہو کیا تھی وہ خواہش ، کہ اموجان آپ نرسنگ اور مریم کی شادی کردیجیے گا، وہ دونوں بہت اچھے لوگ ایک دوسرے کو ڈیزرو کرتے ہیں۔ “ اسکی بات پر میں نے ناراضگی سے اسکو دیکھا وہ کیوں تھی ایسی ہمارے سب کے لئے سب کچھ قربان کردینے والی۔” کیوں عائشہ یہ فیصلہ کیوں لیا؟ کیوں ہمیں امتحان میں ڈالا تم نے، جانتی ہو ہم دونوں آج تک اپنی اپنی جگہ تم سے شرمندہ ہیں میاں بیوی کے رشتے میں ہوتے ہوئے بھی ایک لاتعلقی قائم ہے ڈرلگتا ہےکہ تمہارا سامنا کیسے کرینگے ؟ اور تم کہہ رہی یہ تمہاری خواہش تھی عائشہ یہ کیا کیا تم نے“ میں اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرا کر رونے لگی یہ انکشاف میرے لئے جان لیوا تھا۔”شرمندہ کیوں بھئی ایسے ہی، نرسنگ کو کہنا اگر اس نے تمہاری کبھی حق تلفی کی تومیں اس سے ناراض ہوجاؤنگی ۔“ اس نے ہنستے ہوئے میری جانب دیکھا ” تمہیں لگتا ہے وہ کبھی کسی کی حق تلفی کرسکتے ہیں ۔ عائشہ وہ بہت خاص انسان ہیں رشتوں کو سنبھالنے والے سمجھنے والے جانتی ہو شادی کے بعد میں نے ان سے ملک چھوڑنے کا کہا توفوراً مان گئے تھے ۔“ ہم دونوں اپنی محبوب کا ذکر کرہی تھیں اور محبوب بھی جو سانجھہ تھا۔ ” وہ ایسا ہی ہے اسی لئے توتمہارے لئے اسے چنا تھا، مجھے یاد کرتا ہے؟ میرا ذکر کرتا ہے؟ میں تو اس سے مرنے سے پہلے مل بھی نہ پائی جرگہ کے فیصلے کے وقت وہ کہاں تھا قبیلے میں۔۔۔ بہت یاد کیا تھااسے میں نے بہت زیادہ۔۔۔۔ “ ” بہت یادکرتا ہے آج بھی تمہیں اتنا ہی پیار کرتا ہے، ابھی بھی بابا جان کے پاس بیٹھا تمہاری ہی باتیں کررہا ہے جانتی ہو وہ آج تک اس بات پر شرمندہ ہے کہ تمہارا محافظ تھا وہ پھر بھی حفاظت نہیں کرسکا تمہاری، اللہ نے اسکو تمہارا ولی بنایا تھا مگر وہ اس لمحے تمہارے لیے پہنچ نہیں سکا ۔ بہت تڑپتا ہے تمہارے لئے ، جانتی ہو ہماری بیٹی کا نام بھی عائشہ رکھا اس نے ، تمہارے بناوہ کچھ بھی نہیں ہے عائشہ بہت بہت خاص ہو تم آج بھی اسکے لئے۔۔۔۔ “ بہت چاہنے کے باوجود بھی میں اپنے اندر کی حسرت کو چھپا نہیں سکی تھی اسکے تاثرات اور چہرے پر موجود اطمینان نے مجھے شرمندہ کردیا اور میں اپنی بات کہہ کر اس سے نظریں چرانے لگی۔؀چھپانا بھی جو تم چاہو محبت چھپ نہ پائےگی دیا دل میں جلےگا اور چمک چہرے پہ آئیگی۔۔۔اس نے ہنستے ہوئے میری جانب دیکھا جیسے مجھ سے میرے دل کا حال جان لینے کے بعد اسکو خوشی مل گئی ہو جبکہ میں اس سے نظریں چرانے میں ہی لگی ہوئی تھی۔ کیسے اس سے معافی مانگوں کیسے اسے اپنے دل کا حال بتاؤ۔” بہت پیار کرتی ہو نہ اس سے ؟ اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے مریم وہ ہے ہی ایسا کہ اس سے خود بخود محبت ہوجاتی ہے، اگر وہ تمہاری محبت کو جھٹلائےگا تو ناشکرا شمار ہوگا۔ “” عائشہ آیم سوری معاف کردو میں خود کو کیسے روک پاتی ، میری زندگی میں وہ واحد مرد تھا جو میرا محرم بھی تھا تو کیسے خود کو روک سکتی پلیز مجھے معاف کردو اپنی محبت سے اسکو آزاد کردو پلیز اسے مجھے دے دو۔“میرے جڑے ہاتھ دیکھ کر وہ بے چین ہوئی تھی چاہتے ہوئے بھی وہ میرے ہاتھ تھام نہیں سکتی تھی ، اس نے بے بسی سے میری جانب دیکھا اور مسکرا کر میری جانب دیکھا ہمارے درمیان چند لمحے خاموشی پھیلی رہی اور پھر اسکی آواز سنائی دی” اسے کہنا اس دنیا میں میں نے اسے اپنی محبت سے آزاد کیا، مریم میں نے اسے مکمل تمہارے حوالے کیا اسکا خیال رکھنا ۔“ وہ کہہ کر کھڑی ہوگئی اور سامنے افق پر بھیلنے والی ہلکی سی روشنی کی کرن کو دیکھنے لگی۔”عائشہ !!! “میری پکار پر وہ پلٹی اور سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگی”حمزہ بھی آیا تھا اسکو معاف کردو بہت بے چین ہے بہت تکلیف میں، میں تو اسکو معاف نہیں کر پا رہی مگر بابا جان کہتے ہیں کہ تم بہت اعلیٰ ظرف ہو تم کسی سے دشمنی نہیں رکھتیں۔“ میری بات پر وہ دھیرے سے مسکرائی جیسے کہہ رہی ہو آج کیا تم سب کی وکالت کے لئے آئی ہو۔”مریم یہ دشمنیاں نبھانا اس دنیا کے لوگوں کی ریت ہے میری دنیا کی نہیں ۔میں نے کوئی بددعا نہیں دی تھی اسکو، یہ اسکے اپنے ضمیر کی سزا تھی پھر بھی تسلی کیلئے میں کہہ دیتی ہوں کہ اسکو بھی میں نے معاف کیا اسکو بھی اس بوجھ سے آزاد کیا۔ “ ساتھ ہی اس نے قدم بڑھا دئے اور یکدم فجر کی اذان کی آواز سنائی دی ۔ میں نے چونک کر سامنے دیکھا جہاں اب کچھ بھی نہیں تھا ، منظر صاف تھا ہر سوخاموشی تھی مگر اس خاموشی میں بھی سکون تھا ،میں بھی اپنے کپڑے جھاڑتی وہاں سے مسکراتے ہوئے اندر کی جانب چل دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عائشہ جلدی اپنا سامان باندھ بیٹا پچھلی طرف گاڑی تیار ہے جلدی کر ٹائم نہیں ہے ہمارے پاس، وہ ظالم لوگ فیصلہ کرچکے ہیں آتے ہونگے تجھے لینے جا میری بچی بھاگ جا۔ “ اس وقت سب لوگ عائشہ کے کمرے میں اکٹھے ہوئے تھے جرگہ کے سامنے جو تصاویر رکھی گئیں تھیں انکے مطابق عائشہ گنہگار تھی اور روایت کے مطابق اسکو سنگسار کرنے کا حکم دیا جا چکا تھا بابا جان بہت چیخے چلائے تھے مگر جرگہ کے سامنے انکی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ہم سب کی زندگیوں میں ایک طوفان برپا تھا جو آج تک ہم صرف سنتے آئے تھے اب اسی کا شکار ہورہے تھے سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ شخص جس نے عائشہ کی پاکدامنی پر سوال اٹھایا تھا وہ خود منظر سے یکدم کہیں غائب ہوگیا تھا ، حمزہ نے اسکی تصویریں اپنے ساتھ فوٹوشاپ کرکے جرگہ کو پیش کی تھیں۔ امو جان اس وقت عائشہ کو قبیلے سے بھگانے کی کوششوں میں لگی ہوئی تھیں مگر وہ مان کر ہی نہیں دے رہی تھی۔” نہیں امو جان میں آپ لوگوں کو کہیں چھوڑ کر نہیں جاؤنگی ، کیا میں نہیں جانتی کہ میرے جانے کے بعد یہ لوگ آپ لوگوں کے ساتھ ، میری بہنوں کے ساتھ کیا سلوک کرینگے؟“ اس موقعے پر بھی اسکو ہم سب کی فکر تھی۔”دیکھ بچے جذباتی نہ ہو میں نے ایمبیسی فون کردیا ہے کوئٹہ پہنچتے ہی تجھے سیکیورٹی دے دی جائیگی، برٹش نیشنل ہونے کی وجہ سے آسانی سے جا سکتی ہے باہر پھر نرسنگ بھی آجائیگا تیرے پاس۔ یہاں ہم سب سنبھال لینگے بس جا جلدی۔ دیکھ تیرے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں“ اس نے آگے بڑھ کر امو جان کے ہاتھ تھا م لئے اور انکے گلے لگ گئی۔کئی لمحے ، کئی لمحے ایسے ہی گزر گئے ایسا لگتا تھا جیسے وہ اب ساری عمر اسی حالت میں گذار سکتی ہیں۔”امو جان میری امو جان! میں آپکی بیٹی ہوں نہ۔ “ وہ سسکتے ہوئے دوبارہ انکی آغوش میں چھپ گئی” ہاں تو میری سب سے اچھی بیٹی ہے میری شہزادی ہے۔ مجھے فخر ہے تجھ پر عائشہ، میری بچی مان جا میری بات چلی جا ہم تیری حفاظت نہیں کرسکے تیری ماں سے کیا وعدہ نہ پورا کرسکے جا چلی جا اپنے دیس لوٹ جا۔ “ انھوں نے اسکو پچکارتے ہوئے سمجھانا چاہا مگر وہ بضد رہی کہ نہیں وہ کہیں نہیں جائیگی، اگر وہ چلی جاتی تو جرگہ والے اسکی بہنوں کا کیا فیصلہ کرتے انکو ونی کردیتے ، بابا جان سے سرداری لے لی جاتی اسکاخاندان رل جاتا ، اگلی کئی نسلیں تباہ ہوجاتیں ۔”امو جان نہیں میں اپنی زندگی بچانے کے لئے اپنوں کی زندگی ویران نہیں کرسکتی، میرے جانے کے بعد آپ وعدہ کریں میری بہنوں کی زندگی پر کوئی آنچ نہیں آنے دینگی ۔ “ ” پلیز امو جان!“ ہم سب چیخیں مار مار کر رو رہے تھے، ہماری حویلی کا کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو اسکے حق میں گواہی نہ دے رہا ہو مگر ان فرسودہ روایات کے سامنے ہر کوئی مجبور تھا۔”خان بی بی! خان صاحب بلا رہے ہیں۔ “ ملازمہ کی یہ آواز تھی یا گویا موت کے فرشتے کا پیغام۔ سب اپنی اپنی جگہ ساکت کھڑے رہے، گویا وہیں پر روح کھینچ لی گئی ہو مگر ابھی تو اور امتحان باقی تھے۔ عائشہ امو جان سے الگ ہوئی اور واشروم کی جانب چلی گئی۔” کوئی تو سن لے میری پکار اے میرے رب میری بچی میری پاکدامن بچی!!!“ امو جان روتے روتے نیچے بیٹھ گئیں اور سسکنے لگیں۔چندلمحوں بعد وہ خود کو کالی چادر میں لپیٹے باہر آئی اور جائے نماز بچھا کر نفل پڑھنے لگی۔ اس وقت اسکے چہرے پر موجودسکون نے ہمیں حیران کردیا تھا کیسے وہ اتنی پرسکون ہوگئی تھی شاید جو بےقصور اور نیک لوگ ہوتے موت سے پہلے انکا چہرہ ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ انکو اب کسی بات کا خوف نہیں ہوتا شاید انکو معلوم ہوتا کہ اب آگے انکے لئے سکون ہی سکون ہے۔ عذاب تو پیچھے رہ جانے والوں کے لئے ہوتے ہیں۔ ” بابا جان اور امو جان کا خیال رکھنا، نرسنگ کو کہنا مل نہیں سکی میں ان سے۔ یاد کرتے رہنا مجھے ۔۔۔۔“ ہم دونوں بہنیں اسکے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں ۔ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں اسکی جگہ خود چلی جاتی اسکو کہیں چھپا دیتی۔وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے راہداری عبور کرتے ہوئے داخلی دروازے تک پہنچی جہاں بابا جان کندھے نیچے جھکائے ہارے ہوئے جواری کی طرح کھڑے تھے، وہ انکے سامنے رکی اور اپنے ہاتھ انکے سامنے جوڑ دئے۔”معاف کردیں بابا جان میں آپکی اچھی بیٹی نہیں بن پائی۔ “ اسکی بات پر تڑپ کر انھوں نے اسے دیکھا اور خود میں بھینچ لیا ۔”معاف کردینا اپنے بابا کو میں مجبور ہوگیا ہوں مجھے نیچا دکھانے کے لئے ان ظالموں نے میری بیٹی کی زندگی تباہ کردی، مجھ سے تیری قربانی مانگ لی معاف کردے مجھے۔ “ وہ اس وقت خود کو دنیا کا سب سے مجبور انسان محسوس کر رہے تھے انکے ہاتھ میں اب کچھ بھی نہیں تھا۔ اگر جرگہ کے خلاف جاتے تو قبیلے سے دربدر ہونا پڑتا اور وہ بخوبی جانتے تھے کہ اس صورت میں بھی وہ سب کسی نہ کسی صورت قتل کردئے ہی جاتے۔ عائشہ کے قدم اب تیزی سے باہر کی جانب اٹھ رہے تھے ، یکدم وہ رکی ، پیچھے مڑی ایک نظر پوری حویلی پر ڈالی اور ہم سب پر آکر اسکی نظر ٹھہر گئی، کیا نہیں تھاا سکی نظروں میں اس وقت گذرے سالوں کے قصے، اس آنگن میں گذری کئی بہاروں کے رنگ، بچپن کی شرارتیں، لڑھکپن کے قصے، جوانی کی محبت کی داستان ۔۔۔۔ یکدم اسکی آنکھوں سے یہ سب رنگ غائب ہوگئے اسکی نظریں بےجان پتھر کی مانند ہوگئیں وہ نیلی آنکھیں جو ہر وقت چمکتی تھیں اب ایک سخت بے جان پتھر لگ رہی تھیں۔ ایک آخری نظر اس نے ہم پر ڈالی اور چادر چہرے پر ڈال کر جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئی، اور پیچھے ہم سب اسکو پکارتے رہے چیختے رہے مگر وہ نہ پلٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Cousin Based

Pehli Mohabbat By Ibraam Malik Libra (Complete PDF)

You Can Download The Novel From The Following Media Fire Link Or Read Online From Drive Link. Click The Novel