………………..وہ مقابل کی آواز پر لرز اُٹھی تھی۔ بے ساختہ اپنے شوہر کو دیکھا تھا جو اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔ “تمہاری جان بچ سکتی ہے۔۔ تم اپنی بیوی کو طلاق دے کر میرے حوالے کردو۔” اس جملے پر وہ پتھر ہوئی تھی۔ وہ پردے دار لڑکی جس کو مافیہ کنگ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اسے یقین تھا اس کا شوہر اسے نہیں چھوڑے گا پر اپنی جان بچانے کے لیے اس کا شوہر اسے طلاق دے کر اسی ہوٹل میں چھوڑ گیا تھا۔ وہ دروازہ کھولنے کی کوشش کرتے بری طرح رو رہی تھی جبکہ پیچھے سگریٹ کے گہرے کش لیتے شاہزل شاہ کے ہونٹ مسکرائے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

