“مم۔مجھے نیند آرہی ہے” وہ سہم کر کہتے بستر میں چھپ گئی تھی جبکہ اس کی نانی اس کا خوف سمجھ نہیں پائی تھی ۔ جب بھی ضرار کی کال آتی تھی وہ یونہی ڈر جاتی تھی جبکہ ضرار تو پچھلے نو سال سے امریکہ میں تھا۔ اس کا نکاح بچپن میں ضرار سے ہوا تھا اس کے بعد ضرار امریکہ چلا گیا تھا جبکہ وہ نانی کے ساتھ رہتے بڑی ہوئی تھی پر نانی نہیں جانتی تھی جس ضرار کو محافظ سمجھ کر اس معصوم کو ضرار کے حوالے کیا تھا وہی اس کا سب سے بڑا دشمن تھا۔ وہ ہر سال چھپ کر پاکستان آتا تھا تاکہ اس نازک جان کو ازیت دے سکے۔ پر خود بھی بےخبر تھا کہ وہ انتقام کی آگ میں جلتے اس سے عشق کر بیٹھا تھا تبھی اس کے خوفزدہ ہوکر فون کاٹنے پر غصے سے اگلے دن کی ہی فلائٹ بک کروائی تھی اور°°°°°°°°°°°°°°°°°°”

