“میں نے ایک بار کہہ دیا کہ مجھے نکاح نہیں کرنا مطلب نہیں کرنا۔۔۔۔”
وه دبی آواز میں چیخی تھی۔۔
“اچھا ہے آپ لوگوں کا پہلے کہتے ہیں منگنی کرلو شادی ابھی تھوڑی ہونے والی ہے،اب اچانک سے کہہ رہے ہیں نکاح کرلو رخصتی تھوڑی ابھی ہونے والی ہے،کیا بھروسہ پانچ منٹ بعد آپ لوگوں کو رخصتی کا کیڑا کاٹ جائے،بس میں نے نہیں کرنا کوئی نکاح وکاح۔مطلب مذاق ہورہا ہے یہاں، منگنی کرلو،نکاح کرلو،رخصتی کروالو،ہنی مون پر چلی جاؤ،پھر کہیں گے دو بچے بھی کر لو، میری تو کوئی مرضی ہی نہیں ہے۔۔”
نشوہ سرخ دوپٹہ اتار کر سائیڈ کرسی پر رکھتی سراپا احتجاج بنی ہوئی تھی۔
اور اس کی فراٹے بھرتی زبان کی گستاخیوں پر تو سب کے کانوں سے دهواں نکل آیا تھا۔سلیمہ بیگم نے لاکھ ضبط کے باوجود اس کی کمر پر دھموکا جڑ ہی دیا تھا۔۔
“بدتمیز لڑکی، ذرا تمیز نہیں بات کرنے کی،کونسی بات کس کے سامنے کرنی ہے سوچنا ہی نہیں ہے، بس زبان چلانی قینچی کی طرح۔۔”
سلیمہ بیگم بیٹی کی پچھلے ڈیڑھ گھنٹے کے احتجاج سے سہی زچ ہوئی تھی۔
“مار دیں،لیکن اس ایمرجینسی والے نکاح کیلئے پھر بھی میں نے رضامند نہیں ہونا ہے،مطلب نکاح نہ ہوا حادثہ ہوگیا جو اچانک سے زندگی میں رونما ہوجائے۔۔”
دھموکا کھانے کے بعد بھی مجال ہے جو نشوہ کی صحت پر اثر پڑا ہو۔۔
اس کی مرغی کی اسی ایک ٹانگ پر وہاں موجود تمام خواتین نے سر پیٹا تھا۔جبکہ سلیمہ بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ دو لگاکر اپنی سرپھری اولاد کا دماغ سیٹ کر دے۔۔
“کوئی اچانک نہیں ہوا ہے،کل رات ہی ابو لوگوں نے مشورہ کیا تھا کہ منگنی کوئی پائیدار رشتہ نہیں ہوتا لہذا نکاح کردیا جائے،اور تمہیں اسی وجہ سے اب تک بےخبر رکھا گیا تھا، کیونکہ سب کو معلوم ہے میری افلاطون اولاد نے بنا چند چڑھائے کوئی کام سعادت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عام بچوں کی طرح نہیں کرنا۔۔”
سلیمہ بیگم نے اسکی احتجاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نشوہ کو لتاڑا تھا۔اپنی بےخبری پر تو صدمہ سے نشوہ کا منہ ہی کھل گیا تھا۔۔
“ممم۔۔مطلب آپ سب نے۔۔”
نشوہ نے باری باری صدمہ سے سب کو دیکھا۔آخر میں نظریں دلہن بنی پرواز،دیبا اور حبہ پر ٹک گئی تھی۔جو سرجھکائے اعترافِ جرم کررہے تھے۔
“نشوہ اپيا، مان جائیں ناں،جب میرا نکاح ہوا تھا تب میں صرف سولہ سال کی تھی اور قسم سے میں نے آپ کا ایک پرسینٹ بھی احتجاج نہیں کیا تھا۔۔”
نوری نے شہ رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے یقین دہانی کرائی تھی۔
“مطلب نوری تم بھی واقف تھی؟”
نشوہ کی بے یقینی پر نوری نے آنکھیں میچی۔۔
“اس دھوکے کے بعد تو میں نے بالکل بھی نکاح نہیں کرنا اور نہ ہی آپ لوگوں سے ہم کلام ہونا ہے،یہ تو وہی بات ہوگئی باغ سارا جانے گل ہی نہ جانے۔۔”
نشوہ سائیڈ سے اپنا دوپٹہ اٹھاتی اس سے پہلے کی دروازے کی طرف بڑھتی دفعتاً دروازے پر ہوئی دستک اور دا ابو کی آواز پر سب الرٹ ہوئے تھے۔۔
“نشوہ، خبردار، جو اب تمہاری زبان نکاح سے پہلے کھلی۔مجھے سے برا کوئی نہیں ہوگا۔حبہ، دیبا، گھونگھٹ کرکے اسے باہر لاؤ ابو لینے آئے ہیں نکاح خواں منتظر ہیں۔۔” سلیمہ نشوہ کو وارن کرنے کے ساتھ حبہ دیبا کو ہدایت دیتی ساڑی کا پلو سنبهالتی دروازے کی طرف بڑھی تھی۔
سلیمہ بیگم کی دهمكی کا خاطر خواہ اثر یہ ہوا تھا کہ منہ بھلے ہی سوجا ہوا تھا لیکن نشوہ نے نکاح نامہ پر بلا چوں چراں دستخط کردیا تھا۔مبارک باد کے شور میں کئی جدائی کے آنسوں بھی شامل ہوئے تھے۔
ⓝⓞⓥⓔⓛ ⓑⓨ ⓙ ⓝⓘⓚⓗⓐⓣ
کچھ ہی دیر میں ماحول واپس خوشگوار ہوگیا تھا۔
گولڈن شیروانی میں غضب ڈھا رہے دنیا کے کسی آخری اتاولے دولہے کا کردار ادا کررہے ارسلان صاحب کے پہلو میں ڈل گولڈ اینڈ ریڈ امتزاج کے بھاری كامدار جوڑے میں ملبوس پور پور سجی جرنسلٹ پرواز صاحبہ کو بیٹھاکر اسٹیج کا ادھورا منظر بڑی خوبصورتی سے مکمل کردیا گیا تھا۔
کزنز کی چھیڑ چھاڑ جاری تھی جس کا ارسلان ڈھٹائی سے جواب دیتا سب کو لاجواب کررہا تھا۔
کھانے کا دور چلا تھا پھر نشوہ نوری باقی لڑکیوں کی ٹولی کے ساتھ ارسلان کو کنگال کرنے اسٹیج پر چلی آئی تھی۔۔
“شرم کرلو کچھ تم موٹی، ابھی ڈیڑھ دو گھنٹے پہلے تمہارا نکاح ہوا ہے وہ بھی ایک اچھے خاصے بزنس مین سے ۔تمہیں زیب دیتا ہے چندہ مانگنا۔۔”
ارسلان نے تاسف سے اپنے پہلو میں کھڑے بلیک شیروانی میں ملبوس خوبرو سے رافع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نشوہ کو شرم دلانی چاہی۔
“تم نہ آج کے دن کم از کم اپنی زبان کو سکون دو ورنہ آج کی رات تمہیں کیسے بےسکون رکھنا ہے یہ مجھے سوچنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔۔”
نشوہ رافع کی نظروں کو اگنور کرتی انگلی اٹھاکر بولی۔۔
“ہاں!بھائی، آپ نے بس پچاس ہزار تو دینے ہیں آپ میری منو اپيا کیلئے اتنا نہیں کرسکتے۔؟”
نوری نے معصوم شکل بناتے ہوئے اموشنل کرنا چاہا۔۔جس پر وہاں موجود سب نے ہاں میں ہاں ملائی تھی۔
“کم از کم آپ تو کیوٹ بھابھی مخالفین میں شمولیت اختیار نہیں کریں،پھر آپ نے پچاس ہزار کا کرنا کیا ہے آپ تو کڑوڑوں کی جائیداد کی اکلوتی مالکن ہیں۔۔”
ارسلان نوری کے جذباتی وار سے ذرا متاثر نہیں ہوا تھا۔
“تم ناں اپنی جیب پر نظر ڈالوں دوسروں کی جائیداد کی خیر ہے، ورنہ تم اپنی خیر مناؤ۔۔”
نشوہ ہاتھ جھاڑ کر بولی۔
نظر بچاکر ایک گھوری کب سے خود کو گھور رہے رافع پر بھی ڈالی تھی۔جس پر وہ دلکشی سے مسکراکر الٹا نشوہ کا خون جلا گیا تھا۔۔
“ارسلان، دے دے میرے بھائی،آج اپنی كرائم پارٹنر سے تو ہر قسم کی بری امید وابستہ کرسکتا ہے۔۔”
تبھی اسٹیج پر حشام، انور اور دیگر کزنز کے ساتھ نمودار ہوئے احان نے مخلصانہ مشورہ دیا تھا۔۔
“متفق۔۔”
ثوبان کو گود میں اٹھائے دیبا اور حبہ نے بھی تائید کی تھی۔جس پر ارسلان نے کن اکھیوں سے شعلہ جوالہ بنی کمر پر ہاتھ ٹکائے خود کو بگڑے تیور سے گھور رہی نشوہ کو دیکھا۔۔
“لیکن یار، میں نے تو پکڑ کر اس کا نکاح نہیں کروایا ہے، پھر یہ مجھ پر کیوں بھڑاس نکال رہی ہے۔۔؟”
ارسلان اس کے تیور دیکھ روہانسا ہوا تھا۔۔
جس پر سب نے اپنی مسکراہٹ ضبط کی تھی۔اور حشام احان نا محسوس انداز میں آکر اپنی اپنی ملکیت کے پہلو میں کھڑے ہوگئے تھے۔۔
“گلا دبا دینا ہے میں نے تمہارا، اب اگر کوئی بکواس کی تو۔یا تو میری ڈیمانڈ پوری کرو یا اپنی بیوی پر فاتحہ پڑھ لو” نشوہ دانت کچکچاتی دهمكیوں پر اتر آئی تھی۔
“عجیب غنڈہ گردی ہے، ایک قابل انسپکٹر کو دهمكی۔” ارسلان اسکے تیور پر بدمزہ ہوا۔۔
پھر کیا تھا دونوں کی تو تو میں میں شروع ہوگئی تھی۔
“پیاری لگ رہی ہیں۔۔”
احان نے جهک کر اشتیاق سے نشوہ اور ارسلان کی بحث ملاحظہ کر رہی دیبا کے قریب سرگوشی کی۔
جس پر دیبا کے نازک لب مسکرائے تھے۔
محبت کے نئے اضافے نے ان کے رشتے کو اور مضبوط کے ساتھ خوبصورت کردیا تھا۔۔
“شکریہ،لیکن بتارہی ہوں میں نے یہ صرف آپ کیلئے پہنا ہے۔۔”
دیبا اپنا پلّو سنبھالتی ناز اٹھاتے انداز میں بولی۔
“نوازش حان کی جان،بندہ مشکور ہے آپ کا۔۔”
احان نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے سرکو ذرا سا خم دیا تھا۔جس پر دیبا شرماکر ہولے سے اس کی چوڑی ہتھیلی میں اپنا نازک ہاتھ پهساکر واپس سامنے متوجہ ہوگئی تھی۔احان اس کے عمل پر سرشار سا گرفت مضبوط کرتا آسودگی سے مسکرایا تھا۔۔
“آج رزلٹ کا دن ہے ڈاکٹر یاد ہے نہ آپ کو۔۔؟”
حشام کی معنٰی خیز سرگوشی پر مسکرارہی حبہ کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔دل اتنی زور سے دھڑکا تھا کہ حبہ کو خدشہ لاحق ہوا کہ سب کی سماعت فیض یاب نہ ہوئی ہو۔۔
تجھ کو احساس کیوں نہیں ہوتا
چاہتیں کس قدر ضروری ہے
آؤ دو چار مل کر پوری کریں
خواہشیں سینکڑوں ادھوری ہے۔
“میں منتظر ہوں،منتظر رہونگا۔۔”
حشام بھاری جذبات کے بوجھ سے بوجھل آواز میں حبہ کی سماعت میں اپنی خواہش انڈیلتا۔ثوبان کو پیار کرنے لگاتھا۔اور حبہ اس کی قربت پر پگهلتی ارد گرد کا ہوش کھو رہی تھی۔
“ابھی حواس پر قابو رکھیں ڈاکٹر،یہاں ایسا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔”
اس کی حالت سے محظوظ ہوتا ثوبان کو لیکر پیچھے ہوگیا تھا۔اس دوران ارسلان اور نشوہ کی لایعنی جنگ بھی کنارے لگ گئی تھی۔اور ارسلان سب کے سمجھانے پر ناک منہ چڑھا تھا نشوہ کی مانگ پوری کرکے ناک سکوڑتا دنیا کا مہنگا ترین دودھ نوش فرما چکا تھا۔
ⓝⓞⓥⓔⓛ ⓑⓨ ⓙ ⓝⓘⓚⓗⓐⓣ

