“جتنا آج میرا دل جلا ہے اس سرپھرے انسپکٹر پر اس کی کھولن نکال کر بڑی ٹھنڈ پڑی ہے کیلجے میں،اسی ترسے ہوئے انسان کی وجہ سے نکاح کا پھندا لگا ہے میرے گلے میں بخش کیسے دیتی اسے،نشوہ یاسر ہوں ادھار رکھنا تو میں نے سیکھا ہی نہیں۔۔”
نشوہ ابھی ابھی ارسلان کا راستہ روک کر بٹور آئی اے ٹی ایم کارڈ سے راز و نیاز کرتی بڑی سی خالی راہداری سے گزر رہی تھی۔
جب موقع کی فراق میں بیٹھا رافع نجانے کہاں سے نکل کر اس کی راہ میں حائل ہوا تھا۔جس پر وہ ڈر کے دو قدم پیچھے ہوئی۔۔
“یہ کوئی طریقہ ہے؟”
دھک دھک کر رہے دل پر ہاتھ رکھتی ناگواری سے مقابل کو گھورا۔۔
“پہلے آپ تصحیح کرلیں نشوہ یاسر نہیں،نشوہ رافع یحییٰ، بھلے ہی آپ ادھار نہیں رکھتی ہونگی،لیکن میرا ادھار اب تک آپ پر باقی ہے۔۔”
رافع اس کی ناگواری کو يسكر نظر انداز کرتا اصل موضوع کی طرف آیا۔رافع کے تصحیح کرنے پر جہاں نشوہ کی دھڑکن تهمی تھی۔وہیں دوسرے جملے پر نشوہ نے آنکھیں سکیڑ کر مقابل کو دیکھا۔
“کونسا ادھار رکھا ہوا ہے میں نے آپ کا جو قرض داروں والی کینہ توز نظروں سے دیکھ رہے ہیں؟”
نشوہ نے کمر پر ہاتھ ٹکاتے ہوئے آنکھوں کے اشارے پوچھا۔۔
“لاحول!!سہی جگہ دل لگایا ہے آپ نے رافع صاحب۔”
اپنی محبت پاش نظروں کی اس قدر بےقدری پر رافع نے کم بخت دل پر ملامت کی تھی۔۔
“کیا ہوا مسٹر، بتائیں کونسا آپ کی بھینسیں کھول دی ہے میں نے؟اور بتا دوں یہ کنجوس انسپکٹر سے نکالے ہوئے پیسے ہیں، ایک پیسہ میں نے کسی کو نہیں دینا ہے بھلے سے جان کا قرض ہی کیوں نہ باقی ہو”
نشوہ اسے خود سے ہی ہم کلام دیکھ چٹکی بجاکر بولی۔اس کے ہاتھ پہلو میں گرانے سے پہلے ہی رافع نے سرعت سے اس کی کلائی اپنے گرفت میں لی تھی۔۔
“قرض یہ کہ نکاح کی مبارک باد نہیں دی،جرم یہ کہ میرے اچھے خاصے شریف دل کو بغاوت پر اکسایا ہے آپ نے،بتائیں کیا سزا دوں اس کی؟”
رافع کا لہجہ جذبات سے چور تھا۔
“توبہ کریں،سراسر الزام ہے یہ،میں کیا کوئی ڈاکٹر لگی ہوئی ہوں جو آپ کے دل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کردوں۔۔” نشوہ اس الزام پر بلبلاکر ہاتھ کھینچ گئی تھی۔
بھلا نشوہ جیسی افلاطون لڑکی سے بندہ رومانوی باتیں کرسکتا تھا۔
“وه سب مجھے نہیں پتا،نقصان کیا ہے تو کیا ہے۔”
رافع اپنے خالص جذبات کے سلگتے شعلوں پر نشوہ کی طرف بہائے گئے دریا پر چڑ کر بولا۔
“ہیں!عجیب انسان ہیں یار آپ، الزام پر الزام لگائے جارہے ہیں۔۔”
نشوہ نے جهلی پنے کی حد کردی تھی۔
رافع اپنا ضبط کھوتا اس کا بازو تھام کر دیوار سے لگاگیا تھا۔ساتھ اس کے پنکھڑی جیسے نازک لبوں پر اپنا بھاری ہاتھ رکھتا آنکھوں سے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔
“مسز نشوہ رافع، آپ بہت بڑی جهلی ہیں،جذبات کی سمجھ تو آپ کو زیرو پرسنیٹ بھی نہیں ہے،لیکن میری بدقسمتی ہے ک میرا کم بخت دل آیا بھی تو آپ ہی پر،شکر اللّه کا میں نے رات بابا سے بات کرکے نکاح کروالیا،ورنہ منگنی کے بعد اسی طرح اگر میرے جذبات کا خون کرتی رہتی تو بعید نہیں تھا ایک آدھ ہارٹ اٹیک کی صورت شادی کے ارمانوں کے ساتھ ہی میں نے اس دنیا سے رخصت ہوجانا تھا۔”
رافع نے اپنے تئیں خاصے جذباتی انداز میں اپنا مدعا بیان کیا تھا۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ محترمہ کے سمجھ خاک نہیں آیا ہوگا۔
“ممم۔۔مطلب یہ نکاح والا پھڈا آپ نے ڈالا ہے۔۔؟”
اتنے سارے قیمتی لفظوں میں یہی ایک بات نشوہ کے دماغ پر لگی تھی۔رافع کا من کیا پیچھے دیوار پر اپنا سر دے مارے۔۔
“اتنی لمبی چوڑی بکواس کردی میں نے آپ کو اسی ایک لائن اعتراض پر ہے،حد ہے نشوہ یاسر۔۔”
رافع نے متاسف نظروں سے اسے دیکھا۔
“خیر، کل اور ابھی جو میں نے بکواس کی جسے آپ پہیلی کہہ رہی ہیں،اس کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ آئ لو یو ڈمیٹ،کب؟کہاں؟کیسے نہیں جانتا،کیونکہ بن کہے آپ میری روح کی مکیں بن گئی ہیں،بنا اجازت بغیر دستک میرے دل کی سلطنت کی ملکہ بن بیٹھی ہیں،اپنی خالص محبت کی پاكیزگی کو برقرار رکھنے کیلئے میں نے آپ کو اپنے ساتھ ایک بہت ہی مضبوط اور پاکیزہ رشتے میں باندھ لیا ہے،اب جب تک حیات ہے تب تک آپ کا اور میرا ساتھ ہے۔۔”
اس جهلی کی تحیر سے پھیلی آنکھوں میں جھانکتا وه جذبات سے بوجھل آواز میں نشوہ کو پتھر کا بنا گیا تھا۔اس کھلے اظہار پر نشوہ کان کی لو تک سرخ ہوئی تھی۔
دل کی منتشر دھڑکن سماعت پر ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھی۔لیکن مقابل کےسحر میں وہ اس قدر جکڑ چکی تھی کہ سن بدن کے ساتھ حرکت کرنا محال ہوگیا تھا۔۔
“جانتا ہوں آپ کچھ نہیں بولیں گی،میرے ہی لفظوں کو آپ ہضم کرلیں غنیمت ہے، اس لیۓ بس اتنا کہونگا کہ مہربانی کرکے خدارا اپنے اندر رومانوی جراثنم کو نشو نما پانیں دیں۔تاکہ ایک سال بعد جب رخصتی ہو تو صورت حال کچھ اور ہو۔۔”
رافع متبسم لہجے میں گزارش کرتا، دہکتا استحاق بھرا لمس اس کی پیشانی پر چھوڑ کر وہاں سے نکل گیا تھا۔نشوہ وہیں بےجان ہوتے ٹانگوں کے ساتھ زمین پر بیٹھی تھی۔رافع کے آنچ دیتے لفظوں کی باز گشت،اس کی پرفیوم کی مسحور کن خوشبو اب بھی نشوہ کے حواسوں پر سوار تھی۔
ⓝⓞⓥⓔⓛ ⓑⓨ ⓙ ⓝⓘⓚⓗⓐⓣ
“آپ نے میرے ساتھ بالکل ٹھیک نہیں کیا پرواز،اس نا انصافی کیلئے میں آپ کو تاقیامت معاف نہیں کرونگا،آپ نے میرے ارمانوں کا خون کیا ہے،کون بدنصیب دولہا ہوگا جس نے اپنی ذاتی بیوی کی منہ دکھائی نہ کی ہو۔۔”
ارسلان شیروانی کے بٹن کھولتا مسلسل بڑبڑا رہا تھا۔
اور پرواز لب بھینچے اسکی دہائیوں پر لب چبا رہی تھی۔
دراصل ہوا کچھ یوں تھا کہ ارسلان صاحب اپنی زوجہ سے روایتی دلہنوں والے توقعات وابستہ کئے،نشوہ کو منہ مانگی نیک دیکر سرشار سے راجہ اندر کی طرح اپنے ہجلہ عروسی میں داخل ہوئے تھے۔
اور پرواز کو اطمینان سے ڈریسینگ کے پاس بیٹھ کر اپنے ارمانوں کا پورے احتمام کے ساتھ خون کرتا دیکھ،مارے صدمہ کے محترم پر سکتہ طاری ہوگیا تھا جو کم و بیش پندرہ منٹ تک برقرار رہا تھا۔اور ان کے ہوش میں آنے تک پرواز تقریباً تمام جیولری سے نجات پاچکی تھی۔
چوڑیوں کی كهنک پر ارسلان نے اپنے نام کا آخری سنگار اتارنے سے اسے روک تو چکا تھا۔لیکن اب اس کی دہائیاں عروج پر تھی۔اور پرواز اپنی حرکت پر شرمندہ سرپر دوپٹہ لیۓ اپنے مجازی خدا کا بگڑا مزاج ملاحظہ کررہی تھی۔۔
یہاں مظلوم ارسلان ضرور تھا لیکن ظالم پرواز بھی نہیں تھی۔لپ اسٹک تک کو استمعال میں لانے سے گریزاں جرنلسٹ صاحبہ پچھلے آٹھ گھنٹے سے ہیوی میک اپ اور جیولری سے اس قدر اکتائی ہوئی تھی کہ کمرے میں آتے ہی پہلا کام جان کا خلاصہ سوچا۔
اس سارے جهنجھٹ سے چھٹکارا پانے کی فکر میں وہ بیچارے ارسلان کے ارمانوں کے ساتھ بے ایمانی کر گئی تھی۔جس کا اسے ارسلان کی اتری شکل بگڑے تیور دیکھ اچھے سے اندازہ ہورہا تھا۔
“یقین کریں، مجھے اس سب سے الجھن ہورہی تھی تبھی میں نے چینج کرلیا،مجھے ذرا اندازہ نہیں تھا کہ آپ کو اتنا برا لگے گا۔۔”
پرواز نے اسے شیروانی صوفے کی طرف اچھال کر کبرڈ کی طرف بڑھتا دیکھ وضاحت دی۔آخر وہ غلطی پر تھی۔۔
“جی، بہت اچھا کیا محترمہ میرے نام کیا سولہ سنگار سولہ منٹ تک میرے انتظار میں نہیں رکھ سکیں۔۔” ارسلان جلے بھنے انداز میں کہتا ٹراؤزر شرٹ لیکر واش روم میں بند ہوا تھا۔
“یہ سہی ہے خود تو ایک شیروانی اور کُلہ پہن کر پورے ہوٹل میں دندناتے پھر رہے تھے،میری طرح دس کیلو کا آوٹ فٹ پلس جیولری ہیوی میک کرکے ایک جگہ چپک کر بیٹھتے تب پوچھتی میں،تین دن سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھ بیٹھ کر کمر اکڑ گئی ہے،اس پر صاحب بہادر کے مزاج چیک کریں۔ہونہ!مجھے کیا رہیں ناراض، میں تو لمبی تان کے سونے لگی ہوں۔۔”
پرواز بند دروازے پر گھوری ڈال کر بھاری لہنگا سنبهالتی کبرڈ سے آرام ده ڈریس نکال کر ڈریسنگ روم کی طرف بڑھی تھی۔
دس منٹ میں ڈریس تبدیل کرکے بالوں کا جوڑا بنائے باہر نکلی تو ارسلان بلیک ٹراؤزر شرٹ میں پھولے منہ کے ساتھ ڈریسنگ کے آگے بال بناتا نظر آیا تھا۔وہ مکمل نظر انداز کرتی واش روم میں بند ہوئی تھی۔
“چوڑیاں بھی اتار ہی لیتی اسے کیوں رکھا ہوا ہے۔۔؟” ارسلان جو پرواز کی حنائی کلائیوں میں سج رہی چوڑیوں پر ترچھی نظر ڈال چکا تھا۔نروٹھے پن سے بڑبڑایا۔
“سہی بددعا لگی ہے مجھے،اس موٹی اور جعلی ڈاکٹر کی،مجال ہے جو اس گاؤں کی گوری پر میری ناراضگی کا اثر ہوا ہو۔۔”
پرواز کی بےنیازی پر ارسلان دل مسوس کر رہ گیا تھا۔
ایک ٹھنڈی اہ فضا کے سپرد کرتا نظر سجے کمرے پر ڈالا، تازہ گلاب اور موگرے کے علاوہ مختلف خوشبوں سے مہکتی کمرے کی مسحور کن فضا،جگہ جگہ گلاب کی پنکھڑیوں سے بنے دل، جس کے اعتراف چھوٹے چھوٹے موم بتی روشن تھے،دروازے سے بیڈ تک گلاب کی نازک پتیوں سے اوٹ لائن کرکے بنایا گیا راستہ،سب کتنا مکمل اور رومانوی تھا،لیکن افسوس ماحول سازگار تھا اور وجود بےنیاز۔
پورے کمرے پر نظر دوڑاتے ہوئے ارسلان کا غم تازہ ہوا تھا۔
“ماحول پرفسوں ہونے سے کیا ہوتا ہے بندے کی لائف میں رومانس ہونا چاہئے۔۔”
ارسلان بیڈ سے گلاب کی پتیاں ہٹاتا بھاری دل سے سوچ کر اپنی جگہ دراز ہوا تھا۔
ابھی چند سیکنڈ گزرے تھے۔
جب چوڑیوں کی كهنک نے ارسلان کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔آنکھوں سے ذرا سا بازو ہٹاکر دیکھا تو وہ سہج سہج کا قدم اٹھاتی بیڈ کے قریب آرہی تھی۔
ارسلان ویسے ہی پڑا رہا جب وہ نروس سی انگلیاں چٹخاتی بیڈ کے بالکل کنارے پر آکر بیٹھ گئی تھی۔۔
“انسان ہوں کوئی آدم خور نہیں ہوں جرنسلٹ صاحبہ۔” ارسلان اس کے گریز پر جل کر بولا۔
جس پر پہلے ہی نروس بیٹھی پرواز اچھل پڑی تھی۔
“مم۔۔میں نے ایسا کب کہا ہے۔۔؟”
پرواز نے بامشکل اپنے حواس بحال کیئے تھے، بڑے بڑے
بدمعاشوں کے ٹھکانے پر بے دھڑک گھس جانے والی نڈر پرواز آج بری طرح نروس تھی۔
“یہی تو مسئلہ ہے آپ کچھ کہتی ہی نہیں ہیں، مقابل پھر بھی سلگ جاتا ہے۔۔”
ارسلان کہنیوں کے بل اٹھ کر بیڈکراؤن سے ٹیک لگاتا شکوہ کرگیا تھا۔۔
“اچھا، ٹھیک ہے ناں ہوگئی غلطی،ویسے بھی کس بیوقوف نے آپ کو مشورہ دیا تھا،پرواز سے یہ عام لڑکیوں والے امیدیں وابستہ کرنے کیلئے؟ یوں بھی اماں کہتی ہیں میں مرد مار ہوں،لڑکیوں والے نزاکت،انداز و اطوار مجھ میں نہیں ہے۔میں صرف مار دھار مردوں والے کام کرنا جانتی ہوں۔۔”
پرواز مقابل کی پگھلاتی نظروں سے زچ ہوتی خفگی سے الٹا ارسلان پر چڑھ دوری تھی۔جس پر ارسلان مبہم سا مسکرایا۔۔
“اماں تو بالکل درست فرماتی ہیں۔۔۔”
ارسلان اس کے کارنامے یاد کرتا پوری طرح نور بانو سے متفق تھا۔
“لیکن اماں کے داماد کا دل بھی کیا کرے، اسے تو اس اماں کی انوکھی بیٹی سے عام شوہروں والی امیدیں ہی وابستہ ہے،میں چاہتا ہوں آپ میرے لیۓ سجیں،مجھ سے تعریف بٹوریں،ناز نخرے اٹھوائیں، چھوٹی چھوٹی باتوں پر روٹھ جائیں اور میں بڑے پیار سے نت نئے طریقوں سے آپ کو مناؤں۔۔”
وه ہولے سے اس کا حنائی ہاتھ تھام کر آنچ دیتے لہجے میں اپنی خواہشیں پرواز کی سماعتوں میں انڈیل رہا تھا۔لیکن پرواز بیچاری تو لفظوں سے زیادہ لمس کی حدت سے پریشان تھی۔۔
“اماں نے مجھے آپ کا نظریہ، آپ نے جو بچپن سے ایکسپئرینس کیا سب سنایا ہے پرواز،کس طرح آپ کے والد کے غلط کاموں میں ملوث ہونے کی وجہ سے انھوں نے آپ کو چھوٹی سی عمر میں خود سے دور کردیا،اور اتنی سی عمر میں حالات کی تلخیوں نے آپ کو ذہنی طور پر اپنی عمر سے کئی زیادہ سمجهدار بنادیا،اور اپنے والدین کی ازدواجی زندگی کی کڑواہٹ نے آپ کو شادی اور صنف مخالف سے بری طرح بدگماں کردیا،لیکن میرا وعدہ ہے پرواز میری ہمراہی میں آپ سکے کا دوسرا رخ دیکھیں گی، میں نے بچپن سے مثالی ازدواجی زندگی کا نمونہ اپنے ارد گرد دیکھا ہے،میں پوری کوشش کرونگا آپ کو مکمل ماحول فراہم کرنے کی۔۔”
ارسلان اس کی حنائی ہتھیلی کے بیل بوٹوں پر نظر گاڑے نرم مگر پر عزم آواز میں پرواز کے کانوں میں رس گھول رہا تھا۔جس پر پرواز نے گھنی پلکیں اٹھاکر اس مسیحا کا چہرہ دیکھا تھا جہاں صرف سچائی رقم تھی۔۔
ہاں!ہمیشہ سے یہ شخص اس کا مسیحا ہی رہا تھا۔
ازدواجی زندگی اور مردوں کو لیکر جو پرواز کی نس نس میں کڑواہٹ بھری تھی،اس شخص کی پہلی ملاقات نے ہی اسے نچڑدیا تھا۔پھر گزرتے دن کے ساتھ یہ شخص اپنے عمل سے بچپن سے پرواز کے ذہن و دل پر بنی مرد ذات کی ناپسندیدہ تصویر کو پسندیدگی میں تبدیل کرتا گیا تھا۔
جو تھوڑی سی خلش رہ گئی تھی وہ علی ولا کے مکینوں کی محبتوں نے مٹادی تھی۔
اور اب کوڑے دل و ذہن کے ساتھ بیٹھی پرواز مقابل بیٹھے پیارے ہمسفر کے ساتھ خوبصورت مستقبل کی تصویر بنا کسی ہچکچاہٹ کے بنانا شروع کرسکتی تھی۔کیونکہ یہ تو طے تھا کہ اب زندگی حسین ہونی والی ہے۔کیونکہ قدر کرنے والا عزت و محبت ایک ساتھ دینے والا باظرف مرد اس کا مقدر تھا۔
“آپ کچھ نہیں کہیں گی؟”
دوسری طرف مکمل خاموشی محسوس کر ارسلان نے سر اٹھا کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جو بنا پلک جهپکائے مسکراتی نظروں سے اسی کے نین نقش میں کھوئی تھی۔ارسلان مبہم سا مسكراکر،ہاتھ کو جھٹکا دیتا پرواز کو سمجھنے کا موقع دئے بغیر خود پر گرا کر پیچھے دراز ہوا تھا۔
اچانک لگے جھٹکے پر پرواز کٹی پتنگ کی طرح ارسلان کے کشاده سینے پر گری تھی۔ساتھ جوڑے سے بال کھل کر کسی آبشار کی طرح ارسلان کے چہرے پر سایہ فگن ہوئے تھے۔۔
“کوئی شک نہیں، سج دھج کر آپ غضب ڈھا رہی تھیں، لیکن اصل بجلیاں تو آپ سادگی میں میرے نازک دل پر گراتی ہیں،یقین کریں ان آنکھوں کی ایک جھلک نے مہینوں تک میرا قرار لوٹا ہوا تھا،خیر قرار تو اب بھی نہیں اس دل کو۔۔”
ارسلان بےآواز مزاہمت کررہی پرواز کے چہرے سے گھنے بالوں کا پردہ ہٹاتا مخمور لہجے میں کہتا انگلی کی مدد سے اس کی جھکی پلکوں کو چھو کر پرواز کی کمزور مزاہمت کا بھی دم توڑ گیا تھا۔۔
“پپ۔پلیز۔۔۔”
پرواز اپنے نقش نقش کو چھو رہی انگلی کی پوروں سے ڑیڑھ کی ہڈی میں سنسنی پیدا کررہے لمس سے بےبس ہوئی۔۔
“جانتی ہیں آپ نے اس انسپکٹر کو اپنے پیچھے بہت خوار کیا ہے،جس کا بدلہ میں ساری زندگی آپ کو اسی طرح اپنے عمل،اپنے لمس،اپنی نظروں سے بےبس کرکے لونگا۔۔” ارسلان کروٹ لیکر پرواز کا سر اپنے بازو پر رکھتا اپنے عزائم سے آگاہ کررہا تھا۔
لیکن وہ بیچاری تو ابھی ہی اس کی وارفتگی سے ہلکان تھی۔
وہ کہتی ہے مجھے وارفتگی سے
دیکھتے کیوں ہو؟
کے میں خود کو بہت ہی قیمتی
محسوس کرتی ہوں۔
میں کہتا ہوں متاعِ جان بہت
انمول ہوتی ہے۔
تمہیں جب دیکھتا ہوں،
زندگی محسوس ہوتی ہے۔
ارسلان اپنی باہوں میں پڑی شرم و حیا کی پیكر کی اٹھتی گرتی پلکوں کے رقص سے،بےخود ہوا مزید پیش قدمیوں پر اترآیا تھا۔اور پرواز اسکی گستاخیوں پر مہکتی خود کو معتبر محسوس کررہی تھی۔۔
زندگی یہی ہے.
جہاں یقین ہوتا ہے،وہاں ناراضگی جزوقتی ہوتی ہے،محبت جب محرم ہو تو محبت کی مہربان چھاؤں میں رہنے والے مزاہمت پر خود سپردگی کی راہ چنتے ہیں۔
پرواز اپنے باپ کا اپنی ماں کے ساتھ برا سلوک دیکھ کر مردوں سے بدگماں ہوگئی تھی۔
جسے ارسلان نے اپنی محبت سے دھل کر اعتبار کا بیج بویا تھا۔جو گزرتے وقت کے ساتھ ارسلان کی خاص توجہ سے ننهے پودے کی شکل اختیار کر چکا تھا۔
انھیں یقین تھا یہ پودا بہت جلد تناور درخت میں تبدیل ہوکر ان کی زندگی میں آگے آنے والے چھوٹے موٹے طوفانوں سے سامنہ کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔
ⓝⓞⓥⓔⓛ ⓑⓨ ⓙ ⓝⓘⓚⓗⓐⓣ

