Uncategorized

Soghat E Ishq by J.Nikhat Last Episode Online Reading


“آپ یہاں؟”
انور فریش ہوکر واش روم سے نکلا تھا جب تحسین بیگم کو اپنے بیڈ پر بیٹھا دیکھ حیران ہوا۔
ولیمے کا فنکشن بھی آج خیر سے ہوگیا تھا۔
انور بڑے بھائی کی طرح ذمہ داری سے سارے کام نبٹاکر تقریباً ڈیڑھ بجے گھر پہنچا تھا۔تھکن سے ٹوٹتے وجود کو لمبی نیند دینے کے غرض سے شاور لینے گیا تھا۔اور رات کے اس پہر تحسین بیگم کو اپنے کمرے میں دیکھ اس کا حیران ہونا جائز تھا۔۔
“کیوں میں اپنے بیٹے کے کمرے میں نہیں آسکتی۔؟” تحسین بیگم اٹھ کر انور کے قریب آئی۔۔
“نن۔۔نہیں۔مم۔۔ماں میں نے ایسا کب کہا؟”
انور آج ڈیڑھ دو مہینے بعد بھی لفظ ماں ادا کرتے جھجھک کا شکار تھا۔
جس پر تحسین بیگم کا دل افسرده ہوتا لیکن حقیقت یہی تھی۔۔
“تو پھر پوچھ کیوں رہے ہیں؟”
تحسین بیگم اس کے ہاتھ سے ٹاول لیکر اس کی مضبوط کلائی تھامے صوفے کی طرف بڑھی تھی۔انھیں صوفے پر بیٹھتا دیکھ انور خود ہی ان کے قدموں کے پاس صوفے سے پشت ٹکاکر بیٹھ گیا تھا۔
کیونکہ اکثر تحسین بیگم اس کے کمرے میں آکر اس کے بالوں کی چمپی کرتی تھی۔شروع میں وہ جھجھک کا شکار ہوا تھا۔لیکن ماں کے مہربان لمس نے جلد اسے عادی بنادیا تھا۔وہ اب بھی آنکھیں موندے بیٹھا تھا اور تحسین بیگم اس کے بال خشک کر رہی تھی۔
“آگے آپ کا کیا ارادہ ہے؟”
کچھ پل کی خاموشی کے بعد سوال ہوا تھا۔
“میٹرک کیا ہے، ارسلان بتارہا تھا کہ گیارویں اور بارویں کا امتحان گھر تیاری کرکے اکٹھے لکھا جاسکتا ہے،تو اب وہی فارم بھرنے کا ارادہ ہے،اس سے ڈگری مل جائے گی،باقی مجھے زمینوں کی اچھی معلومات ہے تو احان اور حشام کا مشترکہ مشورہ ہے کہ میں اسی سے منسلک کچھ کروں،اور میرا بھی کچھ ایسا ہی ارادہ ہے۔۔”
انور نے تفصیلی جواب دیا تھا۔
“سہی فیصلہ ہے، یوں بھی انسان کو وہی کرنا چاہئے جس میں من لگے اور تجربہ ہو۔۔”
تحسین بیگم نے تائید کی تھی۔جس پر انور واپس آنکھیں موند گیا تھا۔
“ویسے اللّه کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ سب بچے اپنی اپنی زندگی میں خوش و خرم ہیں،اب بس تمہارا اور نشوہ کا ہوجائے تو بس ہم سب نے بےفکر ہوجانا ہے،یوں بھی ابو کا ارادہ تم دونوں کا بھی اگلے سال کر دینے کا ہے،اس کے بعد اکٹھے ہم لوگ حج اور ورلڈ ٹوور پر نكلیں گے۔۔”
تحسین بیگم ٹاول سائیڈ صوفے پر پھیلاتی سکون سے بولیں۔۔
“کیا مطلب؟”
انور اپنے نام پر ٹھٹھک کر جان کر انجان ہوا۔۔
“وہی جو تم سمجھ گئے۔۔”
تحسین بیگم نے جتایا تھا۔وه اپنائیت کے بہتر اظہار کیلئے بیٹے کو تم ہی کہتی تھیں۔
“پر ماں میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا۔۔”
انور جهجھک کر بولا۔
“اب کہاں اگلے سال کا ارادہ ہے۔۔”
تحسین بیگم اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتی متبسم لہجے میں تصحیح کرتی بولیں۔ورنہ ماں تھی اپنے بیٹے کا اشارہ بخوبی سمجھ گئی تھیں۔۔
“ماں، میں بھی وہی آپ کو سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں”
انور نے وہی پر زور دیا۔وہ بھی اپنی ماں کے رمز رمز سے واقف تھا۔۔
“میں اسی موضوع پر ہی تم سے کھل کر بات کرنے آئی ہوں،انور تم کیوں نوری سے گریزاں رہتے ہو اتنی پیاری بچی ہے،نکاح ہوچکا ہے تم دونوں کا پھر مسئلہ کہاں ہے؟” تحسین بیگم نے موضوع چھڑنے پر کھل کر سوال کیا۔
نوری سے انور کا گریز وہ روز اول سے نوٹ کررہی تھی۔باقی پرواز نے بھی انور کے ارادوں سے انھیں آگاہ کیا تھا۔آج ارسلان کا ولیمہ ہونے کے بعد تحسین بیگم کھل کر انور سے بات کرنے تھکن کی پرواہ کئے بغیر یہاں پہنچ گئی تھی۔
“ماں، جس نے یہ مخبری کی ہے یقیناً اس نے آپ کو پوری تفصیل سے آگاہ کیا ہوگا۔۔”
انور اٹھ کر کھڑکی کے پاس چلا آیا تھا۔پرواز کے ہر جگہ اشتہار لگانے پر انور کو تپ چڑھی تھی۔۔
“لیکن میں اپنے بیٹے کے منہ سے اس کی پریشانی سننا چاہتی ہوں۔۔”
تحسین بیگم نے زور دیا۔۔
“ماں، بہت چھوٹی ہے وہ مجھ سے۔۔ہمارے درمیاں اچھا خاصہ عمر کا فرق ہے،پھر یہ رشتہ صرف ایک ڈھال تھا، وہ بہت ناسمجھ ہے۔۔آپ سمجھ رہی ہیں ناں؟”
انور بےربطگی سے کہتا سخت جهنجهلاہٹ کا شکار تھا۔اس کی پریشانی پر تحسین بیگم سرہلا گئی تھی۔
“بیٹا، آپ کا پہلا اعتراض تو کسی کھاتے میں ہی نہیں آتا کیونکہ آٹھ نو سال عمر کا فرق عام بات ہے،ہر دوسرے شوہر بیوی کے درمیان ہوتا ہے۔۔”
تحسین بیگم نے آرام سے پہلا اعتراض خارج کیا تھا۔۔
“آپ کی دوسری بات پر غور کریں تو یہاں آپ پوری طرح غلط ہیں،نکاح ایک ایسا رشتہ ہے جس نے ہر رشتے کو جنم دیا ہے پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے یہ رشتہ کسی اور مقصد کیلئے قائم کیا تھا،اللّه اور اس کے رسول ﷺ کو حاضر ناظر مان کر آپ نے اس لڑکی کو اپنی زوجیت میں لیا ہے،تاحیات وہ آپ کی ذمہ داری ہے ان فضول جواز کی بنیاد پر آپ اپنی ذمہ داری سے دامن نہیں چھڑا سکتے،یہ کسی بھی اعتبار سے درست نہیں۔۔”
تحسین بیگم نے رسانیت سے سمجھایا۔جس پر انور نے پیشانی مسلی۔
“اور رہی بات نوری کے بچنے کی تو بیٹا،نوری ابھی صرف انیس سال کی ہے،اس عمر میں لڑکیوں میں بچپنا ہوتا ہے، اس عمر میں ہی کیا ماشاءالله سے چوبیس سال کی نشوہ دیبا کی شرارتیں دیکھ لیں آپ،بیٹا، بچی ہے بچپن سے ماں کے مہربان آنچل میں رہی ہیں،اور جب زمانے کی اؤنچ نیچ سکھانے کی عمر کو پہنچی تو ماں کا سایہ سر سے اٹھ گیا، پھر آپ نے انھیں کسی آبگینے کی طرح سنبهال کر رکھا،تو لااوبالی پنا تو ہوگا ناں بعیت میں،لیکن یاد رکھیں وجود زن کی مزاج میں بہت لچک ہوتی ہے۔۔”
تحسین بیگم نے بیٹے کا كندها تهپتهپاکر سمجھایا۔جس پر انور چپ ہی رہا تھا۔۔
“اور ایک بات بتاؤں،آپ جو اس چھوٹی سی لڑکی سے اپنا دامن بچاتے رہتے ہیں ناں، اس نے اپنی معصوم آنکھوں میں آپ کا عکس سرمے کی طرح سجا رکھا ہے۔۔”
تحسین بیگم کی طرف سے مسکراتی آواز میں کئے گئے انکشاف پر انور نے جھٹکے سے سر اٹھا کر ماں کی طرف دیکھا۔۔
“جی بیٹا جی، یہ لڑکیاں بڑی عجیب ہوتی ہیں، کسی کا نام ان کے نام کے ساتھ جڑ جائے تو اس کے خواب کو آنکھوں میں بسانا اپنا فرض سمجھ لیتی ہیں،وہ معصوم تو شائد اس رشتے کی نزاکتوں کو تک نہیں سمجھتی،لیکن پھر بھی آپ کیلئے اپنے پیارے سے دل میں خاص جذبات رکھت ہیں، جس سے ابھی وہ بھی ناواقف ہیں۔مجھے یقین ہے میرا بیٹا اس کے جذبات کی قدر کرے گا۔۔”
تحسین بیگم نے انور کی تحیر سے پھیلی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اپنے لفظوں کی تشریح کرتی انور کو ورطہ حیرت میں ڈال گئی تھی۔۔
“بھئی، آپ ماں بیٹے کی گفت و شنید ختم ہونگے آج کی رات،چائے کی انتظار میں میری نیند ٹھنڈی ہورہی ہے۔۔” عقب سے آئی اکبر علی کی آواز پر دونوں مسکراتے ہوئے ان کی طرف مڑے تھے۔۔
“میرے ذہن سے ہی نکل گیا،کمرے سے آپ کو چائے دینے ہی نکلی تھی،پھر ادھر کا رخ کرلیا۔۔”
تحسین بیگم سر پر ہاتھ مارتی ہوئی بولیں۔۔
“بیگم، کوئی بڑی بات نہیں ہے، بیٹا کیا مل گیا ہے اب تو ہم بھی آپ کی ذہن سے نکلنے لگے ہیں،لیکن کیا کریں آپ کے نازک ہاتھوں کی بنی چاہئے کے بغیر ہمارا گزارا نہیں۔”
اکبر صاحب شرارت سے کہتے،ان کی نوک جھونک سے محظوظ ہورہے انور کے قریب چلے آئے تھے۔۔
“جوان اولاد کھڑی ہے پہلو میں لحاظ کرلیں کچھ۔”
تحسین بیگم نے سرزنش کیا۔۔
“ارے!کیسا لحاظ بھئی،یہ تو کامیاب زندگی کا نسخہ ہے، میری صلاح ہے برخوردار، یہ چائے والی عادت آپ بھی لگا لینا اس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کبھی آپس میں ناراضگی چل رہی ہو تو،مقابل کو مخاطب کرتے ہوئے دل کو دلاسہ رہتا ہے کہ بھئی، طلب سے مجبور ہیں،ورنہ ہم کونسا اپنی انا کو مارنے والے تھے۔۔”
اکبر علی انور کے شانوں پر بازو پھیلاتے رازداری سے بولے۔
“بہت خوب،ایسی ہی فضول پٹی پڑھائیں آپ بیٹے کو۔۔”
تحسین بیگم انھیں گھورتی وہاں سے واک آؤٹ کرگئی تھی۔
عقب سے آئی دونوں باپ بیٹے کی مشترکہ قہقہے پر وه آسودگی سے مسکراتی آنکھوں میں نمی لیۓ سیڑھیاں اترنے لگی تھی۔
“بابا، لگتا ہے ماں آپ سے ناراض ہوگئی۔۔”
انور نے ڈرایا۔
“ہاں! یار، مجھے بھی یہی لگتا ہے،تو پھر تم آرام کرو، تمہیں کلاس دینے کے غرض سے جو میں نے اپنی کلاس لگوالی ہے میں وہاں حاضر لگاتا ہوں۔۔”
اکبر صاحب انور سے بغل گیر ہوکر اس کی پیشانی پر بکھرے بال سنوارتے وہاں سے نکل گئے تھے۔
“شکر اللّه، مجھے ان انمول نعمتوں سے نوازنے کیلئے۔۔”
ماں باپ کے تازہ لمس پر انور نے بےساختہ شکر کا کلمہ پڑھا تھا۔۔
“کیا ماں نے جو کہا وہ سچ ہے مطلب نور چوہدری۔۔”
بیڈ پر دراز ہوتے ہی انور کی سوچوں کا رخ خود بخود تحسین بیگم کے انکشاف کی طرف ہوا تھا۔
وہ چھوٹی سی لڑکی توجہ تو ہمیشہ سے اس کی کھینچتی آئی تھی۔لیکن اس نئے انکشاف نے دائیں جانب بے مقصد دھڑک رہے دل میں ہل چل مچائی تھی،چاہے جانے کے خاص احساس کے زیر انور کے عنابی لب دل فریب انداز میں مسکرائے تھے۔جس سے وہ بھی انجان تھا۔
 ⓝⓞⓥⓔⓛ ⓑⓨ ⓙ ⓝⓘⓚⓗⓐⓣ
“اس ڈاکٹر سے بڑا ڈرپوک اور وعدہ فراموش شائد ہی دنیا میں کوئی دوسرا ہوگا۔۔”
حشام گھڑی میں دو بجے کا وقت دیکھ بڑبڑایا۔۔
“لیکن آنا تو آپ نے یہیں ہے ڈاکٹر، کیونکہ فرار کے سارے راستے آج مسدود ہیں،اور آپ کی جان یہاں بیڈ پر دنیا مافیہا سے بیگانہ چین کی نیند سورہا ہے اب آپ میری نیند چین چرانے کا احتساب کریں گی۔۔”
حشام اپنے پہلو میں سورہے ثوبان کو دیکھ دل کشی سے مسکرایا۔۔
کل ہوٹل سے واپسی کے بعد حشام دیر رات تک حبہ کا منتظر رہا تھا۔نہ حبہ آئی تھی نہ اس کے آنے کی ندا۔
تھک ہار کر سو گیا تو صبح معلوم ہوا کہ بزدل ڈاکٹر ثوبان کو لیکر نوری کے ساتھ سوگئی تھی۔اس لیۓ آج حشام چالاکی سے پہلے ہی ثوبان کو لیکر کمرے میں آگیا تھا۔
اب تو لازمی ڈاکٹر مارے باندھےکمرے میں آنے والی تھی۔کیونکہ ثوبان کے بغیر ڈاکٹر کو چین کہاں ملنا تھا۔۔
مزید پندره منٹ کے صبر آزما انتظار کے بعد آہستگی سے دروازہ کھلا تھا۔اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی حبہ اندر داخل ہوئی تھی۔بیڈ پر لیٹے چھت کو گھور رہے حشام کے چہرے کی سنجیدگی دیکھ بےدهيانی میں حبہ کا پیر ساڑی کے پلو سے الجھا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ ایک اور بہانہ بناکر حشام کا ضبط آزماتی حشام پھرتی سے اس تک پہنچتا اسے تھام گیا تھا۔۔
“جو چیز سنبهلتی نہیں اسے پہننے کا مشوہ کس نے دیا ہے آپ کو۔۔؟”
اس کی لرزتی پلکوں پر پھوک مارتا اسے لب کشائی پر اکسایا گیا تھا۔جس پر وه فوراً خفت زدہ سی سیدھی کھڑی ہوئی تھی۔۔
“آپ ہی نے خرید کر دی ہے یہ بلا، میں نے شوقیہ نہیں پہنا۔۔”
حبہ شرمندگی مٹانے کے غرض سے نروٹھے پن سے بولی۔کیونکہ ولیمے کی شاپنگ اس کی حشام نے خود کی تھی۔۔
“اہ!مطلب میری خواہش کا احترام کیا گیا ہے۔۔؟”
حشام اس کے انداز دلبرا سے محظوظ ہوا۔جس پر حبہ بنا جواب دئے خاموش سے مڑنے لگی تھی۔جب حشام نے سرعت سے اس کی کلائی تھامی۔۔
“خواہش کا ہی احترام کرنا ہے تو اس خواہش کا کریں ناں جو آپ کی رضا کی محتاج ہے۔۔”
حشام نے حبہ کی پشت اپنے چوڑے سینے سے لگاتے ہوئے گمبھیر سرگوشی کی۔کان کی لو سے مس ہوتے حشام کے ہونٹوں کے لمس پر حبہ جی جان سے کانپ اٹھی تھی۔۔
“مم۔۔مسٹر حشام چینج کرنا ہے پلیز۔۔”
حبہ کی پھسی پھسی آواز نکلی تھی۔کچھ اور دیر اس پر حدت حصار میں قید رہتی تو شائد بیہوش ہوجاتی۔۔
“جائیں،میں منتظر ہوں ڈاکٹر۔کل بھی تھا لیکن آپ دامن بچا گئیں۔۔”
حشام جتاتا اسے آزاد کرگیا تھا۔حبہ دور کر کبرڈ سے ہاتھ آیا ڈریس لیکر واش روم میں بند ہوئی تھی۔
اس کی بدحواسی پر حشام سوائے نفی میں سرہلانے کے کر بھی کیا سکتا تھا۔
“بزدل ڈاکٹر!”
وه پردے سہی کرتا کھڑکی کے پاس کھڑا ہوکر آسمان پر ٹمٹمارہے تاروں کا نظارہ کرتا اپنے چاند کا انتظار کرنے لگا تھا۔
آدھے گھنٹے پر محیط انتظار آخر تمام ہوہی گیا تھا۔سادہ سوٹ میں گهبرائی گهبرائی سی حبہ واش روم سے بر آمد ہوئی تھی۔۔
“ڈاکٹر،رات دن خود کو عمر رسیدہ خاتون ثابت کرنے کی کوشش میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتی رہتی ہیں۔اور میری اتنی سی پیش قدمی سے طاری ہوئی لرزش آدھے گھنٹے بعد بھی جوں کی توں ہے۔۔”
حشام بنامڑے بھی حبہ کی حالت کا اندازہ لگاتا متاسف انداز میں بولا۔
حبہ رخ موڑ کر کھڑکی کے باہر دیکھ رہے حشام کی پشت کو گھورتی ثوبان کے پاس چلی آئی تھی۔
“اگر جو دوبارہ آپ نے مجھے عمر کا طعنہ دیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔”
حبہ بہادری دکھانے کیلئے بولی۔ورنہ دل سوکھے پتے کی طرف کانپ رہا تھا۔
“مجال میری جو آپ کو طعنہ دے جاؤں،طعنہ تو آپ مجھے مارتی ہیں کم عمر ہونے کا۔۔”
حشام اس کی کھوکھلے بہادری کے مظاہرے پر مسکراہٹ دباتا بیڈ پر حبہ کی جانب آکر بیٹھ گیا تھا۔
“ہہہ۔۔ہاں تو چھوٹے ہیں آپ مجھ سے غلط تو نہیں کہتی میں۔۔”
نظروں کے ارتكاز پر حبہ کی زبان لڑکھڑائی تھی۔۔
“جی الحمدللّٰه، یہ بات مجھے حفظ ہے،لیکن کم بخت دل نے اس جواز کو خاطر میں نہیں لایا تو میری کیا غلطی۔۔” حشام سرد آہ خارج کرتا بےبسی سے بولا۔۔
“ہیں!کیا مطلب؟”
حبہ ہونق پنے سے نہایت ہی غلط سوال کرگئی تھی۔جس کا احساس اسے حشام کے جاندار قہقہہ سے ہوا تھا۔اپنی بے اختیاری پر ملامت کرتی گردن جھکاگئی تھی۔
“مطلب یہ جناب کہ یہ جذبہ محبت دھرم،مذہب،ذات، فرقہ، دوست،دشمن،عمر جیسے عوامل کا فرق کہاں دیکھتا ہے،یہ تو دل دیکھتا ہے اور اسیر ہوجاتا ہے،یہ تو ایک جادو ہے جو کسی بھی خوش نصیب یا بدنصیب کو اپنے لپیٹ لیکر بےبس کردیتا ہے،جادو بھی ایسا کہ دم تعویز تک بےاثر ہوجائے، اثر تو ایسا کہ پل میں انسان کا اپنا دل اسی سے بیگانہ ہوجاتا ہے،لمحوں میں بےرنگ دنیا رگین نظریں آنے لگتی ہے،پلک چھپکتے حاکم غلام کا چولہ اوڑھ لیتا ہے، جس طرح میری جان لینے کو تیار بهپڑی ہوئی شیرنی نے پہلی نظر میں مجھے اپنا اسیر بنالیا تھا۔۔”
حشام اپنی شہ رگ کے نشان پر انگلی پھیرتا متبسم آواز میں بولا۔ چور نظروں سے سیاہ لكیر کا نشان دیکھ کر وه لب چبانے لگی تھی۔۔
“بہت کتابی بتائیں کرتے ہیں آپ۔۔”
طلسمی ماحول میں جکڑنے سے خود کو روکنے کیلئے ہلکے پھلکے انداز میں بولی۔۔
“مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے،اس لیۓ سوچ رہا ہوں خاموشی کو گفتگو کا موقع فراہم کرکے،ان دوریوں کی تھکن کو سمیٹ لوں۔۔”
وه انگلياں چٹخارہی حبہ کا ہاتھ تھام کر،جذبات سے بوجھل ہوتی آواز میں مخمور آنکھوں سے کسی اور ہی دنیا کی سیر پر نکلنے کی گزارش کررہا تھا۔۔

کوئی شام مجھ میں قیام کر
میرے رنگ روپ کو نکھار دے
جو گزر گئی سو گزر گئی
میری باقی عمر سنوار دے۔

“مم۔۔مسٹر حشام شہزادے۔۔
حبہ وارفتگی سے حشام کو اپنے ایک ایک نقش کو حفظ کرتا دیکھ منمنائی۔
“وہ سکون سے سو رہے ہیں انھیں آپ ڈسٹرب نہیں کریں وہ آپ کو نہیں کریں گے،آپ وہ کہیں جو میں سننے کا خواہش مند ہوں۔۔”
حشام اس کے بھونڈے جواز پر گھور کربولا۔
جس پر حبہ مدهم سا مسکراتی دهیمی آواز میں گویا ہوئی۔
“جانتے ہیں مسٹر حشام، عموماً لوگ کہتے خوش نصیبی سے فلاں شخص فلاں کی تقدیر میں لکھا گیا ہے،لیکن ڈاکٹر حبہ کا دل اعتراف کرتا ہے کہ خوش نصیبی اس کی مقدر میں آپ کے وصیلے سے لکھی گئی ہے۔۔”
حبہ نے ہولے سے حشام کی چوری ہتھیلی اپنے نازک ہاتھوں میں مقید کی تھی۔
“لوگ کسی خاص سے ملنے کیلئے بہار کا انتظار کرتے ہیں، مجھ بہار کی منتظر کی زندگی کا ہر موسم آپ کے دم سے ہے،آپ کے زندگی میں آنے کے بعد سے ہی میں نے موسم اور رنگوں کی خوبصورتی کو محسوس کیا ہے،آپ نے میری بےرنگ زندگی میں ہر رنگ بھرے ہیں، چا ہے وہ خوشیوں کے ہوں،اعتبار کے ہوں،رشتوں کے ہوں،جذبات کے ہوں یا محبت کے،آپ نے ڈاکٹر حبہ کو زندگی جینا سیکھایا ہے،آپ نے ہی مجھے زندگی کا معنٰی سمجھایا ہے، بنا آپ کے اب میں کچھ بھی نہیں،بس آپ سے اتنی سی گزارش ہے موسم بدل جائے،وقت بدل جائے،بھلے ہی سارا زمانہ بدل جائے بس آپ نہیں بدلنا، اسی طرح ہمیشہ مجھ پر اپنا مہربان سایہ بنائے رکھنا،کیونکہ اب آپ سانسوں کی طرح لازم سے ہوگئے ہیں زندگی میں۔”
عقیدت سے اس کی ہتھیلی پر اپنے لب رکھتی وه اس مرد کو معتبر کرگئی تھی۔
وہ تو چند لفظی اظہار کا خواہش مند تھا،لیکن حبہ کے مہکتے لفظوں نے حشام کو اندر تک مسرور کردیا تھا۔
“کبھی نہیں ڈاکٹر،کبھی بھی نہیں،حشام انصار علی کا وعدہ ہے وہ ہر حال میں ڈاکٹر کا ہم قدم رہے گا۔۔”
حشام اسے کھینچ کر اپنے اندر چھپاتا مخور لہجے میں بولا۔
حبہ پرسکون سی اس کے حصار میں آنکھیں موند گئی تھی۔
گزری زندگی جیسی بھی تھی آنے والی زندگی حسین ہونے والی تھی،یہ احساس اسے ہمیشہ حشام کی موجودگی اور اس کے عمل و الفاظ دلاتے رہتے ہیں۔
جس پر یقین کرتے ہوئے بھی وہ انکاری تھی۔لیکن آج انکار کی گنجائش ہی نہیں رہی تھی۔یہ شخص اسے صندل کرگیا تھا۔
پھر وہ کیوں یاد رکھتی کہ اس کی رگوں میں کس کا خون دوڑتا ہے، جب مہکتی سانسوں میں کسی بہت خاص کی محبت کا بسیرا تھا،وہ کیوں تلخ حقیقت کے ایک پہلو کو سوچ کر خود کو کم تر گردانتی جب اس کا نصف بہتر اس کا ہمسفر اسے اپنے پاکیزہ محبت سے بلندیوں پر بیٹھارہا تھا۔اسے کیا غرض قسمت کے ایک سیاہ باب پر ماتم کرنے کی جب مقدر کا ستارہ خود اس کے سرپر تاج کی طرح جھلملاتا اس کی محبت کی داستان لکھ رہا تھا۔۔
 ⓝⓞⓥⓔⓛ ⓑⓨ ⓙ ⓝⓘⓚⓗⓐⓣ
‘ علی ولا’
نام ایک خطاب ہزار
خوشیوں کا گہوارہ،
چاہتوں کا آشیانہ،
کھلکھلاہٹوں کا مسکن،
محبتوں کا ڈیرہ،
ہنسی اور اپنائیت کا ٹھکانہ،
شوخی اور شرارتوں کا پٹارہ،

اس ایک علی ولا کی در و دیوار میں ہر جزبے کا بسیرا تھا۔جس کی وجہ صرف ایک تھی ‘قدر’ ان در و دیوار میں رہنے بسنے والی علی ولا کے مکیں رشتوں کی، محبتوں کی، اپنوں کی قدر کرنا جانتے تھے۔
یہاں خوشی یا غم فردی نہیں ہوتی تھی،خوشی میں سب کھلکھلاتے ساتھ تھے تو غم میں آنسوں بھی ساتھ ہی بہتے تھے۔
مشکل میں پریشان ساتھ ہوتے تو خوشیوں میں پرجوش بھی اکٹھے ہوتے تھے۔
علی ولا کی مضبوط دیواریں یہاں رہنے والے مکینوں کے رشتوں کی مضبوطی کے آگے کچھ نہیں تھی۔
اسی لیۓ تو علی ولا نے انھیں خود میں سمٹ کر جوڑ کر رکھا تھا۔
ولیمہ گزرگیا تھا۔
ایک ہفتے کی چھٹی کے بعد ارسلان نے واپس تھانے جانا شروع کردیا تھا۔پرواز تو یوں بھی جاب پر واپسی کیلئے پرتول رہی تھی۔
تو وہ بھی دا ابو سے اجازت طلب کرکے اپنی جاب شروع کرچکی تھی۔اور آج اتوار کا دن تھا۔
اتوار کا دن ہمیشہ علی ولا میں بہار لیکر آتا تھا۔لیکن آج کچھ زیادہ ہی رونقیں اتر آئی تھی۔دا ابو اسٹڈی میں تھے اپنے تینوں سپوت کے ساتھ۔
اس لئے بڑے ہال میں ينگ جنریشن نے ڈیرہ ڈالا ہوا تھا۔فون کرکے ایمرجنسی میں بلائے گئے رافع کی آمد سےمحفل اور مکمل ہوگئی تھی۔خلاف عادت آج انور بھی مسکرارہا تھا۔سب وہیں تھے بس حشام اپنے شہزادے کے ساتھ غائب تھا۔۔
احان،دیبا،پرواز،حبہ ایک کیرم کے گرد بیٹھے تھے،جبکہ نشوہ،ارسلان،انور،رافع دوسرے کیرم کے گرد جمع تھے۔ دونوں طرف سے کھیلاڑیوں کے درمیان میں بیٹھی نوری تھالی کے بیگن کی طرح کبھی ادھر تو کبھی ادھر لڑھک رہی تھی۔کیونکہ نہ جگہ خالی تھی نہ محترمہ کو کھیلنا آتا تھا۔
“بھائیُ یہ حاشی بھائی کہاں غائب ہوگئے ہیں کہیں بھول کر محترم آفس تو نہیں نکل گئے،اب تو تیسرا راؤنڈ چل رہا ہے۔۔”
کافی دیر انتظار کے بعد ارسلان نے خیال ظاہر کیا۔
“ہو بھی سکتا ہے، اب سب تمہاری طرح کام چور تھوڑی ہوتے ہیں۔۔”
نشوہ اسٹرائیکر سے بلیک کوئین کا نشانہ لیتی ہوئی بولی۔
“تمہیں کتنا اپنے کام سے عشق ہے یہ تمہارے مجازی خدا اچھے سے جانتے ہیں۔۔”
ارسلان نشوہ کے عین مقابل بیٹھے رافع کی طرف اشارہ کرتا طنزیہ بولا۔
اور ردعمل کے طور پر نشوہ کی طرف سے موصول ہوئی گھوری پر رافع نے مسکراہٹ چھپائی۔
“اچھا، میں انھیں دیکھ کر آتا ہوں، کیوٹ بھابھی آپ تب تک میری طرف سے سبسٹیٹوٹ۔۔”
ارسلان شرٹ جھاڑ کر کھڑا ہوا۔
“ہائے، تهنکیو!تهنکیو بھائی۔۔”
نوری چہکتی كهسک کر انور کے برابر میں بیٹھی تھی۔
اس کے چہکنے پر ریڈ کوئین کا نشانہ لے رہے انور کا نشانہ چوک گیا تھا۔جس کا اسے کوئی غم نہیں تھا۔اصل رانی پہلو میں تھی كیرم کی رانی کا کیا کرنا تھا اس نے۔
اسٹرائیکر رافع کی طرف بڑھاتے وہ نظر نوری کے خوشی سے تمتماتے چہرے پر ڈالتا ہولے سے مسكایا تھا۔
“اب یہ نہ کہنے لگ جائیے گا کہ كیرم کھیلنے پر بھی ہاسٹل میں ڈال دیں گے،ورنہ بتارہی ہوں میں، ابھی جاكر دا ابو سے شکایت لگاکر آؤں گی۔۔”
نوری اس کی نظروں کے ارتكاز پر چھوٹی انگلی اٹھاکر دھمکاتے ہوئے بولی۔
“وہاں تو ایک سال بعد دا ابو خود آپ کو بھرتی کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔”
انور اپنی مضبوط شہادت کی انگلی سے اس کی انگلی نیچے کرتا معنٰی خیزی سے بولا۔جو نوری کے خاک نہیں پڑا تھا۔
“ہیں!سچی؟لیکن ایسا کیوں؟میں نے نہیں جانا، سنا ہے ہاسٹل کی وارڈن بڑے سخت جلاد قسم کے ہوتی ہیں رحم تو ہوتا ہی نہیں سونے تو دیتی ہی نہیں۔۔”
نوری روہانسی ہوئی، انور نے مشکل سے مسکراہٹ کو گھنی مونچھوں تلے دبایا تھا۔۔
“ہاں!اور اس ہاسٹل کا نگران تو جلاد ہونے کے ساتھ کھڑوس اور اڑیل بھی ہوگا،رعب ڈالنے والا دھونس جمانے والا۔۔”
انور نے اپنے خصوصیات گنوائے۔۔
“ہیں۔۔آپ وارڈن بنیں گے اب۔۔۔؟”
نوری چونکی۔پھر سنبهل کر اس کے قریب كهسكی۔
“میں نہیں جارہی ایسے کسی ہاسٹل میں،انور آپ ہی کچھ کریں ناں، آپی نے آپ کو میری ذمہ داری دی ہے آخر۔۔”
جگ سے بیگانہ اب وه مسكا بازی میں لگ چکی تھی۔انور لب بھینچے حظ اٹھا رہا تھا۔
جب نشوہ اور رافع کے مشترکہ قہقہے نے دونوں کو ہوش میں لایا تھا۔۔
“ڈسٹرب کرنے کیلئے سوری لو برڈز،لیکن اتنا خوبصورت سین چھوڑ کر ہم گیم کی طرف دھیان دیتے تو ساری زندگی اپنی بصارت کو کوستے۔۔”
نشوہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کان کو ہاتھ لگایا تھا۔
جس پر انور کھسیاکر سركهجاتا واپس کیرم کی طرف متوجہ ہوا تھا۔نوری بھی منہ بسورتی اپنی باری کا انتظار کرنے لگی تھی۔
“میں ابھی آئی۔۔”
حبہ ایک مسکراتی نظر سب پر ڈال کر اپنے مجازی خدا کی تلاش میں کچن کی طرف بڑھی۔اور کچن کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی سامنے کا منظر دیکھ حبہ کا من کیا اپنا سر پیٹ لے۔۔
 ⓝⓞⓥⓔⓛ ⓑⓨ ⓙ ⓝⓘⓚⓗⓐⓣ

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on