Uncategorized

Soghat E Ishq by J.Nikhat Last Episode Online Reading


“ثوبی میرے لال؛میرے پیلے؛میرے گلابی؛میری کلر کی دکان، میرے راج دلارے یہ تمہارے کھانے کی چیز ہے یار میری نہیں،برائے کرم مہربانی فرما کر تم ہی اسے ہضم کرو۔۔۔”
ثوبان کو چھوٹی سی مٹھی میں جکڑ کر اپنی طرف بڑھائے چمچے کو اس کے چھوٹے سے خرگوش کی طرح سامنے چمک رہے دو دانتوں والے منہ کی طرف کرتے ہوئے وه منت بھرے انداز میں بولا۔
جس میں نجانے ثوبان صاحب کو کونسا لطیفہ نظر آیا تھا جو وہ کھلکھلاتے ہوئے چمچہ واپس حشام کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگے تھے۔۔
“یار ثوبی، کسی اور وقت مذاق کرلو ابھی کھالو ورنہ تمہاری کھڑوس، لیڈی ہیٹلر، جلاد، سنگ دل، ہاں، ہاں، ڈاکٹر بھی ماما آگئی تو مجھے نکمے، ناكاره انسان کے خطاب سے نوازے بغیر نہیں جائیں گی،نجانے کونسی تیز طرار چکّی کی مرچ کھاتی ہیں جب بھی گلابی لب ہلتے ہیں ماشاءالله سے آگ ہی اگلتے ہیں،میری تو سمجھ نہیں آتی تمہاری ذرا زیادہ سی حسین مما کو اپنے اس بیش بہا حسن کے مالک مظلوم پلس معصوم شوہر پر رحم کیوں نہیں آتا،مجھ سے دس گنا زیادہ شیریں لہجے میں تو وہ واچ مین چچا سے بات کرتی ہیں۔”
موقع ملتے ہی حشام جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے ثوبان کے مقابل بیٹھ گیا تھا۔
برے برے منہ بناتے ہوئے حشام کے دکھڑے سن رہا ثوبان درمیان میں سر بھی ہلارہا تھا جیسے حشام کو کہہ رہا ہو کہ میں آپ غمگسار ہوں۔
“مسٹر حشام، اتنے برے دن آگئے آپ کے کہ اب میری چغلی آپ میرے بیٹے سے ہی کر رہے ہیں،بہت افسوس ہوا جان کر۔۔”
عقب سے آئی ڈاکٹر کی طنزیہ آواز پر حشام اپنی جگہ اچھل پڑا تھا۔
“حشام بیٹا، جب بھی منہ کھولنا غلط وقت پر ہی کھولنا” ثوبان کو خوشی سے پیچھے کی جانب دیکھ کر تالياں پیٹتا دیکھ وه چونک کر پلٹا تھا۔اور سامنے ہی دروازے میں ڈاکٹر صاحبہ کو دونوں بازو سینے پر باندھے چوکھٹ سے ٹیک لگائے اپنی ازلی سنجیدگی کے ساتھ اپنے آپ کو گھورتا دیکھ حشام نے پیشانی مسلی تھی۔
“میری تعریف میں اتنے کم الفاظ کا ذخیرہ ہے آپ کے پاس جان کر بہت افسوس ہوا۔اور رہی بات ثوبان کو کھلانے کی تو دیکھ کر ایسا معلوم ہورہا ہے جیسے بچے کو آپ نہیں بچہ آپ کو کھلا رہاہے۔”
وه اس کی وائٹ ٹی شرٹ کی درگت پر چوٹ کرتی ہوئی بولی۔
“ہاں، تو میں نے بچوں کی پرورش میں ماسٹرز تھوڑی نا کی ہے۔؟”
حشام ٹشو سے اپنی شرٹ صاف کرتا ہوا منہ ٹیڑھا کرکے بولا۔
“تو جو کام آپ کو آتا نہیں اس میں طبع آزمائی کرنے کی صلہ کس عظیم ہستی نے دی ہے؟”
حبہ بب سے ثوبان کا چہرہ اور ہاتھ صاف کرتی اسی کے انداز میں بولی۔
جس پر ثوبان صاحب نے ایک بار پھر تالیاں پیٹی تھی۔
“جس بچے کو خود بےبی سٹنگ کی ضرورت ہے وہ ایک بچے کی بے بی سٹنگ کر رہا ہے،کمال ہے ویسے۔۔”
حشام کو ٹشو سے اپنا ٹی شرٹ چہرہ صاف کرتا دیکھ حبہ تاسف سے بولی۔
“میں اور بچہ؟ اتنا ہی آپ کو احساس ہے تو اس بچے کی بےبی سٹنگ آپ کرلیں۔۔”
حشام حبہ کے قریب جھک کر شرارتی مگر گمبھیر آواز میں بولا۔جس پر حبہ کی دھڑکن منتشر ہوئی تھی اور ہاتھوں میں ہوئی لرزش سے چمچہ چھوٹ کر فرش پر گرا تھا۔
“چہ!چہ!ڈاکٹر میں تو آپ کو بہت بہادر سمجھتا تھا لیکن مجھے مسلسل مایوسی کا سامنہ کرنا پر رہا ہے۔۔”
حشام اس کے نظر چرانے سے محظوظ ہوا۔
“آپ کچن میں آئے ہی کیوں تھے؟میں شہزادے کو خود کھلانے آرہی تھی۔۔”
وه ماحول کا اثر زائل کرنے ذرا تیز لہجے میں بولی۔۔
“پریکٹس کر رہا تھا ڈاکٹر،تاکہ فیوچر میں جب کبھی آپ کی نائٹ ڈیوٹی ہو مجھے رت جگا نہ کرنا پڑے۔۔”
حشام معنٰی خیزی سے بولا۔۔
“اپنی فضول قسم کی پریکٹس کو یہیں روک دیں،کیونکہ شہزادے اب بڑے ہو رہے ہیں،میری نائٹ ڈیوٹی سے آپ کی نیند میں کسی قسم کا خلل نہیں پیدا ہوگا۔۔”
حبہ لفظوں کی گہرائی میں اترے بغیر بولی۔
“تو میں کہاں شہزادے کی بات کر رہا ہوں،میں تو شہزادے کے آنے والے بھائی بہنوں کی بات کر رہا ہوں،میری خواہش ہے شہزادے کیلئے پہلے گڑیا آئے،پیاری سی مگر تھوڑی مغرور نک چڑی آپ جیسی۔۔۔”
حشام نے گمبھیر لہجے میں اپنی ڈیمانڈ رکھی۔
“اہم!اہم!فیملی پلانگ بعد میں کرلیجئے گا بھائی صاحب، ابھی باہر لگی زبردست قسم کی محفل آپ دونوں کے بغیر ادھوری ہے۔۔”
ارسلان کے گلا کھنگار کر دونوں کو شرمندہ کرنے پر دونوں ہوش میں آئے تھے۔۔
“ویسے پلانگ اچھی ہے۔۔”
ارسلان دونوں کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھ مزید پھیلا۔
جس پر حشام اسے گھورتا اس کی گردن دبوچ کر باہر نکل گیا تھا۔
 ⓝⓞⓥⓔⓛ ⓑⓨ ⓙ ⓝⓘⓚⓗⓐⓣ
حبہ بھی دل سنبهالتی ثوبان کو اٹھائے باہر حال میں آئی تھی۔جہاں کا خوشگوار ماحول کچھ اور خوشگوار ہوگیا تھا۔کیرم سمیٹ دیا گیا تھا۔اب سب ایک دوسرے کے مقابل بیٹھے کسی موضوع پر بحث میں مصروف تھے۔
حبہ ہولے سے آکر دیبا کے پہلو میں ٹک گئی تھی۔
ثوبان صاحب محفل میں قدم رکھتے ہی صنف مخالف کی تمام تر توجہ اپنی جانب کھینچ چکے تھے۔
تضاد صاحب بہادر نے جب توتلی زبان میں چند لفظ ادا کئے تو لڑکیوں کا بس نہیں چلا کہ اس خرگوش کے صدقے قربان چلی جائی۔
وه سب شہزادے کے واری صدقے ایسے جارہی تھی جیسے شہزادے کے منہ سے ہیرے جھڑ رہے ہوں۔۔
“میری تو سمجھ نہیں آرہی، آخر اس ڈیڑھ فٹ کے شہزادے عرف خرگوش میں ایسا کیا ہے جو ہم چھ فٹ کے ہینڈسم علی بردران میں نہیں،جب دیکھو ہماری بیویاں ان محترم کے صدقے واری جاتی ہیں،شریف شوہر صاحبان کی تو قدر ہی نہیں کسی کو۔۔”
اپنے دشمن کی اس قدر پزیرائی پر ارسلان نے جل کر با آواز بلند احتجاج کیا۔اس کی جلن سے وہاں موجود تمام نفوس محظوظ ہوئے تھے۔
ساتھ ڈیڑھ فٹ کے دشمن نے دانت دکھاکر رہی سہی کسر پوری کردی تھی۔۔
“کیوٹنیس! مسٹر جیلس انسپکٹر کیوٹنیس،ورنہ چھ فٹ ہائٹ،ستواں ناک اور سگریٹ کی بری لت سے پرپل عنابی لب اور گزارے لائق ہینڈسم تو جوانی میں کانسٹیبل غفور چچا بھی ہوا کرتے تھے۔۔”
دل جلاتا جواب ارسلان کی ایک اور پیدائشی دشمن نشوہ کی طرف سے آیا تھا۔
“یہ زیادتی ہے۔۔”
رافع نے احتجاج بلند کیا۔جس پر ارسلان نے بیل کی طرح سرہلایا تھا۔۔باقی سب اب بھی نوک جھونک سے لطف اندوز ہوتے مسکرارہے تھے۔۔
“ٹھیک ہے تو ثابت کریں،ارسلان میں تمہیں ایک ٹاسک دیتی ہوں پورا کرلیا تو مان جاؤں گی ورنہ۔۔”
نشوہ نے احسان کرنے کے انداز میں آنکھیں گھمائی۔۔
“اؤے!چیزی برگر ثابت کرنے کی تو ضرورت نہیں ہے، لیکن بتاؤ ایسا کچھ نہیں جو ارسلان نہ کرسکے۔۔”
ارسلان نشوہ کو نئے لقب سے نواز کر آستین چڑھاتا پرجوش سا اپنی جگہ کھڑا ہوا۔۔
“وہ تو ابھی پتا چل جائے گا جل ککڑے۔۔”
نشوہ بھی کمر پر ہاتھ رکھتی مقابل آئی۔۔
“فرض کرو ارسلان کہ تم لوفر ہو،وہ تو یوں بھی ہوں۔لیکن ابھی کیلئے فرض کا لاحقہ لگا لیتے ہیں کہ تم ایک لوفر ہو اور گلی سے گزرنے والی ہر محترمہ کے سنڈل کا نمبر معلوم کرنا تم پر فرض ہے،ایسے میں جرنسلٹ پرواز کا ادھر سے گزر ہوتا ہے تو بتاؤ تم عزت دار طریقے سے اپنی چھترول کیسے کرواؤ گے؟”
نشوہ نے ہاتھ اٹھاکر بڑے انداز میں ٹاسک دیا تھا۔جس پر سب کی بےساختہ نظر چیلنجنگ نظروں سے ارسلان کو دیکھ رہی نشوہ پھر ارسلان پر گئی تھی۔
“اپنے لیول کا کام دیا ہے اس میں کیا مشکل ہے۔۔”
ارسلان نے ناک سے مکھی اڑائی، پرواز کے تاثرات جانچے بغیر۔۔
“السلام علیکم محترمہ،آپ ماشاءالله سے بہت حسین ہیں۔دراصل مجھے عزت دار محلے کی گلی نمبر تین میں دو کمرے پر مشتمل مکان کرائے پر لینے کیلئے ایک عدد تیز ترار،جھگڑالو،جنگلی بلی کی ضرورت ہے،کک۔۔کہنے کا مقصد جز وقتی بیوی کی ضرورت ہے،کیا آپ اس سلسلے میں مجھ مظلوم لوفر کی مدد کرنا چاہیں گی؟”
ارسلان گریبان کے دو پٹن کھول کر دانت دکھاتا چھچھوڑے پن سے بولا۔
اور دوسرے ہی پل پورا ہال قہقہہ کی زد میں آگیا تھا۔
“شکریہ!شکریہ۔شک۔۔”
جھک کر چائنس روایت کے مطابق شکریہ ادا کررہے ارسلان کی نظر خطرناک تیور لئے خود کو گھور رہی پرواز پر پڑی تو ساری شیخی ہوا ہوئی تھی۔سب نے مسکراہٹ روک کر ارسلان کی رونی شکل دیکھی۔جب فضا میں گانے کے بول گونجے تھے۔
“اب منہ کیا دیکھ رہے ہو بیوقوف مناؤ اپنی زوجہ کو اور آپ لوگ بھی ساتھ دیں یار ان کا۔۔”
نشوہ نے ہونق بنے کھڑے ارسلان کا ہاتھ پرواز کے ہاتھ میں دیا تھا۔اور باقی سب کو پکڑ پکڑ کر کھڑا کیا تھا۔
سب پہلے تو کچھ سمجھ ہی نہیں سکے تھے۔جب سمجھ آئی تو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے۔دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کئے کوئی نیا ہی ڈانس اسٹیپ ایجاد کرنے کی کوشش میں بری طرح مگن ثوبان صاحب کے گرد چکر لگانے لگے تھے۔
“سوری شیرنی۔”
ارسلان موقع کا فائدہ اٹھاکر سوری کرچکا تھا۔
اب ہال میں گونج رہے قہقہوں اور تالیوں کی آواز میں گانے کے بول کہیں گم ہوگئے تھے۔
لیکن ثوبان صاحب پرجوش سے چیخیں مارتے تھرک رہے تھے۔جب شور کی آواز پر اسٹڈی میں کسی اہم موضوع پر غور و فکر کر رہے دا ابو کے ہمراہ تینوں سینئر علی برادران باہر آئے تھے۔۔
“نہیں انصار علی،خوشیوں کے رنگوں کو بکھرنے دینا چاہئے ہم پھر کسی وقت اس موضوع پر بات کر لیں گے۔۔”
دا ابو انھیں روکنے آگے بڑھ رہے انصار صاحب کا بازو تھام کر مسکراتے لہجے میں بولے۔۔
ہال میں ثوبان کے گرد کھلکھلارہے ان کے چمن کے پھول اور کچن کی دہلیز پر انھیں محبت پاش نظروں سے دیکھ رہی چاروں خواتین۔
دا ابو اپنے خوش حال آشیانے کی نظر بد سے حفاظت کی دعا کرتے واپس اندر کی طرف بڑھ گئے تھے۔۔
انسان کی زندگی خوشی اور غم کے محور پر گردش کرتی ہے۔
اگر غم امتحان ہے تو خوشی انعام ہے،اگر زندگی میں برا وقت نہ آئے تو انسان خوشیوں کو محسوس نہیں کرپاتا۔خوشی کو پوری طرح محسوس کرنے کیلئے غم کے بادل کا آکر چھٹ جانا ضروری ہوتا ہے۔پھر یہ خوشی غم کے لمحے ہی تو ہوتے ہیں جب اپنے پرائے کی پہچان ہوتی ہے۔۔
علی ولا کے ہر مکیں کی زندگی میں آزمائش کا کڑا وقت آیا تھا۔لیکن وہ ثابت قدمی کا ثبوت دیتے،اپنوں کے سنگ اس امتحان میں کامیاب ہوئے تھے۔اور آج وہ وقت آیا تھا کہ غم کے بادل کہیں دور منہ چھپائے انھیں اسی طرح مسکرانے کی دعا دے رہے تھے۔۔
برائی کا انجام ہمیشہ کی طرح برا ہی ہوا تھا۔شاکا نے اپنی سزا خود چنی تھی۔اور دولت کی لالچ میں رشتوں کو رسوا کرنے والا چوہدری اب جیل میں اپنے کئے کا احتساب کررہا تھا۔
 ⓝⓞⓥⓔⓛ ⓑⓨ ⓙ ⓝⓘⓚⓗⓐⓣ
“سوغات عشق”
‘عشق کی سوغات’ انوکھا ‘ تحفہ’
یہاں ہر کسی کو ان کے عشق و جنون کا تحفہ ملا تھا۔
کمشنر اکبر نے اپنی وردی اپنے فرض سے عشق کیا تھا۔
جس کی سوغات میں انھیں برسوں بعد ان کا بیٹا ملا تھا جس سے ان کی ہر تشنگی مٹ گئی تھی۔
حشام نے اپنے بھائی سے عشق کیا تھا، جس کی سوغات میں اسے حبہ جیسی ہمسفر اور ثوبان جسا پیارا سا بیٹا ملا تھا، اور زندگی حسین ہوگئی تھی۔
حبہ نے اپنی زندگی کے واحد رشتے سے عشق کیا تھا، جس کی سوغات میں اسے حشام جیسا محبت و عزت دینے والا ہمسفر اور ڈھیروں جان نچھاوڑ کرنے والے رشتے ملے تھے، اور ہر محرومی و تشنگی دھواں ہوگئی تھی۔
پرواز نے برائی سے نفرت کی تھی،اور اپنے پروفیشن سے عشق،جس کی سوغات اسے ارسلان جیسے پیارے سے شخص کی صورت میں ملی تھی،اور ہر خدشہ اپنی موت آپ مرگیا تھا۔۔
غرض ہر کسی کو اس کے عشق کی سوغات توقع سے کہیں زیادہ خوبصورت ملی تھی۔
ہر انسان زندگی میں کسی نہ کسی سے عشق ضرور کرتا ہے ضروری نہیں کہ وہ عشق کسی انسان سے ہی ہو۔ پر ہر کسی کو اپنے عشق کی سوغات ضرور ملتی ہے۔بس ضرورت ہوتی ہے تو پرکھنے کی۔۔

۔۔۔ختم شدہ۔۔

ایک اور سفر آپ لوگوں کی سنگ خوبصورتی سے اختتام پذیر ہوا۔خوش ہوں مطمئن بھی ہوں کی میں نے اپنا بہترین دیا ہے۔۔لیکن پھر بھی منتظر ہوں آپ لوگوں کی رائے کی تاکہ جان سکوں کہ میں اپنی کوشش میں کہاں تک کامیاب رہی ہوں۔۔
آپ تمام قارئین بھی خوش رہیں، آباد رہیں، اور اپنے رشتوں کی قدر کریں انھیں وقت دیں،کیونکہ یہ رشتے بڑے انمول ہوتے ہیں،انھیں بےمول کرنے سے پہلے ایک بار ان کا ضرور سوچیں جن کے پاس کوئی رشتہ نہیں جو ترستے ہیں۔بزرگوں کی عزت کریں،انھیں وقت دیں ان سے سیکھیں، کیونکہ یہی وہ باغباں ہیں جن کی محبت و اپنائیت سے سینچے گئے چمن کے ہم پھول ہیں۔ان کی دعاؤں کے بغیر ہم کچھ نہیں۔۔

آپ کی قیمتی رائے کی منتظر
جے۔نکہت
خوش رہیں پیارے لوگ۔۔

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on