تخت_داؤد
تحریر سیما شاہد
یہ ایک پتھر تھا جس پر بٹھا کر حضرت داؤد کی تاج پوشی ہوئی تھی اور انہیں بادشاہ بنا گیا۔۔۔ ظاہر بات ہے اس زمانے میں بڑے بڑے تخت و تاج تو ہوتے نہیں تھے تو یوں ایک پتھر کے اوپر بیٹھ کر حضرت داؤد علیہ سلام کی تاج پوشی کا کام ہوا اور آگے جاکر اسی پتھر پر حضرت سلیمان علیہ سلام کی تاج پوشی ہوئی تھی یعنی اس پتھر کی ایک تاریخی حیثیت ہے اسے بابرکت مانا جاتا ہے حضرت سلیمان علیہ سلام کی تاج پوشی کے بعد جب حضرت سلیمان علیہ سلام نے ہیکل سلیمانی یا مسجد اقصی بنائی تو اس پتھر کو اسی ہیکل کے اندر سنبھال کر رکھ دیا گیا تھا یہودی اس پتھر کو بڑا مانتے تھے یہ ان کے پیغمبروں کی نشانی تھا اور آج بھی ہے ۔
ویسے اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ بنی اسرائیل کی تاریخی حقیقت کیا ہے؟
تو میں کہونگی کہ۔۔۔۔ بنی اسرائیل کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انہوں نے اپنے ہی قبیلے کے کئی نبیوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا، یہاں تک کہ حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کو شہید کر دیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اسی نسل سے تعلق رکھتے تھے، اور جب ان کے دشمنوں نے انہیں قتل کرنے کی سازش کی تو اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر انہیں محفوظ رکھا اور ان کے بدلے کسی اور کو صلیب پر چڑھا دیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ بنی اسرائیل نے نہ صرف اپنے نبیوں پر ظلم کیا بلکہ عام انسانوں پر بھی جبر روا رکھا۔ آج بھی ان کے مظالم جاری ہیں، اور دنیا ان کی تاریخ کو دہرانے کا منظر دیکھ رہی ہے۔
خیر بیک ٹو ٹاپک ۔۔۔
ہم بات کررہے تھے تخت داؤد علیہ سلام جسے ہسٹری میں
Thorne of David
کہتے ہیں کہ یہ داؤد کو ڈیوڈ بلاتے ہیں ۔۔۔
تو جناب یہ وہی پتھر ہے جو 70 عیسوی میں رومی جنرل ٹائیٹس ! یروشلم کو تباہ و برباد کرکے کے دوران اپنے ساتھ لے گیا تھا۔
صدیوں تک یہ پتھر مختلف ہاتھوں میں گردش کرتا رہا، یہاں تک کہ یہ آئرلینڈ پہنچا ، ایک ایسا خطہ جہاں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان شدید مذہبی اور سیاسی کشمکش جاری تھی بعد میں، اسے چودھویں صدی عیسوی میں انگلینڈ منتقل کر دیا گیا یہاں اس پتھر کو ایک کرسی میں نصب کردیا گیا یعنی ایک ایسی کرسی بنائی گئی جس کی سیٹ یہ پتھر ہے ۔اور یہ کرسی یا آپ تخت سمجھ لیں
جس میں یہ تاریخی پتھر جڑا ہوا ہے، آج بھی انگلینڈ کی چرب #ویسٹ_منسٹرـایبی میں محفوظ ہے۔
یہ چرچ انگلینڈ کی پارلیمنٹ کے قریب واقع ہے اور شاہی خاندان کی اہم تقریبات، جیسے شہزادوں اور شہزادیوں کی شادیاں، وہیں انجام پاتی ہیں۔ ہر نئے بادشاہ یا ملکہ کی تاجپوشی بھی اسی تخت پر بیٹھ کر کی جاتی ہے یہ ایک روایت ہے جو آج بھی برطانیہ میں برقرار ہے۔
کہا جاتا ہے کہ برطانوی عقیدے کے مطابق جب دنیا ایک نئے عہد میں داخل ہوگی، تو یہی تخت یروشلم واپس لے جایا جائے گا، تاکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد کے وقت وہ اس پر جلوہ افروز ہوں۔
یہودی عقیدے میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ آخری زمانے میں ان کا مسیحا (Messiah) ظاہر ہوگا، جو بنی اسرائیل کو دوبارہ عروج دے گا اور یروشلم میں تیسرا ہیکل تعمیر کرے گا۔ مسلمانوں کے عقیدے میں جس ہستی کو یہودیوں کا “مسیحا” کہا جاتا ہے، وہ مسیح ” دجال ” ہے ایک فتنہ جو دنیا کو گمراہ کرے گا۔
عیسائیوں کا ماننا ہے کہ آخر الزمان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے اور سچائی کا بول بالا کریں گے، جو اسلامی عقیدے سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ جبکہ یہودیوں کے مطابق، ان کا نجات دہندہ دجال (Messiah) ایک نئی بادشاہت قائم کرے گا، اور وہی اصل تختِ داؤد پر بیٹھ کر حکمرانی کرے گا۔ بعض یہودی فرقے آج بھی اس تخت یا پتھر کو واپس یروشلم لانے کے خواہشمند ہیں تاکہ اپنے مسیحا کی تاجپوشی کر سکیں۔۔
اب یہ سب کیسے ہوگا ؟ اس میں اگر ہم نوٹ کریں تو #امریکہ کا بہت بڑا رول ہے
تیکنیکی اعتبار سے میری یہ پوری تحریر ہی بنیادی طور پر امریکی پالیسی، دجالی تہذیب، گریٹر اسرائیل کے قیام، اور عالمِ اسلام پر تسلط کے حوالے سے ایک مفصل تجزیہ ہے۔ میری پوری کوشش ہے کہ اسے سادہ، بامعنی اور منطقی انداز میں ترتیب دے کر آپ کے سامنے پیش کرسکوں
چلیں بیک ٹو ٹاپک ۔۔۔۔
امریکہ کی عالمی پالیسی اور دجالی ایجنڈا
انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے دوران، امریکی پالیسی سازوں کے سامنے ایک بڑا سوال تھا
“کیسے دنیا میں امریکہ کی بالادستی کو برقرار رکھا جائے؟”۔۔۔۔اس کے لیے تین بڑے نکات پر غور کیا گیا
- امریکہ کو دنیا کی واحد سپر پاور بنانا
یعنی عالمی سیاست، معیشت اور فوجی طاقت کا مرکز رکھنا۔ - دجالی تہذیب کا فروغ اور تحفظ
یعنی ایسی تہذیب جو مادہ پرستی، بے حیائی اور دین سے دوری کو فروغ دے۔ - صہیونی خوابوں کی تکمیل
یعنی گریٹر اسرائیل کا قیام، مسجد اقصیٰ کو منہدم کرکے تیسرا ہیکل (Third Temple) بنانا، اور تختِ داؤد کو یروشلم میں رکھ کر اپنے “مسیحا ” (جو مسلمانوں کے نزدیک دجال ہے) کے لیے راہ ہموار کرنا۔
تو ان تمام مقاصد کو حاصل کرنے کے لئیے اور 21ویں صدی کو اپنی صدی بنانے کے لیے امریکہ نے ایک نئی پالیسی اپنائی، جسے “بش ڈاکٹرائن” کہا گیا۔ اس پالیسی کے تحت امریکہ نے فیصلہ کیا کہ جہاں کہیں بھی اسے خطرہ محسوس ہوگا، وہ پہلے حملہ کرے گا، چاہے سامنے والے ملک نے حملہ کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
یہ پالیسی 9/11 کے بعد واضح طور پر نظر آئی، جب امریکہ نے “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے نام پر مشرق وسطیٰ میں جنگ چھیڑ دی۔ اس جنگ کے پیچھے چار بڑے مقاصد تھے
- عالم اسلام میں کمزور ممالک پر حملہ کرنا
کیونکہ کمزور قوموں کو قابو پانا آسان ہوتا ہے۔ - تیل کے وسائل پر قبضہ کرنا
خلیج کے تیل کے ذخائر دنیا کے سب سے بڑے ہیں، جن پر تسلط حاصل کرکے امریکہ اپنی معیشت اور طاقت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ - دجالی تہذیب کو عام کرنا
اسلامی اقدار جیسے حیا، عفت، خاندان کی مضبوطی اور دین پر عمل کو ختم کرنا۔ - صہیونی خواب کی تکمیل
گریٹر اسرائیل کے قیام کے لیے عراق، شام، سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کو تقسیم کرنا۔
اب آپ خود دیکھ لیں کہ انبیاء کی تاریخ کیسے جڑی ہوئی ہے اور آج جو یہ سب کچھ ہورہا ہے اس کے واضح اشارے موجود تھے ۔
مسجد اقصیٰ اور تختِ داؤد کا معاملہ
یہودیوں کے عقیدے کے مطابق، جب ان کا “مسیحا” آئے گا، تو وہ یروشلم میں حکومت کرے گا۔ اس کے لیے وہ
مسجد اقصیٰ کو شہید کرکے اس کی جگہ #تیسرا_ہیکل (Third Temple) تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔
تختِ_داؤد (Throne of David) کو واپس یروشلم لا کر اپنے مسیحا (دجال) کی تاج پوشی کرنا چاہتے ہیں۔
یہی تخت “Stone of Scone” یا “Coronation Stone”
بھی کہلاتا ہے، جو اس وقت ویسٹ منسٹر ایبی (انگلینڈ) میں موجود ہے اور برطانوی بادشاہوں کی تاجپوشی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہودیوں کا ماننا ہے کہ جب تیسرا ہیکل تعمیر ہوگا، تو یہ پتھر وہاں رکھا جائے گا تاکہ ان کا مسیحا اس پر بیٹھ کر حکمرانی کرے۔
مشرق_وسطیٰ کی تقسیم کا منصوبہ
امریکہ اور اسرائیل کی پالیسی کے مطابق، مشرق وسطیٰ کو نئے نقشے کے تحت تقسیم کیا جانا تھا۔ اس میں:
سعودی عرب کے مشرقی حصے اور ایران کے مغربی علاقے کو ملا کر ایک “عرب شیعہ ریاست” بنانا تھا۔
عراق کو تین حصوں میں تقسیم کرنا تھا: شیعہ، سنی اور کرد ریاستیں۔
فلسطین کو مکمل طور پر اسرائیل میں ضم کرکے گریٹر اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرنا تھا۔
یہ منصوبہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، اور اس کے لیے امریکہ نے کئی جنگیں چھیڑیں، جن میں عراق، افغانستان، شام اور لیبیا کی تباہی شامل ہے۔
تو میرے پیارے ریڈرز یہ تمام واقعات کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم سازش کا حصہ ہیں، جس کا مقصد
- امریکہ کو دنیا کی سپر پاور برقرار رکھنا
- دجالی تہذیب کو فروغ دینا
- گریٹر اسرائیل کا قیام اور مسجد اقصیٰ کی جگہ تیسرا ہیکل بنانا
- مشرق وسطیٰ کے وسائل، خاص طور پر تیل، پر قبضہ کرنا
یہ چاروں نکات ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں، جیسے کہ ایک رسی کی مختلف لڑیاں آپس میں بُنی ہوئی ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں بھی امریکہ مداخلت کرتا ہے، ان میں سے ایک یا زیادہ مقاصد پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
امریکہ نے ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے عالمی رائے عامہ کو بھی گمراہ کیا۔ 9/11 جیسے واقعات کو جواز بنا کر جنگیں مسلط کی گئیں، اور میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا گیا، تاکہ جنگوں کے لیے عوامی حمایت حاصل کی جا سکے۔
9/11 کیا تھا کیوں تھا ؟؟
امریکہ نے اپنی جنگجو پالیسی کو فروغ دینے کے لیے ایک خطرناک منصوبہ تیار کیا۔ جیسے پرل ہاربر(Pearl Harbor) کے حملے کے بعد امریکہ نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو تیز کیا تھا، بالکل ویسا ہی ایک اور حادثہ درکار تھا تاکہ قوم میں غصہ اور انتقام کی آگ بھڑکائی جائے۔ اس مقصد کے لیے 9/11 کا واقعہ خود امریکہ ایک سوچی سمجھیں سازش کے تحت کروایا گیا۔ یہ حملہ امریکہ کے اندر عوام میں ایک نئے عزم اور طاقت کا سنگ میل ثابت ہوا، جسے دنیا بھر میں امریکی قوم کے لیے “جنگی” کی صورت میں پیش کیا گیا سارا ملبہ مسمانوں پر ڈال کر جنگ کی راہ ہموار کی گئی ۔اور آپ یہ نوٹ کریں کہ اس وقت کے صدر بش نے کہا کہ مجھے خدا نے حکم دیا ہے افغانستان میں گھس کر انہیں مارنے کا ۔( نعوذباللہ ) اور یوں بش نے کچھ رولز بنائے جنہیں “بش ڈاکٹرائن”کہا جاتا ہے ۔
بش کے دور میں امریکہ نے اپنی پالیسی کو مزید جارحانہ بنا دیا۔ اس کی ایک خاص خصوصیت تھی
“پہلے ہم حملہ کریں گے” اس کا مطلب تھا کہ امریکہ جہاں بھی خطرہ محسوس کرے گا، چاہے وہ حملہ کرنے والا ملک نہ ہو، وہ خود حملہ کرے گا۔ اس کی ایک مثال عراق، افغانستان اور شام کی جنگوں میں دیکھنے کو ملی، جہاں امریکہ نے اپنی فوجی طاقت کا استعمال کیا اور اپنے مفادات کو ترجیح دی اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئیے امریکہ نے عالمی رائے کو اپنے مطابق ڈھالنے کے لیے میڈیا کا بھرپور استعمال کیا۔ ٹی وی، اخبار اور دیگر ذرائع کے ذریعے امریکی عوام اور دنیا بھر میں یہ تاثر دیا گیا کہ امریکہ پر حملہ کرنے والے مسلمان ہیں، اور ان حملوں کے پیچھے القاعدہ یا دوسرے “دہشت گرد” گروپ ہیں۔ اس طریقے سے امریکی عوام کی جنگی حمایت حاصل کی گئی، اور ان کے درمیان
“ہمارے وجود کے لیے خطرہ” کے بارے میں ایک بیانیہ بنایا گیا۔
امریکہ کی اس جنگی حکمت عملی کے لیے مالی وسائل کی ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل کی گئی اور سینکڑوں ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔ یہ رقم صرف فوجی کارروائیوں پر نہیں بلکہ میڈیا، عوامی حمایت اور فوجی اڈوں کی تعمیر پر بھی خرچ کی گئی۔
امریکہ کی پالیسی کا ایک اور اہم مقصد اسرائیل کی حمایت اور مشرق وسطیٰ میں اس کے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنا تھا۔ اسرائیل کے خلاف ہونے والے بڑے مظاہروں کے باوجود، امریکہ نے عالمی رائے کو اپنے مطابق بنایا تاکہ اسرائیل کو ان کے منصوبوں میں کامیاب کیا جا سکے۔
ان سب باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ نے اپنی عالمی بالادستی کو برقرار رکھنے اور دنیا بھر میں اپنی جنگی حکمت عملی کو نافذ کرنے کے لیے ایک منظم اور طاقتور منصوبہ بنایا۔ اس پالیسی میں امریکہ نے صرف اپنے مفادات کو مدنظر رکھا بلکہ اس کے ذریعے عالمی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ ان تمام اقدامات کا مقصد امریکہ کو سپر پاور کی حیثیت سے برقرار رکھنا تھا اور 2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ بھی یہی پالیسی فالو کررہا ہے بس سمجھنے والی نظر ہونی چاہیے ۔
یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں ہر فیصلہ ایک بڑے ایجنڈے کا حصہ ہوتا ہے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
واللہ اعلم بالثواب
سیما شاہد ۔
ویسے کیا آپ جانتے ہیں کہ کلمہ توحید یعنی اللہ کی وحدانیت پر دنیا میں جس قوم کو سب سے یقین ہے جس نے نہ ماضی میں اور نہ آج حال میں آج تک شرک نہیں کیا وہ کون سی قوم ہے ؟؟ کمنٹ میں جواب ضرور دیں اور پلیز پیج کو لائک کریں پوسٹ پر ایکٹیو ہو کمنٹ کریں میں اپنا کام کررہی ہوں آپ اپنا کریں ۔
شکریہ
سیما شاہد

