گھنا اندھیرا، خوفناک جنگل اور جنگلی جانوروں کی آواز جسے سن کر رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ وہ تیزی سے اندر بڑھ رہی تھی اس کے ساتھ ہی ابراز بھی تھا۔ خاموشی سے اس کی ہر حرکات و سکنات پر غور وفکر کرتا ہوا۔۔
جنگل میں صرف جھینگر کی آوازیں، کبھی کبھی درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ، اور کہیں دور شیر کی دھاڑ، وہ بنا کسی بھی چیز پر غور کیے بس ایک محافظ بنی ہوئی تھی۔۔
“سر رک کیوں گئے۔۔؟ جلدی چلیں شاید آگے ہمارے لئے کوئی محفوظ جگہ مل جائے۔۔!!” وہ اسے اچانک رکتے ہوئے دیکھ کر اس کے قریب پہنچ گئی۔ ابراز اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے بھی نظروں سے ہی خاموش رہنے کا کہا۔ وہ بھی چوکنہ ہوئی تھی جب اچانک درختوں کے پتے سرسراتے ہوئے دور ہوئے اور پلک جھپکتے ہی دس کے قریب لوگ انہیں گھیر چکے تھے۔۔
وہ بہت پہلے ہی خطرہ محسوس کر چکا تھا کیونکہ وہ بھی کوئی عام انسان نہیں تھا سیاست کی دنیا میں اترنے سے پہلے اسے بہت ساری سیاست سیکھنی بھی پڑی تھی اور دوسری بات وہ بلیک بیلٹ ہولڈر تھا۔ نظروں کی جنبش اور چھوٹی سی حرکت بھی اسے بتا سکتی تھی کہ اگلے انسان کا مومنٹ کیا ہوگا۔۔
دونوں کی پشت ایک دوسرے کے قریب تھی جب کہ چہرہ مخالف سمت تھا۔ اپنے سامنے گھیرے کھڑے ان دس آدمیوں کو دونوں ہی بڑی شاطر نگاہوں سے دیکھ رہے تھے کیونکہ یا تو آج اُن کی ہڈیاں ٹوٹتی یا پھر اِن دونوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔۔
سیاست کے کھیل میں نہ احساس ہوتا ہے، نہ جذبات ہوتے ہیں، نہ محبت کی کوئی قدر ہوتی ہے، نہ انسانیت ہوتی ہے۔ کوئی اپنا بھی پیٹھ پیچھے چھرا مار سکتا ہے کیونکہ سیاست اپنوں کے خون سے رنگی ایک ایسی کہانی ہوتی ہے جس کے آخر میں اس میدان کا کھلاڑی شاید تنہا ہوتا ہے۔۔
بس چند منٹ کا کھیل تھا اور دونوں ہی ان لوگوں پر ٹوٹ پڑے تھے۔ صرف آوازیں ہی سنائی دے رہی تھی چڑیوں کے چہچہانے اور پھڑپھڑانے کی کیونکہ ان کا بھی سکون غارت ہوا تھا۔۔
سات منٹ بعد ان دس لوگوں کو بڑی آسانی سے وہ دونوں مل کر چت کرتے ہوئے دوسری جانب نکل گئے تھے۔۔
زرگون نے اپنی پسٹل نکال رکھی تھی۔ کپڑے کیچڑ سے لت پت، چہرے پر تھکن، مگر آنکھوں میں ہوشیاری، وہ محافظ تھی اور اپنے فرض پر جان نچھاور کرنے کو تیار تھی۔۔
پیچھے ہی ابراز میر لغاری تھا، وہ سیاستدان نہیں لگ رہا تھا بلکہ اس وقت وہ بھی ایک محافظ، ایک جنگجو، جو زرگون کو ہر خطرے سے بچانے کو تیار تھا۔۔
سیاہ اندھیرے میں موبائل کی روشنی ہی ان کے آگے بڑھنے کا سبب تھی۔ پتوں کی چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ ہی ٹپ ٹپ کسی چیز کے گرنے کی آواز بھی آرہی تھی۔ ابراز رکا تھا اور اپنے آگے چلتی زرگون کا ہاتھ تھام کر جھٹکے سے اپنی طرف کھینچ لیا۔۔
Tamseel by Sana Sufiyan Khan Episode 10

