چھوٹا سا گھاس پھونس کا بنا ہٹ، لالٹین کی مدھم روشنی اور درمیان میں جلتی آگ ایک عجیب سا سماں باندھ رہی تھی۔ دونوں ہی خاموش تھے۔ زرگون دروازے کے قریب ہی کھڑی تھی جبکہ وہ فرش پر بچھی پرانی سی دری پر بیٹھ گیا تھا۔۔
پتوں کی سرسراہٹ اور خاموش فضاؤں میں گونجتی جھینگر کی آواز جنگل کو خوفناک بنا رہی تھی۔ دور کہیں سے جھرنے کے پانی کی آواز مدھر سنگیت جیسی سنائی دے رہی تھی۔۔
“بیٹھ جاؤ۔۔!!” اپنا کوٹ اتار کر دری پر رکھا تھا اور ساتھ ہی اس احساس سے آری لڑکی سے مخاطب ہوا۔ جانتا تھا کہ کبھی بھی وہ پہل نہیں کرے گی۔۔
“میں ڈیوٹی پر ہوں سر، آپ آرام سے سو سکتے ہیں۔۔!!” مطلب کہ وہ اپنی بات پر ڈٹی ہوئی تھی۔ ابراز کو نجانے کیوں بےتہاشا غصہ آیا تھا۔ وہ جھٹکے سے اٹھ کر کھڑا ہوا اور چند پل میں ہی دروازے کے قریب پہنچ گیا۔ اب دونوں آمنے سامنے تھے۔۔
“تمہاری نظروں میں جو کچھ بھی میں ہوں فرق نہیں پڑتا لیکن تمہارے مطابق تم ڈیوٹی پر ہو تو اس وقت میں تمہارا باس ہوں اور میں خود کہہ رہا ہوں کہ بیٹھ جاؤ۔۔!!” بڑی مشکل سے غصے کو دبا کر وہ اس سے مخاطب ہوا تھا۔ یہ لڑکی اسے غصہ دلانے میں ماہر تھی۔زرگون ابھی بھی پلکیں جھکا کر کھڑی تھی۔۔
Tamseel by Sana Sufiyan Khan Episode 11

