سلسلہ نہ ختم کرو
یہ ناطہ توڑ کر دیکھوں
نظر پھر کچھ نہ آئے گا
محبت چھوڑ کر دیکھو
اذیت کیا ہے؟
اگر یہ جاننے کا شوق ہے تم کو
سب حسیں خواب یکجا کرو
اور توڑ کر دیکھو
اندیشے وسوسے اور وحشتیں
بندھ جائیں گی اس میں
جو اس نے توڑا تھا تعلق
اسے تم جوڑ کر دیکھو
اگر چننا ہو اس کے غم
مگر کیسے نہ سمجھے تم
کتابِ زیست میں
ورقِ محبت موڑ کر دیکھو
نور پور۔۔!
پہاڑوں کے دامن میں بسے ہوئے، سرسبز وادیوں سے گھرا ایک دلکش اور خاموش سا گاؤں نور پور۔ یہ گاؤں یوں تو رقبے میں چھوٹا ہے لیکن اس کی خوبصورتی اور فطری حسن بے مثال ہے کہ دیکھنے والا اس کے حسن میں کھو کر خود کو بھول جائے۔ آس پاس تقریباً تیس کے قریب وادیاں ہیں، ہر وادی اپنے اندر ایک نئی کہانی، ایک نیا رنگ لیے ہوئے ہے۔۔
ان سب میں نور پور کچھ الگ ہی ہے۔ جیسے قدرت نے ساری وادیوں کا حسن سمیٹ کر اسی ایک جگہ میں ڈھال دیا ہو۔ چاروں طرف اونچے اونچے پہاڑ، جن پر دھند کی ہلکی تہہ اکثر چھائی رہتی اور درمیان میں یہ ننھا سا گاؤں، جو قدرت کی گود میں کسی معصوم بچے کی طرح ساکت پڑا رہتا۔۔
صبح کے وقت جب سورج کی پہلی کرنیں پہاڑوں کی چوٹیوں کو چھوتی تھیں تو ایسا لگتا تھا جیسے نور پور سونے کی چادر اوڑھے جاگ رہا ہو۔ پرندوں کی چہچہاہٹ، دور بہتے نالے کی مدھم سی آواز، اور ہلکی ٹھنڈی ہوا، جھرنے کا پانی اور مویشیوں کے گلے میں بندھی گھنٹی کا شور، یہ سب مل کر نور پور کو ایک خواب جیسا بناتے ہیں۔ جسے دیکھنے کے لئے لوگ دور دراز کے علاقوں سے وہاں پہنچتے رہتے ہیں۔۔
وہ بھی اسی گاؤں کی بیٹی تھی،ان حسین وادیوں کی شہزادی تھی،پہاڑوں کی بیٹی کہنا غلط نہیں تھا۔ وہ اوپر سے جتنی مضبوط تھی اندر سے اتنی ہی نرم تھی۔ وہ ایک خوبصورت دل کی مالک تھی۔۔
ابراز اس کے ساتھ ہی ساتھ ان حسین وادیوں کے حسن کو اپنی آنکھوں میں بساتے ہوئے ایک گھر کے سامنے رک گیا تھا۔ زرگون گردن موڑ کر اسے دیکھتی دروازے پر دستک دینے لگی۔۔
“سر آپ یہاں محفوظ ہیں۔ یہ میرا گھر ہے۔۔!!”اس کے سکون پر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس کے پیچھے ہی گھر کے اندر داخل ہوگیا۔۔
٭٭٭٭٭٭٭

