وادی کے سب سے خوبصورت مقامات میں سے ایک تھی یہ جگہ جہاں وہ دونوں موجود تھے۔ خوبصورت ہرا بھرا میدان جہاں دور دور تک کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ دونوں کھڑے دور کہیں سورج کے غروب ہونے کا منظر دیکھ رہے تھے۔۔
برف پوش چوٹیوں پر سورج کی پڑتی سنہری روشنی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے پہاڑوں پر سنہرا رنگ انڈیل دیا ہو یا پھر پہاڑوں پر سونے کی خوبصورت چٹانیں بچھا دی گئی ہوں۔۔
“تمہارا گاؤں بہت خوبصورت ہے زر۔۔!!” ابراز کی آواز اپنے قریب سے سن کر وہ جواب دیتی جب اس کے بہت ہی محبت سے “زر” کہنے پر ساکت رہ گئی۔ دل کی شور مچاتی دھڑکن الگ پاگل کر رہی تھی۔وہ بار بار سوچنے پر مجبور ہو جاتی تھی کہ یہ شخص دلوں کو جیتنے کا فن بخوبی جانتا ہے۔ زرگون اس کی آواز اور لہجے میں ہی کھو جاتی اگر وہ اسے پیچھے سے تھام کر اپنے سامنے نہ کر لیتا۔۔
“میں تمہیں آج سے اسی نام سے پکاروں گا۔۔!!” وہ پوچھ نہیں رہا تھا بلکہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اسے بتا رہا تھا۔ وہ اس انداز پر بس ایک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔
آج سے زیادہ اسے زندگی حسین کبھی نہیں لگی تھی۔ شوہر کا محبت سے پکارنا، مسکرا کر دیکھنا، خیال رکھنا، دل کو ایک الگ ہی سکون پہنچاتا ہے۔۔
“کتنی ڈھیٹ لڑکی ہو تم جو ابھی بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہی ہو، تمہیں شرم نہیں آرہی ہے ایک غیر مرد کے ساتھ دن رات گھومتے ہوئے۔۔!!” وہ ابھی کچھ کہتی کہ اس سے پہلے ہی اپنے قریب سے حقارت آمیز ابھرتی آواز سن کر ٹھٹک گئی تھی۔۔
دونوں نے ہی ایک ساتھ غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں، ماتھے پر ابھرتی لکیریں معمولی نہیں تھیں۔ ابراز نے مڑ کر دیکھا تو وہی تھا جس نے اس دن زرگون کو تھپڑ مارا تھا۔ اس کا تو خون کھول اٹھا تھا لیکن وہ چاہتا تھا کہ آج جواب وہ دے جسے دینا چاہیے۔۔
“خبردار آگے ایک لفظ نہیں ورنہ تمہارے ہاتھ پیر دو سیکنڈ میں توڑ سکتی ہوں۔ لڑکی ہوں لیکن کمزور نہیں ہوں، لحاظ و مروت بھی کسی چیز کا نام ہے لیکن تمہیں اس کا کہاں معلوم ہوگا اس لیے اپنی شکل گم کرو۔۔!!” زوردار تھپڑ رسید کرتے ہوئے انگلی سے ہی اسے دور جانے کا اشارہ کرتے ہوئے مڑ گئی تھی جبکہ نسیم گالوں پر ہاتھ رکھے حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
ابراز کے چہرے پر بڑی جاندار مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی جسے روکتے ہوئے اس نے مڑ کر اسے دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں سے جو دھمکی دینا چاہا تھا وہ اس تک پہنچ بھی گئی۔۔
کس نے کہا کہ عورت کمزور ہوتی ہے ؟ اگر عورت خود پر اتر جائے تو اس کے سامنے بڑے سے بڑا سورمہ بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔۔
٭٭٭٭٭٭٭
Tamseel by Sana Sufiyan Khan Episode 14 Online Reading

