رات گئے وہ لوگ گھر پہنچے تھے۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ سیڑھیاں چڑھتے دونوں اپنے کمرے کی طرف مڑنے لگے جب ابراز کی بھاری گمبھیر آواز سن کر وہ رک گئی۔۔
“تمہاری ہمت مجھے اچھی لگی زر، ہمیشہ ایسے ہی بہادر رہنا، کبھی ہمت مت ہارنا۔۔!!” اس کے قریب پہنچ کر اس کی ہمت کی تعریف کرتا وہ زیرِ لب مسکرا دیا۔۔
“میری ہمت کی تعریف مت کریں سر کیونکہ میں نے اپنے والدین کی مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ وہ شخص اب امی اور بابا کو بہت تنگ کریگا۔۔!!”اس کے چہرے پر فکر کی لکیریں تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اب مشکلات میں مزید اضافہ ہونے والا ہے۔۔
وہ سیڑھیوں کے درمیان ہی رک گیا اور مڑ کر اس کا چہرہ دیکھتا اسے تسلی دینے لگا۔۔
“تم فکر مت کرو، میں ہوں ناں۔ سکون سے سو جاؤ صبح دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔۔؟” اسے تسلی دے کر ابراز بھی آرام کے گرض سے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔
فریش ہو کر وضوء کر کے تہجد کی نماز ادا کر کے بیڈ پر لیٹ گیا۔ ذہن اسی کی طرف تھا جو خود کو الگ دکھانے کے باوجود بھی ایک عام لڑکی ہی تھی۔ احساس اور جذبات سے بھرپور محبتوں سے بندھی ہوئی۔۔
٭٭٭٭٭٭
Tamseel by Sana Sufiyan Khan Episode 15 Online Reading

