Uncategorized

Tamseel by Sana Sufiyan Khan Episode 19 Online Reading

اس وقت رات کے ٹھیک آٹھ بجے تھے۔ صحن کے کونے میں رکھی مصنوعی لالٹین کی مدھم روشنی اپنا پر پھیلا کر روشنی بکھیرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ باورچی خانے سے مصالحے کی خوشبو آ رہی تھی اور مردوں کے قہقہے لاؤنج کی خاموش دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ رہے تھے۔ گھر کے سبھی مرد حضرات ایک ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے اور عورتیں کچن میں تھیں مگر گھر کی شیرنی کو آج بھی سکون کہاں تھا؟ اس کی آنکھوں میں وہی پرانی چمک تھی جیسے کوئی خفیہ پلان پھر دم توڑنے کو ہو۔ وہ دبی ہنسی کے ساتھ اپنی پارٹنر کا ہاتھ پکڑ کر بڑی تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔۔ وہ خود تو ہر خرافاتی کاموں میں ملوث ہوتی تھی اور ساتھ ہی اپنی پارٹنر کو بھی گھسیٹ لیتی تھی۔ دونوں دبے قدموں سے سیڑھیاں چڑھتیں دشمن اول کے روم کی طرف بڑھ رہی تھیں۔۔”دیکھو میں ایک بار پھر کہہ رہی ہوں کہ واپس چلو ورنہ تم بھائی کو بہت اچھی طرح جانتی تو ہو۔۔؟”وہ خوفزدہ سی اطراف میں نظر ڈالتے ہوئے ساتھ ہی اسے سمجھا بھی رہی تھی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اگر وہ دونوں پکڑی گئی تو پھر بےعزتی لازمی ہونی ہے۔ وہ بھی پبلکلی بےعزتی لیکن اسے رکتے ہوئے نہ دیکھ کر خود بھی مجبوراً دبے پیر اس کے ساتھ چل رہی تھی۔ اس کے چہرے پر خوف کے سائے تھے۔۔”افف تم ان کی بہن لگتی ہی نہیں ہو ڈرپوک، مجھے اُن کے روم سے صرف ایک سی ڈی ہی تو لینی ہے۔ کون سا میں اُن کا قارون کا خزانہ چرانے جا رہی ہوں۔۔!!” اس کی دیدہ دلیری پر شفاء کا بی پی لو ہوا تھا۔ ایک وہ تھی کہ ڈھیٹوں کی طرح اپنے میشن کے انجام دینے تک پرعزم سی تھی۔۔”ششش۔۔! آرام سے چلو اور ویسے بھی آج میں نے انہیں ماما سے کہتے ہوئے سنا تھا کہ وہ بہت رات میں آئینگے اور ویسے بھی میں کیوں ڈرو بھلا ان سے؟ پڑھاتے وقت مجھے گھور گھور کر جو دیکھتے ہیں وہ کم ظلم ہے مجھ پر۔۔؟ اللہ ایسا ظالم و کھڑوس پلس ڈائناسور شوہر کسی بھی معصوم لڑکی کو نہ دے۔۔!!” خود کو معصوم کہنے پر مقابل نے حیرت سے آنکھیں وا کیے رک کر اسے چند سیکنڈ کے لئے دیکھتی رہی تھی، اس کی پٹر پٹر چلتی زبان ابھی بھی مسلسل چل رہی تھی۔۔”تم یہ اپنے بھائی کی طرح آنکھیں نچانا بند کرو۔۔!!” وہ اپنی دھن میں دھاڑ سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہونے لگی اور ساتھ اسے بھی ڈانٹ کر رکھ دیا۔۔”تم نے میرے بھائی کو ڈائناسور کہا ہے۔۔؟” شفاء بےیقین ہوئی تھی اپنے ہینڈسم بھائی کے لئے ایسے الفاظ سن کر، اس کے بھائی کی خوبصورتی پر پوری یونیورسٹی کی لڑکیاں مرتی تھیں اور ابھی بھی پوری دنیا اس کے بھائی کی دیوانی تھی اور ایک یہ تھی اس کے بھائی کے بچپن کی بیوی دنیا سے عجوبہ جو اس کے ہینڈسم بھائی کو ڈایناسور کہہ رہی تھی۔۔”مجھے دیکھتے ہی برف کے گولے تو نہیں اگلتے ہیں،آگ ہی تو اگلتے رہتے ہیں اور یہ کوالٹی ڈائناسور کے ختم ہونے کے بعد تمہارے بھائی میں منتقل ہو گئی ہے۔۔!!” وہ اسے جواب دیتی دروازہ کھول کر اندر داخل ہونے سے پہلے نگاہ چاروں طرف دوڑاتے ہوئے اس کے نہ ہونے کا یقین کر رہی تھی۔۔

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on