اسے کمرے میں بیٹھے کچھ ہی وقت ہوا تھا جب کوئی دھاڑ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور اس کے قریب پہنچ کر جھٹکے سے اسے بازوؤں سے تھام کر اپنے سامنے کھڑا کر دیا۔۔
جھٹکا اتنا زوردار تھا کہ چند پل کے لئے تو وہ سمجھ ہی نہیں سکی کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے۔۔؟ لیکن سامنے نظر آتے چہرے اور اپنے بازوؤں پر سختی محسوس کر کے اسے احساس ہوا کہ وہ شخص اب اس پر پورا حق رکھتا ہے۔ اس کے سرخ چہرے اور سرد نظریں دیکھ کر وہ خوف سے اپنا سر جھکا چکی تھی کسی ہارے ہوئے مسافر کی طرح۔۔
ایک کی نظریں جھکی ہوئی تھی تو دوسری کی نظریں اس کے چہرے پر مرکوز تھیں جن میں غصہ صاف دیکھا جا سکتا تھا۔ وہ اپنے غصے کو دبانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن آج اس سے کنٹرول نہیں ہو رہا تھا۔۔
“تم نے اسے مارا کیوں نہیں۔۔؟ کسی اور کا ہاتھ توڑنے میں تمہیں ذرا سا بھی وقت نہیں لگتا ہے تو پھر اس کا جواب کیوں نہیں دیا۔۔؟ کیوں خود پر اسے ہاتھ اٹھانے دیا۔۔؟ تم وہ زرگون تو نہیں لگی مجھے جو اپنی طرف اٹھنے والی غلط نظر پر اس کی آنکھیں نکال سکتی ہے اور اپنی طرف بڑھنے والے غیر محرم کے ہاتھوں کو توڑ بھی سکتی ہے۔ کہاں ہے وہ لڑکی جو آج تک قائم کیا ہوا اپنا احد بھول گئی۔۔!!” اس کی آنکھوں سے نکلتے ہوئے شعلے زرگون کو راخ کر رہے تھے لیکن لب خاموش تھے اور آنکھوں سے آنسو بہتا ہوا گالوں کو بھگو رہا تھا۔ وہ اس سے کہنا چاہتی تھی اپنے اندر کی بےبسی لیکن لب خاموش تھے اور آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔۔
ابراز بہت غصے میں اس کے پاس آیا تھا۔ اس کے ہونٹوں کے پھٹے کنارے ابراز کو سلگا رہے تھے۔ رقابت کا احساس سب پر غالب تھا۔ اسے اپنا بنا لینے کے باوجود بھی سکون نہیں مل رہا تھا۔۔
“بولو۔۔؟ بولتی کیوں نہیں۔۔؟ میرے ہر سوال کا جواب دو۔۔!!” وہ اسے جھنجھوڑ رہا تھا لیکن زرگون نے ایک بار بھی چہرہ اونچا نہیں کیا اور نہ ہی جواب دینے کی کوشش کی، بس آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔۔
ابراز کا غصہ کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا تھا کیونکہ اس نے آج پہلی بار کمزور پڑی زرگون کو دیکھ رہا تھا جو اس سے دیکھا نہیں جا رہا تھا۔۔
“وہ تمہارا جو کچھ بھی لگتا تھا پہلے لیکن وہ تمہارا محرم نہیں تھا، اس کو کوئی حق نہیں پہنچتا تھا کہ وہ تمہیں چھوئے، مارنے کی تو بہت دور کی بات ہے۔ یہ حق صرف اور صرف تم نے اسے دیا ہے خود کو کمزور ثابت کر کے، کیوں کمزور پڑی اس کے سامنے۔۔؟ کیوں نہیں اس کا ہاتھ توڑ دیا تم نے۔۔؟ بتاؤ مجھے کہ ایسی کون سی مجبوری تمہیں روک رہی تھی۔۔!!” اس کے لہجے کے بھاری پن پر زرگون کی بھیگی پلکیں پل بھر کے لئے اٹھی تھیں اور اس کے سرخ چہرے پر جم گئیں۔ وہ سوچنے پر مجبور تھی کہ بھلا اسے کیسے پتا کہ وہ سچ میں کتنی مجبور ہے۔۔؟
“مجھے معلوم نہیں تھا کہ مس زرگون جو دشمنوں کو اپنی انگلیوں پر نچا سکتی ہے وہ اپنے سب سے قریبی دشمن کو خود پر حاوی ہونے بھی دے سکتی ہے، وہ کمزور بھی پڑھ سکتی ہے، کسی کی مار بھی کھا سکتی ہے مجھے نہیں معلوم تھا۔۔!!” اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے وہ طنز کے نشتر مار رہا تھا بغیر یہ جانے کہ وہ اس کے زخمی دل میں خود ہی تیر پیوست کر رہا ہے۔ زرگون بےتہاشا روتے ہوئے نفی میں سر ہلاتے اس سے چند قدم دور گئی تھی جبکہ اس کا اس طرح دور جانا اسے بہت برا لگ رہا تھا اس لئے اس نے ہاتھ بڑھا کر بےاختیار ہی اسے اپنی جانب کھینچ لیا۔ وہ کسی کٹی پتنگ کی مانند نرمی سے اس کے بازوؤں میں سما گئی تھی۔۔
وہ آب اس کا سہارا تھا، اس کا محرم، ہمدم اور ہمراز بھی تھا تو کیسے اسے گھٹ گھٹ کر تڑپتے دیکھ لیتا۔ اگر کسی لڑکی کے لئے اس کے شوہر کا کندھا اسے سر رکھ کر رونے کے لئے مل رہا ہو تو اس لڑکی کو سمجھ جانا چاہیے کہ اس کا شوہر اس کا سب کچھ بن چکا ہے۔۔
Tamseel Episode 8

