Latest Novel Romantic Novels Youtube Novels

Tashna Jaan |Classic YouTube Special|

“قاضی صاحب کہیں نہیں جائیں گے۔ نکاح ہوگا ابھی اور اِسی وقت!” میر حاتم کی رعب دار آواز پر ہال میں سناٹا چھا گیا جبکہ مہرماہ سانس لینا تک بھول گئی تھی۔ اسکی کزن نے اسکو بتایا تھا کہ میر حاتم اسکو پسند کرتا ہے لیکن وہ تو بچپن سے اسکے سائے سے بھی ڈرتی تھی اسی لئے جو پہلا رشتہ آیا اسنے بنا سوچے سمجھے ہاں کردی مگر وہ لڑکا شادی والے دن بھاگ گیا تھا۔ اور اب میر خود آگے بڑھ کر اسکو نکاح میں لینے کا فیصلہ کرتا مہرماہ کو سکتے میں ڈال گیا اور سب کی زور زبردستی پر وہ مجبوراً اسکی زوجیت میں آچکی تھی۔ “مجھ سے نفرت میں بھاگ رہی تھی نا؟ اب تمہیں اپنا کر بھی نہیں اپناؤں گا مسز حاتم” نکاح کے وہ بعد فوٹو شوٹ کیلئے اسکے برابر بیٹھا تو اسکے سرد انداز پر مہرماہ کا وجود خوف سے لرزا۔۔۔۔۔۔۔#### کیا کہا تھا تم نے سحر سے مجھ جیسے انسان کا سایہ بھی تم اپنی زندگی پر نہیں پڑنے دو گی …میں بہت جلد سفاک اور بے رحم انسان ہو ۔۔۔۔ اب بتاؤ تم میرے کمرے میں میری سیج سجا کر بیٹھی ہوئی ہو۔۔ اب کیا کرو گی تم کیا ہے تمہاری حد ؟۔۔۔ میر حاتم نے سگریٹ سلگا کر بہت گہری اور بے باک نظروں سے مہر ماہ کو گھورتے ہوئے یہ سوال تاکا تھا۔مہرماہ جو کہ پہلے ہی اس نکاح سے سہمی بیٹھی تھی۔۔ میر حاتم کی سرد آواز محسوس کر کے اس کی ریڑ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی تھی۔۔۔ “کیسے اس بات سے انکار کرتی ہیں” جب کہ وہ خود سحر سے کہہ چکی تھی کہ میر حاتم جیسے انسان کے ساتھ کوئی لڑکی زندہ رہ ہی نہیں سکتی// بچپن سے ہی اس انسان نے اپنی پرچھائی مہرماہ پر اس طرح ڈالی کہ اس سے خوف کے علاوہ کوئی اور جذبہ محسوس ہی نہیں ہوا ۔۔تایا زات ہونے کے ساتھ ساتھ مہرماہ کا دشمن بھی تھا۔۔ اس نے اپنی ذات کا رعب پورے خاندان پر رکھا ہوا تھا۔۔ لیکن مہرماہ کی جان سوکھتی تھی۔۔ جہاں میر حاتم کا نام آجاتا تھا ۔۔۔ اپنی تائی جان کو جب مہر ماہ چائے دینے کے لیے ان کے کمرے میں گئی تو دور ہی سے ہی اس کے کانوں میں یہ آواز سنائی دی تھی کہ ‘میر حاتم کے لیے انہیں مہرماہ بہت پسند ہے’ ۔۔۔یہ بات سن کر مہرماہ کے ہاتھ سے چائے کا کپ گر کر ٹوٹ چکا تھا۔۔ سامنے سے آنے والے میر حاتم نے یہ منظر دیکھا تو تیزی سے اس کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے اس کے سر پر کھڑے ہو کر گھورتے ہوئے بولا “کوئی ایک کام ٹھیک سے کر لیا کرو ذرا تمیز شعور نہیں ہے تمہیں یہ کیسے ناقدروں کی طرح تم نے رزق ضائع کر دیا ۔۔دودھ کی کوئی اہمیت ہے یا نہیں تمہاری نظر ۔۔میں پتہ نہیں ملازموں کو تنخواہ کیوں دیتے ہیں ہم سب نقصان تم سے اٹھوانا ہے” مہرہاہ نے اپنی بھیگی نظریں اٹھا کر اس شاندار پرسنلٹی رکھنے والے انسان کو دیکھا جو کہ اس کے لیے ایسے ہی ہر وقت مرچیں چبائے رکھتا تھا۔۔ مہرماہ نے اپنے آنسو صاف کیے اور تیزی سے اس کی سائیڈ سے نکلتی چلی گئی تھی ۔۔میر حاتم بھی سر جھٹک کر باہر کی جانب چلا گیا۔۔ رو رو کر اس نے اپنی آنکھیں سوجا لی تھی۔۔ سحر اس کی دوست کالج میں اس کے ساتھ پڑھتی تھی ۔۔مہرماہ سے ملنے کے لیے آئی تو اس کی طبیعت خراب دیکھ کر پریشان ہوئی۔۔ میر حاتم جو کہ تائی جان کے کہنے پر محرماہ کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے لیے اس کے کمرے کی طرف آرہا تھا۔۔ سحر اور مہرماہ کی بات سن کر اس کے قدم جکڑے تھے ۔۔ اس صفاک اور بے رحم انسان سے میں کبھی شادی نہیں کروں گی۔۔ سحر یہ گھر والوں کی سوچ ہے۔۔ اگر کسی نے میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی تو میں اس گھر سے بھاگ جاؤں گی لیکن میر حاتم کا سایہ اپنی زندگی پر نہیں پڑھنے دوں گی ۔۔میں ان کے فضول اور خود سر فیصلوں کے ساتھ اپنی زندگی نہیں گزارنا چاہتی ۔۔میں کسی بھی قیمت پر ان سے شادی نہیں کروں گی ۔۔ تایا جان سے میں نے پہلے کہہ دیا ہے ۔۔جو بھی رشتہ آئے گا ۔۔اس کو ہاں کردے۔۔ میں جلد از جلد شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔ یہ بات میں نے زاویار بھائی سے کہہ کر بابا جان تک بھی پہنچوا دی ہے ۔۔میں کبھی بھی اس حویلی میں قید ہوکر نہیں رہنا چاہتی ہوں۔۔۔۔یہ بات سن کر میر حاتم واپس اپنے کمرے کی جانب چلا گیا تھا۔۔ ساری رات اضظرابی کیفیت میں گزارنے کے بعد کسی بھی طرح سکون نہیں مل رہا تھا۔۔ وہ لڑکی کس طرح یہ بات کہہ سکتی تھی ۔۔ کیا کچھ نہیں تھا ۔۔ایک اسی سوال میں کہ آخر مہرماہ نے یہ بات کیوں کہی ۔۔میر حاتم زاویار ایک ساتھ ہی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تھے۔۔ ان کو آتا دیکھ کر داجی نے اور تایا جان نے ماشاءاللہ کہا تھا۔۔ دونوں ہی خوبصورتی کا شاہکار تھے۔۔ مہر ماہ کے فیصلے کے مطابق آج لڑکے والوں نے ان کے گھر آنا تھا ۔۔میرے حاتم کے سامنے ہی محرماہ کو کسی دوسرے کے نام کی انگوٹھی پہنا دی گئی تھی۔۔ یہ وقت میر حاتم کی انا پر ایک کاری ضرب لگا گیا تھا ۔۔مہرماہ خاموشی سے سرخ رنگ کے دوپٹے میں سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔وہ انگوٹھی کو آرام سے اپنے ہاتھ کی زینت بنتی دیکھ کر اس نے یک دم ہی میر حاتم کی جانب دیکھا۔۔ جو کہ سرد نظروں سے اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔ یکدمی وہ اپنے نظری جھکا گئی ۔۔کہیں نہ کہیں اس کی ذہن میں یہ بات آئی تھی کہ میر حاتم میں سچائی سے واقف ہے کہ مہرماہ اس سے نفرت کرتی ہے لیکن اپنے ہی دل کا خیال سمجھ کر وہ جھٹک گئی تھی ۔۔آنے والے وقت میں اسے اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہونے والا تھا کہ اس کے دل نے بالکل ٹھیک بات کہی تھی ۔۔۔اس وقت بھی اپنی انا کو پس پشت ڈال کر میر حاتم نے فیصلہ کیا تھا.. جب بارات اپنے مقررہ وقت پر حویلی نہیں پہنچی تو چاروں طرف سے چمگوئیاں شروع ہو گئیں۔۔ داجی نے میر حاتم کو جا کر یہ بات بتائی تو اس نے ایک پل میں فیصلہ کیا تھا ۔۔کالے کرتے میں کندھوں پر شال ڈالے ہوئے ۔۔وہ پوری حویلی میں سب سے نمایاں تھا۔۔ زاویار نے اپنی بہن کا ہاتھ میر حاتم کے ہاتھ میں دیا اور آگے بڑھ کر اس سے گلے ملا تھا۔۔ میر حاتم کے علاوہ ان کے بہن کے لیے کوئی بھی بہترین ہم سفر ہو نہیں سکتا ۔۔۔ مہرماہ تو چکرا کر رہ گئی تھی۔۔ جب اس کے کانوں میں یہ آواز گونجی”’ اس کا نکاح میر حاتم ولد جواد میر کے ساتھ طے پایا ہے ”’ اپنے بھائی کے ہاتھوں کا لمس اپنے کندھوں پر محسوس کر کے کانپتے ہاتھوں سے اس نے اپنی زندگی اس سرد مزاج والے سفاک انسان کے نام کردی تھی ۔۔جس کے نام کو سنتے ہی مہرماہ کی خوشیاں مانند پڑ جاتی تھی۔۔۔ اب کیسے اس کے ساتھ زندگی گزارے گی۔۔ محرماہ کو سوچو میں غرق دیکھا تو میر حاتم نے آگے بڑھ کر اس کی کلائی بے دردی سے کھینچی یکدم ہی مہرماہ اس کے چوڑے سینے سے ٹکرا گئی تھی۔۔ مہرماہ کو خود سے دور جھٹکتے ہوئے۔۔ میر حاتم نے فاصلہ بنایا اور پھر غراتے ہوئے بولا ۔۔ کیا کہا ہے میں نے تمہیں اب بتانا پسند کرو گی کہ تم نکاح سے بھاگنے کے لیے تیار تھی۔۔ `پھر کیسے میرے نکاح میں آگئی یا تم یہ کر ہی نہیں سکتی تھی کیونکہ میر حاتم جس بلا کا نام ہے اس سے تم اچھی طرح واقف ہو اگر تم اس خاندان کے اوپر داغ لا کر یہاں سے نکلنا چاہتی تو یہ تمہاری سب سے بڑی غلطی تھی کہ تمہیں یہاں سے رہائی مل سکتی ہے` ۔۔ محرماہ نے مقابل کو دونوں ہاتھوں سے دور دھکا دیا نہ جانے اس وقت یہ ہمت اس میں کہاں سے آگئی اور پھر روتے ہوئے بولی آپ جیسے سفاک انسان اور اس حویلی کی دیواروں کی طرح سخت دل انسان سے میں اور کیا توقع کر سکتی ہوں۔۔۔ میری خوشیاں کھا گیا آپ !!!آپ کی انا بات نہ گوار گزری نا کہ میں “”آپ سے نفرت کرتی ہوں”” یہی بات ہے نا تو سنیں”””” میں آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آپ کے سامنے کھڑے ہو کر اس بات کا اقرار کرتی ہوں کہ میں مہرماہ فواد میر میر حاتم جواد میر سے نفرت کرتی ہے۔۔۔ یہ نفرت آج یا کل کی نہیں ہے برسوں کی ہے جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے اور میرا آپ سے وعدہ ہے اپنی زندگی کی آخری سانس تک آپ سے نفرت کرتی رہوں گی ۔”””‘مہرماہ نے یہ بات بولی تو یکدم میر حاتم کی آنکھوں میں خون اترا تھا ۔۔اس نے بے دردی سے مہرماہ کے بالوں میں لگا ہوا گجرا اپنے ہاتھ کی مضبوط ہتھیلی میں جکڑا اور اس کی سانسوں پر بے دردی سے قابض ہوا تھا۔۔۔ مہرماہ تو اس دیوہیکل انسان کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتی تھی ۔۔اس شدت بھرے لمس پر وہ کراہ بھی نہ سکی۔۔ مقابل نے اس کو سسکی کی بھی اجازت نہیں دی تھی۔۔ لبوں پر ایک گہرا زخم دے کر میر حاتم نے مہرماہ کے لب آزاد کیے لیکن چہرہ خود سے دور نہیں کیا تھا اور تب اس کے ہونٹوں پر اپنی گرم سانس سے چھوڑتے ہوئے بولا۔۔۔ میں تمہیں اس قابل نہیں چھوڑوں گا کہ “””تم مجھ سے نفرت یا محبت کر سکو””” ۔۔۔تم نے آج اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کردی ہے۔۔ اپنی نفرت کا اقرار کر کے لیکن میں بہت منتقم مزاج بندہ ہوں۔۔ میں کسی کا بھی کوئی بدلہ چھوڑتا نہیں ہوں ۔۔میں بھی تمہیں بتاؤں گا کہ میرے اندر تمہیں دیکھ کر کون سا جذبہ ابھرتا ہے لیکن انداز مختلف ہوگا۔۔ یہ بات کہتے ہوئے میر حاتم نے مہرماہ کی چولی کی زپ ایک ہی جھٹکے میں کھینچ دی تھی۔۔ شولڈر سے ڈھلکتا ہوا بلاوز مہرماہ نے تھامنا چاہا لیکن تب بھی مقابل نے آگے سے جکڑ کے بلاؤز اس کے تن سے جدا کر دیا تھا ۔محرماہ نے شرم سے سرخ پڑتے ہوئے ۔۔۔ میرا حاتم کے ہاتھ روکنے چاہے لیکن میر حاتم نے جلد ہی لہنگے کی ڈوریوں تک رسائی حاصل کی اور لہنگا بھی محرماہ کے تن سے جدا کر دیا ۔۔اس سے پہلے مہرماہ کچھ سمجھتی میر حاتم نے جھک کر اس کی نازکی پر ایسی گستاخی کی تھی کہ مہر ماہ کو تڑپتے ہوئے اس ستمگر کا ہی کندھا تھامنا پڑا تھا ۔۔میر حاتم نے اس کی گہری سانسیں دیکھیں تو استھزائیہ مسکراتے ہوئے بولا ۔۔ ابھی سانسیں گہری کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ تمہیں اس رات اتنا تڑپاؤں گا کہ تمہیں اپنی آتی جاتی سانسوں سے میری خوشبو آئے گی پھر تم سب کو بتانا کہ تم مجھ سے کتنی نفرت کرتی ہو اور میں تم سے کتنا سفاک ہو۔۔ یہ بات کہتے ہوئے میرا حاتم نے بے دردی سے مہرماہ کو بیڈ پر دھکا دیا اور خود اس پر قابض ہوا مہرماہ نے مقابل کو خود سے دور جھٹکنا چاہا لیکن تبھی میر حاتم نے اس کی گردن پر اپنے لبوں کی مہر اس طرح لگائی کہ مہرماہ کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ نکل کر تکیے میں جذب ہوئے تھے۔۔ اپنی ذات کی پامالی پر مہرماہ کے ہاتھوں کی لذراہٹ بڑھی تھی ۔۔میر حاتم نے جب اس کے کپکپاتے ہاتھ دیکھے تو بولا “””ابھی نہیں بیوی ابھی تو پوری رات پڑی ہے ۔۔تمہاری لزراہٹ ایک منٹ کے لیے بھی روکنی نہیں چاہیے ۔۔میرا تم سے وعدہ ہے ۔۔اس قدر بربریت دکھاؤں گا کہ تم یہ رات کبھی نہیں بھول پاؤ گی۔۔ مہرماہ نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے تھے۔۔ تبھی میر حاتم اس قدر شدت سے مہرماہ کے وجود میں سمایا کہ مہرماہ کی چیخ کمرے می گونجی تھی ۔۔صرف ایک چیخ کمرے میں گونجی تھی۔۔ دوبارہ گونجنے نے والی چیخوں کو میر حاتم کے عنابی لبوں نے روک لیا تھا ۔۔ وجود میں اٹھتے اٹھتے درد کو مہرماہ نے سسکتے ہوئے برداشت کیا۔۔اس کو تڑپتے ہوئے میر حاتم نے جب دیکھا تو نہ جانے کیوں اپنی شدت کو نرمی میں بدل گیا تھان۔۔ مہرماہ نے میر حاتم کو اپنے وجود پر ترس کھاتے دیکھا تو رات کے آخری پہر بولی کیا””” ہوا دل بھر گیا؟؟ مجھے تو لگا تھا !!!جیسے ساری رات کوٹھوں پہ گزار کر بھی صبح تھکے قدموں سے گھر میں آتے ہیں۔۔ تب بھی آپ کی آنکھوں کی خماری نہیں ختم ہوتی ۔۔اس وقت بھی نہیں ہوگی۔۔ اب تو حلال رشتہ ہے لیکن کا قصور آپ کا نہیں ہے۔۔ جن کے حرام منہ لگ جائے انہیں حلال میں سکون نہیں ملتا۔۔۔””” حاتم نے جب یہ بات سنی تو محرم@ہ کی کمر پر موجود سیاہ تل کو اپنی شدت کا نشانہ بنایا۔ مہرماہ نے رخ پلٹ کر بیڈ سے اترنا چاہا لیکن تبھی مقابلے نے کھینچ کر اسے اپنے سینے پر گرایا اور پھر اس کے بال جکڑ کر بولا “`بات تو تم نے صحیح کہی تم دنیا کے واحد عورت ہو جس کی قربت میں اس کا شوہر پرسکون نہیں ہو سکا`||مہرماہ نے اس کی آنکھوں میں زخمی نظریں گاڑ کر کہا تو پھر میرے وجود کو اور پامال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ ہٹیں مجھے یہاں سے جانے دیں میر حاتم نے رخ پلٹ کر اسے اپنے نیچے کیا اور بولا تم نے ہی تو کہا ہے کہ میں ساری رات باہر کوٹھوں پر گزار کے آتا ہوں تب بھی خماری نہیں اترتی۔۔!! اب فائدہ نہیں ہے تم صبح کا سورج دیکھنے کے لیے ترس جاؤ گی/۔۔ میری مرضی کے بغیر ایک اس بیڈ سے نہیں اٹھوں گی۔۔۔ مرتبہ پھر اپنی بے رحم قربت میں مہرماہ کو جکڑ کر میر حاتم نے پردے گرا دیے تھےب۔ جہاں سے صبح کی روشنی پھوٹ رہی تھی۔ مہرماہ نے تڑپ کر سیسکتے ہوئے بیڈ شیٹ کو مٹیوں میں جکڑا تھا۔۔ مقابل نے یہ منظر دیکھا تو اس کی دونوں مٹھیوں کو اپنے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں لے گیا تھا۔۔ مہرماہ نے لاکھ شدت سے تڑپنے کے باوجود بھی میر حاتم کک کمر کے گرد اپنے بازوں کا حصرا نہیں کیا۔۔ یہ ایک ہلکی سی بات میر حاتم کی انا کو لگی اور اس نے محرماہ کی نازکی پر ایک گہری جسارت کردی تھی۔۔ مہرماہ کی سانسیں ایک مرتبہ پھر ٹوٹتی محسوس کر کے خود کو پرسکون کرتے ہوئے میر حاتم سائڈ پر ہوا تو محرماہ نے چکراتے سر کے ساتھ بیڈ سے اترنا چاہا لیکن تب ہی میرا حاتم نے مہرماہ کی کلائی کھینچی اور اسے دوبارہ بیڈ پر اپنے مقابل گرایا تھا ۔۔مہرماہ اب روتے ہوئے ہاتھ جوڑنے چاہے لیکن تبھی میر حاتم نے اس کے ہاتھ کھول کر اپنی کمر کے گرد لپیٹے اور خود مہرماہ کی گردن ہے منہ چھپا کر گہرے سانس لینے لگا۔۔۔ مہرماہ کو حیرت ہوئی دو منٹ بعد ہی میرحاتم کے خراٹے کمرے میں گونجنے لگے تھے ۔۔ اس کے بھاری وجود کے نیچے مہرماہ کا نازک وجود دبا ہوا تھا۔۔ ایک ٹانگ حرماہ کے وجود پر رکھے دوسرے ہاتھ اس کے سینے پر اور اپنا منہ مہرماہ کی گردن میں چھپائے وہ پرسکون سو رہا تھا ۔۔محرماہ کے وجود پر پسینے کی بوندیں نمودار تھی ۔۔اس قدر شدت برداشت کرنے کے بعد اس کے جسم کا ایک ایک حصہ درد کر رہا تھا ۔۔نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو نیند نے اپنی وادی میں کھینچ لیا۔۔ مہرماہ بھی خاموشی سے آنکھیں موند گئی تھی ۔۔۔نیچے چل کر کسی کو بھی تمہارے وجود پر یہ نشان نظر نہ آئے۔۔ اگر غلطی سے بھی کسی کی نظر ان نشانوں پر پڑ گئی تو تم پر ایسا قہر ڈھاوں گا ۔۔میر حاتم کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی مہرماہ نے رُخ میر حاتم کی جانب موڑ کر اس کے نم بالوں سے سجی پیشانی کو دیکھتے ہوئے کہا جتنا قہر آپ کل سے اب تک مجھ پر ڈھا چکے ہیں۔۔ اس سے زیادہ نہ ہی میرے اندر سکت ہے اور نہ ہی میں خاموشی سے برداشت کروں گی۔۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں خود خاموش رہوں تو اپنی حد میں رہیں اور مجھ سے فاصلہ بنا کر رکھیں ۔۔یہ بات کہہ کر تیزی سے مہرماہ کمرے سے نکل گئی تھی ۔۔

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on