Uncategorized

Teri Chahat Ki Dhanak by Hira Tahir Episode 17

تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد اس نے پیچھے دیکھا تو جبران کی گاڑی تیزی سے رکشے کی تعاقب میں آ رہی تھی۔
اس نے رکشہ والے کو تھوڑا سا آگے نظر آتی ہوئی تنگ گلی میں جانے کا کہا اور چہرہ چھپا کر جلدی جلدی سے وہ سارے كلمات دہرانے لگی جو بچپن سے زبانی اسے یاد تھے۔
گلی کے درمیان میں رکشہ ایک بریكر کے ساتھ رک گیا جو کہ آج ہی بنایا گیا تھا اور اس کے سامنے اینٹ رکھے ہوئے تھے۔ وہ بنا دیر لگائے رکشہ سے اتر کر تھوڑا آگے گئی اور ایک گھر کا دروازہ پیٹنے لگی مگر بے سود!
کسی نے دروازہ نہیں کھولا۔
تهك ہار کر اس نے ہاتھ نیچے گرایا تو دروازے پر بڑا سا تالا لگا ہوا دیکھا۔
مایوس ہو کر وہ دوسرے گھر کی طرف بڑھ گئی۔
اس نےدروازہ بجانے کے لئے ہاتھ اوپر کیا ہی تھا کہ اسے اپنے پیچھے کسی کی آواز سنائی دی۔
اس نے مڑ کر دیکھا تو رکشے کے ساتھ دو آدمی کھڑے تھے جو ڈرائیور کو دبوچے کچھ پوچھ رہے تھے۔
وہ سمجھ گئی تھی یہ جبران کے آدمی ہیں اور اس کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔
صد شکر کہ اس طرف گلی میں اندهیرا تھا۔
اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر دوڑ لگائی اور برق کی رفتار سی وہ گلی کی دوسری طرف نکل گئی تھی۔
سڑک پر اکّا دکّا گاڑی چل رہی تھی۔
وہ بنا دیر لگائے سڑک پار کرکے سٹی کی طرف دوڑنے لگی۔
دوڑتے دوڑتے اس کی سانسیں پھول گئی تھیں۔وہ سانس لینے کے لیے ذرا سا رُکی تو بد قسمتی سے جبران کی گاڑی اس کے سامنے آ کر رُکی تھی۔
اس کے پیروں سے تو زمین نکل گئی تھی۔
اس سے پہلے کہ جبران گاڑی کا دروازہ کھول کر نیچے اترتا وہ سڑک پر چلتی ہوئی ایک تیز رفتار رکشے کے سامنے چلی گئی۔
ڈرائیور نے بریك لگائی تھی مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
جبران جو نیچے اترا ہی تھا حالات کی سنگینی دیکھ کر واپس گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کرکے وہاں سے نکل گیا۔
رکشے والا ڈرائیور رکشے سے اُتر کر اس کی طرف لپكا تھا۔
“بی بی آپ ٹھیک ہیں؟”وہ حواس باختہ سا ہو کر میزاب کے قریب بیٹھ گیا مگر اسی اثناء میں ایک اور گاڑی آ کر وہاں رکی تو ڈرائیور خوف سے رکشے کی طرف بھاگنے لگا۔
“اے رُکو! رُکو!”کوئی لڑکی ڈرائیور کے پیچھے بھاگی مگر وہ ركشہ زن سے بهگا کر لے گیا۔
وہ لڑکی سڑک كنارے پڑی میزاب کی طرف مُڑی تو ششدر رہ گئی۔
“میزاب!”وہ اس کے عروسی لباس کو لہو سے تر دیکھ کر گھبرا گئی تھی۔
“امی! آپو!” وہ چیخنے لگی تو اس کی ماں اور بہن بھی گاڑی سے اتر آئی تھیں۔
“مجھے بچاؤ! مجھے وجاہت علی سے بچاؤ!”میزاب نے آنکھیں کھول کر بس یہی کہا اور پھر سے آنکھیں موند گئی۔
“”میزاب! میزاب!”وہ اس کا سر گود میں رکھ کر اس کا چہرہ تهپتهپانے لگی۔
“زارا یہ کیا کر رہی ہو؟ چلو یہاں سے! یہ پولیس کیس ہے۔”اس کی بڑی بہن ذویا نے زارا کا بازو پکڑا۔
“آپو، اس کی حالت بہت خراب ہے۔یہ میری کولیگ رائیٹر میزاب احمد جدون ہے۔”وہ روہانسی ہو کر بولی۔اسی اثناء میں کئی اور گاڑیاں بھی رُک گئی تھیں۔
“اچھا ٹھیک ہے تم آؤ! ہم ایمبولنس کو کال کرتے ہیں۔”ذویا نے موبائل نکال کر اسے اپنی طرف کھینچا مگر وہ نہیں اٹھی۔
“جلدی سے میری مدد کرو!”اس نے ذویا کو نظر انداز کرکے ارد گرد جمع ہونے والے ہجوم کی طرف دیکھ کر آواز لگائی تو کئی لوگ آگے آئے تھے۔
“بھیّا اسے گاڑی میں ڈالنے میں میری مدد کریں۔”وہ روتے ہوئے بولی تو ایک نوجوان نے آگے بڑھ کر میزاب کو ہاتھوں سے پکڑ لیا تھا۔
تب ذویا کو احساس ہوا اور وہ میزاب کو اٹھانے میں زارا کی مدد کرنے لگی تھی۔

Faryal Khan

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on