رحمان بابا دُراب کے ذرا سے سمبھلنے کے بعد اسے اپنے ساتھ بگنوتر لے آئے تھے۔اسے ماں کی موت کا ایسا صدمہ لگا تھا کہ وہ نہ کچھ کھاتا پیتا، نہ ہی کسی سے بات کرتا۔
رحمان بابا سارا سارا دن اس سے اس کی بچپن کی بہت سی باتیں کرتے مگر وہ نہ کسی بات پر ہنستا نہ ہی کوئی جواب دیتا۔
ماں کے بچھڑنے کا غم اسے دیمک کی طرح خاموشی سے کھا رہا تھا۔
اسے لگتا تھا زندگی رُک گئی ہے۔اسے بس موت کا انتظار تھا۔
آج رحمان بابا گھر آئے تو وہ سیڑھیوں میں بیٹھا بانسری بجا رہا تھا۔
رحمان بابا کو ایسا لگا تھا جیسے زاہد بانسری بجا رہا ہو۔
وہ سودا سلف چارپائی میں پھینک کر جلدی سے سیڑھیوں کی طرف لپکا۔
“زاہد، زاہد!” وہ اسے پکارتے ہوئے تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا تھا۔
آخری سیڑھی پر بیٹھے دُراب نے ان کی آوازیں سن کر بانسری بجانا روک کر نم آنکھوں کو چھپاتے ہوئے سر جھکا دیا تھا۔
“بجاؤ نا زاہد، بہت عرصے بعد تمہاری بانسری کی آواز سن رہا ہوں۔”وہ اس کے كندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا تو دُراب نے سر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔
“بابا!”
“دُراب؟”رحمان بابا کا الوژن ٹوٹ گیا تھا۔
وہ ایک گہرا سانس لے کر اس سے نیچے والی سیڑھی پر بیٹھ گیا۔
“بالکل ایسے ہی تو بجاتا تھا بانسری!”ان کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔”رابعہ بھابھی اسی بانسری کی دیوانی تھی۔”
“کیسی ہوئی تھی ان کی شادی؟”اتنے عرصے میں اس نے پہلی دفعہ کوئی مکمّل جملہ بولا تھا۔رحمان بابا کو خوشگوار احساس ہوا تھا۔
“زاہد ندّی کے كنارے بیٹھا بانسری بجا رہا تھا اور رابعہ بھابی امرود توڑنے اپنی سہیلیوں کے ساتھ ہمارے گاؤں میں آئی ہوئی تھی۔وہ امرود چھوڑ کر بانسری کی آواز کے پیچھے ہمارے باغ تک آئی تھی۔اس کی سکھیّاں اسے چھیڑتے ہوئے کھلکھلا کر ہنسی تو زاہد کی بند آنکھیں کھلی تھیں اور پھر اس کی انگلیاں خود بخود رک گئی تھیں۔
بھابھی کو دیکھ کر وہ ان پر ایسا فدا ہوا تھا کہ اسی دن گھر جا کر اس نے ان کے ہاں رشتہ بھیجا مگر ان کے بھائیوں نے انکار کر دیا۔یہ بات سارے گاؤں میں پھیل گئی تھی اور تب تک بھابھی بھی زاہد سے پیار کرنے لگی تھی۔زاہد نے پھر سے جرگہ بھیجا مگر وہ لوگ نہیں مانیں۔اس کے بعد زاہد بہت بیمار رہنے لگا تھا اس لیے فیاض نے جا کر ان کے بھائیوں کو منایا مگر ان کی یہی شرط تھی کہ بھابھی اپنے والد کے چھوڑے ہوئے جائیداد میں حصّہ نہیں لے گی اور شادی کے بعد ان سے کوئی تعلق بھی نہیں رکھے گی۔”رحمان بابا نے آنکھیں خشک کر دی تھیں۔
“بھابھی ان کی دونوں شرائط مان گئی اور فیاض نے ان کی شادی کر دی۔انھیں کبھی بھائیوں کی کمی محسوس ہونے نہ دی بلکہ ان سے بڑھ کر انھیں پیار دیا۔”وہ اسے پرانی ساری باتیں بتانے لگے۔
“فیاض ماموں بہت عظیم انسان ہیں۔”
“ہاں بیٹا سو تو ہے۔”
“آپ تینوں کی بہت دوستی تھی نا؟”
“اتنی زیادہ کہ ہم تینوں کی بیویاں پکّی سہیلیاں بن گئی تھیں۔اسی وجہ سے تم اور بیا تین گھروں کے لاڈلے تھے اور میرے تو کچھ زیادہ ہی تھے کیونکہ اللہ نے مجھے اولاد کی نعمت سے محروم رکھا تھا۔”انھوں نے دُراب کی طرف پیار سے دیکھا۔
“تمھیں تو اللہ نے ملا دیا ہے مگر بیا۔۔۔۔۔۔۔”ان کی آنکھیں نم ہونے لگیں تو انھوں نے آسمان کی طرف دیکھا تھا۔
“پتا ہے تم دونوں ہر وقت لڑتے رہتے۔ایک بار میں تم دونوں کے لیے بھٹّے لے کر آیا تو بیا نے تمہارا والا بھٹّہ بھی کھا لیا تھا، جس پر تم نے اس کی کاپی پھاڑ دی تھی۔وہ بہت شرارتی تھی مگر پیار بھی بہت کرتی تھی اور ۔۔۔۔۔۔”ان کی بات کو دُراب نے بیچ میں ہی روک دیا تھا۔
“بیا کیسی دِکھتی تھی؟”
“بہت پیاری!”رحمان بابا کی آنکھیں چھلکنے کو بے تاب ہو رہی تھیں مگر وہp خود کو قابو کیئے رہے۔
“بابا وہ کہاں ہے؟”
“بیٹا، فیاض سے تو پھر کبھی رابطہ ہی نہ ہو سکا۔جس دن اس کا فیصلہ تھا، اس دن تمہاری چاچی بہت بیمار تھی۔میں اسے ایبٹ آباد لے آیا تو دو دن وہ ہسپتال میں داخل رہی۔میں گاؤں واپس آیا تو فیاض کا فیصلہ ہو چکا تھا اور وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔ اس کے بعد تمہاری چاچی کی بیماری نے طول پکڑ لی تو میں بگنوتر شفٹ ہوگیا۔موبائل کا تو زمانہ تھا ہی نہیں اس لیے ہمارا رابطہ کٹ گیا۔ایک دوست مر کر بچھڑ گیا تو دوسرا جیتے جی ہی۔۔۔۔۔۔”ان کی آنکھیں چھلک پڑی تھیں۔
“بابا! مجھے اسلام آباد جانا ہے۔”وہ یکدم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“وہاں کیا کرنا ہے بیٹا؟”
“کسی کو آس کے موتی تھما کر آیا تھا۔میری غیر حاضری سے وہ بکھر گئے ہوں گے۔انھیں سمیٹنے جا رہا ہوں۔”
“تو پھر چلو! میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔”وہ دونوں بنا دیر لگائے اسلام آباد روانہ ہوچکے تھے۔
اس بات سے انجان کہ دونوں کی منزل ایک ہی ہے۔
Teri Chahat Ki Dhanak by Hira Tahir Episode 18 Online Reading

