اس دن کے بعد فراز نے دل کو سمجھا لیا تھا کہ میزاب کسی اور سے محبت کرتی ہے، اس لیے وہ اب اس کی راہ میں حائل نہیں ہوگا اور نہ ہی اسے پریشان کرے گا بلکہ اس نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ وہ اب اس سے نہ ملے گا اور نہ ہی بات کرے گا کیونکہ جتنا وہ اس سے ملے گا اتنا ہی اس کا دل اسے بھولنے میں ناکام رہے گا، مگر آج اسے لائبریری میں بیٹھا دیکھ کر اس کا دل اس کی طرف ہمکنے لگا تھا۔
اس نے خود کو ملنے سے روکنا چاہا مگر دل کم بخت کو صبر ہی نہیں آ رہا تھا، اس لیے وہ اس سے نہ ملنے کا ارادہ ترک کرکے آہستگی سے قدم اُٹھاتا ہوا اس کی طرف آیا تھا۔
“ہمم! امر بیل پڑھ رہی ہیں آپ؟”وہ سرورق پر اک نظر ڈال کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔وہ جو دوسری جہاں پہنچ گئی تھی اس کی آواز سے چونک گئی۔
“ہاں، وہ بس!”اس نے لٹ کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے کہا۔
“پیرِ کامل پڑھا ہے؟”
“ہاں تقریباً سارے ہی پڑھے ہیں، بلکہ بار بار پڑھے ہیں۔ایکچولی عمیرہ احمد از مائی فیورٹ رائیٹر!”اُس نے کتاب بند کرکے پُرجوش لہجے میں کہا۔
“مائن آلسو! ویسے یہ ناول پہلے پڑھا ہے؟”
“نہیں، پہلی بار پڑھ رہی ہوں۔”
“کیسا احتتام پسند ہے؟”وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھ بیٹھا۔
“ہیپی اینڈنگ!”میزاب کتاب پر نظریں ٹکا کر مسکرائی تھی۔”دکھ بھرا احتتام افسُردہ کر دیتا ہے۔میں پھر کئی کئی دن اس كیفیت سے نکل نہیں پاتی ہوں۔”
“تو پھر نہ پڑھو!”فراز نے اس کے سامنے سے کتاب اٹھائی تھی۔”میں نہیں چاہتا تم افسُردہ ہو جاؤ۔”
“مگر میں شروع کی ہوئی کہانی، دُکھی احتتام کے خوف سے ادھوری نہیں چھوڑتی۔”
“مطلب اذیت پسند ہو۔انٹرسٹنگ!”اس نے گھڑی میں وقت دیکھا۔”ویسے پتا بھی ہے کہ آخر میں عمر جہانگیر کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟”
“نہیں!”اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“اگر وہ مر جائے میزاب؟”وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہہ کر اس پرسوالیہ نظریں مرکوز کر چکا تھا۔
“اللہ نہ کریں کہ وہ مر جائے۔”اسے فراز کی بات سن کر بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔”میں ناؤل کے کسی کردار کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔”
“کم آن! ایک افسانوی کردار کے ساتھ اتنی وابستگی کہ اس کی موت برداشت نہیں کر سکتی؟”
“افسانوی کردار ہی تو حقیقی دُکھوں کا آئینہ دار ہوتا ہے۔افسانوی کردار پر ہم اس لیے نہیں روتے کہ وہ کیوں مر گیا؟ بلکہ ہم کو تو فقط رہ جانے والوں کی اذیت رُلاتی ہے۔”اس کی آنکھوں میں آنسو چمکا تھا۔
اسے دُراب پر قاتلانہ حملے کا دن یاد آیا تھا۔کتنا تڑپی تھی وہ۔کتنے دن وہ اذیّت میں رہی تھی۔
“ویل! میرا مشورہ ہے یہ ناول نہ پڑھو تم۔”یہ کہہ کر فراز اُٹھ گیا۔”ہاں ایک بات کہنا تو بھول ہی گیا میں۔آج امی آپ کی طرف آئیں گی۔”اس نے دل میں مصمّم ارادہ کرلیا تھا اسے اپنا بنانے کی۔وہ یہ بھول بیٹھا تھا کہ وہ کسی اورسے محبت کرتی ہے۔
“ارے زبردست! آنٹی کافی عرصے سے ہمارے یہاں نہیں آئی ہیں۔آپ بھی آئیے گا ان کے ساتھ۔”وہ مروتاً اسے آنے کا بولی تھی۔
“پھر کبھی سہی، آج میرا دوستوں کے ساتھ پروگرام ہے۔”وہ مسکراتے ہوئے باہر نکل گیا تو میزاب نے بوجھل دل کے ساتھ کتاب کھول دی تھی۔
“اگر فراز کی بات سچ ہوگئی؟
اگر عمر جہانگیر مر جائے؟ علیزے کیا کرے گی؟”اس نے علیزے کا سوچ کر سر نفی میں ہلا دیا تھا۔
_____

