The last nightZainab nasar khan
___________
یہ منظر بڑے سے ہال کا تھا۔ زردی مائل روشنی میں ایک طویل میز بچھائی گئی تھی جس کے اردگرد قریباً پچاس کرسیاں رکھی تھیں۔ میز کے اوپر ہر فرد کیلیے پانی کی بوتل تھی۔ وہ دونوں آگے پیچھے ہال کے دروازے تک پہنچے، اصوب چونکہ آگے تھا اس نے آگے بڑھ کر شیشے کا دروازہ کھولا اور اسے اندر آنے کی جگہ دی۔ اندر بیٹھے افراد باہر سے آنے والوں کو پہچان کر اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوۓ جبکہ باہر سے آنے والے اندر کی گہما گہمی سے لاعلم تھے، سواۓ اصوب ابراہیم کے۔ جیسے ہی وہ دونوں اندر داخل ہوۓ، عِزہ ایک پل کو اتنے افسران کو سامنے دیکھ کر پزل سی ہوگئی۔ قریباً پچاس افسران کرسیوں پر براجمان تھے جبکہ باقی دیوار کے ساتھ مستعدی کھڑے تھے۔ تمام افسران اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوۓ۔ اصوب نے آگے بڑھتے ہوۓ دائیں طرف والی قطار کی سب سے پہلی خالی کرسی کو میز کی اندرونی سطح سے باہر کیا۔ “ہیو آ سیٹ پلیز!” بیک وقت بڑا نرم اور سنجیدہ لہجہ تھا۔وہ شکریہ ادا کرتے ہوۓ کرسی پر بیٹھی۔ باقی افسران بھی اسے دیکھ کر اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ “السلام علیکم!” اپنے مائیک کا بٹن دباتے ہوۓ اس نے سبھی کی طرف دیکھا۔ سبھی نے سلامتی لٹائی اور اصوب ابراہیم نے بات کا آغاز کیا۔ “جمعرات اور اتوار کی شام تک پیش آنے والے مشتبہ حادثات سی ٹی ڈی آفیسر مس عِزہ رئیس نے وٹنس کیے ہیں۔ ان کی اس ڈیڈلی وائرس کے انفیکٹڈ افراد سے فیزیکلی انٹریکشن بھی ہوئی ہے اور ماشاءاللہ سے یہ اور ان کے ٹیم ممبران ان حادثات سے سروائیو بھی کرچکے ہیں۔” وہ بہت پروفیشنل سے انداز میں بات کررہا تھا۔ عِزہ اور دوسرے تمام افراد سنجیدگی کے ساتھ اس کی بات سن رہے تھے۔ “ہمیں اگلے چند گھنٹوں کے اندر اندر ریڈ کرنی ہے۔ مختلف لوکیشنز، مشتبہ ویڈیوز، کلپس اور تصاویر ہماری سکرین پر شئیر کی جارہی ہیں۔” وہ اٹھا اور اٹھ کر دیوار گیر ایل ای ڈی آن کی، جہاں مختلف ویڈیو کلپس پاز کی ہوئی تھیں، تصاویر تھیں۔ اس نے ایک ویڈیو پر کلک کیا۔”ان ویڈیوز میں باآسانی دیکھا جاسکتا ہے کہ سندھ کے مختلف علاقے اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں اور یہ پاکستان کیلئے کوئی خوش آئند بات نہیں۔ وسائل پہلے ہی کم ہیں اور نہ ہی جدید ٹیکنالوجی ہے، اگر ہے تو محدود ہے۔ لہٰذا ہمیں کوئی ایسی احتیاطی تدابیر کرنی ہیں جس سے یہ وائرس کم سے کم پھیلے اور یہ بات یقینی بنائیں کہ دوسرے صوبوں تک اس کی رسائی ناممکن ہو۔” ویڈیو کلپس میں مختكف متاثرہ افراد کی حالت دکھائی گئی تھی۔ گو کہ وہ کسی پر حملہ نہ کررہے تھے مگر ان کے جھٹکے کھاتے وجود، الٹیاں کرتے ہوۓ، نڈھال سے مختلف اسپتالوں کے کوریڈور میں پڑے ہوۓ تھے۔ یہ ویڈیوز شاید لواحقین بھیج رہے تھے یا تماش بین بنے وہ لوگ جو ہر چھوٹے بڑے حادثے کو سوشل میڈیا کی زینت بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تاکہ کسی طریقے سے وہ وائرل ہوسکیں۔ عِزہ وہ ویڈیو دیکھ چکی تھی۔ اس لیے گہرا سانس بھر کر اس نے پانی کی بوتل لی اور ایک گھونٹ حلق میں اتارا۔ “مس عِزہ رئیس! ہمارے افسران کو کچھ احتیاطی تدابیر بتائیں جن سے ہمارے آپریشن کرنے میں زیادہ رسک نہ ہو۔” سکرین سے ہٹتے ہوۓ اس نے عِزہ کی طرف دیکھا۔ جو مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ “سر میں اپنے تعارف میں وقت ضائع نہیں کروں گی۔ ایک چھوٹی سی بات کہ ابھی تک اس وائرس کی مکمل تشخیص نہیں ہوسکی۔” اس کی آواز بہت اونچی اور صاف تھی، یہاں تک کہ پیچھے کھڑے سیکیورٹی افسر نے اسے مائک دینا چاہا تو ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا اور مزید بات جاری رکھی۔”ہمارے پاس بس یہی چند احتیاطی تدابیر ہوں گی کہ کچھ بھی کرکے اپنے آپ کو متاثرہ افراد سے کھروچ نہیں آنے دینی۔ ان کا ذرا سا ناخن جو آپ کی جلد سے لگے اور ہلکی سی کھروچ پڑ جاۓ، خطرناک ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ لوگ زیادہ تر گردن پر اٹیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوشش کریں آپ کا یونیفارم اس قدر سیف ہو کہ وہ آپ کے جسم کے کسی بھی حصے پر کاٹ نہ سکیں۔ وہ اپنے دانتوں کی مدد سے انسانی خون یا گوشت کھانے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے ہم عام نارمل لوگ کھانا کھاتے ہیں۔ یہی سمجھیں آجکل ہم لوگ انکا کھانا ہیں۔ ایک عام نارمل انسان متاثرہ افراد کی غذا ہے۔ کوشش کریں وہ آپ کے جسم کے کسی بھی حصے میں اپنے دانت نہ گاڑھیں۔ یہی اس کی احتیاطی تدابیر ہیں اور اسی سے بچا جاسکتا ہے۔ تھینک یو!” وہ کہتے ہوۓ اپنی کرسی پر آبیٹھی۔ پھر اس کے بعد تین چار افسران نے باری باری کھڑے ہوکر اپنی اپنی رپورٹ پیش کیں۔ قریباً آدھے گھنٹے تک وہ فارغ ہوکر میٹنگ لاؤنج سے باہر نکل آئی۔ اصوب نے اسے دروازہ کھول کے باہر نکلتے دیکھا، وہ اس سے کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن شاید عِزہ جلدی میں تھی۔ گھڑی پر وقت دیکھتی باہر نکل آئی۔
★__________★

