آغا بخش نے جیسے ہی سنا کہ ان کے پوتے کو ریسکیو کرلیا گیا ہے، انہوں نے ہر طرف طوفان برپا کردیا۔ پورے گھر کی صاف ستھرائی کروائی، ایک ایک ملازم کو باور کروایا کہ ان کا پوتا ایک کٹھن سفر کے بعد گھر آرہا ہے، اس لیے اس کی خدمت میں کسی قسم کی کمی نہیں رہنی چاہیے۔ پورے گھر میں ایک عجیب سی ہلچل مچی تھی۔ وہ خود کبھی کچن کا راؤنڈ لگاتے، کبھی باہر باغیچے کی صاف ستھرائی کو لگے مالی اور ساتھی ورکر کو ڈانٹنے پہنچ جاتے۔”کہاں تک پہنچا ہے کام؟ دیکھو حالات خراب ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا بیٹا اپنا دل بہلانے کو باہر جاۓ۔ اس لیے گھر کو ایسے نکھارو جیسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ یہی ہو۔ میرا پوتا ہر چیز دیکھ کر پرسکون ہوجاۓ۔” ہاتھ میں نئی طرز کی لاٹھی پکڑے وہ حکم صادر کررہے تھے۔”جی صاحب بس ہوگیا۔ دس منٹ دیں۔ بس یہ ایک دو پودے رہ گئے ہے۔” مالی بولا۔”خاک دس منٹ دوں۔ یہ دیکھو! یہ پھول اتنا پیلا کیوں پڑا ہے۔ اس کا کچھ کرو۔ میرے پوتے کیلیے ہر چیز فریش ہونی چاہیے۔ کہیں سے کوئی باسی بو نہ آۓ۔” وہ غراۓ تو مالی کی جیسے حالت خراب ہوئی۔ ساتھی بندے نے منہ ہی منہ تین چار صلواتیں سنائیں۔”لگتا ہے بڈھے کا پوتا نہیں آرہا بلکہ پوتا بہو لارہا ہے۔ ایسی تیاری تو لوگ نئی نویلی دلہن کیلیے بھی نہیں کرتے۔ شکر ہے میں اس گھر کا ملازم نہیں۔” جیسے ہی آغا بخش دوسری طرف بڑھے، مالی کے ساتھ بیٹھا دوسرا شخص بولا۔”بہو لاۓ یا خود آۓ۔ ہمارا کام ہے اپنے حصے کا کام کرنا، چند نوالے ٹھونسنا اور سارا دن آرام کرنا۔ یہ امیر لوگوں کے چونچلے ہوتے ہیں۔ اگر بڑا گھر بنایا ہے تو ملازم بھی بڑے ہی ہونے چاہیے نا۔ بھلا آج کل کے زمانے میں تیس ہزار ماہانہ پر کون مالی رکھتا ہے۔” مالی بڑی کڑواہٹ بھرے لہجے میں بول رہا تھا۔ ساتھی کے منہ میں لالچ سے ایک دم جیسے پانی آیا۔”مالی کی تنخواہ تیس ہے۔ باقیوں کی تو کم ہی ہوگی۔” اس نے جیسے ٹٹولنا چاہا۔”یہ پاگل سنکی انسان ہے۔ یہاں ستر ہزار ماہانہ پر بھی ملازم کام کرتے ہیں۔ اس کا بس چلے تو رات دن کا فرق کیے بغیر اپنی ساری کی ساری دولت خرچ کردے۔” اپنا کام کرتے ہوۓ وہ بول رہا تھا۔ جبکہ ساتھی کی آنکھیں پرسوچ ، اور ذہن نئے تانے بانے بننے لگا۔★_________★
The Last Night Zainab Nasar Khan Episode#14

