Romantic Novels Web Special Novels

Wehshat E Awargi Novel By Hayat Khan Episode 10 CUM

مجھے وہ لڑکی چاہیے ہر صورت۔ میں پہلے ہی اسکی قیمت دے چکی ہوں مگر ان کرپٹ لوگوں نے اسے مجھ تک نہیں پہنچایا۔ مگر اب تو مجھے وہ ہر قیمت پر چاہیے۔”اس عورت کے چہرے پر ہوس رقص کر رہی تھی۔ شیطانی چمک آںکھوں میں لیے وہ میگزین کے سرورق پر بنی دُرِ شہوار کی تصویر پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔ اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے اس نے نشے کی سی کیفیت میں وہ ہاتھ اپنی گردن پر پھیرا تھا۔ “تمہاری خوبصورتی نے مجھے مدہوش کیا ہے۔ ایک مرد کی ہوس کی داستانیں تو تم نے خوب سن رکھی ہو گی پریٹی گرل اب ایک عورت کی بھوک کا مزہ چکھو گی تم۔ اب کی بار میں مکمل طور پر تم سے خود کو سیراب کروں گی۔ تمہیں اندازہ ہو گا کہ ایک عورت اپنے عشق میں کہاں تک جا سکتی ہے۔ میں تمہیں بس خود تک محدود کر دوں گی۔”اس کی تصویر پر انگلیاں پھیرتی وہ کوئی سائیکو لگ رہی تھی۔ اسکے آس پاس کھڑے اس کے ملازم روبوٹ کے سے انداز میں اپنی مالکن کا یہ جنونی روپ دیکھ رہے تھے۔ دُرِ شہوار سے پہلے اور اسکے بعد بھی کئی ایک لڑکیاں اسکی ہوس کا نشانہ بن چکی تھیں مگر دُرِ شہوار کے ہاتھ سے نکل جانے پر اسکی جو بھوک ادھوری رہ گئی تھی وہ اسکے دل پر نقش ہو گئی تھی اور اب اتنے سال بعد دُرِ شہوار کو مزید رعنائیاں لیے دیکھ کر اسکی بھوک پھر سے چمک اٹھی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بابا بس میں نکل رہی ہوں۔ کچھ ہی دیر میں پہنچ جاؤں گی۔“دُرِ شہوار اسٹوڈیو سے نکلی تھی۔ اسکا ارادہ کچھ شاپنگ کرنے کا تھا کہ باہر نکلتے ہی ہاشم عالم کی کال آگئی۔”اچھا بیٹا دھیان سے جانا پتا نہیں کیوں میرا دل اتنا گھبرا رہا ہے۔” بہت دن سے آپ ملے نہیں ہیں نہ اسی لیے۔ آپ مجھ سے ملنے آ جاٸیں نہ۔ دُرِ شہوار کی آنکھوں میں نمی چمکی تھی۔ اک ذرا سی ہوک نے منظر کو دھندلا دیا تھا جس کے نتیجے میں گاڑی ذرا سی پھسلی تھی۔ اس نے فوراً اسٹیٸرنگ گھماتے گاڑی پھسلنے سے بچاٸی تھی۔ دل کی دھڑکن خطرناک حد تک بڑھی تھی۔ ”بابا میں گھر پہنچ کر کال کرتی ہوں۔“خود کو پرسکون کرتے اس نے کہہ کر کال کاٹ دی۔ فون ساٸیڈ پر رکھتے سامنے جو دیکھا تو وہاں سے آتی گاڑی اس سے آ ٹکراٸی تھی۔ دُرِ شہوار کو ایک جھٹکا لگا تھا۔وہ فوراً گاڑی سے باہر نکلی تھی۔ تبھی دوسری گاڑی سے ایک سوٹڈ بوٹڈ شخص باہر نکلا تھا۔ ”ایم سو سوری پلیز، ایکچوٸلی میری گاڑی ڈس بیلنس ہو گٸی تھی۔“ غلطی دُرِ شہوار کی تھی تبھی اس نے فوراً معذرت کی تھی۔ جب کہ سامنے کھڑا شخص اپنی گاڑی کو دیکھتے اب اسے خشمگیں تیوروں سے گھور رہا تھا۔ ”گاڑی کو بیلنس کرنا سیکھیں اسکے بعد سڑک پر تشریف لاٸیں محترمہ۔“اپنی گاگلز کو سیٹ کرتے اس نے ٹھنڈے لہجے میں جواب دیا۔ شہوار کے تو سر پر لگی تلوؤں پر بجھی۔ اپنا غصہ کنٹرول کرتے برے دل سے اس نے دوبارہ معزرت کی تھی۔ “دوبارہ یہ انسان کبھی میرے سامنے آیا نہ تو اسکو سیدھا کروں گی میں۔”غصے سے سوچتے اس نے گاڑی کا رخ شاپنگ مال کی جانب موڑا تھا۔ کچھ ہی دیر میں اپنے لیے ڈھیروں شاپنگ کرتے وہ کچھ دیر پہلے ہوئی تلخی یکسر بھلا چکی تھی۔ اب مسرور سی وہ شاپنگ بیگز اٹھاۓ باہر نکل رہی تھی۔”میم ہم ٹارگٹ پر پوری نظر رکھے ہوۓ ہیں۔”ایک شخص نے اسے باہر نکلتا دیکھ کر کان میں لگے بلو ٹوتھ میں اطلاع دی۔ “گڈ اسے جلد سے جلد میرے بیڈروم میں پہنچاؤ۔ اور دھیان رکھنا سلیبریٹی ہے وہ کسی کی نظروں میں نہ تم لوگ آؤ اور نہ وہ۔ ورنہ پولیس مجھ تک پہنچنے میں وقت نہیں لگاۓ گی۔””جی میم ہم پورا دھیان رکھیں گے۔”شہوار ڈگی میں سامان رکھنے کے بعد ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھ ہی رہی تھی کہ ایک شخص نے تیزی سے آ کر اسکے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ دُرِ شہوار کی آنکھوں میں خوف اترا تھا۔ مگر اگلے ہی پل خود پر قابو پاتے اس نے زور دار کہنی اس شخص کے پیٹ میں دے ماری تھی۔ وہ شخص درد سے پیچھے کو ہوا مگر دُرِ شہوار چہرے پر غضب کے تاثرات لیے اسکی طرف بڑھی اور پوری قوت سے اسے ایک لات رسید کی تھی۔ اس شخص کو شاید اندازہ نہ تھا کہ دُرِ شہوار کو فائیٹ آتی ہو گی۔ مگر وہ تو اس حادثے کے بعد سے ہی سیلف ڈیفینس اچھی طرح سیکھ چکی تھی۔ تبھی چار پانچ مزید اسی یونیفارم میں ملبوس لوگ وہاں آۓ تھے۔ دُرِ شہوار نے انہیں بھی پیٹنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ وہ اس جنگلی بلی کو قابو کرنے میں لگے تھے مگر شہوار کسی کے قابو میں نہ آ رہی تھی۔ تبھی ایک شخص نے آگے بڑھتے زوردار طمانچہ اسکے چہرے پر مارا تھا۔ شہوار پیچھے کو گری تھی۔ اسکا منہ دبوچتے وہ غصے سے اسے گھور رہا تھا۔ ساتھ ہی اس نے اپنے ساتھی کو اشارہ کیا تھا جس نے دُرِ شہوار کے دونوں بازو جکڑے تھے۔ وہ بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی مگر پہلے والے شخص نے بے دردی سے اسکے بازو میں ڈرگز سے بھرا انجیکشن گھونپ دیا تھا۔ تکلیف کی شدت سے اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ ایک بار پھر خود کو اسی جہنم میں جاتا محسوس کر رہی تھی کہ اچانک وہاں ایک گاڑی آتی دکھائی دی۔ وہ لوگ فوراََ دُرِ شہوار کو لے کر اوٹ میں ہوۓ تھے۔ مگر صد شکر تھا کہ ایک کے بجاۓ چار پانچ گاڑیاں پارکنگ میں داخل ہوئی تھیں۔ دُرِ شہوار نے موقع غنیمت جانا اور ہوش کھونے سے پہلے اس شخص کے بازو پر دانت گاڑتے بھاگ کر اپنی گاڑی میں جا بیٹھی۔ جب تک وہ لوگ اسکے پاس پہنچتے وہ تیزی سے گاڑی نکال لے گئی تھی۔”شٹ۔۔۔ پکڑو اسے وہ جانے نہ پاۓ۔”وہ شخص چلایا تھا۔ ساتھ ہی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہ دُرِ شہوار کا پیچھا کرنے لگے تھے۔ دُرِ شہوار نے ان کو اپنے پیچھے آتے دیکھا تو گاڑی کی اسپیڈ مزید بڑھا لی۔ مگر ڈرگز کے باعث اسکی نظر دھندلی ہونے لگی تھی۔ سر بری طرح چکرا رہا تھا۔ مگر وہ مسلسل اسپیڈ بڑھاتی جا رہی تھی۔ برج پر پہنچتے ہی اس نے اسپیڈ مزید بڑھائی تھی۔ رات کی وجہ سے اس برج پر اس وقت گاڑیوں کا رش نہ ہونے کے برابر تھا۔ وہ بس اس وقت ہوش کھونے سے پہلے ان لوگوں کی پہنچ سے دور ہونا چاہتی تھی۔ “ریلیکس دُرِ شہوار بس بے ہوش مت ہونا۔ اس بار تم ان وحشیوں کے ہاتھ نہیں لگ سکتی۔”سر جھٹک کر اس نے آنکھیں کھلی رکھنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on