Romantic Novels Web Special Novels

Wehshat E Awargi Novel By Hayat Khan Episode 11 CUM

دُرِ شہوار تھکی ہاری گھر آئی تھی۔ پرس ایک طرف پھینکتے وہ کیان اور ارینہ کے بارے میں ہی سوچتے سوچتے سو گئی تھی۔ وہ تیزی سے گاڑی کو اڑا رہی تھی۔ اسکی نظر دھندلانے لگی تھی۔ چکراتے سر کو تھامتے وہ سامنے دیکھنے کی کوشش میں تھی کہ اچانک ایک لڑکی اسکی گاڑی کے سامنے آئی تھی۔ منظر بدلا تھا دُرِ شوار روتے ہوۓ خون میں لت پت لڑکی کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ “پلیز اٹھ جاؤ نہ تم ایسے مر نہیں سکتی ہو۔ اٹھو نہ میں تمہیں مارنا نہیں چاہتی ہوں۔”تبھی پسینے میں لت پر دُرِ شہوار کی آنکھ کھلی تھی۔ اسکی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔ وہ خواب میں ہی نہیں بلکہ حقیقت میں بھی ارینہ سے رو رو کر فریاد کر رہی تھی۔ دُرِ شہوار روتے ہوۓ وہیں بیٹھ گئی تھی۔ ہاتھ بڑھا کر اس نے دراز سے گولیاں نکالی تھیں۔ نیند کی تین چار گولیاں پھانکنے کے بعد وہ کچھ ہی دیر میں سو گئی تھی۔ مگر اسکی آنکھیں ہنوز بہہ رہی تھیں۔ جبکہ دوسری جانب کیان اپنے کمرے میں ہر چیز الٹ چکا تھا۔ اسے اس لڑکی پر بے انتہا غصہ آ رہا تھا۔ جو کس قدر ڈھٹائی سے آ کر بتا رہی تھی کہ اس نے ارینہ کو مارا ہے۔ “برباد کر دوں گا میں تمہیں دُرِ شہوار۔ تم سے میں ارینہ کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لوں گا۔ تم اپنے پیدا ہونے کے دن پر پچھتاؤ گی دیکھ لینا تم۔”زور سے دیوار پر مکا مارتے وہ غرایا تھا۔ “اب سے لے کر تمہاری زندگی کی آخری سانس تک تم مجھ سے رحم کی بھیک مانگو گی مگر میں تمہیں رحم کا ایک لمحہ بھی نہیں دوں گا۔”تنفر اسکے چہرے سے جھلک رہا تھا۔ یہ رات دونوں افراد پر ہی بھاری تھی۔ اک طرف دُرِ شہوار تھی جو ہوش و ہواس سے بیگانہ ہو کر بھی اس حادثے سے زیرِ اثر تھی تو دوسری جانب کیان تھا جو جاگتی آنکھوں سے درد کی انتہا کو دیکھ رہا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آئی ایم سوری ارینہ میں تمہیں نہیں مارنا چاہتی تھی۔ میرا یقین کرو میں تو خود اپنی زندگی کی جنگ لڑنے میں مصروف تھی۔ پلیز ایم سوری۔”ارینہ کی قبر پر پھولوں کا بکے رکھے وہ زاروقطار رو رہی تھی۔ اس نے کب سوچا تھا کہ ایک دن اس کے ہاتھ کسی معصوم کے خون سے رنگ جائیں گے۔ “تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی؟ کیا اسکا قتل کر کے تمہیں چین نہیں ملا جو یہاں اسکی روح کو تکلیف دینے آ گئی ہو۔”کیان نے غصے سے کہتے اسے پیچھے کی طرف پٹخا۔ “میں اس سے سوری کرنی آئی ہوں۔ میں سچ میں اسکی قاتل نہیں ہوں یہ سب بس ایک حادثہ تھا۔”بکواس بند کرو اپنی۔ تمہیں اپنے کیے کا حساب دینا ہو گا لڑکی۔ میری بیوی کا قتل کیا ہے تم نے۔ تمہیں احساس بھی ہے تم نے میرا کتنا بڑا نقصان کیا ہے۔کیان کی آںکھیں سرخ تھیں۔ دُرِ شہوار کو بے طرح اس سے خوف آیا تھا۔ وہ فوراََ وہاں سے بھاگتی ہوئی چلی گئی تھی۔ کیان نے اس کا لایا بکے غصے سے اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on