یہ اسکے ایک ہفتے بعد کا منظر تھا۔ دُرِ شہوار گھر آ چکی تھی۔ اس دن کے بعد سے کیان اس سے ملا نہ تھا۔ وہ یونہی نیوز چینل سرچ کر رہی تھی کہ اچانک ایک چینل پر وہ آن رکی۔ اسکی تصویر لگی تھی ساتھ ہی اس دن کے حادثے کی خبر چل رہی تھی۔ کسی نے شاید تحقیق کرنے کے بعد میڈیا کو یہ خبر دی تھی کہ اپوزیشن لیڈر اور سکاۓ واۓ کی سی ای او کی بیوی کا ایکسیڈنٹ اس دن دُرِ شہوار کی گاڑی سے ہوا تھا۔ اور وہ خود بھی اسپتال میں ایڈمٹ رہی تھی۔ وہ بت بنی اس خبر کو دیکھ رہی تھی۔ تبھی اسکا فون بجا تھا۔ اس نے خالی خالی نظروں سے فون کو دیکھا۔ پاکستان سے کال تھی۔ ہاشم عالم جان گۓ تھے کہ وہ۔۔۔”اوہ خدایا میں کیا کروں۔”وہ سر تھامے بیٹھی تھی۔ فون مسلسل بج رہا تھا۔ خود پر قابو پاتے اس نے فون اٹھایا۔”ہہ ہیلو ۔۔”ہیلو دُرِ شہوار میں مصطفیٰ بات کر رہا ہوں۔ چاچو کی طبیعت بہت خراب ہے انہیں ہارٹ اٹیک آیا ہے۔مصطفیٰ نے اسکے کانوں میں صُور پھونکا تھا۔ “شہری تم سن رہی ہو نہ چاچو کو۔۔۔””مصطفیٰ میرے بابا کو بچا لو۔ پلیز میرے بابا کو بچا لو۔”تم جلدی سے یہاں آ جاؤ۔وہ بہت ضبط سے بولا تھا۔ دُرِ شہوار کا ٹوٹا بکھرا لہجہ اسے غمگین کر رہا تھا۔ فون وہیں پھینکتے اس نے اپنا پاسپورٹ ڈھونڈا۔ تبھی ڈور بیل بجی تھی۔”You are under arrest.”پولیس اسکے دروازے پر آ کھڑی ہوئی تھی۔ دُرِ شہوار نے انہیں صفائی دینے کی بہت کوشش کی تھی مگر بے سُود۔ وہ اسے اریسٹ کر کے لے گۓ تھے۔ کیان کہاں تھا وہ نہیں جانتی تھی۔ اور جاننا بھی نہیں چاہتی تھی۔ اس وقت اسے بس اپنے باپ کی فکر تھی۔ میڈیا چینلز زور و شور سے ایشیئن سنگر کے اریسٹ ہونے کی خبر نیوز چینل پر چلا رہے تھے۔ جو امریکہ ہی نہیں بلکہ پاکستان میں موجود عالم خاندان کے افراد بھی دیکھ چکے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دُرِ شہوار روتے ہوۓ کرسی پر بیٹھی تھی۔ پولیس نے کیان کو بلایا تھا۔ دُرِ شہوار کا رو رو کر برا حال تھا۔ دو گھنٹوں بعد کروفر سے کیان ابراہم وہاں آ موجود ہوا تھا۔ اسے دیکھتے ہی وہ فوراََ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔ “پلیز سیو می کیان پلیز سیو می۔ میرے بابا مر جائیں گے مجھے انکے پاس جانا ہے۔”زاروقطار روتے ہوۓ وہ ملتجی لہجے میں کہہ رہی تھی۔ کیان نے اسپاٹ نظروں سے اسے دیکھا۔ “ہر مجرم کو اپنا کیا بھگتنا ہی پڑتا ہے دُرِ شہوار۔”اسپاٹ انداز میں کہتے اسے نے کچھ پیپرز سائن کیے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ وہاں سے نکل گیا تھا۔ دُرِ شہوار کو جیل میں بند کر دیا گیا تھا۔ وہ بالکل خاموش سر جھکاۓ بیٹھی تھی۔ اسکا سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔ اگر ہاشم عالم کو پتا چل گیا تو۔۔۔باپ کا خیال آتے ہی وہ دوبارہ رونے لگی تھی۔ وہ کتنی بدنصیب بیٹی تھی۔ اسکے باپ کو اسکی ضرورت تھی اور وہ یہاں بند پڑی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Wehshat E Awargi Novel By Hayat Khan Episode 12 CUM

