Romantic Novels Web Special Novels

Wehshat E Awargi Novel By Hayat Khan Episode 3 CUM

فرید عالم نے شادی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔ بھلے ہی یہ ساری تیاریاں سلویٰ کے لیے کی گئی تھیں مگر رب نے یہ سب شہوار کا نصیب کر دیا تھا۔ وہ لاکھ اس پر تلملاتے مگر قدرت کے اس فیصلے نے انکی گردن کا سریا توڑ دیا تھا۔ دلہن بنی وہ رانیوں کی سی شان لیے سجی سنوری تھی۔ اپنے کمرے میں بیٹھی وہ آئینے میں خود کو دیکھ رہی تھی۔ بیوٹیشن کب کا اسے تیار کر کے جا چکی تھی مگر اب تک گھر کے کسی فرد نے اسکے کمرے میں جھانکنے کی بھی زحمت نہ کی تھی۔ حتیٰ کہ نورین بیگم تک اسے دیکھنے نہ آئی تھیں۔ نکاح کے وقت بھی وہ بے حس بنی بیٹھی تھی۔ مہمانوں کے سامنے بھرم رکھنے کی خاطر گھر کے مردوں نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا مگر ہاشم صاحب نے اسے سینے سے لگا کر اسے خوشحال زندگی کی دعا دی تھی۔ اس وقت وہ آئینے میں خود کو دیکھ رہی تھی۔ کہیں بھی تو کوئی کمی نہ رکھی تھی قدرت نے اس میں مگر جو خامی اسکی ذات کو گہن لگا چکی تھی وہ اسے غرور سے سر نہ اٹھانے دیتی تھی۔ دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز پر اس نے دروازے کی جانب دیکھا تو اسکی ددھیالی کزنز اسے لینے آئی تھیں۔ وہ سبھی کافی پرجوش نظر آتی تھیں۔ ظاہر ہے ایک سلیبریٹی انکی کزن تھی انکے لیے یہ کوئی چھوٹی بات نہ تھی۔ پوری شان سے اسے لیے وہ باہر کی جانب بڑھی تھیں۔ باہر لان میں پہنچتے ہی ہاشم فرید عالم آگے بڑھے اور اسکے سامنے اپنا بازو کیا۔ مسکرا کر انکے بازو کو تھامتی وہ آگے بڑھنے لگی۔ عالم ولا کے افراد اس منظر پر ضبط کے گھونٹ بھر کر رہ گۓ۔ اتنا عرصہ وہ دُرِ شہوار سے لاتعلق رہے تھے مگر آج انہوں نے ہر قسم کو پسِ پشت ڈال دیا تھا۔ اسے لیے وہ اسٹیج پر آۓ۔ ضیغم نے ضبط سے سرخ آنکھیں لیے اپنی دلہن کو آتے دیکھا۔ جس سے اسے شدید نفرت تھی۔ جس سے اسے اس قدر گھن آتی تھی کہ وہ اپنا نام تک اسکی زبان پر آنا گوارا نہیں کرتا تھا۔ ہاشم صاحب نے دُرِ شہوار کا ہاتھ اسکے سامنے کیا تو وہ شکایت بھری نظروں سے انہیں دیکھتے کھڑا ہوا۔ ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتے اس نے دُرِ شہوار کا ہاتھ تھاما۔ اسے صوفے پر بیٹھنے میں مدد دیتے وہ ضبط کی حدوں کو چھو رہا تھا۔ دل قدرت کے اس ستم پر دھاڑیں مار کر رو رہا تھا۔ قسمت نے اسے منزل پر پہنچا کر کیسا کھیل کھیلا تھا کہ اسکی اولین چاہت کو اس سے دور کر دیا تھا۔ “لالی آپ تو کچھ کھا ہی نہیں رہی ہیں، بھوک نہیں ہے کیا آپکو۔”اسکی ایک کزن نے کہا تو ضیغم نے سر جھٹکا۔ انتہائی مجبوری کے تحت وہ وہاں بیٹھا کھانا کھانے پر مجبور تھا کہ یہ رسم تھی دلہا دلہن ایک ساتھ کھانا کھاتے۔ مگر بڑی سی نتھلی پہننے کے باعث دُرِ شہوار کو کھانا کھانے میں مشکل ہو رہی تھی۔ “بھوک تو لگ رہی ہے مگر یہ نتھلی کی وجہ سے مشکل ہو رہی ہے۔ ذرا اسکو اتارنا۔””ارے لالی ہم پکڑ لیتے ہیں نہ۔ ابھی سے آپ اپنا سنگھار اتار دیں گی تو ضیغم لالہ گھونگھٹ اٹھا کر کیا دیکھیں گے۔”انکی شرارت پر وہ خود بھی ہنس دی تھی۔ وجہ انکی شرارت نہیں تھی بلکہ وہ انکے خیال پر ہنس رہی تھی۔ “جھلی دلہنیں اس طرح منہ پھاڑ کر نہیں ہنستی ہیں۔”وہ اور دلہنیں ہوتی ہیں تائی خانم۔اس کے اس طرح کہنے پر وہ نفی میں سر ہلاتی اسٹیج سے اتر گئی تھیں۔ کھانا کھانے کے بعد وہ خود بھی اسٹیج سے نیچے اتر آئی تھی۔ سب نے اسے منع کیا تھا مگر اس نے عذر تراشا تھا کہ اسے اسٹیج پر بیٹھ کر بور نہیں ہونا ہے۔ “لالی پوری دنیا میں اپنی آواز کا جادو جگاتی ہیں، اپنی شادی میں بھی ذرا ہو جاۓ نہ۔”وہ انکار کرنا چاہتی تھی مگر سب کے تنے چہرے دیکھ کر وہ چنگاری کو ہوا دینا چاہتی تھی۔ “ہاں ضرور کیوں نہیں مائیک لے آؤ۔”اسکے حامی بھرنے پر وہ پرجوش سی اسکے لیے مائیک لائی تھیں۔ سبھی حیران ہوتے اس طرف متوجہ ہوۓ۔ شہوار کا ارادہ تھا کہ وہ کوئی بولڈ سا گانا گا کر عالم ولا کے لوگوں کا فشار خون بڑھاۓ گی مگر ضیغم کا خطرناک حد تک بگڑا موڈ دیکھ کر اس کے ذہن میں شیطانی خیال ابھرا تھا۔ لائیٹس مدھم ہوئی تھیں فقط اس پر ہی اسپاٹ لائیٹ پڑ رہی تھی۔ مائیک تھامے وہ اسکی جانب ہی تک رہی تھی۔ ضیغم کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔ شہوار یقیناََ کچھ ایسا گاتی جس سے انکے خاندان کی رسوائی ہوتی۔ اس سے پہلے کہ وہ اٹھ کر وہاں آتا شہوار کی سریلی آواز وہاں گونجی تھی۔ ہے تمنا مجھے تُو اپنے ہاتھوں سے سجاۓمیری مہندی کے رنگ میں تیرا پیار نظر آۓسر پہ سہرا سجا کے، مجھے لینے آۓہے تمنا مجھے تُو دلہن بناۓہر طرف ہُوٹنگ شروع ہو گئی تھی۔ سبھی اس دلفریب منظر کو دیکھ رہے تھے۔ آج تک سبھی نے دلہا کو دلہن کے لیے گاتے دیکھا تھا مگر پہلی بار وہ پُور پُور سجی دلہن کو دلہا کے لیے گاتے دیکھ رہے تھے۔ ایک تو اس قدر حسین دلہن اور پھر آواز کے سحر سے مسحور کرتی وہ کتنے ہی دلوں کو دھڑکنے پر مجبور کر گئی تھی۔ سبھی دم سادھے اسے سن رہے تھے۔ مگر دُرِ شہوار کی نظر تو خود کو گھورتے ضیغم پر تھی جس کا بس نہیں چل رہا تھا اسے زندہ درگور کر دیتا۔ تبھی دل جلاتی مسکراہٹ لیے وہ اسکی طرف متوجہ ہوئی تھی۔دیوانہ میرا اب ہے تُو کہاں؟ بیٹھی راہوں میں پلکیں بچھاۓ یہاںایک طرفہ نہیں ہے یہ عشق تیرامجھے کہنے تو دے میرے دل میں ہے کیاضیغم اسکے گانے کا پس منظر خوب سمجھ رہا تھا۔ اس کی اب بس ہوئی تھی تبھی اپنی جگہ سے اٹھتا وہ اس تک آیا تھا۔ ضیغم کو اسکی جانب بڑھتا دیکھ عالم ولا کے افراد کے چہروں پر پریشانی چھائی تھی۔ دُرِ شہوار نے جو چنگاری کو ہوا دی تھی وہ اب بھڑک کر سب کچھ بھسم کرنے والی تھی۔ فرید عالم اسے شہوار کی جانب بڑھتا دیکھ نفی میں سر ہلا رہے تھے۔ وہ اتنے لوگوں کی موجودگی میں اسے منع نہ کر سکتے تھے۔ مگر وہ دل ہی دل میں دعائیں کر رہے تھے کہ ضیغم اب کچھ الٹا نہ کر دے۔ ضیغم اس کے پاس جا کھڑا ہوا تھا۔ شہوار کو اسے دیکھ کر بھی خوف محسوس نہ ہوا تھا وہ تماشے کے لیے خود کو تیار کر چکی تھی۔ ضیغم نے گہری سانس بھری اور جیب میں ہاتھ ڈالا۔ اگلے ہی پل سب کی آنکھیں تحیر سے پھیلی تھیں۔ ضیغم نے ڈھیروں نوٹ اس پر وار کر ہوا میں اچھال دیے تھے۔ سب دل تھام کر رہ گۓ تھے اس منظر پر۔ کئی ایک جو شہوار کے گانے کی ویڈیو بنا رہے تھے اس قدر خوبصورت منظر کو کیمرے میں قید کرتے پرجوش ہو رہے تھے۔ جہاں لوگوں کے چہروں پر یہ منظر دیکھتے مسکان چھائی تھی وہیں عالم خاندان کے چہروں پر سکون چھایا تھا کہ ضیغم نے صورتحال کو سنبھال لیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on