محمود عالم اپنی فیملی کو لے کر امریکہ سدھار گۓ تھے۔ فرید عالم کو مسلسل چپ نے آ گھیرا تھا۔ وہیں امِ کلثوم بیگم بھی اپنی عبادات میں پہلے سے بھی ذیادہ مصروف رہنے لگی تھیں۔ گھر میں فقط دو لڑکیاں رہ گئی تھیں مگر دونوں ہی کی اپنی دنیا تھی۔ رامین کی گھر کے اندر اور دُرِ شہوار کی گھر سے باہر۔ مصطفیٰ اور ضیغم بھی صبح آفس کے لیے نکلتے تو رات تک لوٹتے۔ بھرا پرا گھر ایک دم خالی خالی لگنے لگا تھا۔ دُرِ شہوار رات کو کافی دیر سے گھر آئی تھی۔ کچن میں لائیٹ آن کیے وہ کھانا کھانے کا ارادہ کرتی کچن میں آئی تھی مگر کھانا اپنی پسند کا نہ دیکھ کر اسکا موڈ خراب ہوا تھا۔ ایک عرصہ ہو گیا تھا اسے کچھ پکاۓ ہوۓ۔ مگر اس وقت اپنی بھوک کا سدباب کرنے کے لیے وہ کچن میں پیاز کاٹنے میں مصروف تھی کہ ضیغم کچن میں آیا۔”یہ کونسا وقت ہے گھر آنے کا۔”دُرِ شہوار جو آنسو بھری آنکھوں سے پیاز کاٹنے میں مصروف تھی اچانک آواز پر اسکا ہاتھ پھسلا۔ نتیجتاََ تیز دھار چھری اسکا ہاتھ کاٹ گئی تھی۔ سی کی آواز سے اس نے ہاتھ پیچھے کیا۔ ضیغم نے اگنور کر کے جانا چاہا مگر پھر لب بھینچے وہ کچن میں آیا۔ شہوار پانی کے نیچے ہاتھ رکھے خون روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ضیغم نے اس کا ہاتھ تھاما۔ دُرِ شہوار نے جھٹکے سے ہاتھ چھڑانا چاہا۔ صبح اسکا انٹرویو تھا اور ہاتھ پر اتنا گہرا کٹ لگ گیا تھا۔ ضیغم نے اسکے جھٹکنے پر مزید سختی سے اسکا ہاتھ تھام کر کٹ کا معائنہ کیا۔ “زخم گہرا ہے ڈاکٹر کو دکھانا پڑے گا۔”اسپاٹ انداز میں کہتے اس نے فرسٹ ایڈ باکس سے پٹی نکال کر وقتی طور پر خون روکنے کی کوشش کی۔”اس احسان کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی اتنا گہرا زخم ہے۔ میں خود کر لوں گی۔”اس نے غصے سے کہا تو ضیغم بھی اسکی بات پر چڑتا باہر نکلا۔ مگر اگلے ہی پل وہ اسے کھینچتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔ “چھوڑو مجھے، نہیں جانا مجھے تمہارے ساتھ۔”چپ اب ایک لفظ نہیں ورنہ چھری لے کر پورا ہاتھ ہی کاٹ ڈالوں گا۔اسکے غصے سے کہنے پر وہ خاموش ہوئی تھی۔ ضیغم اسے لیے ڈاکٹر کے کلینک جا پہنچا۔”کٹ گہرا ہے اسٹیچز لگانے پڑیں گے۔”ڈاکٹر نے معائنہ کرتے اسے بتایا۔ “آپ اسٹیچز کو رہنے دیں۔ بس کوئی آئنٹمنٹ دے دیں۔ صبح میرا ایک ضروری انٹرویو ہے میں ایسے پٹی بندھا ہاتھ لیے نہیں جا سکتی ہوں۔”دُرِ شہوار کی بات پر ڈاکٹر نے ضیغم کی جانب دیکھا مگر وہ اسے اسٹیچز کا اشارہ کر کے وہاں سے اٹھ گیا۔ ڈاکٹر اب صحیح مشکل میں پھنسا تھا۔ دُرِ شہوار نہ صرف سلیبریٹی تھی بلکہ وہ اسکا ڈائی ہارٹ فین تھا مگر اس طرح وہ اسکے زخم کو چھوڑ بھی نہ سکتا تھا۔ تبھی دل پر جبر کرتے اس نے دُرِ شہوار کو اینیستھیزیا دیا اور اپنا کام شروع کیا۔ دُرِ شہوار اسے جھٹک رہی تھی مگر وہ خندہ پیشانی سے کام میں مصروف رہا۔ دُرِ شہوار پر نشہ کی سی کیفیت طاری تھی۔ وہ کبھی بچوں کی طرح منہ بسورتی تو کبھی ہونٹ لٹکا لیتی۔ پھر غصے سے اسے گھورنے لگتی۔ ڈاکٹر کو یہ سب کافی اچھا لگ رہا تھا۔ وہ کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک دن وہ اس کے اتنے قریب آ بیٹھے گی۔ اسے اسٹیچز لگانے کے دوران وہ مسلسل اسکی حرکتوں پر مسکرا رہا تھا۔ کبھی وہ اسے کوئی ایسی بات کہہ دیتا جس پر دُرِ شہوار ری ایکٹ کرتی تو وہ مزید فری ہونے کی کوشش کرتا۔ ضیغم کی اب بس ہوئی تھی ان چونچلوں سے۔ وہ کب سے یہ ڈرامے بازی برداشت کر رہا تھا۔ “آپ کا کام ہو گیا کیا ڈاکٹر صاحب؟”دانت پیستے اس نے سوال کیا تھا۔ “ہاں جی ہو گیا ہے۔ اینیستھیزیا کی وجہ سے انکی طبیعت تھوڑی سی خراب ہے مگر صبح تک یہ بالکل ٹھیک ہوں گی۔ اور آپ کل شام کو ایک بار اپنی سسٹر کا دوبارہ چیک اپ کروا لیجیے گا۔”اسکی بات پر ضیغم کا دماغ گھوما تھا۔ وہ پہلے ہی اسکی حرکتوں پر تپا بیٹھا تھا۔ اب دُرِ شہوار کو اسکی بہن کہہ دینے پر مزید اسکا پارا ہائی ہوا تھا۔ “بہن نہیں ہے یہ میری بیوی ہے۔”غصے سے کہتے اس نے دُرِ شہوار کا ہاتھ تھاما۔ جبکہ ڈاکٹر کو تو شاک ہی لگا تھا اسکی شادی کا سن کر۔ کیا سچ میں اسکی کرش شادی شدہ تھی۔ اففف کتنی دیر لگائی تھی اس نے دُرِ شہوار کی ڈریسنگ کرنے میں۔ ساتھ ساتھ اوٹ پٹانگ باتیں بھی کرتا رہا تاکہ وہ اسکی یاداشت سے نہ نکلے۔ مگر ضیغم نے تو بیچارے کا دل ہی توڑ دیا تھا۔ “سیریسلی یہ شادی شدہ ہیں؟”نہیں بس مذاق مذاق میں، میں انکا شوہر بن گیا ہوں۔انداز ایسا تھا جیسے اپنے دانتوں تلے ڈاکٹر کا کلیجہ چبا رہا ہو۔ “اس ڈاکٹر کو مارو نہ، دیکھو میرے منع کرنے پر بھی اس نے اسٹیچز لگا دیے۔”منہ بسورتے اس نے ضیغم کے کندھے پر سر رکھ کر ڈاکٹر کی شکایت کی۔ جبکہ ضیغم کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اسکے کہے کے مطابق سچ میں ہی اس ڈاکٹر کا منہ توڑ دے۔ اس کے تاثرات دیکھتے اس ڈاکٹر نے وہاں سے واک آؤٹ کرنا ہی مناسب سمجھا۔ ضیغم بمشکل اسے سنبھالتا گاڑی تک لایا تھا۔ “تم بہت ہی برے ہو۔ مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا ہے۔ میں تم سے بہت بہت نفرت کرتی ہوں۔”جھومتی ہوئی وہ بڑبڑا رہی تھی۔ جبکہ ضیغم کے پاس سواۓ برداشت کرنے کے اور کوئی چارہ نہ تھا۔ وہ اس حد تک مدہوش ہو جاۓ گی اسے اندازہ نہ تھا۔ دُرِ شہوار اس سے بے پروا باہر دیکھنے میں مصروف تھی۔ “اوہ آئسکریم۔ مجھے آئسکریم کھانی ہے۔”پچھلی باتیں بھلاۓ وہ ایک دم ایکسائٹڈ ہوئی تھی۔ “چپ کرو میرا دماغ خراب کر دیا ہے۔ بہت بڑی غلطی ہو گئی جو تمہارے لیے انسانیت جاگ گئی۔ تم اس کے قابل نہیں ہو۔”اسکی برداشت جواب دے چکی تھی تبھی وہ اس پر دھاڑا تھا۔ دُرِ شہوار جو ہونٹ لٹکاۓ اسکی ڈانٹ سن رہی تھی تبھی غصے سے اس نے ضیغم کے بازو پر مکا مارا۔ “تم بہت ہی برے انسان ہو بہت ہی ذیادہ۔ اب میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گی۔”اوہ بہت بڑا احسان ہو گا مجھ پر۔ اپنا منہ بند کر کے بیٹھو۔ اور تاقیامت یہ ناراضگی برقرار رکھنا۔غصے سے اسکا دماغ کھول رہا تھا۔
Wehshat E Awargi Novel By Hayat Khan Episode 4 CUM

