آفس کے لیے نکلتے اس نے ایک نظر اپنے کمرے کی کھڑکی پر ڈالی تھی جہاں وہ سوئی ہوئی تھی۔ مسکرا کر گاگلز پہنتا وہ گاڑی میں بیٹھا۔ ریڈیو آن کرتے وہ ڈرائیو کرنے میں مصروف تھا۔ کہ تبھی کسی نے اپنی محبوبہ کے لیے ایک گانا پلے کرنے کی فرمائش کی۔ کچھ ہی دیر میں سنگر کی مترنم آواز گاڑی میں گونجنے لگی۔ میرے ہر سفر کی ہے تُو ہی منزلمیری ہر لہر کا ہےتُو ہی ساحلمیری ہر دعا میں ہے تُو ہی شاملمیرے ہر جنوں کا ہےتُو ہی حاصلتجھے سوچتا ہے جوتجھے چاہتا ہے جوتیرا ہو چکا ہے جویہ رہا دل ہاں میرا دلضیغم کو شہوار سے اپنے نکاح کا دن یاد آیا تھا۔ وہ اب شاید اسے ہی سوچنا چاہتا تھا۔ چاہے توڑ دے اسےچاہے جوڑ دے اسےچاہے چھوڑ دے اسے یہ میرا دل، ہاں میرا دلشہوار کے وہ بے باک انداز یاد آتے ہی ضیغم کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ چھائی تھی۔ اُس پل تو اسے اِس نے حقارت سے جھڑک دیا تھا مگر اس وقت وہ کہاں برے لمحات کو یاد کرنا چاہتا تھا۔ ہیں یہ کیسے سلسلےجو تیرے ساتھ جڑ رہےمیرے دل کے سارے رستےتیری اور مڑ رہےتُو جدا بھی ہو کے مجھے سےمیری سانسوں میں رہے کیوںعشق تیرا درد بن کےمیری آنکھ سے بہے کیوںوہ سوچوں میں کہیں دور نکل گیا تھا جہاں صرف وہ تھا اور دُرِ شہوار تھی۔ باقی سب پسِ پشت چلا گیا تھا۔ کسی ڈور کے بنا تیری اور لے چلاتیرے رنگ میں جو ڈھلایہ رہا دل، ہاں میرا دلاسکا فون بجا تھا۔ ریڈیو بند کر کے اس نے فون اٹھایا تو سلویٰ کی کال تھی۔ بے دلی سے اس نے کال ریسیو کی۔”ہیلو سلویٰ کیسی ہو؟”تمہارے بغیر کیسی ہوں۔ پتا نہیں یہ بیماری کب ختم ہو گی اور کب میں واپس تمہارے پاس آؤں گی۔ اسکی آواز بھرائی ہوئی تھی۔ مگر ضیغم کو تو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ تو بس اسی میں ہی اٹک کر رہ گیا تھا کہ سلویٰ کے واپس آنے کے بعد اسے شہوار کو چھوڑنا تھا۔ جس بات کو وہ ہر روز شد و مد سے دہراتا تھا آج وہی بات سن کر اسکا دل عجب بے چینی کا شکار ہوا تھا۔ “سلویٰ میں ڈرائیو کر رہا ہوں بعد میں بات کرتا ہوں۔”فون بند کرتے اس نے گاڑی ایک طرف لگائی اور سر اسٹئیرنگ پر گرا لیا۔ “دُرِ شہوار کو تو میں نے چھوڑ دینا ہے۔ میں کیوں یہ بات بھول گیا کہ سلویٰ کے واپس آ جانے کے بعد شہوار کو مجھے اپنی زندگی سے نکالنا ہو گا۔”بے چینی میں گھرا وہ اس وقت بے بسی کی تصویر بنا ہوا تھا۔ جبکہ قسمت نے طنزیہ مسکرا کر اسے تکا تھا۔ انسان بھی کیا چیز ہے جب کسی سے نفرت کرتا ہے تو اسکی ساری اچھائیاں بھول جاتا ہے اور جب محبت کرتا ہے تو اسکی ساری برائیاں بھول جاتا ہے۔ ضیغم سرفراز عالم بھی اب یہی کر رہا تھا۔ جب سے اسکے دل نے دغا بازی کی تھی وہ دُرِ شہوار کا تلخ اور تاریک ماضی فراموش کر گیا تھا جس کی وجہ سے وہ اسے اب تک نیچا دکھاتا آیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Wehshat E Awargi Novel By Hayat Khan Episode 5 CUM

