Romantic Novels Web Special Novels

Wehshat E Awargi Novel By Hayat Khan Episode 6 CUM

ضیغم لیپ ٹاپ لیے کام میں مصروف تھا کہ فون کان سے لگاۓ دُرِ شہوار کمرے میں داخل ہوئی۔ چور نظروں سے ضیغم نے اسے تکا تھا جو بیگ میں اپنے کپڑے رکھ رہی تھی۔ تیز تیز بولتی وہ کام میں مصروف تھی۔ ضیغم لاشعوری طور پر اسکا جائزہ لینے لگا۔ سیاہ جینز پر سیاہ ہی ٹاپ پہنے براؤن اسکارف بالوں میں ربن کی طرح باندھ رکھا تھا۔ لمبے سلکی بال کمر پر پھیلے آبشار کا سا منظر پیش کر رہے تھے۔ اسکے سرخ و سفید پیر اس وقت نرم و نازک کارپٹ شوز میں مقید تھے۔ چہرہ کسی بھی میک اپ سے پاک معصومیت کا تاثر دے رہا تھا جسے وہ ہمہ وقت اپنے بولڈ سے میک اپ میں چھپاۓ رکھتی تھی۔”شہری پیکنگ ہو گئی کیا؟ صبح ہم نے پانچ بجے نکلنا ہے۔”مصطفیٰ کمرے میں ناک کر کے آیا تھا۔ شہوار جو فون پر لگی تھی کال کاٹ کر خونخوار تیور لیے مصطفیٰ کو گھورا تھا۔”مسٹر مصطفیٰ عالم ہم ہر گز بھی اتنے فرینک نہیں ہیں کہ آپ میرے کمرے میں دھڑلے سے تشریف لے آئیں۔”مصطفیٰ کے ساتھ ساتھ ضیغم نے بھی اسے چونک کر دیکھا تھا۔ سرخ آنکھیں لیے وہ مصطفیٰ کو گھور رہی تھی۔ “مگر میں تو۔۔۔”یہ بزنس ٹرپ ہے بہتر ہے کہ میری سیکرٹری کو ٹائمنگ سے مطلع کریں۔”اسکے انداز میں ذرا سی بھی لچک نہ تھی۔ “آئی ایم سوری میں تو بس۔۔۔ سوری۔”معزرت کرتا وہ باہر نکل گیا تھا۔ جبکہ دُرِ شہوار غصے کی شدت سے کانپتی وہیں بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔”یہ کیا طریقہ تھا دُرِ شہوار؟”ضیغم کو حد درجے غصہ آیا تھا اسکے رویے پر۔ وہ آرام سے بھی مصطفیٰ کو کہہ سکتی تھی مگر جس بدتمیزی سے وہ اس سے مخاطب ہوئی تھی ضیغم کو ایک آنکھ نہ بھائی تھی۔ “اپنے کام سے کام رکھو ضیغم سرفراز عالم میرے معاملات سے دور رہو تو بہتر ہے۔”دُرِ شہوار اسی بدتمیزی سے گویا ہوئی۔ ضیغم نے تلملاتے ہوۓ اسکا بازو جکڑا۔ “وہ میرا بھائی ہے اور میں تمہیں اس سے اس قدر بدتمیزی کی اجازت نہیں دوں گا۔ اس سے کیا بلکہ گھر کے کسی بھی فرد سے تم دوبارہ اس لہجے میں بات نہیں کرو گی۔”اسکے غصے پر وہ پرسکون ہوتی بازو لپیٹ کر بیٹھی۔”میرا یہی لہجہ ہے ضیغم سرفراز عالم۔ تم انجان تو نہیں ہو اس بات سے۔ بقول تمہارے بھائی کے میرا بولنا تو عالم ولا کی دیواروں کو بھی سہما دیتا ہے۔ تو تمہارے یہ تمیز کے لیکچر بیکار ہیں۔”وہ دُرِ شہوار تھی ٹھنڈے لہجے میں مقابل کو آگ لگا دینے کا ہنر رکھتی تھی۔ اس وقت بھی ضیغم غصے سے آگ بگولا ہوتا وہاں سے ہٹا تھا۔ یہ لڑکی شاید جان بوجھ کر ایسا کرتی تھی اسے نفرت سہنے میں مزہ آتا تھا۔ دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز پر دونوں نے مڑ کر دیکھا تو ملازمہ کھڑی تھی۔ “شہوار بی بی ہاشم صاحب نے بلایا ہے آپ کو۔”آ رہی ہوں۔ کہہ کر اس نے ضیغم پر ایک تنفر بھری نظر ڈالتے اپنا کوٹ اٹھایا تھا۔ اسے کوٹ پہنتا دیکھ کر ضیغم کو احساس ہوا تھا کہ شہوار کا غصہ اس قدر بھی ناجائز نہ تھا۔ وہ کافی شارٹ ٹاپ میں ملبوس تھی۔ اور یقیناََ اپنی خفت مٹانے کو مصطفیٰ پر چڑھ دوڑی تھی۔ “ہونہہ ضرورت ہی کیا ہے ایسے کپڑے پہننے کی۔”سر جھٹکتے اس نے دوبارہ لیپ ٹاپ کھولا۔ کچھ ہی دیر میں ملازمہ چاۓ رکھ کر گئی تھی۔ شبانہ بیگم بیٹے کی عادت سے واقف تھیں۔ کام کے دوران اسے بار بار چاۓ کافی کی طلب ہوتی تھی اسی لیے وہ ہر ایک گھنٹے بعد اسکے لیے چاۓ بھجوا دیتی تھیں۔ پہلے وہ خود آ کر دے جایا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اسے تھوڑا آرام کرنے کی بھی تلقین کرتی تھیں مگر جب سے اسکی شادی دُرِ شہوار سے ہوئی تھی گھر کے ہر فرد نے ہی اس کے کمرے میں آنا چھوڑ دیا تھا۔ دُرِ شہوار سے نفرت میں عالم خاندان بھی کچھ کم نہ تھا۔ وہ خود بھی تو کبھی اس سے ایسا ہی رویہ رکھتا تھا مگر اب وہ اسکے ساتھ ہی یہاں رہ رہا تھا۔ اسے وہ دن آیا تھا جب ضیغم نے نہایت تنفر سے اسے کہا تھا کہ وہ مر کر بھی اسکے کمرے میں داخل نہیں ہو سکتی اور کہاں وہ پورے ہار سنگھار اور حق کے ساتھ اسکے کمرے میں آ بسی تھی۔ ایک وہ دن تھا کہ ضیغم اسکے منہ سے اپنا نام سننا بھی گوارا نہیں کرتا تھا اور اب یہ وقت تھا کہ وہ اسکے چہرے پر اپنی انگلیاں پھیرتی رہتی اور وہ چپ کھڑا اسے دیکھتا رہ جاتا۔ دُرِ شہوار کی حرکت یاد کرتے ضیغم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔ شہوار پہلے پہل تو اسے چڑانے کے لیے ایسا کرتی تھی مگر اب شاید اسے عادت پڑ چکی تھی۔ نادانستگی میں شہوار کی یہ عادت ضیغم سرفراز عالم کو نشے کی حد تک محبوب ہونے لگی تھی۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ دُرِ شہوار پر آیا غصہ دُرِ شہوار کی ہی وجہ سے ختم ہو چکا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلے دن شہوار جا چکی تھی۔ ضیغم آفس سے آیا تو خالی کمرہ اسکا منہ چڑا رہا تھا۔ ضیغم کو عجیب سا احساس ہوا تھا۔ کتنی دیر وہ اس احساس سے جان چھڑانے کی کوشش کرتا رہا مگر پھر تھک ہار کر سر تھامے وہیں بیٹھ گیا۔”مجھے اس راستے پر چلنے سے خود کو روکنا ہو گا۔ یہ راستہ سواۓ خاردار کانٹوں کے اور کچھ نہیں۔ دُرِ شہوار ہمیشہ کے لیے میری زندگی میں نہیں رہے گی اور کیا کوئی بھی اسے میری بیوی کے طور پر قبول کرے گا؟”اک نئی سوچ اسکے ذہن میں ابھری تھی۔ اس نے بے اختیار آئینے کی سمت دیکھا۔”نہیں ضیغم سرفراز عالم وہ تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی ہے اسے یہاں سے جانا ہی ہے۔ تمہارا دل بھلے ہی اسکا دم بھرتا ہو مگر وہ تم سے سخت نفرت کرتی ہے۔ اسکے خواب دیکھنا چھوڑ دو۔””مگر وہ میری بیوی ہے۔ میرے نکاح میں ہے۔ تقدیر نے اسے مجھ سے ملایا ہے میں ایسے کیسے ہار مان لوں۔”دل نے دماغ کی تردید کی تھی۔ وحشت سے گھبراتا وہ اٹھ کر باہر چلا گیا۔ گھر کے مکین خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ضیغم نے بغور سب کا اچھا موڈ دیکھا تھا۔ “دُرِ شہوار کی غیر موجودگی میں سبھی کا موڈ ہی اچھا رہتا ہے۔”ایک باغی سوچ نے سر اٹھایا تھا۔ اسکا اچانک ہی دل اچاٹ ہوا تھا۔ گاڑی کی چابی لیے وہ باہر کی جانب بڑھا۔”اس وقت کہاں جا رہے ہو ضیغم؟”کچھ کام ہے مما تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔بنا پلٹے جواب دیے وہ باہر نکل گیا۔ سڑکوں پر یونہی گاڑی دوڑاتے وہ اپنے خیالات سے پیچھا چھڑانے کی تگ و دود میں تھا۔گھر واپس آنے کے بعد بھی اسکا کمرے میں دل نہ لگ رہا تھا۔ وہ لاؤنج میں ہی صوفے سے سر ٹکاۓ بیٹھا تھا۔”ابھی وہ ایک دو دنوں کے لیے گئی ہے تو میرا دل نہیں لگ رہا جب وہ ہمیشہ کے لیے چلی جاۓ گی تب کیا ہو گا۔”آنکھیں موندے ہی اس نے سوچا تھا۔ یہ خیال اس قدر سوہانِ روح تھا کہ ضیغم کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔ یہ دل نے اسے کس مقام پر لا کھڑا کیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on