“کاش تم نہ بھٹکتی دُرِ شہوار۔ تم وہی معصوم سی پیاری سی شہری ہوتی جس کی شرارتیں، غصہ، ضد بس عالم ولا تک ہی محدود تھا۔ تم نے خود کو اس قدر گندگی میں دھکیل دیا ہے کہ میں چاہ کر بھی تمہیں اپنے مقابل نہیں لا سکتا ہوں۔ میں ایسا کرنا بھی نہیں چاہتا ہوں مگر میں اپنے دل کا کیا کروں جو دغابازی پر اتر آیا ہے۔ میں تم سے نفرت کرنا چاہتا ہوں۔ نہیں چاہتا ہوں کہ میرے دل میں تمہارے لیے سافٹ کارنر جنم لے مگر میں بے بس ہو رہا ہوں۔ اس کا واحد حل یہی ہے کہ تم سے جتنا دور رہوں اتنا ٹھیک ہے۔ میں اپنے وعدے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ تمہیں میری زندگی سے جانا ہی ہو گا۔ میں سلویٰ سے ضرور شادی کروں گا۔ وہ میری پہلی محبت ہے۔ اور تم۔۔۔تم کچھ بھی نہیں ہو۔”اسے دیکھ کر سوچتے وہ دوبارہ کھڑکی کی جانب پلٹ گیا تھا۔ مری کی سرد ہواؤں نے اسکا یہ عہد خود میں سمو لیا تھا۔ یہ اب طے تھا کہ ضیغم سرفراز عالم ایک بار پھر خود کو دُرِ شہوار سے نفرت پر مائل کرنے والا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Wehshat E Awargi Novel By Hayat Khan Episode 7 CUM

