Romantic Novels Web Special Novels

Wehshat E Awargi Novel By Hayat Khan Episode 8 CUM

دوسری جانب وہ شخص اس عورت پر چلا رہا تھا۔”تم نے اسے بھیج کیوں دیا؟ وہ ہمارے بارے میں سب کچھ بتا دے گی۔ ہم برباد ہو جائیں گے۔”فکر مت کرو۔ بہت جلد وہ خود ہمارے پاس واپس آ جاۓ گی۔”وہ اور لڑکیاں تھیں سکینہ۔ یہ دُرِ شہوار ہے۔ فرید عالم کے نام کا ڈنکا بجتا ہے اور تم نے خود اسے واپس بھیج دیا۔”تم مردوں کی سائیکی بھی عجیب ہے فاخر۔ عورت پر اعتبار نہیں کرتے ہو تم لوگ۔ فکر مت کرو وہ بھی تمہارے جیسے مرد ہی ہیں۔ تم میرے ایک فیصلے کی وجہ سے میری قابلیت پر شک کر رہے ہو تو سوچو وہاں تو معاملہ عزت کا ہے۔ “اس عورت کے پراعتماد چہرے نے عالم خاندان کے سر جھکا دیے تھے۔ انہوں نے بھی تو بالکل ویسا کیا تھا جیسا ان نے پلان کیا تھا۔بارش برسنے لگی وہ لوگ دُرِ شہوار کے لوٹنے کا انتظار کر رہے تھے۔ مگر وہ اب تک نہ لوٹی تھی۔”وہ سچ کہہ رہی تھی۔ تم لوگوں کی سوچ ہے کہ وہ اب پپلٹ کر واپس آۓ گی۔”باہر کھڑی عورت نے تنفر سے سوچتے اپنے قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھائے تھے۔ کئی سالوں بعد اسے پرسکون نیند آںے والی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دُرِ شہوار بالکل ساکت رہ گئی تھی۔ اس میں سے جیسے ہر احساس مٹ گیا تھا۔ فرید عالم پے در پے اس پر لاٹھی برسا رہے تھے مگر وہ مورتی بنی چپ چاپ پِٹ رہی تھی۔ تبھی فرید عالم نے اسے گھر سے نکالنے کا حکم سنایا تھا۔ ضیغم اسے گھسیٹتے ہوۓ باہر لے گیا۔ دُرِ شہوار وہیں ساکت سی سڑک پر گری ہوئی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ بس ابھی اسکی روح پرواز کر جاۓ گی۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ قیامت اس پر ابھی ٹوٹی نہیں تھی قیامت اس پر ابھی ٹوٹنی تھی۔ وہ وہاں جانے کتنی دیر پڑی رہی تھی کہ برستی بارش میں ایک گاڑی اسکے پاس آ کر رکی۔”چہ چہ ہم تو انتظار کر رہے تھے رانی کہ تُو لوٹ کر آۓ گی۔ مگر خیر کوئی بات نہیں ہم خود آ گۓ تجھے لینے۔ چل اب بہت ہوا سوگ چل اب چلتے ہیں تُو نے ہمیں کروڑ پتی بنانا ہے۔”اس عورت نے اسے آگے بڑھ کر اٹھانا چاہا۔ دُرِ شہوار پر وحشت چھائی تھی۔ اسے پیچھے دھکیلتے اس نے دونوں ہاتھوں سے دروازہ بجانا شروع کر دیا۔”کھولو دروازہ کھولو۔”وہ روتے ہوۓ دونوں ہاتھوں سے دروازہ پیٹ رہی تھی۔ ضیغم کو سانس لینے میں مشکل ہوئی تھی۔ اسے لگا جیسے ابھی بھی دُرِ شہوار باہر دروازہ پیٹ رہی ہو۔ وہ عورت تمسخر سے کھڑی اسے دروازہ پیٹتے دیکھ رہی تھی۔”چل بہت ہوا ڈرامہ۔ بارش میں تُو اگر بیمار پڑ گئی تو ہماری کلائینٹ کو مزہ نہیں آۓ گا۔”اس عورت نے اسے بازو سے جکڑا تھا۔ دُرِ شہوار نے اسے دھکا دیا جواباََ وہ اسکے چہرے پر زوردار تھپڑ مارتی اسے کھینچتے ہوۓ اپنے ساتھ لے گئی۔ گاڑی سے آدمی اترا تھا جس نے ایک کرارا تھپڑ دُرِ شہوار کے چہرے پر مارا تھا۔ وہ اوندھے منہ سڑک پر گری تھی۔ غصے سے اسے بازو سے پکڑتے اس نے گاڑی میں پھینکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on