Romantic Novels Web Special Novels

Wehshat E Awargi Novel By Hayat Khan Episode 9 CUM

دُرِ شہوار باہر لان میں کھڑی تھی۔ لمبے بال کمر پر بکھرے تھے۔ کیپری کُرتے میں ملبوس وہ معمول سے ہٹ کر لگ رہی تھی۔ ضیغم نے صبح صبح اسے نکھرا نکھرا دیکھا تو مسکراتے ہوۓ اسکی جانب آیا۔ “گڈ مارننگ۔”دُرِ شہوار نے اسے دیکھ کر نظر انداز کرتے اندر جانا چاہا۔ چار دن سے وہ اسے نظر نہ آئی تھی۔ اور اب نکھری نکھری سیدھا اسکے دل میں اتر رہی تھی۔ وہ اندر جا ہی رہی تھی کہ ضیغم نے اسکا ہاتھ تھاما۔ “کیا نئی شروعات نہیں کر سکتے ہم دُرِ شہوار؟”وہ اسکی جانب مڑ کر جواب دینا ہی چاہتی تھی کہ گیٹ کھلنے کی آواز پر اس جانب متوجہ ہوئی۔ گاڑی اندر داخل ہوتے ہی چہکتی ہوئی سلویٰ باہر نکلی تھی۔ گلابی فراک میں ملبوس دوپٹہ لہراتی وہ بھاگ کر ضیغم کی جانب آئی تھی۔ ضیغم نے بے اختیار ہی دُرِ شہوار کا ہاتھ چھوڑا تھا۔ وہ یک ٹک سلویٰ کو اپنی جانب آتا دیکھ رہا تھا۔ دُرِ شہوار طنزیہ مسکراتی ہوئی وہاں سے اندر کی جانب بڑھ گئی تھی۔ محمود عالم نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی مگر وہ انہیں نظر انداز کر گئی تھی۔ سلویٰ بھیگی آںکھیں لیے ضیغم کے سامنے کھڑی تھی۔”میں ٹھیک ہو گئی ضیغم۔ میں لوٹ آئی ہوں۔”آنکھوں میں نمی لیے چہرے پر میٹھی سی مسکراہٹ سجاۓ سلویٰ اسے ہی دیکھ رہی تھی جبکہ ضیغم تو شاید اپنے ہواسوں میں ہی نہ تھا۔ “ضیغم۔۔۔”اسے یوں بے خیالی میں خود کو تکتا پا کر وہ گلابی پڑی تھی۔ ضیغم فوراََ ہواسوں میں لوٹا تھا۔ دل نجانے کیوں اس سرپرائز پر بدمزہ ہوا تھا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو دُرِ شہوار جا چکی تھی۔ گہری سانس بھرتے اس نے سلویٰ کا ہاتھ تھاما۔”میں بہت خوش ہوں سلویٰ کہ تم ٹھیک ہو گئی۔”نرم لہجے میں کہہ کر اس نے اسے گلنار کیا تھا۔ جانے کیوں اب اسے سلویٰ کے چہرے پر چھاۓ دھنک رنگ دلچسپ نہ لگے تھے۔ وہ اسے لیے اندر کی جانب بڑھ گیا جہاں محمود عالم کے ساتھ انکی فیملی موجود تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ضیغم ٹیرس پر کھڑا سوچوں میں گم تھا۔ سلویٰ کو واپس آۓ ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ اس ایک ہفتے میں اس نے دُرِ شہوار سے بات کرنے کی بہت کوشش کی تھی مگر وہ موقع ہی نہ دے رہی تھی۔ وہ رات گۓ گھر لوٹتی تھی۔ اور صبح ضیغم کے جانے کے بعد ہی اٹھتی تھی۔ اس پر ستم یہ کہ وہ واپس اپنے کمرے میں شفٹ ہو چکی تھی۔ ضیغم کو تو بالکل موقع ہی نہ مل رہا تھا کہ وہ اس سے کچھ بات کر سکتا۔ رات کے اڑھائی بج رہے تھے جب اسکی گاڑی عالم ولا میں داخل ہوئی۔ ضیغم اسکے انتظار میں باہر لاؤنج میں ہی موجود تھا۔ دُرِ شہوار پہلے تو اسے دیکھ کر ٹھٹھکی مگر پھر آگے بڑھ گئی۔ “تم سے کچھ بات کرنی ہے دُرِ شہوار۔”وہ جاتے جاتے رکی تھی۔ “میں اس وقت صرف سونا چاہتی ہوں تو بہتر ہے کہ بات نہ کی جاۓ۔”بغیر پلٹے جواب دیتی وہ جا چکی تھی۔ ضیغم بے بسی سے وہیں بیٹھا رہ گیا۔ سرفراز عالم کئی دن سے ضیغم کی بے توجہی محسوس کر رہے تھے۔ بیٹے کے جذبات سے ناواقف تو نہ تھے وہ۔ اور پھر محمود عالم بھی ان سے سلویٰ کا ضیغم سے نکاح کا کہہ رہے تھے۔ سرفراز عالم بھائی اور بیٹے کے درمیان فیصلہ نہ کر پا رہے تھے کہ وہ کس کو سمجھائیں۔ دُرِ شہوار بھلے ہی بے قصور ثابت ہو چکی تھی مگر ماضی میں اس کے ساتھ جو کچھ ہوا اسکے بعد اسے بڑی بہو کے طور پر ماننے میں انکا دل متامل تھا۔ اور پھر شبانہ کا ووٹ بھی تو سلویٰ کی جانب ہی تھا کہ دُرِ شہوار کے زخم تو پرانے ہو چکے تھے مگر سلویٰ ابھی ابھی اتنی بڑی بیماری سے صحتیاب ہو کر لوٹی تھی۔ انکی اپنی ہی سوچ تھی۔ شاید وہ بھی دُرِ شہوار کو بہو کے روپ میں قبول نہیں کرنا چاہتی تھیں کہ پچھلے پانچ سالوں میں دُرِ شہوار کے انداز جس طرح بدلے تھے وہ اب جس سوسائٹی سے تعلق رکھتی تھی یہ سب وہ برداشت نہ کر سکتے تھے۔ انہوں نے تیسرا راستہ نکالا تھا کہ وہ ہاشم عالم کو ہی اس بات پر راضی کریں گے کہ وہ درِ شہوار کی جلد از جلد طلاق کروائیں تاکہ ان پر سے یہ لٹکتی تلوار ہٹے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on