
لائبہ کو وہاں رہتے ہوئے ایک ہفتہ مزید گزر گیا تھا۔۔وہ اس وقت بچی کو گود میں اٹھائے،اسے مسلسل جھلا رہی تھی۔۔جو آج حد سے زیادہ چڑ چڑی ہورہی تھی۔۔
’’لائبہ بیٹی! یہ حیا اتنا رو کیوں رہی ہے؟‘‘ وہ ابھی سو کر اٹھی تھیں ،کہ حیا کی آواز سن کر باہر آئیں۔۔۔شاہزل تین دن سے اسلام آباد کسی بزنس وزٹ پر گیا ہوا تھا۔
’’پتہ نہیں آنٹی! سوچ رہی ہوں۔اسے ڈاکٹر کے یہاں لے جاؤں۔‘‘وہ ذرا خود بھی پریشان ہوئی۔۔
’’ہاں چلو میں بھی ساتھ چلتی ہوں۔‘‘وہ بھی ذرا پریشان ہوئی۔کیونکہ اسکا رونا تکلیف دہ تھا۔
’’نہیں نہیں! آپ گھر ہی رہیں۔باہر بہت گرمی ہے آپ کی طبیعت نہ خراب ہوجائے ،میں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاتی ہوں۔‘‘اس نے فوری بیچ کا راستہ نکالا تھا۔
’’چلو میں ڈرائیور سے بول دیتی ہوں۔‘‘وہ ساتھ ہی قدم اٹھاتی باہر تک آئی تھیں۔۔جبکہ لائبہ دوپٹہ درسُت کرتی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’مس آر یو اوکے؟‘‘یہ اس کی نئی سیکریٹری تھی۔جو ایک باپردہ لڑکی تھی۔۔شدید گرمی میں بس وغیرہ میں سفر کرنے کی وجہ سے اسکی حالت خراب ہوگیی تھی۔۔وہ جب سے آفس آئی تھی اسے مسلسل الٹیاں ہو رہی تھیں۔اس وقت بھی وہ آفس لاؤنچ میں صوفے پر بیٹھی تھی۔چہرہ دوپٹے سے چھپا رکھا تھا۔۔
’’یس۔۔۔یس سر!‘‘ وہ نقاہت زدہ آواز میں بولی تھی۔۔یوسف کو اسکی حالت ناساز لگی تھی۔
’’میڈم! آئی تھنک آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ ہمیں ہسپتال چلنا چاہئے!‘‘اس نے فورس کیا۔۔
’’سر آپ پلیز امینہ کو بلا دیں۔۔‘‘ یوسف نے خیال آنے پر باہر دیکھا،مگر امینہ وہاں موجود نہیں تھی۔ماسوائے ایک دو لڑکیوں کے ،اور وہ کس قدر نک چڑی تھیں، یوسف بخوبی جانتا تھا۔۔
’’ مس نور آپ پلیز میرے ساتھ ہستپال چلیں۔۔امینہ شاید آف پر ہیں۔‘‘ اسے بھی اپنا سر گھومتا محسوس ہو رہا تھا۔۔وہ بہت ہمت کر کہ یوسف کے ساتھ گاڑی تک آئی تھی۔جبکہ اسٹاف ایک نظر دیکھنے کے بعد دبی دبی سرگوشیاں کرنے لگے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
’’مگر ڈاکٹر یہ اتنا رو کیوں رہی ہے؟‘‘لائبہ نے ذرا پریشانی سے پوچھا تھا۔۔
’’ پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں۔پیٹ درد کی وجہ سے بچے اکثر شدید روتے ہیں۔ آپ بچی کی فیڈر وغیرہ کا خیال رکھیں،کوشش کریں کہ وہ اچھے صاف ہوں۔۔‘‘لائبہ ذرا پریشانی کے عالم میں باہر آئی تھی۔
یوسف جو باہر ویٹنگ ایریا میں بیٹھا تھا کہ اپنے سامنے یوں اچانک سے لائبہ کو دیکھ دنگ رہ گیا تھا۔۔۔جبکہ اپنی دھن میں آتی لائبہ بھی بری طرح سے چونکی تھی۔۔اور ٹھہر سی گئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

