’’کیا ہوا برداشت نہیں ہوا؟‘‘وہ استہزائیہ مسکرائی۔’’جو تم سے سنا نہیں جا رہا ! وہ میں سہہ کر آرہی ہوں سمجھے۔۔‘‘اس بار وہ شدت سے دھاڑی تھی۔۔جبکہ وہ ضبط کے باعث سُرخ پڑتا چہرہ لئے، گاڑی ہواؤں میں اُڑا رہا تھا۔’’سوری!‘‘وہ گاڑی مینشن کے عین سامنے روکتا یک لفظی معذرت کرتا گاڑی سے باہر نکلا تھا۔’’مجھے یہاں کیوں لے کر آئے ہو؟‘‘وہ ذرا حیران ہوئی۔’’کیا مطلب ہے اس بات کا؟‘‘اس کی طرف کا دروازہ کھولے کھڑا وہ ذرا حیران ہوا۔۔’’میں تمھارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔‘‘وہ اپنی جگہ جمی بیٹھی تھی۔’’محترمہ میں نے آپ سے آپ کی رائے نہیں پوچھی ہے۔‘‘اس بار یوسف کا دماغ گھوما تھا۔’’مگر میں تمھیں اپنی رائے ہی دے رہی ہوں۔‘‘اس نے دانت کچکچائے۔’’بیوی اپنے شوہر کے گھر میں ہی رہتی ہے۔۔ یہ بات نہیں بتائی آپ کو کسی نے۔‘‘اس بار وہ تحمل مزاجی سے گویا ہوا تھا۔۔کیونکہ ان دونوں کے درمیان کچھ بھی نارمل نہیں تھا۔’’کوئی بھی شوہر اپنی بیوی کو نکاح کے بعد ،نکاح نامہ جلا کر اس کے باپ کے گھر نہیں پھینکتا یہ بات نہیں بتائی آپ کو کسی نے۔‘‘اس کے الفاظ اسی آنداز میں واپس لوٹائے گئے تھے۔مقابل کا چہرہ سرخ پڑا تھا۔’’ رخصتی سے پہلے لڑکی باپ کے گھر ہی رہتی ہے۔‘‘اس نے خود کا دفاع کیا۔’’رخصتی بھی جبھی ممکن ہوتی ہے،جب نکاح نامہ ہاتھ میں ہو۔‘‘ لائبہ نے نفرت آمیز نگاہوں سے گھورا تھا۔’’اب مان تو لی ہے اپنی غلطی! اب کیا کروں؟‘‘وہ جھنجھلایا۔’’اور کتنی لڑکیوں کی زندگیاں تباہ و برباد کرنے کے بعد ضمیر کی جھنجھوڑ نے بیداری پر مجبور کیا ہے صاحب بہادر کو۔‘‘ وہ طنزیہ پھنکاری تھی۔ اس نے سرخ آنکھوں سے گھورا تھا۔’’آگر مزید بے عزتی کرنی ہے تو ساری زندگی پڑی ہے۔گھر کی چار دیواری کافی وسیع ہے۔وہاں مطمئن آنداز میں کر لیجیے گا۔‘‘غلطی تھی تو لحاظ ملحوظ خاطر رکھا تھا۔’’ٹھیک ہے ایک شرط پر اس چھت کے نیچے رہنے کے لئے تیار ہوں،پہلے پورے شہر کے سامنے باقاعدہ شادی کا اعلان کرو۔جس نکاح کو چھپا کر میرے باپ کو ازیت دینا چاہتے تھے،اسی نکاح کو پوری دنیا کے سامنے ایکسیپٹ کرو،اور ہاں یہ حقیقت کبھی نہ بھولنا،کہ تمھاری بیوی تم سے نکاح کے بعد کوٹھے کے دیدار سے فیض یاب ہونے کے بعد ہی تمھیں میسر آئی تھی۔۔‘‘حقیقت تھی کہ ابلتا ہوا پانی جو کسی نے یوسف کے چہرے پر تیزاب کی مانند بہا دیا تھا،اور وہ بری طرح سے بلبلا اُٹھاتھا۔۔جب اس حقیقت کی ازیت ناقابل برداشت ہوئی تو وہ اس سے بحث ترک کرتا،خود اسے اپنے حصار میں اٹھاتا مینشن کی جانب بڑھا تھا۔جبکہ وہ اس کے اقدام پر بری طرح سٹپٹانے کے ساتھ ساتھ حیران بھی ہوئی تھی۔’’اتنی حیرت سے مت دیکھیں،جب بقول آپ کے،آپ کے باپ کے گھر پھینک سکتا ہوں تو،خود اپنے ہاتھوں پر اٹھا کر اپنے گھر کی عزت بھی بنا سکتا ہوں،مان لیا جذبات میں ہوگئی غلطی،جب تک سزا دینا چاہیں بھگتنے کو تیار ہوں۔‘‘وہ ہر طرح خود کو سمجھائے ہوئے تھا، ضمیر کی عدالت میں اس نے خود کو ہر طرح اس کا مجرم ہی پایا تھا۔۔’’ زبردستی نکاح،افسانوی کہانیوں میں تو شاید بڑا رومینٹک لگتا ہو،مگر اصل زندگی میں ظلم کے سوا کچھ بھی نہیں،اور کم از کم سو کالڈ غیرت کے نام پر باپ کے کئے کا بدلہ بیٹی سے لینے والا مرد، مرد ذات پر بدنما دھبے جیسا ہے۔ کیونکہ غیرت مند مرد، مردوں کے کئے کی سزا کمزور عورتوں کو نہیں دیتے اور جو ایسا کرتے ہیں وہ میری نظر میں قابل احترام مرد نہیں رہتے۔۔‘‘اس کے لہجے سے بے پناہ نفرت عیاں تھی۔خاموشی سے سیڑھیاں چڑھتے یوسف نے حیرت و بے یقینی سے اسکی جانب دیکھا تھا۔۔وہ لڑکی پل میں اسکی اوقات دو کوڑی کی کر گئی تھی۔۔مگر یہ حقیقت تھی اسکا وہ گھناؤنا عمل بھی دو کوڑی کا ہی تھا۔۔۔’’کیا ہوا میرا کہا بُرا لگ گیا کیا؟‘‘اسے منجمند ہوتا دیکھ وہ استہزائیہ لب ولہجے میں پھنکاری۔’’نہیں۔۔‘‘یک لفظی جواب دیتا وہ باقی کی سیڑھیاں چڑھتا اسے یونہی حصار میں اٹھائے اپنے کمرے میں لے آیا تھا۔۔اب دونوں کے درمیان خاموشی حائل تھی۔’’فریش ہوجائیں! پھر میں ملازمین سے آپ کا تعارف کرادونگا۔‘‘ وہ حتیٰ المکان خود کو نارمل رکھنے میں کوشاں تھا،جو ایک انتہائی مشکل امر تھا۔۔’’مجھے کسی سے کوئی تعارف نہیں چاہئے فی الحال!ہاں کل تک مجھے اپنی ضرورت کی ہر چیز اس روم میں چاہئے!‘‘اس کا آنداز آڈر دینے والا تھا۔۔کسی کی آدھی بات نہ سننے والا وہ بگڑا مزاج اس وقت خاموشی سے سب سُن اور کر رہا تھا۔

