Uncategorized

Ye Zindagi Nahin Asaan by Kainat Riyaz Episode 11

نایاب کو وہاں بیٹھے آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا ۔۔سارے مہمانوں میں الگ انتشار پھیلا ہوا تھا ۔۔مگر کسی کو کوئی خاص خبر نہیں دی جا رہی تھی ۔۔
اب تو فضا بھی عجیب سی گھٹن زدہ محسوس ہونے لگی تھی ۔۔دادو کب سے کمرے میں بند تھے۔۔تینوں ماموں اور ممانیاں باہر آئے تو تھے لیکن کوئی جواب نہیں لائے تھے۔۔مہمانوں نے ان سے معاملہ پوچھنے کی کوشش کی تھی۔۔مگر ان کے پاس بتانے کو کچھ نہ تھا۔۔۔بڑے ماموں سوچ رہے تھے کیسے مہمانوں سے معزرت کی جائے ۔۔مگر کوئی مناسب الفاظ نہیں تھے۔۔مہر اور ذیب کو کمرے میں ہونے والی کچھ گفتگو زوار سے معلوم ہوئی تھی۔۔جو انھوں نے نایاب کو بتائی تھی ۔۔مگر نایاب کو اس گفتگو سے نہیں زرناب پھپھو سے سروکار تھا ۔۔وہ کہاں تھیں ۔۔ابھی تک باہر کیوں نہیں آئی تھیں ۔۔اور دادو کیوں بند تھے کمرے میں۔۔اس بات کا علم کسی کو نہیں تھا۔۔ماحول کا تناؤ بڑھتا جا رہا تھا ۔۔اور ساتھ ہی اس کا اضطراب بھی ۔۔کشیدگی تھی جو جان پر بن رہی تھی۔۔
نایاب نے بے چینی سے پہلو بدلا اور اٹھ کر اندر جانے کا سوچا ہی تھا کہ اچانک دادو قاضی صاحب کے ساتھ وہاں آتے نظر آئے تھے۔۔وہ اُٹھتے اٹھتے ناسمجھی سے واپس بیٹھ گئی ۔۔ذیب اور مہر بھی اس کے گرد سے اٹھیں اور تبھی دادو کے اشارے پر تینوں ماموں اور پھر زرناب پھپھو بھی اسٹیج پر چڑھ آئیں ۔۔نایاب نے ہونق شکل لیئے سب کو اچانک اپنے آس پاس صوفوں پر بیٹھتے دیکھا۔۔۔اور پھر کوئی اور بھی اسٹیج پر چڑھا تھا ۔۔گھونگھٹ کے پار نایاب کو بس جوتوں میں مقید دو پاؤں نظر آئے تھے ۔۔ اور پھر وہ نظر اوپر اٹھ کر اس شخص کا جائزہ نہیں لے پائی تھی کہ دادو کے الفاظ اس کے وجود کو جکڑ گئے تھے۔۔
”نکاح شروع کریں قاضی صاحب ۔۔!“نایاب نے گردن موڑ کر دادو کی سمت دیکھا جب وہ شخص آ کر اس کی دوسری سمت بیٹھا تھا اور تبھی نایاب کا پہلو اس مانوس آہٹ اور جانلیوا احساس سے سنا اٹھا تھا۔۔اور نایاب کو لگا وہ پتھر کی ہو گئی ہے۔۔۔ یہ پرفیوم کی مہک بہت خاص تھی۔۔وہ اسے پہچانتی تھی ۔۔اور پھر اسے جھٹکا تو تب لگا جب اس کے سامنے نکاح نامہ رکھا گیا ۔۔۔اسے لگا وہ موم کی طرح جم گئی ہے ۔۔وہ اب کبھی پگھل نہیں پائے گی۔۔اور پھر قاضی صاحب نے نکاح شروع کیا تھا ۔۔
جس میں بولا گیا نام اسے ساکت کر گیا تھا ۔۔کیا یہ حقیقت تھی یا کوئی خواب ۔۔۔
میر ذکاء ولد شاہ ویر ۔۔۔!
اور پھر نایاب نے ساری بکھرتی قوتوں کو جمع کر کے سکتے سے گردن موڑ کر اپنے پہلو میں دیکھا تھا۔۔جہاں چہرے پر گہری سنجیدگی اور سرد پن لیئے وہ بے نیاز براجمان تھا ۔۔نایاب کو جانے کیوں اس کے چہرے پر اتری ٹھنڈک سے اپنا وجود جمتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔ہاں وہ حقیقت تھا۔۔
وہ میری ذکاء ہی تھا ۔۔وہ اسکے نکاح میں دی جا رہی تھی۔۔۔
اور اسے لگتا تھا وہ محبت پانے کے لئے نہیں بنی تھی۔۔اس کا مقصد صرف میر ذکاء سے محبت کرنا اور خاموشی سے کنارہ کرنا ہی تھا۔۔پر یہاں تو وقت کا الٹا چکر چلا تھا اور اس کے جملہِ حقوق اس بے نیاز کے نام لکھوا گیا تھا ۔۔
اتنی آسانی سے ۔۔اس پر اتنی بے یقینی کا غلبہ تھا کہ زبان گنگ تھی۔۔ وہ بس ٹکٹکی باندھے ہر چہرے کو دیکھ رہی تھی۔۔
قاضی صاحب نے تین بار ایجاب قبول کروایا تھا اور نایاب جان نہیں سکی اس کے منہ سے کب کیا نکلا ہے۔۔اس کا دماغ سن پڑا ہوا تھا ۔۔اس کی سمجھ بوجھ کی تمام صلاحیتیں سلب ہو گئی تھیں ۔۔اسے ہوش تو تب آیا جب اس نے ذکاء کو ٹیبل پر جھک کر نکاح نامے پر دستخط کرتے دیکھا تھا ۔۔
کیا نکاح ہو گیا تھا ۔۔؟ کیا حقیقت میں اس کا نکاح ذکاء سے ہوا تھا ۔۔؟ اس کا دل بار بار اس سوال کی گردان کر رہا تھا ۔۔اور جواب حقیقت بن کر سامنے کھڑا تھا ۔۔سب مبارک باد پیش کر رہے تھے ۔۔ایک دوسرے کے گلے لگ رہے تھے۔۔دعائیں دے رہے تھے۔۔اور پھر سب نے ان کے لئے دعائیں خیر مانگی تھیں ۔۔نایاب کے بھی کسی نے ہاتھ اٹھوائے تھے۔۔پتا نہیں کس نے۔۔مگر اسے سمجھ نہ آیا اسے کیا مانگنا چاہیے ۔۔؟
سب کچھ تو مل گیا تھا ۔۔اس کی آنکھوں میں جانے کیوں آنسوں کا سیلاب اُمڈ آیا ۔۔تشکر کے آنسوں تھے۔۔ جن کو بہاتے ہوئے بس شکر ادا کیا تھا۔۔۔بعض دعاؤں کی قبولیت بھی کتنی معجزاتی ہوتی ہے۔۔اس کے تو وہم ہو گمان میں بھی نہیں تھا ۔۔میر ذکاء اس کی زندگی میں ایسے شامل کر دیا جائے گا ۔۔وہ خواب تو نہیں دیکھ رہی تھی۔۔کیا سامنے زرناب پھپھو کو گلے سے لگائے انھیں پیار سے بہلاتا چپ کراتا آنسوں پوچھتا یہ شخص میر ذکاء ہی تھا ۔۔اسے اب اپنی ہی قسمت سے رشک آیا تھا ۔۔اور اسے لگتا تھا وہ بالکل بھی خوش قسمت نہیں ہے ۔۔کیا اس سے بڑی خوش قسمتی کوئی ہوگی ۔۔من چاہا شخص اتنی آسانی سے اللّہ نے جھولی میں ڈال دیا تھا ۔۔وہ کتنی نوازی گئی تھی ۔۔اس کے سالوں کی ان خاموش دعاؤں کا اجر اسے ملا تھا ۔۔جو اس نے چپکے چپکے راتوں کو جاگ کر مانگی تھیں ۔۔
ایک دم ہی اس کے ذہن میں مہر کی بات گونجی تھی۔۔
”چلو کوئی نہیں ۔۔ٹھیک ہے۔۔نہ لکھواؤ۔۔ویسے بھی نام نہ لکھوانے سے کونسا دولہا بدل جائے گا۔۔“تب مہر نے تو یونہی کہہ دیا تھا ۔۔مگر کس کو خبر تھی یہ جملہ امر ہو جائے گا ۔۔دولہا نہ کہ صرف بدلا تھا بلکہ من پسند بھی تھا۔۔نایاب نے ٹھنڈی آہ بھری ۔۔خوشی اس کی انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی ۔۔۔پورے لان میں مبارک باد کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔۔تمام لوگ اسٹیج پر آ کر ذکاء کے گلے لگ رہے تھے۔۔وہ پیچھے ہٹتے ہوئے بے اختیار صوفے پر بیٹھ گئی۔۔سمجھ نہیں آ رہا تھا اس وقت وہ کیا ردعمل دے۔۔
زوار کے چہرے پر خوشی کا الگ ہی جہاں آباد تھا۔۔وہ چاہتا تھا نایاب اور ذکاء ایک ہو جائے ۔۔اور وہ ہو گئے تھے ۔۔اب تو زوار کے پیر بھی زمین پر نہیں لگ رہے تھے ۔۔خوب چہک رہا تھا ۔۔شانی نے اسٹیج پر چڑھ کر ذکاء کو گلے سے لگایا ۔۔
”تم نے صبح مجھ سے کہا تھا نا ذکاء ! مجبوریوں میں نکاح نہیں ہوتے ۔۔دل راضی نہ ہو تو نکاح کوئی نہیں کرتا ۔۔اب اپنے بارے میں کیا کہنا ہے تمہارا ۔۔ یہ مجبوری تھی یا رضامندی ؟“اس نے سنجیدگی سے ٹھوس لب و لہجے میں کہا تھا ۔۔ذکاء نے لب بھینچ لیئے ۔۔لیکن اس نے سوچ لیا تھا ۔۔وقت آنے پر وہ شانی کو اس بات کا جواب ضرور دے گا۔۔ابھی موقع محل درست نہیں تھا۔۔
شانی اسٹیج سے اترا اور ذکاء نایاب سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا تھا ۔۔سب ان کا منہ میٹھا کر رہے تھے ۔۔نایاب نے کن اکھیوں سے دیکھا تھا ۔۔وہ بہت کم کسی کے ہاتھ سے کھا رہا تھا ۔۔اور زیادہ تر انکار کر رہا تھا ۔۔نایاب کو اس کا موڈ ٹھیک نہ لگا۔۔اب کچھ رسموں کا دور چل رہا تھا ۔۔دادو نایاب کے پاس آ بیٹھے تو نایاب نے بے اختیار ان کے سینے پر سر رکھ دیا تھا ۔۔
آج جو انھوں نے کیا تھا وہ ان کا سب سے بڑا احسان تھا نایاب پر۔۔۔وہ مر کر بھی اس کا حساب نہیں چکا سکتی تھی ۔۔۔انھوں نے اس کی خاموش محبت اس کی جھولی میں ڈال دی تھی۔۔انھوں نے پیار سے اس کے سر پر بوسہ دیا ۔۔پھر فوٹو سیشن ہوا تھا ۔۔زوار نے تو لمحوں میں جانے کیا کچھ کر دیا تھا ۔۔شانی اور بلال کے ساتھ مل کر ذکاء کا کمرہ تک نئی دلہن کے لئے تیار کرا لیا تھا ۔الگ ہی پھرتی اور جوش بھل بھل کر نکل رہا تھا۔۔۔سب اس کی خوشی تکتے رہ گئے ۔۔معمولی سی رسومات کے بعد فائقہ ممانی نے تھوڑا بہت جو اس وقت ممکن تھا وہ لین دین کیا تھا۔۔۔
”بیٹا یہ تمہارے لیے ۔۔اب اچانک سے جتنا ہو سکا ۔۔باقی ان شاءاللہ ولیمے سے پہلے تک کر دوں گی۔۔“انھوں نے اپنا ہی ایک جیولری سیٹ لا کر نایاب کی گود میں رکھا تھا۔۔وہ چونکی۔۔
”ممانی جان اس کی ضرورت نہیں ہے ۔۔آپ کا پیار ہی بہت ہے میرے لئے..“نایاب کو ان کا سیٹ لینا بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا ۔۔۔ نم پلکوں پہ سجے ستارے لیئے اس نے بے اختیار سر نفی میں ہلایا تھا ۔۔
”میرا پیار تو ہے ہی تمہارے لیے ہمیشہ سے ۔۔اور اب تو ماشاء اللہ سے میرے ذکاء کی دلہن ہو تو پیار دگنا ہو گیا ہے ۔۔“انھوں کی آنکھوں سے جگنوں پھوٹ رہے تھے۔۔۔من چاہی بہو مل گئی تھی اُنھیں اپنے غصیل اور اکھڑ مزاج بیٹے کے لئے ۔۔اب اُنھیں کوئی فکر نہیں تھی۔۔ان کے بیٹے کو وہی سنبھال سکتی تھی ۔۔ان کی خوشی قابل دید تھی۔۔۔پورے میر ولا کی رونق بحال ہو گئی تھی ۔۔ہر کوئی مسرور تھا ۔۔بھئی گھر کی پہلی شادی ہو رہی تھی ۔۔وہ بھی بیٹے کی۔۔چاندنی رات کے شامیانے تلے میر ولا کے بیٹے کی شادی کی تقریب بڑے ہی جوش و خروش سے منائی گئی تھی ۔۔۔ دیکھنے والوں کی نگاہیں عاصم کا واقع بھول بھال کے اس نئے جوڑے میں الجھی رہ گئی تھیں ۔۔ سفید گھرارے میں نکاح کی دلہن بنی نایاب کے سر پر سرخ جارجٹ کا گھونگھٹ تھا اور ساتھ ہی سیاہ شیروانی میں ست رنگی دوپٹہ گلے میں لپیٹے سادہ سی تیاری میں وہ ارجنٹ دولہا میر ذکاء تھا۔۔۔جس کے چہرے کے تاثرات بڑے ہی سرد تھے ۔۔۔ 
                     ••••••••••••••

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on