آہستہ آہستہ معمولاتِ زندگی اپنی ڈگر پر چل رہے تھے۔ زینب روزانہ صبح سویرے اٹھتی اور ابراہیم کے ناشتے سے لے کر تیار ہونے تک تمام کاموں کا خیال رکھتی۔ اس کے دفتر جاتے ہی کچھ دیر آرام کرنے کے بعد وہ دیگر امور خانہ دیکھتی۔
چونکہ ابراہیم دوپہر کو گھر میں کم ہی پایا جاتا تھا۔ اس لیے دوپہر کی بجائے وہ رات کے کھانے کا ہی اہتمام کرتی۔ صدشکر تھا کہ گھر کی صفائی ستھرائی کیلئے ملازمہ موجود تھی۔ وہ جو سوچتی تھی کہ ابراہیم اس کے بنائے کھانوں کی تعریف کرے گا۔ مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ وہ خاموشی سے کھانا کھاتا۔ اور جہاں نمک مرچ کی کمی بیشی محسوس ہوتی، باور کروادیتا کہ آئندہ ایسا نہ ہو۔
______________
Pages: 1 2

