“تم یہاں۔۔۔ کک۔۔کوئی ہے۔۔ کوئی بچاؤ مجھے” افرا اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ بری طرح خوفزدہ ہوئی تھی جس پر سامنے کھڑے تبریز لب بھینچے اسے دیکھنے لگا ۔ تین سال پہلے وہ اس لڑکی کی زندگی برباد کرچکا تھا نفرت میں وہ اسکی عزت روندھ چکا تھا وہ اسے مار دینا چاہتا تھا مگر افراد کہیں غائب ہوگئی تھی اب وہ اسے اسے ڈھونڈتے معافی مانگنے آیا تھا پر افرا کے پاس اپنی اولاد دیکھ اسے جھٹکا لگا تھا۔ “میں افرا سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ” اس کی بات پر افرا نفی میں سر ہلاتے وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی مگر تبریز اسے تھماتا نکاح کے لئے تیار کرنے لگا اسی وقت ۔۔۔۔Story”چھوڑو مجھے “وہ چلائی مگر وہاں اسکی سننے والا کوئی نہیں تھا “پلیز..پلیز ..مجھے چھوڑو مجھےچھوڑ دو پلیززززز”چاروں طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا اور وہ بس چلائے جا رہی تھی۔یکا یک کمرے میں ایک بلند چیخ گونجی ۔۔۔۔۔۔ پاس پڑی چار پائی سے ایک عورت جلدی سے بیڈ کی طرف بڑھی افرا بیٹا کیا ہوا ہے تمہیں “اماں پلیز مجھے بچا لے یہ مجھے نوچ لے گا پلیز اماں مجھے بچا لیں” اس عورت نے افرا کو اپنے ساتھ لگا لیا ” چپ میرا بچہ چپ کچھ بھی نہیں ہوا دیکھو یہاں کوئی نہیں ہے” افرا پسینے سے شرابور ہو چکی تھی نسرین بیگم نے اس کا پسینہ صاف کیا اور پھر پاس پڑے ٹیبل سے ایک گلاس میں پانی ڈالا اور افرا کی طرف بڑھایا جو اس نے بس ایک گھونٹ بھرا افرا نسرین بیگم کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کرونا شروع ہو چکی تھی “میرا بچہ چپ کر جاؤ دیکھو عالیان بھی کیسے پریشان ہو گیا ہے تمہیں روتا دیکھ کر”افرا نے ایک نظر اپنے پاس بیٹھے ہوئے اپنے دو سالہ بیٹے عالیان کو دیکھا جو سہم کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا افرا نے جلدی سے عالیان کو اپنے ساتھ لگایا اور اسے تھپکنے لگی نسرین بیگم بھی آ کر اپنی چارپائی پر بیٹھ گئی انھوں نے افسوس سے افرا کی طرف دیکھا اکثر اس کو ایسا ہی حواب آتا تھا جس سے وہ ڈر جایا کرتی تھی اور چیخنا چلانا شروع کر دیتی تھی افرا بھی اپنے بیٹے کو لے کر لیٹ چکی تھی لیکن اب نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ماضی میں ہوئے ایک واقعے نے اس کی زندگی بدل کر رکھ دی تھی ساری رات اس کی سوچوں میں ہی گزر گئی صبح فجر کے وقت وہ اٹھ گئی تھی اس نے نماز ادا کی نسرین بیگم کو اٹھا کر وہ کچن کی طرف آگئی تھی کام مکمل کر وہ پھر دوبارہ کمرے کی طرف ائی جہاں اس کا بیٹا بھی اٹھ چکا تھا اٹھ گئی میری جان عالیان نے ہاں میں سر ہلایا افرا نے عالیان کو اپنے ساتھ لگایا اور اس کو چومنے لگ گئی اس کو چینج کروا کر وہ اس کو نسرین بیگم کے پاس چھوڑ کر آئی اور خود کچن بھی کھانا بنانے لگ گئی تھی علیان اور نسرین بیگم بھی باہر صحن میں آگئے تھے عالیان کھلونوں کے ساتھ کھیلنے لگ گیا افرا نے جلدی سے ناشتہ بنایا اور باہر صحن میں لے آئی تینوں نے ایک ساتھ مل کر ناشتہ کیا “بیٹا مجھے ذرا ساتھ والی ہمسائی کی طرف جانا ہے میں تھوڑی دیر تک آ جاتی ہوں “نسرین بیگم افرا سے بولی تو وہ ہاں بے سر ہلا گئی نسر ین بیگم باہر چلی گئی افرانے جلدی سے دروازہ بند کر دیا عالیان صحن میں کھلونوں کے ساتھ کھیلنے لگ گیا اور افرا کیچن کی طرف آگئی کچھ دیر بعد ہی دروازے پر دستک ہونے لگی لگتا ہے اماں اگئی ہے افرا جو کچن کی صفائی کر رہی تھی جلدی سے باہر کی طرف ائی اس نے بنا پوچھے ہی دروازہ کھول دیا اور سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر اس کو لگا کے پوری دنیا ہی گھوم گئی ہے ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

