Uncategorized

Dil O Janam Fida E Tu by Aniqa Ana Episode 61

”کیسی ہیں مسز ایلسی جاہ!؟“ انھیں اندر داخل ہوتے دیکھ کر ہی، ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھا، ان کا مہمان اٹھ کھڑا ہوا تھا۔”تم!؟ اور یہاں؟“ وہ ہکا بکا سی اسے دیکھ کر رہ گئی تھیں۔”مجھے یہاں دیکھ کر اتنی حیران کیوں ہو رہی ہیں؟“ وہ ان کی حالت سے حظ اٹھاتا دل جلانے والے بھرپور انداز میں بولا تھا۔”آں ہاں! اب سمجھا۔۔۔“ کچھ یاد آنے پر چٹکی بجائی، پھر اپنے سر پر ہولے سے ہاتھ مارتے ہوئے، خود کو ڈپٹنے کے سے انداز میں بولا تھا:”میں یہ بات کیسے بھول سکتا ہوں کہ مسز ایلسی جاہ میرا نہیں میرے فون کا انتظار کر رہی تھیں۔ اب مجھے دیکھ حیران ہونا تو بنتا ہے نا!“ وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ان سے پوچھ رہا تھا۔”کیوں میں ٹھیک کَہ رہا ہوں نا۔۔!“ انھوں نے دائیں بائیں دیکھا، دروازہ مضبوطی سے بند کر کے، چیل کی سی تیزی سے اس کی طرف جھپٹی تھیں۔”تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ تمھیں یہاں آنے کا کہا کس نے تھا؟“ عین ممکن تھا کہ وہ اس پر جھپٹ ہی پڑتیں کہ وہ موقعے کی نزاکت اور ان کے انداز بھانپتا فوراً پیچھے ہوا تھا مگر پھر بھی ان کے ہاتھ اس کے کوٹ کو پکڑنے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے۔ اس مضبوط جثے کے مرد کے سامنے اس نازک اندام خاتون کی کیا چلتی؟”ذرا سنبھل کر مسز ایلسی جاہ!“ اس نے ایک جھٹکے سے اپنا کوٹ ان کی گرفت سے چھڑوایا اور اس کی شکن درست کرتے ہوئے کرخت لہجے میں بولا:”کبھی اتنی مجال میرے دوستوں کی نہیں ہوئی کہ وہ بے تکلفی میں ہی مجھ سے دست و گریباں ہو جائیں اور آپ تو دشمنوں کی صف میں کھڑے ہو کر میرے گریبان تک آنے کی جرأت کر رہی ہیں۔ دھیان رکھیے کہیں اپنا ہی نقصان نہ کر بیٹھیں۔“”دشمنوں کی صف۔۔۔“ وہ بڑبڑائی تھیں۔ اس ذرا سی مشقت میں ان کا تنفس پھول گیا اور بال بکھر گئے تھے۔”ذرا اپنا خیال کیجیے مادام! کچھ اپنی اور میری عمر کا لحاظ باقی رکھیے۔ کسی نے آپ کو اس حلیے اور ان حالات میں دیکھ لیا تو۔۔۔ چہ چہ۔۔۔ آپ سوچ سکتی ہیں کیا ہو گا؟“ وہ افسوس کا اظہار کرتا ہوا ان سے چند قدم دور ہوا تھا۔”آپ کو تو اپنی عمر اور معاشرے میں اپنے رتبے کا لحاظ شاید نہیں ہو گا مگر مجھے بہت ہے۔ میرے لیے یہ شرم سے ڈوب مرنے کا ہی مقام ہو گا کہ میرا نام میری ہی عمر کے میرے دشمن کی ماں کے نام کے ساتھ اسکینڈل بن کر سامنے آئے۔“ وہ جب سے آیا تھا تب سے اپنے لفظوں کے نشتر چبھو چبھو کر ان کا وجود چھلنی کیے دے رہا تھا۔”تو اچھا ہے ڈوب مرو!“ وہ اپنے حواس پر قابو پا کر تنفر سے گویا ہوئی تھیں۔”اتنی جلدی تھوڑی نا ڈوب مروں گا؟ بڑا سخت جان ہوں اور اچھا تیراک بھی ہوں تو میرے ڈوبنے کی آس لگانا چھوڑ دیجیے۔“ اس نے پھر ان کی حالت سے حظ اٹھایا تھا۔”ہم بدلہ لینے والے لوگ بڑے سخت جان ہو جاتے ہیں۔ ہم جیسے لوگ جب کچھ ٹھان لیتے ہیں تو سر پر کفن باندھ کر نکلتے ہیں۔ اب پھر آگ میں کودنا پڑے یا ڈوب کر مر جانا ہم پروا نہیں کرتے۔“ وہ کوٹ کا بٹن کھولتا دوبارہ کرسی پر بیٹھا تھا۔”میں

بھی گھر سے سر پر کفن باندھ کر ہی نکلا تھا۔

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on