Uncategorized

Mohabbat Fateh Tehri Last Episode 11 Part 1

کیا حال سنائیں دنیا کا
کیا بات بتائیں لوگوں کی
دنیا کے ہزاروں موسم ہیں
لاکھوں ہیں ادائیں لوگوں کی
کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں
دنیا کو سنانے کے قابل
کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں
بس دل میں چھپانے کے قابل
کچھ لوگ گزرتے لمحے میں
اک بار گئے تو آتے نہیں
کچھ لوگ خیالوں کے اندر
جذبوں کی روانی کے اندر
کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح
پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں
کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں
کچھ لوگ کنارا ہوتے ہیں
کچھ ڈوبنے والی جانوں کو
تنکوں کا سہارا ہوتے ہیں
کچھ لوگ چراغوں کی صورت
راہوں میں اجالا کرتے ہیں
کچھ لوگ اندھیروں کی کالک
چہروں پہ اچھالا کرتے ہیں
کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں
دو گام چلے اور رستے الگ
کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا
ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ
کیا حال سنائیں اپنا تمہیں
کیا بات بتائیں جیون کی
ایک آنکھ ہماری ہنستی ہے
ایک آنکھ میں رت ہے ساون کی
ہم کس کی کہانی کا حصہ
ہم کس کی دعا میں شامل
ہے کون جو رستہ تکتا ہے
ہم کس کی وفا کا حاصل
کیا حال سنائیں دنیا کا
کیا بات بتائیں لوگوں کی

آفتاب کی روشنی میں نہایا ہوا سمندر اپنی لہروں میں کوئی مدھم سرگوشی سموئے ہوئے تھا۔ساحل کی گیلی ریت پر قدموں کے نشان بناتے وہ دونوں ساتھ چل رہے تھے۔
”آپ لوگوں کا مشن کب مکمل ہونا ہے؟“۔ماریہ نے بے صبری سے پوچھا،اس کی نظریں سامنے لہروں سے الجھ رہی تھیں،مگر لہجے میں ایک اضطراب تھا۔
ارمان نے ذرا چونک کر اسے دیکھا،پھر ہلکی مسکراہٹ ہونٹوں پر کھل گئی۔”کیوں پوچھ رہی ہیں آپ؟“۔وہ شرارتی نظروں سے اسے تکتا،اس کے ساتھ ساتھ قدم بڑھاتا رہا۔
ماریہ نے اسے گھورا۔”کیا ہے؟اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں؟“۔خفگی سے رخ موڑتے ہوئے قدموں کی رفتار تیز کر لی۔
”اچھا اچھا،اوکے!اب میں بالکل سنجیدہ ہوں۔بتائیں کیوں پوچھ رہی ہیں؟“۔ارمان نے مسکراہٹ دباتے ہوئے اس کا چہرہ نرمی سے اپنی طرف موڑا۔
ہوا کی نمی نے ماریہ کی پلکوں پر نرمی سے دستک دی۔اس نے گہری سانس لی۔”میں تھک گئی ہوں مصطفیٰ مینشن میں رہ کر۔اداکاری کرتے ہوئے…اب مجھ سے یہ سب نہیں ہوگا“۔اس کی آواز میں بےبسی کا سایہ لرزنے لگا۔
”اوہ،تو یوں کہیے نہ…اب آپ رخصت ہوکر میرے پاس آنا چاہتی ہیں“۔ارمان نے ایک لمحے کو اس کی آنکھوں میں جھانکا۔سنجیدگی سے۔اور یہ سنجیدگی بس کچھ لمحے کی تھی۔پھر ایک شرارتی چمک اس کی آنکھوں میں ابھری۔
”ارمان!“وہ غصے سے چیخی اور جھٹکے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔
ارمان نے فوراً دونوں ہاتھ بلند کر دیے،جیسے کہ رہا ہو کہو اب میں کچھ نہیں کہتا۔مگر ہونٹوں پر مسکراہٹ بدستور قائم تھی۔
”رخصتی کا آپ دو تین سال تک بھول جائیں،کیونکہ ابھی کچھ وقت میں اپنی اماں اور بھائیوں کے ساتھ رہوں گی“۔اس نے آنکھیں گھماتے ہوئے حتمی انداز میں کہا۔
”اللہ!لڑکی،یہ کیا ظلم ہے؟میں دن گن گن کر گزار رہا ہوں کہ کب یہ مشن مکمل ہو اور میں دن رات آپ کو دیکھتے ہوئے گزاروں!“ ارمان کے صدماتی تاثرات دیکھنے لائق تھے۔ماریہ نے بمشکل اپنی ہنسی روکی اور کندھے اچکا دیے۔
”آپ کے ساتھ تو زندگی بھر رہوں گی،لیکن میں اماں اور بھائیوں کے ساتھ بھی رہنا چاہتی ہوں۔اس کے لیے آپ کو انتظار کرنا ہوگا“۔وہ بےنیازی سے کہہ کر آگے بڑھ گئی، جبکہ ارمان نے بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھا۔
”ظالم لڑکی یہ غلط بات ہے“۔۔بلند آواز میں کہتا فوراً اس کے پیچھے بھاگا۔ماریہ کی کھکھلاہٹ رات کی خاموشی میں بکھر گئی،سمندر کی لہریں جیسے ان کی شرارتوں کی گواہ بن کر زیرِ لب مسکرا دیں۔

کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا
ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ

”گل! فاز اور فاطمہ کو کھانے کے لیے بلا لائیں“۔شازمہ بیگم نے پُرسکون لہجے میں کہا،مگر ان کی آنکھوں میں کئی بوجھل جذبات تیرنے لگے۔ابھی وہ پوری طرح سانس بھی نہ لے پائی تھیں کہ نمرہ کی آواز نے فضا میں خنجر کی طرح ارتعاش پیدا کر دیا۔
”مما!آپ اسے ہمارے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائیں گی؟آپ کو فریحہ یاد نہیں آتی؟“۔لہجے کی بےباکی ان کے سینے میں ترازو ہوگئی۔الفاظ برفیلے تھے،مگر ان میں دہکتے انگارے لپک رہے تھے۔
”وہ فاز کی بیوی ہے،نمرہ!ظاہر ہے ہمارے ساتھ ہی کھائے گی“۔شازمہ بیگم نے اپنی طویل عمر کی آزمائشوں سے سیکھا ضبط اوڑھ لیا۔گہری سانس لے کر نرمی سے بولیں۔
یہ جملہ معمولی سادہ الفاظ پر مشتمل تھا،مگر اس کے کہنے میں جو ٹھہراؤ تھا،وہ دل کے نہاں خانوں میں کھنچتی لکیروں سے زیادہ گہرا تھا۔
”مما! آپ ایسا کیسے کر سکتی ہیں؟“۔نمرہ نے تاسف بھری نظروں سے انھیں دیکھا۔دل کے ملبے میں کہیں کوئی امید دبی ہوگی جو اب خاک اڑاتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
شازمہ بیگم نے لب کھولے ہی تھے کہ ہاجرہ مامی کی دھیمی لیکن کاٹ دار آواز فضا میں گونجی۔”رہنے دو نمرہ! تم کس بحث میں پڑ رہی ہو؟ظاہر ہے،فاز بھابھی کی اپنی اولاد ہے، اور فاطمہ ان کی بہو…تمہاری بات کیوں سنیں گی؟“یہ الفاظ نہیں تھے، تیز دھار خنجر تھے،جو سیدھا روح پر اتارے جا رہے تھے۔شازمہ بیگم کی نظریں بےاختیار ان کی طرف اٹھیں۔دکھ کا کوئی دریا ان کی پلکوں کے پیچھے تھرتھرا رہا تھا۔
”بھابھی، آپ…“افسوس کی لرزش ان کی آواز میں نمایاں تھی، مگر ہاجرہ مامی اپنی سفاکی کے ہالے میں بےنیاز بیٹھی تھیں۔
”نمرہ،بچے یہاں آکر بیٹھ جائیں۔گل،فاز کو بلا کر لاؤ“۔رقیہ بیگم،جن کی عمر کی دھوپ سفید بالوں میں جھلک رہی تھی،اپنی اسٹک کے سہارے آہستگی سے چلتی ہوئیں آئیں اور سربراہی کرسی پر بیٹھتے ہی گویا ہوئیں۔نمرہ اظہر ضبط کرتی دادی کے دائیں جانب بیٹھ گئی۔کھانے کی مہک فضا میں رچی ہوئی تھی،مگر اس کمرے میں بسنے والے لوگوں کے اندر کئی زخم سلگ رہے تھے،کئی داستانیں چیخ رہی تھیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
”مجھے بھوک نہیں ہے، تم جاؤ۔“ آواز کی کپکپاہٹ پر قابو پاتے ہوئے فاطمہ نے کہا۔باہر ہونے والی گفتگو دونوں نے بخوبی سنی تھی۔فاطمہ کمال کھڑکی کے قریب کھڑی،دور وادی کے خاموش منظروں میں کھوئی تھی۔اس کی نیلی آنکھیں شفاف جھیل کی طرح پرنم تھیں،مگر وہ اپنی نمی چھپانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی۔فاز عالم چند قدم کے فاصلے پر کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔وہ فاصلہ طے کرتا اس کے قریب آیا۔
”میری طرف دیکھیں“۔فاز نے نرمی سے اس کے کندھوں کو تھام کر اسے اپنے سامنے کیا،اس کی نیلی،نمی میں ڈوبی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے آہستگی سے کہا۔
”اگر آپ یہاں کمفرٹیبل نہیں ہیں تو ہم آج ہی کراچی واپس چلے جائیں گے۔آپ خود کو یوں ہلکان مت کیا کریں۔مجھ سے ہر بات بلا جھجک کہا کریں“۔اس کی آواز میں محبت کی گرمائش تھی،لہجے میں وہی سکون جو ہمیشہ فاطمہ کو پناہ دیتا تھا۔ اس کے نرم انگوٹھے نے احتیاط سے پلکوں میں اٹکے آنسو چن لیے۔دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی،اجازت ملنے پر گل اندر آئی۔
”بی بی،کھانے کے لیے بلا رہی ہیں“۔اس نے ادب سے کہا، لہجے میں خالص علاقائی رنگ جھلک رہا تھا۔
”گل،ہم دونوں کا کھانا یہاں کمرے میں لے آؤ“۔فاز نے ایک پل کے لیے فاطمہ کی طرف دیکھا، پھر نرمی سے بولا۔گل سر ہلاتی ہوئی پلٹ گئی۔کچھ لمحے گزرے، خاموشی نے کمرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
”مجھے کچھ پوچھنا ہے تم سے“۔فاطمہ نے جیسے خود کو سنبھالا،پھر دھیرے سے بولی۔فاز خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ فاطمہ کمال ہر سوال کا جواب فوراً چاہتی تھی، لیکن آج وہ اس سوال سے کترا رہی تھی، جیسے سچ کی تپش اسے جھلسا دے گی۔
”پوچھیں؟“۔اس نے گہری سانس لے کر اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
”میں اتنی دیر خود کو دوسری باتوں میں لگا کر رکھی کیونکہ میں خود پر ایک اور الزام نہیں چاہتی تھی۔لیکن اب میں جاننا چاہتی ہوں،اس نے ایسا کیوں کہا؟فریحہ کے قتل کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟“۔اس کی آواز میں بے بسی در آئی۔
”فریحہ کے قتل کا آپ سے کوئی تعلق نہیں۔نمرہ یونہی—“ فاز کی سنجیدہ نگاہیں اس پر جمی تھیں،مگر جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔
نمرہ اظہر اندر داخل ہوئی،ہاتھ میں کھانے کا ٹرے تھا جسے اس نے زور سے میز پر رکھا۔
”کیسے نہیں ہے تعلق؟تمہیں جاننا ہے نا؟میں بتاتی ہوں۔ گولی مارنے والوں کا ہدف تم تھی،فاطمہ کمال۔۔تم۔۔۔فریحہ عالم نے تمہارے حصے کی گولی کھائی ہے۔تم دونوں کے چہرے اس قدر ملتے ہیں،لیکن پھر بھی مجھے تم سے نفرت ہے، کیونکہ تم کبھی فریحہ نہیں ہو سکتی۔تمہارے بابا نے خود دشمنی مول لے کر تمہیں ملک سے باہر بھیج دیا،اور تمہاری ماں،وہ سب جانتی تھی،اس کے باوجود وہ فریحہ کے ساتھ بازار میں کھڑی رہی۔تمہارے اس چہرے کی وجہ سے وہ معصوم زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی۔میری دوست میری بہن تمہاری وجہ سے مجھ سے دور چلی گئی“۔
”نہیں!“فاطمہ کی سانسیں بند ہونے لگیں۔اس نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے چہرے کو چھوا،جیسے وہ خود کو تسلی دے رہی ہو کہ وہ ابھی بھی وہی ہے،اس کا اس قتل میں کوئی قصور نہیں۔آنکھوں میں چبھتے آنسو رخساروں پر گرتے گئے۔اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر بھینچ دیا ہو۔ وہ کیوں ہر کسی کے لیے مصیبت بن جاتی تھی؟
”یہی سچ ہے۔۔فریحہ کی موت میں تمہارا قصور ہے“۔۔نمرہ کی آواز چبھتی ہوئی تھی۔فاطمہ کی سانسیں بوجھل ہو گئیں۔مگر پھر،آنسو پونچھ کر اس نے خود کو سنبھالا۔
”اگر فریحہ کے قتل میں۔۔۔میرا قصور ہے،تو جاؤ!اور ایف آئی آر کٹواؤ۔۔عدالت اگر مجھے مجرم قرار دے گی۔۔تب میں مانوں گی۔۔۔تمہارے الزام لگانے سے میں قصور وار نہیں ہو جاؤں گی“۔لرزتی آواز پر بمشکل قابو پاتی وہ مضبوط لہجے میں بولی۔اس کا دماغ اس الزام پر جھنجھنا اٹھا تھا،لیکن وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
”تم کتنی خود غرض لڑکی ہو؟شرمندہ ہونے کے بجائے اکڑ دکھا رہی ہو؟“۔۔
”نمرہ، جاؤ تم“۔۔فاز آواز میں سختی لیے بولا۔نمرہ نے شکوہ بھری نظروں سے فاز کو دیکھا،پھر پیر پٹختی ہوئی چلی گئی۔دروازہ بند ہوا تو فاطمہ جیسے بے جان ہو کر زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔
”میرا کوئی قصور نہیں ہے۔میں بری نہیں ہوں۔میری کوئی غلطی نہیں۔۔۔“وہ خود سے کہتی رہی جیسے اپنے آپ کو یقین دلا رہی تھی۔
”فاطمہ،میری بات سنیں۔لسن ٹو میں فاطمہ“۔فاز نے جھک کر اس کے شانے تھامے۔
”چھوڑ دو مجھے، فاز!اکیلا چھوڑ دو۔سب میری وجہ سے ہوتا ہے“۔وہ رو رہی تھی،وہ خود کو رونے سے بعض رکھنا چاہتی تھی لیکن آنسوؤں اتنے ہی تیزی سے نکلے جارہے تھے۔
فاز نے نرمی سے اسے اپنی پناہوں میں بھینچ لیا۔
“Don’t cry! Look at me..You’re a brave woman. You didn’t do anything wrong”.
اس کے لہجے میں اتنی اپنائیت تھی،جیسے وہ اسے اپنی ذات کے حصار میں لے لینا چاہتا تھا،جیسے وہ اسے ہر تکلیف سے بچانے کے لیے دنیا سے لڑ سکتا تھا۔اس کے لہجے میں اپنائیت تھی نرمی تھی محبت تھی کہ فاطمہ کی ہچکیاں مدھم ہو گئیں۔
“You are very precious to me Fatii.”
آہستگی سے اس کا سر تھپکتے وہ اسے پرسکون کرتا رہا۔وہ ہوش میں تو اس کے طرز تخاطب پر ضرور غور کرتی۔ابھی اس کا دماغ ماؤف ہو رہا تھا۔
”چلیں،اٹھیں۔ہم جا رہے ہیں یہاں سے۔“کچھ دیر بعد،وہ دھیرے سے بولا۔
”اتنی جلدی؟تم ابھی تو آئے ہو“۔وہ اپنی آنکھوں کے آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔خود کو مضبوط کرنے لگی۔اتنے کم وقت میں وہ کئی بار بکھر چکی تھی۔اب اسے بکھرنا نہیں تھا۔
”میں آپ سے ملنے آیا تھا۔رات سے ہمیں فائنل مشن سٹارٹ کرنا ہے،تین چار دن تک گھر نہیں آ سکوں گا۔آپ کو سوات اس لیے بھیجا تھا تاکہ آپ اکیلی نہ ہوں،لیکن اب جب یہاں بھی آپ پُرسکون نہیں،تو واپس چلتے ہیں“۔
”میں ٹھیک ہوں یہاں۔ تم جاؤ۔“فاطمہ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ سر نفی میں ہلایا۔سیاہ آنکھوں میں اپنے لیے فکرمندی اور محبت دیکھ کر اس کا دل ڈوب رہا تھا۔سامنے بیٹھا شخص سراپا محبت تھا۔
”میرے لیے آپ کا ذہنی سکون ضروری ہے۔باقی سب چیزیں بعد میں۔چلیں،اب جلدی کریں۔ریڈی ہو میں تب تک اماں کو دیکھ کر آتا ہوں“.یہ کہہ کر وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ باہر نکل گیا۔
کچھ ڈوبنے والی جانوں کو
تنکوں کا سہارا ہوتے ہیں
کچھ لوگ چراغوں کی صورت
راہوں میں اجالا کرتے ہیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دھوپ مدھم ہوتی جارہی تھی۔کھڑکی کے پردے ہلکی ہوا کے ساتھ ہل رہے تھے۔دیوار پر قرینے سے سجی کتابیں،نازک گل دان میں رکھی سفید چنبیلی کی کلیاں،اور مخملی قالین پر بکھری ہوئی روشنی کی لکیر۔۔۔سب مل کر کمرے کو ایک پراسرار،مگر مانوس سا سکون بخش رہے تھے۔
فاز دھیرے سے چلتا ہوا رقیہ بیگم کے قریب آیا۔وہ پلنگ پر نیم دراز تھیں،ان کے کمزور ہاتھوں میں سادہ سی تسبیح تھی،جس کے دانے آہستہ آہستہ گردش میں تھے۔
”نانو… طبیعت کیسی ہے؟“۔اس نے نرمی سے ان کا ہاتھ تھاما۔
رقیہ بیگم نے اس کے چہرے کو محبت بھری نظروں سے دیکھا اور مسکرا کر بولیں۔”تمہیں دیکھ لیا ہے،اب سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے“۔ان کی آواز میں شفقت تھی،آنکھوں میں سکون تھا جیسے کسی مسافر کو دیر بعد گھر لوٹتے دیکھ کر دل مطمئن ہو جاتا ہے۔
”کراچی کے لیے نکل رہا تھا…“ وہ ابھی کہہ ہی رہا تھا کہ نانو نے نرمی مگر خفگی سے اس کی بات کاٹ دی۔
”ابھی صبح ہی تو آئے ہو“۔ان کی آنکھوں میں شکوہ تھا، جیسے وہ چند مزید لمحے اسے روکنا چاہتی تھی۔
”فاطمہ کو گھر پر چھوڑوں گا، پھر مجھے مشن کے لیے نکلنا ہے“۔فاز نے دھیرے سے مسکراتے ہوئے وضاحت دی۔
فاطمہ کے ذکر پر ان کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ایک پل کے لیے ان کی آنکھوں میں ایک پرانی کسک ابھری،مگر پھر وہ چپ سی ہو گئیں۔
”فاطمہ کے لیے دل نرم کر لیجیے،نانو۔ان کا کیا قصور ہے؟اس شخص نے جو کیا،اس سے فاطمہ کا کیا لینا دینا؟اگر ایسا ہے تو پھر اماں کا رشتہ بھی آپ لوگوں نے کیا تھا،تو قصوروار تو آپ بھی ہوئے نا… لیکن نہ میں نے اور نہ اماں نے کسی کو الزام دیا۔جو قسمت میں لکھا تھا،وہی ہوا۔پھر فاطمہ کو سزا کیوں؟“۔فاز نے نرمی سے ان کے ہاتھ پر اپنی انگلیاں پھیریں،محبت بھرے لمس سے ان کی سوچ کی سختی کو نرم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔نانو نے نظریں چرائیں،مگر خاموش رہیں۔
”اب میں انہیں گھر میں تب ہی لاؤں گا جب آپ ان سے ویسے ہی شفقت سے پیش آئیں گی جیسے مجھ سے آتی ہیں۔سوچیے گا نانو،سوچیے گا… آپ ان سے منہ موڑ کر کس بات کی سزا دے رہی ہیں؟“۔۔فاز کی آواز دھیمے مگر گہرے جذبات سے بھری ہوئی تھی۔یہ کہہ کر وہ دھیرے سے کھڑا ہوا،نانو کے کمزور ہاتھوں کو نرمی سے چوم کر ان کے ماتھے پر بوسہ دیا،اور کمرے سے نکل گیا۔پیچھے،رقیہ بیگم خاموشی میں ڈوبی،جانے کس سوچ میں کھو گئی تھیں۔

رقیہ بیگم کے کمرے سے سیدھا وہ نمرہ کے پاس آیا تھا۔فاز نے ہلکی سی دستک دی اور اندر داخل ہوا۔کمرے میں ایک پرسکون سی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔دیوار پر بنی فریحہ کی پرانی پینٹنگ اس کی یادوں کو تازہ کر رہی تھی۔ کھڑکی سے آتی ہوا نے پردوں کو جنبش دی۔نمرہ لکڑی کے رائٹنگ ٹیبل کے پاس بیٹھی تھی،برش ہاتھ میں تھامے، مکمل انہماک کے ساتھ اپنی پینٹنگ میں محو تھی۔
”نمرہ گڑیا، کیا کر رہی ہو؟“۔فاز نے محبت سے پوچھا۔وہ خاموش رہی،برش کے نازک لمس کو کینوس پر پھیرتی رہی۔ فاز جانتا تھا کہ وہ پینٹنگ کر رہی ہوگی۔نمرہ اور فریحہ دونوں کو پینٹنگ سے لگاؤ تھا۔
”بھائی سے بات نہیں کرو گی؟“۔وہ اس کے قریب آیا،جھک کر نرمی سے بولا۔نمرہ نے کوئی جواب نہ دیا۔فاز نے آہستہ سے اس کے جھکے سر کو دیکھا،جیسے اس کی خاموشی کو محسوس کر رہا تھا۔
”گڑیا، بات کر لو،کیونکہ پھر میں نہ جانے کتنے دن بات نہ کر سکوں…مشن پر جا رہا ہوں۔دعا کرو گی نا میرے لیے؟“۔۔۔
”ایسا ہو سکتا ہے کہ میں آپ کے لیے دعا نہ کروں؟“۔نمرہ کی آنکھوں میں نمی چمکی،وہ تڑپ کر سر اٹھا کر بولی۔
”پھر رو کیوں رہی ہو؟“.فاز اس کی نم آنکھوں کو دیکھ کر مسکرایا.
”آپ نے مجھے دو بار ڈانٹا ہے آج“۔نمرہ نے نظریں جھکا لیں۔
فاز نے کرسی کھینچی اور اس کے قریب بیٹھ گیا،اس کی پینٹنگ پر نظر ڈالی۔وہ دو لڑکیاں جھولے پر بیٹھی تھیں،ارد گرد گھنے درخت تھے،دور کسی جھیل کا دھندلا عکس نظر آ رہا تھا۔آسمان ہلکا سنہری تھا،جیسے کوئی شام کی سرمئی چادر میں لپٹا خواب۔
”یہ فریحہ اور تم ہو، ہے نا؟“۔فاز نے مدھم لہجے میں پوچھا۔
”میں فریحہ کو بہت مس کرتی ہوں..میرے پاس صرف وہی تو تھی…میری بہن،میری دوست..پھر اسے بھی چھین لیا گیا؟کیوں بھائی؟“۔نمرہ نے چپ چاپ سر ہلایا۔اس کی آنکھیں بھیگی تھیں
”کیا مجھے فری یاد نہیں آتی ہوگی؟جب وہ میرے سامنے خون میں لت پت گری تھی،جب میرے گود میں اس کا وجود ساکت ہوا تھا،کیا وہ لمحہ مجھے بھول سکتا ہے؟“فاز نے اس کے ہاتھ پر نرمی سے ہاتھ رکھا۔۔
”لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ جو بے قصور ہے،میں اس پر غصہ نکالوں۔فاطمہ کا کوئی قصور نہیں،نمرہ۔نہ اس نے گولی چلانے کا حکم دیا،نہ خود گولی چلائی۔اسے تو کچھ معلوم بھی نہیں تھا۔وہ تو خود بھی اس وقت کم عمر تھی“۔۔فاز نرمی سے کہ رہا تھا اور نمرہ خاموشی سے سن رہی تھی۔
”فاطمہ سے اچھے سے ملو…دل صاف کر کے۔وہ بہت اچھی ہیں…اتنی اچھی کہ ہر کوئی ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے“۔فاز نے مسکرا کر اس کے آنسو پونچھے۔نمرہ نے حیرت سے بھائی کا چہرہ دیکھا،جیسے اس کے لہجے میں چھپے جذبے کو پرکھ رہی تھی۔
”کیا وہ اتنی اچھی ہے؟“۔اس نے حیرت سے پوچھا۔
فاز نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا۔”اتنی کہ تمہارا بھائی اپنی زندگی ان پر تمام کر سکتا ہے“۔پھر ہلکا سا مسکرایا۔
نمرہ نے حیرت سے بھائی کی آنکھوں میں جھانکا،جہاں ایک عجیب سا سکون اور دیوانگی کی حد تک محبت چمک رہی تھی۔
”تو کیا میں امید رکھوں کہ جب اگلی بار فاطمہ کو لے کر آؤں تو تم ان سے مس بی ہیو نہیں کرو گی؟“۔فاز نے نرمی سے پوچھا۔نمرہ نے دل کے خلاف سر ہلایا۔
”اب رونا نہیں۔اچھے سے پڑھائی پر فوکس کرو،اور اپنا خیال رکھنا“۔۔وہ چئیر سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
”بیسٹ آف لک، بھائی!“ نمرہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
فاز نے سر دھیرے سے ہلایا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on