رات کے سائے کراچی کی وسعتوں پر پھیل چکے تھے۔ تاریکی،روشنیوں میں لپٹی اس شہر کی گلیوں پر اپنا راج قائم کر رہی تھی۔ہواؤں میں سمندر کی نمی اور رات کی خنکی در آئی تھی۔فاز اور فاطمہ اپنے سفر کی تھکن لیے گھر میں داخل ہوئے۔
فاز نے سوات کے مشہور ہوٹل میں اسے پرتکلف لنچ کروایا تھا۔چمکتی ہوئی وادی،اونچے درختوں سے سرگوشیاں کرتی ہوائیں،اور دور بہتے آبشار کا مدھم ترنم…وہ سب ایک خواب کی مانند تھا۔
اب فاطمہ کمال اپنے کمرے میں تھی۔سامان ترتیب دیتے ہوئے ذہن قدرے بوجھل تھا۔بیگ کی تہوں میں کچھ کھویا ہوا سا محسوس ہوا۔اس نے انگلیاں بڑھائیں تو ٹھنڈی دھات کا لمس محسوس ہوا۔ایک لمحے کو ہاتھ رک گیا۔
سلور چین۔
اس نے آہستگی سے چین نکالی اور آنکھوں کے سامنے بلند کی۔کمرے کی روشنی میں وہ دھندلی سی چمک رہی تھی، مگر فاطمہ کی آنکھوں میں ایک اور ہی روشنی جاگ چکی تھی۔
چہرے کے خد و خال سختی میں ڈھل گئے۔آنکھوں میں عجیب کرچیاں بکھر گئیں۔سانسوں کی روانی چند لمحوں کے لیے موقوف ہوئی۔اس روز کی وہ وحشت،خوف،بے بسی کی گھڑیاں،سب کچھ ذہن میں پلٹ آیا۔وہ لمحہ جب اس غنڈے نے اس کے بالوں کو کھینچا تھا،جب اسی بدمعاش کی چین اس کے گیسوؤں میں الجھ گئی تھی۔
ایک پل کے لیے پورا بدن سرد پڑ گیا۔مگر اگلے ہی لمحے اس کے دل میں کوئی شعلہ سا بھڑکا۔۔
اچانک موبائل کی لرزش نے اس کے خیالات کا تسلسل توڑا۔ اس نے ہلکی سی کپکپاہٹ کے ساتھ سلور چین دوبارہ بیگ میں رکھی اور فون اٹھایا۔
”مجھے منظور ہے تمہاری بات“۔آواز سپاٹ تھی،مگر اس کے پیچھے کسی فیصلے کی مضبوطی تھی۔ دوسری طرف کوئی بول رہا تھا،مگر فاطمہ کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔
”مجھے تمہاری مدد چاہیے“۔آواز میں کسی حد تک بے نیازی تھی،مگر لہجے کی پختگی واضح تھی۔
”ٹھیک ہے… پھر آج ہی“۔۔آخری الفاظ کے ساتھ اس کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ در آئی۔۔ایسی مسکراہٹ جو رات کی تاریکی میں کسی راز کی مانند چمکتی ہے،جو طوفان کے آنے سے قبل کسی ویران ساحل پر بکھرتی ہے۔
”لیکن یہ بات ہمارے درمیان رہے گی“۔یہ کہتے ہوئے اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔وہی چہرہ،مگر آنکھوں میں کوئی اور کہانی بسی ہوئی تھیں
فاز عالم اسٹڈی سے نکلا تو گھڑی کی سوئیاں دس بجنے کا اعلان کر رہی تھیں۔وہ قدم اٹھاتا لاؤنج کی سمت بڑھا۔اسے نکلنا تھا،مگر اس سے پہلے وہ فاطمہ سے ملنا چاہتا تھا۔ ابھی وہ اس کے کمرے میں جانے کا ارادہ باندھ ہی رہا تھا کہ ہاجرہ اس کے قریب آ کر رک گئی۔
”سر،عابد نامی شخص آپ سے ملنا چاہتا ہے“۔ہاجرہ کے لبوں سے نکلی یہ سادہ سی اطلاع فاز کے لیے کسی دھماکے سے کم نہ تھی۔فاز کی بھنویں ایک پل کو تنیں۔
”عابد؟“.لبوں سے بے ساختہ نکلا۔اس شخص کو اس گھر کا پتہ کس نے دیا؟مگر فوراً ہی ایک خیال آیا،اور اس کے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے۔فاطمہ!
”بھیج دو اسے“۔۔ایک نگاہ گھڑی پر ڈال کر وہ دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔
چند لمحوں بعد دروازہ کھلا،اور عابد اندر آیا۔اس کے قدموں میں بلا کا اعتماد تھا،مگر فاز کی نظریں کسی شکاری کی مانند اس پر جمی رہیں۔
”کہو، کیوں آئے ہو؟“۔فاز نے بے تاثر لہجے میں پوچھا۔
”فاطمہ کو بلاؤ“۔عابد کا بے باک انداز فاز کو سخت ناگوار گزرا۔اس کا چہرہ سردی میں لپٹ گیا،آنکھوں میں برف کی تیز دھاریں اُتر آئیں۔
”فاطمہ کا تم سے یا اس گھر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بہتر ہوگا کہ تم یہاں سے چلے جاؤ“۔اسی لمحے،دروازے کی فریم پر فاطمہ نمودار ہوئی۔اس کا سرد اور کاٹ دار لہجہ فاطمہ کو اندر تک دہلا گیا۔وہ ایک لمحے کو رک گئی۔
”فاطمہ،چلو میرے ساتھ“۔۔عابد نے جیسے ہی فاطمہ کو دیکھا،فوراً سے بولا۔
”اب تمہارے منہ سے اپنی بیوی کا نام نہ سنوں۔۔اس سے پہلے کہ میں تمہارے ساتھ کچھ ایسا کروں جس کا تم نے تصور بھی نہ کیا ہو،فوراً یہاں سے چلے جاؤ“۔۔فاز کی مٹھیاں سخت ہوئیں،مگر اس کا لہجہ مضبوط رہا۔
”فاطمہ کو تم زبردستی نہیں روک سکتے۔وہ میرے ساتھ جائے گی“۔۔عابد نے ایک زہریلی مسکراہٹ اچھالی۔
”تمہیں لگتا ہے وہ تمہارے ساتھ جائے گی؟“فاز نے ٹھہرے ہوئے اعتماد سے اسے دیکھا،پھر ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر کھیل گئی۔وہ طنزیہ بولا،جبکہ فاطمہ کی نظریں اس پر بےبسی سے جمی رہیں۔
”سامنے تو کھڑی ہے،پوچھ لو اس سے۔وہ کس کا انتخاب کرے گی؟“۔عابد کے اعتماد میں بلا کا غرور تھا۔
“She is my wife.”
عابد کو اسنے باور کراتے لہجے میں کہا تھا۔وہ اس کی بیوی تھی انتخاب کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔فاز عالم کی گہری نظریں فاطمہ کی طرف اٹھیں۔وہ آنکھیں موند گئی۔
”فاطمہ،بتاؤ،کیا تم میرے ساتھ جانا چاہتی ہو؟“۔عابد نے فوراً پوچھا۔لاؤنج میں ایک لمحے کے لیے موت جیسی خاموشی چھا گئی۔
”فاطمہ،بتائیے،آپ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہیں یا واپس جانا چاہتی ہیں؟“۔فاز کا لہجہ نہایت نرم تھا،فاطمہ کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔
”عابد کے ساتھ جانا چاہتی ہوں“۔فاطمہ کے ہونٹ کپکپائے۔
یہ الفاظ جیسے کسی کند خنجر کی طرح فاز عالم کے سینے میں اترے۔وہ پل بھر کو ساکت رہ گیا۔پسندیدہ عورت کے لبوں سے انکار سننا کیسا ہوتا ہے؟شاید وہ آج پہلی بار سمجھ رہا تھا۔فاز عالم،جو ہمیشہ ہر میدان میں فاتح رہا تھا،کیا محبت کے میدان میں بار شکست کھا چکا تھا؟۔
“She chose me.”
عابد نے زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ کہا.فاز کے لیے وہ جملہ موت کی طرح تھا،مگر وہ خاموش رہا۔
”ہوگئی تسلی؟یا اور کچھ سننا باقی ہے؟“۔عابد نے تمسخر اڑایا۔فاز کی مٹھیاں سخت ہوئیں۔اگر مسئلہ اس کی بیوی کا نہ ہوتا تو شاید نہیں یقیناً عابد کا سر پھٹ چکا ہوتا۔
”باہر انتظار کرو۔فاطمہ دس منٹ میں آرہی ہیں“۔اس کا لہجہ سپاٹ تھا، نظریں فاطمہ پر تھیں،مگر فاطمہ کی نظریں اس کے بے داغ پیروں پر جمی تھیں
”فاطمہ،ابھی جائے گی میرے ساتھ“۔عابد ایک قدم آگے بڑھا۔
”میں اپنی بیوی سے بات کرنا چاہتا ہوں۔تم باہر جا رہے ہو، یا بھجواؤں؟“۔۔اس کے لہجے میں ایسی دہشت تھی کہ عابد فوراً پلٹ گیا۔فاطمہ نے “اپنی بیوی” کے الفاظ کو مکمل جزئیات سے محسوس کیا تھا۔
فاز نے عابد کے جاتے ہی اسے گہری سانس لے کر اسے دیکھا۔
”آپ سے نکاح محبت میں نہیں کیا تھا،کچھ وجوہات تھیں… اور یہ بھی کہ آپ مجھے اچھی لگی تھیں۔مگر اب۔۔۔“فاطمہ نے نظریں اٹھائیں،مگر فاز کی آنکھوں میں جو کچھ تھا،وہ سہہ نہ سکی۔
”اب میں آپ سے محبت کرنے لگا ہوں“۔فاطمہ کی پلکیں لرز گئیں۔
”دوپہر کو اس کا اظہار بھی کر چکا ہوں۔آپ ہر چیز سے بے خبر تھیں اس لیے میں ہمیشہ آپ کی حفاظت کرتا رہا۔لیکن اس بار میں آپ کو نہیں روکوں گا۔آپ تمام باتوں سے واقف ہیں۔سمجھدار ہیں،شعور رکھتی ہیں اپنے فیصلے خود کر سکتی ہیں“۔۔اس کے لہجے میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔
”میرے ذہن میں اس وقت کئی سوال ہیں،مگر ابھی مجھے اپنے وطن کو وقت دینا ہے۔میرے واپس آنے تک کچھ ایسا مت کریے گا جس سے آپ کو نقصان پہنچے“۔فاطمہ کی آنکھوں میں درد جاگا۔خاموشی ایک بار پھر حائل ہوئی۔پھر فاطمہ نے بمشکل ہونٹ کھولے۔
”میری ایک بات مانو گے؟“۔۔نیلی آنکھوں میں امید کی ایک کرن لرز رہی تھی۔۔
”اب تک تو آپ کی ہی مانتا آیا ہوں“۔سر جھکائے بےبسی سے ہنستے ہوئے کہا۔فاطمہ نے دکھ سے اسے دیکھا۔
”جب تک میں خود نہ کہوں…تم مجھے طلا۔۔ق نہیں دو گے۔ کوئی بھی آکر کچھ بھی کہے،لیکن جب تک میں خود نہ چاہوں،ایسا نہیں ہوگا“ اس کے لب کانپ رہے تھے،آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ چکی تھیں۔فاز عالم چونک گیا۔
”یہاں دیکھیں میری طرف“۔۔وہ اس کے قریب آیا،نرمی سے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کیے۔
”آپ کچھ بھی ایسا نہیں کریں گی جس سے آپ کو نقصان ہو۔ سمجھ رہی ہیں نا؟“۔اس نے اپنی بات دوبارہ دہرائی۔اس کی گہری نظریں فاطمہ کے اندر جھانک رہی تھیں۔
اچانک فاطمہ نے بےاختیار اس کے سینے سے سر ٹکا دیا۔
فاز عالم چند لمحے کے لیے حیران رہ گیا،پھر آہستگی سے بازو پھیلا کر اسے اپنی حفاظت میں لے لیا۔
”آئی ایم سوری“۔جیسے ہی اسے اپنی بےساختگی کا احساس ہوا،فوراً پیچھے ہٹ گئی۔خفت سے اس کے گال سرخ ہوگئے۔وہ فوراً وہاں سے نکل گئی،اور فاز الجھن میں کھڑا رہ گیا۔
اسی لمحے فاز کا فون وائبریٹ ہوا۔
”میجر فاز رپورٹ می ناؤ“۔
فاز نے گہری سانس لی۔وہ جانتا تھا،اسے اب وطن کو وقت دینا تھا۔پرسنل افئیرز وہ بعد میں دیکھے گا۔
”اللہ کی امان میں، فاطمہ فاز عالم“۔نرمی سے زیرلب کہا۔
دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے،اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔
اسی لمحے فاطمہ نے بھی پلٹ کر دیکھا۔نظریں ملیں۔نیلی آنکھیں اشکبار تھیں،اور سیاہ آنکھوں میں اذیت کی گہرائی تھی۔
وہ دور ہوتی جا رہی تھی۔
فاز عالم کا دل جیسے کسی مٹھی میں جکڑ گیا۔آج دوپہر کو وہ اس کے قریب آئی تھی،اور اب…اب وہ اس سے دور جا رہی تھی۔ہر اٹھتے قدم کے ساتھ دونوں کی تکلیف بڑھتی جا رہی تھی۔
رات گہری ہو چکی تھی۔آسمان پر چمکتے تارے زمین پر بکھری کہانیوں کو خاموشی سے سن رہے تھے۔ہوا میں ہلکی خنکی تھی جو سڑک کے کنارے خاموش کھڑے درختوں کے پتوں سے سرگوشیاں کر رہی تھی۔گاڑی کی ہیڈ لائٹس میں مدھم سی روشنی لپک رہی تھی،اور اندر بیٹھا شخص اپنی مسکراہٹ کے پیچھے ہزاروں کہانیاں سمیٹے،فاطمہ کمال کو دیکھ رہا تھا۔
”میں نے تمہیں بہت مس کیا، فاطمہ…“عابد کے لہجے میں مصنوعی تاثر تھا،جیسے کوئی بےجان پتھر کو مخمل میں لپیٹنے کی کوشش کرے۔وہ مسلسل باتیں کر رہا تھا،محبت کے کھوکھلے جملے دہرا رہا تھا،لیکن فاطمہ کی نیلی آنکھوں میں کوئی تاثر نہ جاگا۔وہ جانتی تھی،نظر کے فریب کو پہچانتی تھی۔
”تم اندر جاؤ،میں تھوڑی دیر میں واپس آتا ہوں“۔عابد نے گھر کے دروازے پر گاڑی روکی،لبوں پر بناوٹی نرمی سجائی۔فاطمہ نے ایک لمحے کو اس کی جانب دیکھا،پھر خاموشی سے دروازہ کھول کر باہر قدم رکھ دیا۔
”سنو“۔عابد نے آواز دی۔وہ پلٹی،ہوا نے اس کی زلفوں میں ارتعاش پیدا کیا۔
”پریشان مت ہونا…“عابد کی آنکھوں میں ایک لمحے کو نرمی جھلکیفاطمہ نے کوئی جواب نہ دیا۔چہرے پر بلا کا سکون اور نظریں کسی گہرے راز میں ڈوبی ہوئی تھیں۔وہ بنا کچھ کہے اندر چلی گئی۔
کچھ لوگ اندھیروں کی کالک
چہروں پہ اچھالا کرتے ہیں
گھر کے اندر نیم گرم روشنی پھیلی تھی۔مہکتے عود کی خوشبو فضا میں بسی تھی،جیسے ماضی کی سبھی یادیں یہاں سانس لے رہی ہوں۔مگر یہ مہک بھی اندر بیٹھے لوگوں کے دلوں میں موجود تعصب کی بدبو کو نہیں مٹا سکتی تھی۔
”تم؟! تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی؟“۔۔پھوپھی ریحانہ نے اسے دیکھتے ہی غصے سے چلاتے ہوئے کہا۔لاؤنج میں بیٹھے سب چائے سے لطف اندوز ہورہے تھے۔
فاطمہ کمال نے ایک نظر ان پر ڈالی،پھر اطمینان سے ہاتھ باندھے،آنکھوں میں گہری روشنی لیے مسکرائی۔
”مسز زاہد کیا ہو گیا ہے؟آرام سے بات کریں۔میں اپنے ہی گھر آئی ہوں،فاطمہ کمال کے گھر“۔۔آخری الفاظ پر زور دیتے ہوئے وہ پرسکون انداز میں بولی۔
”تمہارا یہاں کچھ بھی نہیں ہے، سمجھی؟“۔دادی سکینہ کی بوڑھی آنکھوں میں نفرت کی چنگاریاں روشن ہوئیں۔
فاطمہ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ پھلوں کی ٹوکری کی طرف دیکھا،ایک انگور اٹھایا اور دھیرے سے لبوں سے لگا کر کہا۔”میرا ہی ہے،سکینہ بیگم۔آپ یہ انگور کھائیں،ابھی آپ کو ویسے بھی پھلوں کی ضرورت ہوگی“۔۔وہ پراعتماد انداز میں کہہ رہی تھی،راج کماری کو اپنی سلطنت کی خبر تھی، وہ جانتی تھی کہ اس کا مقام کیا ہے اور کہاں ہے۔
”کیسا نصیب پایا ہے نا تم نے؟کیا ملا ایک قاتل،اسمگلر،حرام کھانے والا؟“۔۔تائی اس کے کھلتے روپ کو دیکھ کر نفرت سے گویا ہوئیں۔فاطمہ نے نظر بھر کر انہیں دیکھا،پھر مسکرائی۔پورے دل سے،یوں لگتا تھا رات کی چاندنی میں کسی دریا کی سطح چمک اٹھی ہے۔
”آپ کے لیے جو سیاہ ہے،وہ میرے لیے سفید ہے،اور مجھے فخر ہے کہ میں فاز عالم کی بیوی ہوں“۔۔اس نے الفاظ پر زور دیا،اور ایک قدم آگے بڑھائی۔لیمن کلر کی لمبی کمیز ساتھ شیفون کا ڈوپٹہ کندھے پر اچھے سے پھیلا ہوا تھا۔ہاتھ میں سوٹ کے ہم رنگ بیگ تھا۔
”دراصل،جو عیب آپ مجھے گنوا رہی تھیں،وہ تو آپ کے اپنے بیٹے میں باکثرت پائے جاتے ہیں۔اور آپ شرابی کا اضافہ کرنا تو بھول گئیں“۔اس کی گہری نیلی آنکھوں میں بے باکی تھی،لہجے میں یقین تھا،اور الفاظ میں چمک تھی۔ وہ آج بھی جھکی نہیں تھی،ہچکچائی نہیں تھی،وہ اپنی زمین پر مضبوطی سے کھڑی تھی۔
”اور رہی بات نصیب کی؟“۔بال جھٹک کے پیچھے کیے اور ٹھہرے لہجے میں کہا۔
”بہت خوبصورت نصیب ہے میرا۔میں نے اپنے لیے سیاہ چُنا تھا،مگر اللہ نے مجھے سفید سے نواز دیا“۔کہہ کر وہ آگے بڑھ گئی،شانِ بےنیازی سے۔پیچھے تائی دھواں دھواں ہو رہی تھیں، اور دادی کی نظریں کسی دور خلا میں الجھ چکی تھیں۔
”یہ کیا بکواس کرکے گئی ہے؟“۔تائی نے غصے سے کہا۔
”زبان تو پہلے بھی اس کی چلتی تھی،لیکن اس بار جو اعتماد اس کے انداز میں ہے،وہ شاید نہیں،یقیناً اسی کا بخشا ہوا ہے۔”چچی،جو خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہی تھیں،گہری سانس لے کر بولیں۔
کیا حال سنائیں دنیا کا
کیا بات بتائیں لوگوں کی
دنیا کے ہزاروں موسم ہیں
لاکھوں ہیں ادائیں لوگوں کی