Uncategorized

Mohabbat Fateh Tehri Last Episode 11 Part 1


کمرے میں ہلکی پیلی روشنی بکھری ہوئی تھی۔نرم و ملائم پردے شبنمی ہوا کے ساتھ تھوڑے تھوڑے ہل رہے تھے۔بستر پر سفید اور سنہری تکیے سجے تھے اور ایک کونے میں رکھے صوفے پر نیلی چادر بےترتیبی سے بچھی تھی۔
ماریہ بےچینی سے کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی۔اس کے چہرے پر انتظار کی لکیریں صاف دکھائی دے رہی تھیں، دروازہ کھلا اور فاطمہ کمال اندر داخل ہوئی تو ماریہ تیزی سے اس کی طرف لپکی۔
”فاطمہ۔۔۔ میری جان،کیسی ہیں آپ؟“۔اس کی آواز میں بیتابی تھی،محبت تھی۔
”میں ٹھیک ہوں، ماریہ“۔فاطمہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے گال پر بوسہ دیا۔
”میں نے آپ کو بہت مس کیا یار“۔۔ماریہ نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
”میں نے بھی“۔۔
”آپ نے فاز بھائی کو سب کچھ بتایا؟“۔بیڈ کی نرم چادر پر بیٹھتے ہی ماریہ کو اچانک ایک خیال آیا،اس کے چہرے کا رنگ بدلا۔وہ دھیمی آواز میں سوال کی۔۔
”نہیں۔۔۔اگر بتاتی تو وہ مجھے منع کر دیتا“۔۔فاطمہ کا چہرہ ایک لمحے کو ساکت ہوا،پھر دھیرے سے بولی۔”ابھی جو میں کرکے آئی ہوں،اس سے وہ بہت شاک میں ہے۔اس کی آنکھوں میں تکلیف تھی،ماریہ۔۔“اس نے پلکیں جھکا لیں جیسے کوئی بوجھ دل پر آن بیٹھا ہو۔
”فاطمہ،آپ نے اچھا نہیں کیا۔فاز بھائی نے پہلے ہی بہت تکلیفیں دیکھی ہیں“۔ماریہ نے دکھ سے اسے دیکھا۔
”تمہیں کیسے پتہ؟“۔فاطمہ نے یکدم سر اٹھایا،اس کی نظریں سوالیہ ہوگئیں۔۔
”ارمان۔۔۔ ارمان نے بتایا تھا مجھے“۔ماریہ ہلکی سی گڑبڑا گئی،پھر نظریں چرائے بولی۔
فاطمہ کمال اپنی ہی یادوں میں کھو گئی،ان لمحوں میں جو اس نے فاز عالم کے ساتھ گزارے تھے،ان لمحوں میں جہاں اس نے اسے ہمیشہ غلط سمجھا تھا۔
”میں اسے ہمیشہ غلط کہتی رہی، ماریہ۔۔۔اور اس نے کبھی آگے سے کچھ کہا ہی نہیں۔وہ جو بھی کرتا رہا،میرے لیے کرتا رہا۔۔۔اس نے جتنی تکلیفیں اٹھائیں مجھے بچانے کی خاطر اور میں کیا کرتی رہی اس کے ساتھ؟“۔اس کا دل بھر آیا،آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔
”شش۔۔۔ روئیں مت، آپ نے جان کر انھیں تکلیف نہیں دی“۔۔ماریہ نے اس کے چہرے کو نرمی سے اپنے ہاتھوں میں لیا۔
”اتنے اہم ہوگئے ہیں وہ آپ کے لیے؟“۔۔ماریہ فاطمہ کو بکھرتا دیکھ کر سوال کی۔
”کچھ لوگ شفا جیسے ہوتے ہیں ماریہ،بات کرتے ہیں تو تسکین ملتی ہے،لفظ کہتے ہیں تو مرہم لگتی ہے۔کچھ لوگ ہمارے لیے صرف لوگ نہیں ہوتے،وہ ہمارے علاج ہوتے ہیں“۔۔فاطمہ کے ہونٹ لرزے،آنکھوں میں بےبسی کی پرچھائیاں ابھریں۔
”بہت محبت کرنے لگی ہیں ان سے؟“۔ماریہ کی پلکیں بھیگ گئیں۔
””محبت؟مجھے لگتا ہے کہ اگر وہ نہیں ہوگا،تو میں سانس نہیں لے سکوں گی۔۔ماریہ،اس کی آنکھوں میں جو تکلیف تھی،وہ مجھے تکلیف پہنچا رہی ہے ماریہ۔۔اس نے اپنی بہن کو کھو دیا،میری وجہ سے۔۔وہ بچاری،جو میری چہرے سے مماثلت کے سبب ماری گئی“۔ہوا میں اداسی کی بُو گھلنے لگی تھی۔
کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں
دنیا کو سنانے کے قابل
”سوچو،جب وہ مجھے دیکھتا ہوگا تو اسے اپنی بہن یاد نہیں آتی ہوگی؟اس کا ظرف دیکھو ماریہ اس نے پھر بھی مجھ سے نفرت نہیں کی۔۔اس نے مجھے سنبھالا،میری حفاظت کی۔۔شاید محبت کہیں پیچھے رہ گئی ہے،ماریہ۔ میں اس سے عشق کرنے لگی ہوں۔۔“فاطمہ نے آہستہ سے سر جھکا لیا۔ماریہ کی پلکوں پر بھی نمی جھلکنے لگی تھی۔ اس نے فاطمہ کو اپنے ساتھ لگا لیا۔
”فاطمہ۔۔۔جانتی ہیں،اب آپ کی زندگی میں ایک ایسا شخص ہے جو آپ کو روتا نہیں دیکھ سکتا،اور نہ آپ کو تکلیف میں دیکھ سکتا ہے۔جو آپ کی ہر خوشی کی حفاظت کرے گا۔اور وہ شخص۔۔۔وہ شخص مجھے بہت بہت عزیز ہے۔اور اس شخص سے جڑا ہر شخص بھی۔اور آپ؟آپ تو اس شخص کی زندگی ہیں۔میں فاز عالم کی زندگی کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتی“۔۔کھڑکی سے آتے ہوا کے جھونکے نے چاندنی کو بیڈ پر اور زیادہ پھیلا دیا تھا
”تم کیا کہہ رہی ہو ماریہ؟“۔فاطمہ نے حیرت سے سر اٹھایا۔
”میں۔۔۔ماریہ ابراہیم۔۔۔فاز عالم کی بہن ہوں“۔۔ماریہ کی آنکھیں نرم مسکراہٹ سے چمکیں۔
”کیا؟ کیا مطلب؟“۔فاطمہ کی آنکھیں حیرت سے مزید پھیل گئیں۔چاندنی کی روشنی میں،اس کا چہرہ کسی مجسمے کی مانند بےحرکت تھا۔
اور پھر،جیسے بند دریچہ کھل گیا،ماریہ نے ایک ایک راز اس پر آشکار کر دیا۔فاطمہ سنتی رہی،دم سادھے،ہر انکشاف پر اس کی آنکھیں پھیلتی گئیں۔
”تو اس شخص نے مجھ سے عہد کر رکھا تھا کہ وہ مجھے کبھی پوری بات نہیں بتائے گا؟وقفے وقفے سے بس مجھ پہ انکشافات ہوتے رہیں گے؟“۔خفگی سے بولتے ہوئے اس کے اندر ایک عجیب سی ناراضگی در آئی۔
”میرے بھائی سے ناراض مت ہوں“۔ماریہ نے فوراً فاز عالم کا دفاع کیا۔فاطمہ نے اسے گھورا۔کچھ وقت لیے خود کو سنبھالنے کے لیے۔
”خالہ بہت اچھی ہیں“۔۔پھر شرارت سے مسکرا کر بولی۔
”جانتی ہوں۔۔۔اور خالہ کی بیٹی؟“۔۔وہ بھی شرارت سے اس سے پوچھئ۔
”خالہ میری ساس بھی ہیں“۔فاطمہ نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا۔
”تو پھر؟“۔ماریہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
”تو پھر۔۔۔یہ کہ نندیں کہاں اچھی ہوتی ہیں؟“۔فاطمہ نے ڈرامائی انداز میں کہتے ہی بیڈ سے چھلانگ لگائی۔
”فاطمہ بدتمیز“۔ماریہ نے اسے مارنے کے لیے لپکنے کی کوشش کی،مگر وہ ہنستی ہوئی آگے بڑھ گئی۔
”اچھا اچھا،ہر نند بری نہیں ہوتی۔جیسے میری نند۔۔۔دنیا کی بیسٹ نند ہے“۔۔فاطمہ نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ اسے گلے لگا لیا۔
ہنسی کے قہقہے کمرے میں بکھر گئے۔ایک مدت بعد یہ کمرہ یوں ان دونوں کے قہقہے سے گونجا تھا۔
”ویسے،میری بھابھی نے میرے بھائی کو اپنا دیوانہ بنالیا ہے۔ آپ تو اتنی سنجیدہ رہتی تھیں؟پھر ایسی کیا ادائیں دکھائیں کہ وہ آپ کے اسیر ہو گئے؟“۔ماریہ نے اسے چھیڑتے ہوئے محبت بھری نظر ڈالی۔
”بتمیز تم!“فاطمہ کا چہرہ لمحہ بھر میں دہک اٹھا۔
”واللہ، فاطمہ آپ تو شرمانے بھی لگی ہیں“۔ماریہ نے ہنستے ہوئے اسے گلے لگا لیا۔
”پرے ہٹو بدتمیز“۔۔فاطمہ نے گھبرا کر رخ موڑا۔
”آپ نے صحیح کہا تھا“۔۔یکدم ماریہ سنجیدہ ہوئی۔
”کیا؟“۔فاطمہ نے چونک کر اسے دیکھا۔
”جب دل میں جذبات ہوں،تبھی چہرے سے تاثر عیاں ہوتا ہے۔۔۔اور اب آپ کا چہرہ چیخ چیخ کر میرے بھائی کی محبت کا اعلان کر رہا ہے“۔۔فاطمہ کے لبوں پر ایک نرم،خوبصورت مسکراہٹ ابھری۔
”چلو میرے لیے کھانے کا کچھ لے آؤ،میں شام سے کچھ نہیں کھائی۔تمہارا بھائی میرے کھانے پینے کے معاملے میں بہت کونشئش ہے۔اگر اسے پتہ چل گیا کہ تم نے اس کی بیوی کو بھوکا رکھا، تو پھر تمہاری خیر نہیں“۔فاطمہ نے مصنوعی رعب جماتے ہوئے کہا۔
”افففف اففف“۔۔ماریہ نے محبت اس کے اس روپ کو دیکھا تھا۔۔


کمرے میں مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔دیوار پر لگی بڑی اسکرین پر مختلف کیمروں کی ویڈیوز چل رہی تھیں۔ مسب لوگ گہری سنجیدگی کے ساتھ بیٹھے تھے۔ہر چہرے پر تناؤ تھا۔فاز عالم میز کے کنارے پر ہاتھ جمائے کھڑا تھا،اس کی آنکھوں میں وہی سختی تھی جو کسی بڑے معرکے سے پہلے فوجی کے چہرے پر نظر آتی ہے۔
”شاہد عباسی اس وقت کہاں ہے،ارمان؟“۔ارمان نے فائل کے ”وہ اپنا سارا بینک بیلنس اکٹھا کرکے بھاگنے کے چکر میں ہے“۔چند صفحات پلٹے اور بےتاثر لہجے میں اطلاع دی۔ فاز نے گہری سانس لی۔
”اسے ہم بھاگنے نہیں دے سکتے“۔اس کی آواز دھیمی مگر پر اثر تھی۔”اسے پکڑ کر ہمیں ولیم پر اٹیک کرنا ہے اور ان پچاس لڑکیوں کو آزاد کروانا ہے جو اس کے قبضے میں ہیں۔ ارمان،تمہیں آج رات کسی بھی طرح شاہد عباسی کے پاس سے ولیم کی انفارمیشن نکالنی ہے“۔۔ارمان نے سر ہلایا۔
”شاہد عباسی کی ساری ریکارڈنگ ایک بار پھر چیک کریں، مبشرہ،اور مجھے رپورٹ کریں“۔فاز کی نظریں اسکرین پر جمی ہوئی تھیں،جہاں کبھی ارمان،کبھی مراد،اور کبھی فاز خود شاہد عباسی کے گھر میں خفیہ طور پر داخل ہو کر اس کے جرائم کے ثبوت اکھٹے کرتے رہے تھے۔
”اوکے سر۔” مبشرہ نے فوراً سر ہلایا اور فوراً لیپ ٹاپ پر کام شروع کر دیا۔
”لیفٹیننٹ کومل،آپ اس لڑکی کو چیک کریں اورمعلومات لینے کی کوشش کریں“۔فاز نے اسے مخاطب کیا۔ایک لڑکی کل نشے کی حالت میں اس کی گاڑی سے ٹکرائی تھی۔ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ اس نے پہلی بار نشہ لیا تھا۔یہ ولیم کے نیٹ ورک کا کوئی نیا جال بھی ہوسکتا تھا۔فاز ہر معاملے کو بہت احتیاط سے ہینڈل کررہا تھا۔
کومل نے اثبات میں سر ہلایا اور فوراً جانے کے لیے کھڑی ہوگئی۔
”حمید اور فاخر کا کیا کرنا ہے؟“۔کمرے میں کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔ پھر ارمان نے اچانک فاز کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا۔فاز نے پلکیں جھپکائیں اور تھکے تھکے انداز میں سر صوفے کی پشت سے ٹکا دیا۔
”ان دونوں کو پولیس دیکھے گی“۔اس کی آواز میں وہی روایتی بےتاثری تھی،مگر آنکھوں کی تھکن واضح تھی۔
”تم ٹھیک ہو؟“ ارمان نے گہری نظر سے اس کا چہرہ جانچا، جہاں تھکن کے ساتھ ایک عجیب سا بوجھ بھی تھا۔
”ہاں،مجھے کیا ہونا ہے؟“۔فاز نے آنکھیں بند رکھتے ہوئے کہا۔
”تم فاطمہ سے ملنے گئے تھے، کچھ ہوا ہے؟“۔ارمان کچھ لمحے خاموش رہا،مگر اس کی تیز نگاہیں جانچ رہی تھیں۔
”میں انھیں کراچی لے آیا تھا، لیکن پھر…“فاز کے بند لبوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔اس نے آنکھیں کھولیں،سرخ ڈوروں سے بھری آنکھیں سیدھا ارمان کی جانب اٹھائیں۔
”لیکن پھر کیا؟“۔ارمان بےصبری سے بولا۔
”وہ عابد کے ساتھ چلی گئی ہیں“۔فاز نے ایک لمحے کے لیے گہری سانس لی،پھر بےتاثر لہجے میں بولا۔
کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ارمان کا دماغ جیسے بھک سے اڑ گیا۔
”واٹ؟! عابد کے ساتھ؟“۔وہ حیرانی سے استفسار کیا۔
”فاز،تم اس سے بے یقین مت ہو۔وہ عابد کو بالکل پسند نہیں کرتی،یقیناً بات کچھ اور ہے“لیکن اگلے ہی لمحے وہ فاطمہ کمال کا بھائی بنتے ایک ہی سانس میں کہہ گیا۔
”میں ان پر کبھی بےیقین نہیں ہوسکتا،ارمان۔میرا یقین ہیں وہ“۔۔وہ دھیمی آواز میں گویا ہوا۔ارمان نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔”میں بھی جانتا ہوں کہ بات کچھ اور ہے،لیکن ابھی وقت نہیں ہے کہ میں اس معاملے کو دیکھ سکوں“ اس کی آواز میں ضبط کی جھلک تھی۔”شاہد عباسی کو کل تک ہر حال میں گرفتار کرنا ہے۔مجھے بس یہ فکر ہے کہ فاطمہ کو خود کو نقصان نہ پہنچا لیں“۔فاز کی آنکھوں میں پہلی بار وہ کمزوری ابھری،جو کسی اپنے کی فکر میں پیدا ہوتی ہے۔
”مجھے یقین نہیں آتا کہ شادی سے بھاگنے والا شخص اب فاطمہ کمال کو اتنا چاہنے لگا ہے“۔ارمان اس کی اس قدر فکرمندی دیکھتے ہلکا سا مسکرا دیا۔

”وہ چاہے جانے کے لائق ہیں،ارمان“۔اس کے لب ذرا سا مسکرائے۔لہجے میں غیر معمولی سنجیدگی تھی۔”اور ان کا میری زندگی میں آنا مجھے یہ بات اچھی طرح سمجھا گیا ہے کہ جب دو شخص فاطمہ کمال اور فاز عالم ہوں تو شادی ناکام نہیں ہوسکتی،کیونکہ یہاں کوئی بھی میرے باپ جیسا نہیں ہے“۔ارمان نے آہستگی سے اس کا کندھا تھپتھپایا۔فاز نے گہری سانس لے کر خود کو کمپوز کیا۔


بیڈ پر دسترخوان بچھایا جا چکا تھا۔بیف یخنی پلاؤ کی مہک کمرے میں پھیلی ہوئی تھی،گرم گرم خوشبو دار چاولوں کے اوپر گھی کی چمک دمک رہی تھی،رائتہ کی ٹھنڈک کھانے کے ذائقے کو اور بڑھا رہی تھی،اور ساتھ میں کولا نیکسٹ کی جھاگ دار مٹھاس گویا اس محفل کو مکمل کر رہی تھی۔
”اچھا،مجھے بتاؤ،کام دھیان سے کیا تھا نا؟کسی کو شک تو نہیں ہوا؟“فاطمہ کولا نیکسٹ کا گھونٹ بھرتی بھنویں اٹھا کر رازدارانہ انداز میں سوال کی۔
”ہاں بالکل دھیان سے کیا تھا،اس نے الماری میں ہی رکھی ہے فائل۔اور تائی تو اس کی چیزوں کو نہ خود چھوتی ہیں،نہ کسی اور کو چھونے دیتی ہیں۔انھیں لگتا ہے ان کا بیٹا بہت بڑا بزنس مین ہے“۔ماریہ نے ایک نوالہ لیتے ہوئے سر ہلایا،پھر چمچ پلیٹ میں رکھتے ہوئے بتانے لگی،اس کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ ابھری۔”جن لوگوں کے ساتھ وہ کام کرتا ہے،انھیں بلیک میل کر رہا ہے۔کہتا ہے،پانچ کروڑ اس کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوں گے،تو ہی وہ فائل انھیں دے گا۔حرکتیں تو پانچ ہزار والی نہیں اور ڈیمانڈ دیکھو“۔ماریہ منہ ہے زاویے بگاڑتے ہوئے بولی۔فاطمہ اس کے انداز پر ہنسی تھی۔فاطمہ کے ہنسنے پر وہ ہنس دی۔

فلیش بیک۔۔۔
”ماریہ، میری بات دھیان سے سنو،عابد کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھنی ہے اور مجھے فوراً رپورٹ دینی ہے“۔فاطمہ کمال کی آواز سنجیدگی سے بھرپور تھی۔
“کیوں؟ لسب خیریت تو ہے؟”۔فون کان سے لگائے ماریہ کے چہرے پر حیرانی ابھری۔
”فاز کی ایک بہت اہم فائل راستے میں کسی نے چھین لی تھی…میری وجہ سے“۔فاطمہ نے گہری سانس لی، جیسے اندر کوئی زخم دہک اٹھا ہو۔اس کے لہجے میں ندامت کی سرسراہٹ تھی۔
”تو اس کا عابد سے کیا تعلق؟“ماریہ چونک کر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
”اسی سے تو ہے۔کیونکہ وہ فائل اسی نے چھینی ہے“۔اس کا چہرہ سرد اور سپاٹ ہو چکا تھا۔
”کیا؟ عابد؟ یہ کیسے ممکن ہے؟آپ کو کیسے معلوم ہوا“۔ماریہ کا چہرہ حیرت سے سفید پڑ گیا۔
”اس گھٹیا انسان نے میرے بال پکڑ لیے تھے۔میں جب چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی،تو اس کی چین میرے بالوں میں اٹک گئی تھی“۔فاطمہ نے ایک تلخ ہنسی ہونٹوں پر سجائی،مگر وہ آنکھوں تک نہ پہنچی۔
”عابد… عابد بھائی اس کام میں انوالو ہیں؟ اللہ اکبر“۔ماریہ کی آنکھوں میں بےیقینی تھی فاطمہ نے بس افسوس سے سر ہلا دیا۔

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on