Uncategorized

Mohabbat Fateh Tehri Last Episode 11 Part 1


کمرے میں رات کی چاندنی ایک طرف سے آ کر خاموشی سے بستر کے کنارے بکھری تھی۔ماریہ گہری نیند میں تھی، اس کے چہرے پر سکون کی چادر تنی ہوئی تھی،مگر فاطمہ کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔وہ کسی اور جہان میں تھی،یادوں کی روشنی میں بھیگتی،پرانی باتوں کے دھاگے جوڑتی۔اس کی نیلی آنکھوں میں ایک نرم سی چمک ابھری جب اسے فاز کی گمبھیر آواز یاد آئی۔
”اب تو سب سیٹ ہے۔اب آپ کھڑکی سے جانے کے بجائے دروازے سے جا سکتی ہیں،فاطمہ کمال“۔
”کیا مطلب؟ کیا کہنا چاہتے ہو؟“۔وہ چونک کر پلٹی تھی،حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں۔
”یہی کہ کھڑکی سے جانے میں مشکل ہوتی ہوگی،دروازے سے چلی جائیں“۔فاز نے ہلکی مسکراہٹ دبائی۔
“تمہیں معلوم تھا؟”فاطمہ کا دل ایک پل کو جیسے رک گیا تھا۔یہ وہ وقت تھا جب وہ فاز کی حقیقت جاننے سے پہلے کئی بار رات کو گھر سے نکلی تھی۔وہ سمجھتی رہی کہ سب کچھ چھپائے ہوئے ہے، مگر…
”آپ کو کیا لگتا ہے؟آپ ایک میجر کے گھر میں رہتے ہوئے گھر سے نکلیں گی،اور مجھے خبر نہیں ہوگی؟میں پہلے دن سے جانتا تھا“۔فاز نے پرسکون انداز میں سر ہلایا۔
”تو تم نے مجھے روکا کیوں نہیں؟“۔
”کیونکہ میں نہیں روکنا چاہتا تھا۔آپ کو گھر میں بند صرف اس لیے کیا تھا کہ ایک گینگسٹر ایسا ہی کرتا۔لیکن میں نہیں چاہتا تھا کہ آپ اپنا کیریئر،اپنی زندگی سب کچھ چھوڑ کر ایک کمرے میں قید ہو کر رہ جائیں۔میں خود اسی بارے میں سوچ رہا تھا،کہ اس سے پہلے آپ نے خود ہی حل نکال لیا۔آپ کبھی کبھار رات کو ہسپتال جایا کرتی تھیں… اور آپ کی حفاظت کے لیے میں آپ کو فالو کرتا تھا“۔فاز دھیمی مسکراہٹ لیے اس کے حیران چہرے کو آنکھوں میں بسائے کہنے لگا۔فاطمہ کی پلکیں بھیگنے کو تھیں۔
”مطلب،ہم دونوں کا بھرم نہیں ٹوٹا؟“اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔”تم نے ایک گینگسٹر کے روپ میں مجھے قید رکھنا چاہا،وہ ہوا۔اور فاطمہ کمال نے تمہاری بات مان کر،گھر میں رہ کر اپنے گھر والوں کو محفوظ رکھا؟“۔۔سب سمجھتے وہ نم آنکھوں سے مسکرائی۔
”مجھے خوشی ہوئی، فاطمہ۔آپ نے خود کو مظلوم جان کر سب کچھ ترک نہیں کیا،بلکہ اپنی زندگی اور اپنے کیریئر کے مواقع تلاش کیے اور انہیں برقرار رکھا“۔۔اس کے لہجے میں انداز میں واقعی فاطمہ کمال کے لیے فخر محسوس کیا جاسکتا تھا۔
“I’m proud of you, Fatima”.
فاطمہ کی آنکھوں میں عقیدت کی چمک مزید بڑھ گئی۔
اس کی گھمبیر آواز بار بار کانوں سے ٹکرا کر اسے بےچین کررہی تھی۔
منظر بدلا تھا ایک اور منظر آنکھوں کے سامنے ایا تھا۔
“آرام سے یار،ابھی گرجاتی آپ”۔۔فورا آگے بڑھتے ہی اسکے پکڑا تھا۔سیڑھیاں اترتے ہوئے ڈوپٹہ پاؤں میں پھنسا تھا۔آخری اسٹیپ پہ وہ لڑکھڑائی تھی۔
“اچھا ہوتا مرجاتی میں”۔۔بازو چھڑاتے ہوئے تلخی سے گویا ہوئی۔اپنے کھلے بالوں میں انگلیاں چلاتی وہ انھیں ٹھیک بھی کر رہی تھی۔فاز عالم نے غور سے اسکے پیچھے کی آخری اسٹیپ کو دیکھا تھا پھر اسے۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہو”؟بالوں کو ٹھیک کرتا ہوا ہاتھ رکا تھا۔
“وہ میں سوچ رہا تھا آپ مرجاتی تو میرا کیا ہوتا”۔۔سادگی سے وہ کہنے لگا۔اسکا طنز سمجھتے ہوئے پیر پٹختے ہوئے اگے بڑھ گئی۔پیچھے وہ سر نفی میں ہلاتے ہوئے ہنس دیا۔۔
اس منظر کو یاد کرکے اس بار کھڑکی کے پاس کھڑی فاطمہ کمال خود بھی ہنسی تھی۔۔
باہر چاندنی اور زیادہ نرم ہوگئی۔اس کی یاد نے دل کو جکڑ لیا تھا۔ابھی چند گھنٹے ہوئے تھے اور وہ اسے اتنا یاد آرہا تھا۔اپنی کیفیت پر گیلی آنکھوں کے ساتھ دھیرے سے ہنس دی۔

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
گاہ جلتی ہوئی گاہ بجھتی ہوئی
شمع غم جھلملاتی رہی رات بھر
کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن
کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر
پھر صبا سایہ شاخ گل کے تلے
کوئی قصہ سناتی رہی رات بھر
جو نہ آیا اسے کوئی زنجیر در
ہر صدا پہ بلاتی رہی رات بھر
اک امید سے دل بہلتا رہا
اک تمنا ستاتی رہی رات بھر


اگست کی صبح غیر معمولی طور پر اجلی اور خوشگوار تھی۔کراچی کی ہواؤں میں برسات کے بعد کی نمی گھلی ہوئی تھی،اور روشنی بادلوں کی چھنتی تہوں سے چھن کر نرم دودھیا روشنی بکھیر رہی تھی۔سڑکوں پر رات ہوئی غیر متوقع بارش کے نشان باقی تھے،درخت دھلے دھلے لگ رہے تھے،اور سمندر کی طرف سے چلتی ہوا میں ایک تازگی گھلی ہوئی تھی۔
رات دیر تک جاگنے کے باعث وہ دونوں دیر سے جاگی تھیں۔ماریہ تو خیر سے انجان تھی کہ فاطمہ کمال فجر کے بعد سوئی تھی۔گیارہ بجے جب وہ ہنستی مسکراتی سیڑھیاں اتر کر نیچے آئیں تو نرمی سے چھن کر آتی دھوپ نے ان کے چہروں کو مزید روشن کر دیا تھا۔
ناشتے کے لیے کہتے ہی وہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی تھیں کہ دادی سکینہ کی بھاری آواز نے ان کی مسکراہٹوں پر جیسے زنجیر ڈال دی۔
”کب تک رکنے کا ارادہ ہے تمہارا؟“۔
”جب تک میرا دل چاہے“۔فاطمہ نے ایک پل کو لب بھینچے،پھر اگلے ہی لمحے بےنیازی سے مسکرا کر بولی.
”تم یہاں نہیں رہ سکتی“۔دادی کی تنی ہوئی آواز میں ایک فیصلہ تھا۔
فاطمہ کے لبوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ بکھری۔”فاطمہ کمال اپنے ہی گھر میں نہیں رہ سکتی؟وجہ بتائیں گی کیوں؟“۔وہ دونوں ہاتھوں کو آپس میں پھنسائے،تھوڑی ان پر ٹکائے،مکمل اطمینان اور ٹھہراؤ سے دادی کی طرف دیکھنے لگی۔
”تم شادی شدہ ہو،تمہیں اپنے شوہر کے گھر ہونا چاہیے“۔دادی نے تیز لہجے میں کہا۔
”میں سوچ رہی ہوں اب دیوار اٹھا ہی لینی چاہیے“۔وہ پرسوچ انداز میں انہیں دیکھنے لگی جن کی رنگت اس کی بات پر بدلی تھی۔”اور میرے شوہر کو کوئی مسئلہ نہیں، اسے ہر وہ بات قبول ہوتی ہے جو فاطمہ کمال کہتی ہے“۔فاطمہ نے آنکھوں میں ایک شوخی اور بے خوفی سمیٹ کر کہا۔اس کے لبوں پر ایک گہری، پراعتماد مسکراہٹ تھی۔ تبھی چچی، تائی، اور پھوپھی،جو قریب آ رہے تھے،ٹھٹک کر رک گئے۔ماریہ نے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ دبائی۔
”سکینہ صاحبہ!میں نے سنا ہے،میرے بابا کا قتل ہوا تھا۔ کرنے والا اسی گھر کا ایک فرد ہے۔کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے؟“۔یہ جملہ اتنی عام سی روانی میں بولا گیا کہ جیسے وہ کوئی معمولی خبر دے رہی تھی۔لیکن اس سادگی میں چھپا طوفان اندر تک ہلا دینے والا تھا۔دادی سکینہ کا رنگ فق پڑ گیا۔باقی سب بھی بےچین نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ماریہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔کیا وہ جانتی تھی؟۔
”ملازمہ پکڑی جا چکی ہے“۔دادی کی آواز گہری کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
”اہمم ہمم… ملازمہ؟سیریسلی؟وہ قاتل ہے؟اسے کیا ملے گا یہ سب کر کے؟آپ بھی نہ“۔۔وہ ہنس دی،جیسے کوئی انتہائی مضحکہ خیز لطیفہ سنایا گیا تھا۔لیکن اس ہنسی نے کمرے میں موجود ہر فرد کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔
”آپ پوچھ رہی تھیں نا کہ میں کب جاؤں گی؟تو سن لیجیے،جس دن میں اپنے باپ کے قاتل کو گرفتار کروا لوں گی،اسی وقت یہاں سے چلی جاؤں گی اپنے گھر“۔اس نے دادی کی آنکھوں میں برف جیسی ٹھنڈی آواز میں کہا۔
خاموشی لمحہ بہ لمحہ گہری ہوتی گئی۔دادی، چچی، تائی، اور پھوپھی بڑبڑاتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔
”ناشتہ کرو، مجھے کیا دیکھ رہی ہو؟“۔فاطمہ نے نوالہ توڑا اور ماریہ کو دیکھ کر بولی۔
”آپ جانتی ہیں؟“۔ماریہ نے ساکت نظروں سے اسے دیکھا۔
”کسی حد تک“۔اس نے کافی کا گھونٹ بھرا اور نارمل انداز میں کہا۔
”آپ ٹھیک ہیں؟“۔۔ماریہ ایک بار پھر سوال کی۔
”ٹھیک ہوں،مجھے کیا ہونا ہے؟ناشتہ کرو سکون سے“۔
ابھی وہ بات کر ہی رہی تھی کہ ہیل کی مخصوص ٹک ٹک نے کمرے کی فضا میں ارتعاش پیدا کر دیا۔دونوں نے ایک ساتھ دروازے کی طرف دیکھا،اور ایک پل میں ہی ان کے چہروں پر بیزاری چھا گئی۔
”کیا ماریہ؟یہ تمہارے رشتہ دار مجھے سکون سے ناشتہ نہیں کرنے دیں گے؟“۔فاطمہ کے اکتائے ہوئے لہجے پر ماریہ نے ہنسی روکی۔
”ہائے“۔۔اس کے ہائے کہنے پر ماریہ بادل ناخواستہ سر ہلائی مگر فاطمہ ناشتے میں مشغول رہی۔ماریہ نے غور سے ان دونوں کو دیکھا۔علینہ زاہد،جو ہمیشہ سے اپنی نخوت،حسن،اور چمکتے ملبوسات کی شوقین تھی،بڑے انداز سے چلتی ہوئی آئی۔چھوٹی، سفید،تنگ ٹی شرٹ،سیاہ جینز،سیاہ ہیلز،اور براؤن ڈائی کیے ہوئے،لئیر میں کٹے بال جو ہر حرکت پر لہرا رہے تھے۔پھر فاطمہ کو جو ماریہ بی کے تھری پیس آئس بلو رنگ کے سوٹ میں ملبوس تھی۔بڑا سا ڈوپٹہ شانوں پر پھیلایا ہوا تھا۔علینہ زاہد خوبصورت لگ رہی تھی،بلا شبہ،مگر فاطمہ کمال باوقار لگ رہی تھی۔لیکن اس کے چہرے پر وہ چیز نہیں تھی،جو فاطمہ کے تھی۔ پاکیزگی، معصومیت، حیا۔
”کیسی ہو فاطمہ؟اوہ،میں بھلا تم سے کیا پوچھ رہی ہوں“۔ علینہ نزاکت سے بالوں کو ٹھیک کرتی کرسی پر بیٹھی۔فاطمہ نے اسے دیکھنے کی زحمت بھی نہ کی۔
”زوہیب عابد،ہینڈسم اور چارمنگ بندہ،اب تمہارا جو نہیں رہا۔ڈو یو نو؟ہو ایم آئی؟“۔وہ نان اسٹاپ بول رہی تھی، جیسے کسی فتح کا اعلان کر رہی تھی۔
فاطمہ نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا،اور دل چاہا کہ دو ٹوک جواب دے..”چڑیل”…مگر وہ خاموشی سے،بس دیکھتی گئی۔
”مسز زوہیب عابد مصطفیٰ“۔۔علینہ نے بالوں کو ادائے سے جھٹکتے ہوئے فاتحانہ انداز میں کہا۔
فاطمہ کے لبوں پر بے ساختہ ہنسی پھوٹی۔وہ ہنستی گئی، ہنستی گئی،یہاں تک کہ اس کی نیلی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے۔ماریہ مسکرائی،وہ جانتی تھی کہ فاطمہ کیوں ہنس رہی تھی۔
”چچ چچ،تم تو صدمے سے پاگل ہو گئی“۔علینہ نے افسوس سے سر ہلایا۔
”مسز زوہیب عابد! تیاری پکڑ لو، شوہر کے ہوتے ہوئے بیوہ کا رول ادا کرنے کے لیے“۔فاطمہ نے میز پر ہاتھ رکھا،جھک کر اس کی آنکھوں میں جھانکا،اور مسکرا کر بولی۔
”شٹ اپ! تم پاگل ہو گئی ہو۔۔صدمہ زیادہ ہی پہنچا ہے تمہیں“۔وہ نخوت سے چیخی۔
”ماریہ،اپنی کزن کو بتاؤ، صدمہ مجھے نہیں،اسے جلد ہونے والا ہے“۔فاطمہ نے بےنیازی سے ہاتھ جھلاتے ہوئے کہا۔
”تم بتاؤ، گینگسٹر ہسبنڈ کے ساتھ لائف کیسی گزر رہی ہے؟“علینہ نے بمشکل غصہ ضبط کیا،پھر آنکھوں میں چمک لا کر بولی۔
”جنت جیسی“۔جواب بے ساختہ تھا۔”یوں لگتا ہے،دنیا میں ہی جنت کا ایک حصہ مجھے عطا کر دیا گیا ہے“ماس کے چہرے پر سکون پھیل گیا۔آنکھوں میں روشنی اتر آئی۔دل کی دھڑکنیں جیسے خوشی میں رقص کر رہی تھیں۔فاطمہ پھر وہاں مزید ٹھہری نہیں تھی۔اٹھ کر چلی گئی تھی۔
”ماریہ!اپنی دوست کا علاج کرواؤ، غم سے پاگل ہو گئی ہے“۔ علینہ نے طنزیہ قہقہہ لگایا۔درحقیقت اس کا پرسکون چہرہ اسے بےچین کرگیا تھا۔مگر ماریہ ابراہیم جانتی تھی کہ علاج کی ضرورت فاطمہ کو نہیں،مگر علینہ زاہد کو جلد ہونے والی تھی۔


جیسے ہی فاز کی گاڑی مینشن کے آہنی دروازے سے اندر داخل ہوئی،اس سیاہ لینڈ کروزر کے پیچھے ہی ایک اور گاڑی تیزی سے آتی نظر آئی۔بیک ویو مرر میں نظر آتے عکس کو اس نے ناگواری سے دیکھا اور ایک گہری سانس لیتے ہوئے گاڑی روک دی۔شام کے پانچ بج رہے تھے اور آسمان پر ہلکی سنہری دھوپ بچی تھی، جو آہستہ آہستہ نارنجی رنگ میں بدل رہی تھی۔ لان میں لگے پھولوں پر سورج کی آخری کرنیں جھلمل کر رہی تھیں اور ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی۔
گاڑی سے اترتے ہی فاز نے اپنے کوٹ کے بٹن کھولے۔ پیچھے رکنے والی گاڑی سے ایک شخص برق رفتاری سے اس کی طرف آیا۔فاز نے تھکے تھکے انداز میں سر جھٹک کر اسے دیکھا۔اس وقت اس کی ذہنی مصروفیت کسی اور معاملے پر تھی اور وہ غیر ضروری باتوں میں الجھنا نہیں چاہتا تھا۔
”تم فاطمہ کو جلد از جلد طلاق دے دو“۔وہ شخص قریب آ کر تیزی سے بولا۔
فاز کے چہرے پر استہزایہ مسکراہٹ ابھری۔لان کے کنارے لگے جامنی اور سفید پھولوں پر ہوا کے ہلکے جھونکے چل رہے تھے اور فاز کو فاطمہ کی وہ بات یاد آئی جو جاتے ہوئے اس نے کی تھی۔اب اسے فاطمہ کی بات سمجھ آئی تھی۔
”تمہیں لگتا ہے میں تمہاری بات مانوں گا؟اور آئندہ یہاں کا رخ مت کرنا“۔وہ کندھے اچکاتا،سنہری روشنی میں چمکتے داخلی دروازے کی طرف بڑھا۔
”فاطمہ تم سے طلاق چاہتی ہے،کیا تمہیں سمجھ نہیں آ رہی؟“۔اس شخص کی آواز اب بلند ہو چکی تھی۔
فاز نے قدم روکے بغیر کہا۔”جب وہ خود مجھ سے آ کر کہیں گی،میں دے دوں گا کیونکہ میں ان نامردوں میں سے نہیں ہوں جو عورتوں پر اپنے فیصلے مسلط کرتے ہیں“۔اس کی آواز میں اعتماد اور سختی تھی۔آخر لہجہ طنزیہ ہوا تھا جسے محسوس کرکے عابد کا چہرہ اہانت سے سرخ ہوا۔
”کیا تمہیں میری بات پر یقین نہیں؟“۔وہ شخص بے چینی سے بولا۔سامنے کھڑا مرد بالکل بھی آسان ہدف نہیں تھا۔اسے لگا تھا وہ فاطمہ سے بدظن ہوچکا ہوگا اور غصے میں آکر طلاق دینے والے زیادہ تر مردوں کی طرح وہ بھی یہی کرے گا۔لیکن وہ کوئی نہیں تھا۔وہ فاز عالم تھا
فاز رک کر اس کی طرف پلٹا۔”تم میرے کیا لگتے ہو؟“استہزایہ انداز میں سوال کیا۔”دوسری بات،مجھے صرف فاطمہ کے کہے ہوئے لفظوں پر یقین ہے“۔اس کے لہجے کی قطعیت پر عابد لب بھینچ گیا۔
فاز کو اپنے پیچھے مسلسل قدموں کی چاپ سنائی دی،اس نے رک کر دوبارہ پیچھے دیکھا اور سرد نظروں سے اس کی طرف متوجہ ہوا۔”کیا میں نے تمہیں اندر آنے کو کہا تھا؟“۔ سوال کا انداز اتنا غیر متوقع تھا کہ وہ لاشعوری طور پر ناں میں سر ہلا بیٹھا۔
”تو پھر اخلاقیات کا تقاضا یہی تھا کہ داخلی دروازے سے ہی پلٹ جاتے،بجائے میرے ساتھ اندرونی دروازے تک آنے کے“۔فاز کی گہری اور ٹھہری ہوئی آواز میں ایسی سختی تھی کہ وہ شخص شرمندہ ہو کر سرخ پڑ گیا اور پلٹ کر چلا گیا۔
فاز سر جھٹکتے ہوئے تیز قدموں سے اسٹڈی کی طرف بڑھا۔ اسٹڈی کے اندر مدھم روشنی میں لکڑی کے بھاری فرنیچر کی خوشبو رچی بسی تھی۔اس کا موبائل رنگ کیا تو وہ فوراً سے کال ریسیو کرگیا۔
”سب کچھ ریڈی ہے سر،ٹھیک دو گھنٹے بعد شاہد عباسی کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ابھی اس کی گرفتاری کی خبریں میڈیا میں نہیں آئیں گی،سب کچھ میں نے سنبھال لیا ہے“۔
فاز نے سنجیدگی سے تسلی کروائی اور کال بند کر کے پلٹا تو مراد کو اپنے پیچھے کھڑا پایا۔
”کیا ہوا مراد؟سب ٹھیک ہے؟تم پریشان کیوں ہو؟“فاز نے تیزی سے پوچھا۔بے صبری واضح تھی۔ورنہ فاز عالم بڑے سے بڑے مسئلے کو تحمل مزاجی سے سنتا اور حل کرتا تھا۔
”مراد،بولو بھی۔ فاطمہ ٹھیک ہیں؟“وہ جو اپنے باس کو غور سے دیکھ رہا تھا،اس کے غصے سے پوچھنے پر ہوش میں آیا۔
”ہاں… ہاں جی، وہ ٹھیک ہیں“۔مراد کو فاطمہ کی نگرانی و حفاظت کے لیے فاز نے کہا تھا۔اس کے جواب پر وہ پرسکون ہو گیا۔
”پھر کیا مسئلہ ہے؟“اب وہ بہت ہی آرام سے پوچھ رہا تھا۔
”سر… یہ نیوز“۔مراد نے موبائل میں دو تین بار ٹچ کر کے اس کے سامنے اسکرین کی۔
فاز کی نظر اسکرین پر پڑی۔”مسٹر عالم،نامور بزنس مین نے خاموشی سے شادی کر لی۔مشہور بزنس مین اور سوشل ورکر مسٹر عالم نے مصطفیٰ انٹرپرائز کے سی ای او مرحوم کمال مصطفیٰ کی اکلوتی بیٹی فاطمہ کمال سے خفیہ شادی کر رکھی ہے“۔فاز نے پیشانی مسلی۔اس کے دشمن بہت تھے،اسے صرف فاطمہ کی فکر تھی۔
”زوہیب عابد اب مجھ سے بچ نہیں سکتا“۔فاز کی آواز میں بے انتہا سرد مہری تھی۔معاملہ صرف اس کی ذات کا نہیں، بلکہ فاطمہ کمال کا بھی تھا۔وہ اس کی بیوی تھی،اور اس پر کسی قسم کی آنچ گوارہ نہیں تھی۔
”مراد،ایک خبر تم نشر کرواؤ گے۔مجھے یقین ہے یہ خبر اس سے بھی زیادہ تیزی سے پھیلے گی“۔فاز کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔
”کیسی خبر؟“۔مراد نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
”خبر یوں ہوگی…ابراہیم عالم مصطفیٰ،جو بڑے بڑے یتیم ادارے چلاتے ہیں،جن کے دل میں انسانیت کا درد ہے،وہ اپنی پہلی بیوی اور دو بچوں کو تنہا بیچ راہ میں کئی سال پہلے چھوڑ چکے ہیں“۔فاز کی آنکھوں میں ذہانت چمکی،مگر غصے کی چنگاری بھی واضح تھی۔
”لیکن سر… ان کی بیوی شمائلہ اور بچے احسن اور ماریہ ہیں نا؟“مراد الجھن کا شکار تھا۔
”شمائلہ ان کی دوسری بیوی ہیں۔میں نکاح نامہ کی تصویر بھیجتا ہوں،اسے میڈیا میں دے دو۔لیکن خاص تاکید کے ساتھ کہ پہلی بیوی کا نام منظرِ عام پر نہیں آنا چاہیے“۔۔فاز عالم کا لہجہ غیر معمولی طور پر سخت تھا،جیسے کسی غلطی کی گنجائش نہیں تھی۔
مراد سر ہلا کر باہر نکل گیا،جبکہ فاز اپنی ضروری چیزیں اٹھا کر مینشن سے نکل گیا۔مگر دل و دماغ فاطمہ کمال میں الجھا ہوا تھا۔

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on