Uncategorized

Mohabbat Fateh Tehri Last Episode 11 Part 1


”ابراہیم کیا ہے یہ سب؟“۔۔بڑے تایا سختی سے انھیں دیکھتے ہوئے پوچھ رہے تھے۔وہ سر جھکائے بالکل کسی ہارے ہوئے شخص کی طرح بیٹھے تھے۔ایک دنیا ان کی گرویدہ تھی۔ان کی رحمدلی کے چرچے تھے۔لوگ انھیں پسند کرتے تھے کیونکہ وہ غریب لوگوں کی بالخصوص یتیم بچوں کا بڑا خیال کرتے تھے۔ایک رحمدل سوشل ورکر۔اب وہی لوگ ان پر تھوک رہے تھے۔انھیں بے رحم کہہ رہے تھے۔
فاز عالم کے کہے مطابق پچھلی خبر سے زیادہ اس خبر نے آگ پکڑی تھی۔اب فاز اور فاطمہ کا ذکر دب گیا تھا۔ رپورٹرز کو کچھ دیر پہلے ہی مبہم جوابات دے کر گھر کے باہر سے ہٹایا گیا تھا۔
”ابراہیم، تو نے اس عورت کا قصہ ختم نہیں کیا تھا؟“۔۔ دادی سکینہ ان پر چلانے لگیں۔میڈیا کے پاس ثبوت تھے۔ اب انھیں جواب چاہیے تھا۔ان معصوموں کو انھوں نے کہاں چھوڑ دیا تھا؟ابراہیم عالم کے پاس تو کوئی جواب نہیں تھا۔
”ختم تو کیا تھا اماں،لیکن وہ ختم ہوکر بھی ختم نہیں ہوا“۔۔ان کی آواز بھیگی ہوئی معلوم ہوئی۔شمائلہ چچی نے ڈرتے ہوئے ماریہ کی جانب دیکھا،لیکن وہ تو پرسکون سی کھڑی تھی۔
”تمہاری وجہ سے سارے زمانے میں بدنام ہوکر رہ گئے۔کچھ تو ڈھنگ سے کرلیا کرو ابراہیم“۔۔تایا نے حقیر نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”اپنے صاحب زادے سے پوچھیے بھائی جان۔پوچھیے اس سے کہ کیوں یہ فاطمہ اور فاز کے نکاح کو منظر عام پر لایا؟ نہ وہ یہ خبر منظر عام پر لاتا،نہ ہی یہ خبر آتی“۔۔ابراہیم صاحب پوری قوت سے دھاڑے۔کب سے سر جھکائے وہ سب کی باتیں سن رہے تھے۔سب نے عابد کی طرف دیکھا تھا۔ فاطمہ کب سے یہی سوچ رہی تھی کہ فاز اچانک اس خبر کو کیوں منظر عام پر لے آیا تھا؟اور وجہ اسے اب سمجھ آئی تھی۔ایک مسکراہٹ اس کے لبوں کو چھو گئی۔
”عابد؟عابد ایسا کیوں کرے گا؟“۔۔تایا اچھنبے سے بولے۔
”کیونکہ فاز نے اسے حوالات کی سیر کروائی تھی“۔۔ ابراہیم چچا نے اس کی جانب سخت نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔عابد نے تھوک نگلا۔
”عابد تمہیں کیا ضرورت تھی اس سے دشمنی مول لینے کی؟اب نجانے وہ گھٹیا شخص تمہارے ساتھ کیا کرے گا“۔۔ تائی فوراً سے بیٹے کے پاس آئی۔فاطمہ بےچین ہوتی جیسے کچھ بولنے کے لیے منہ کھولا،لیکن اسے رکنا پڑا۔
”گھٹیہ فاز عالم نہیں، گھٹیہ آپ کا بیٹا ہے بھابھی“۔۔ابراہیم عالم کی دھاڑتی ہوئی آواز سب کو ساکت کر گئی۔فاطمہ اور ماریہ نے حیرانی سے انھیں دیکھا۔پھر ایک دوسرے کو۔
”ابراہیم تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔پتہ بھی ہے کہ کیا کہہ رہے ہو؟“۔۔تایا بیٹے کے لیے ایسے الفاظ سن کر غصے سے انھیں دیکھے۔دادی سکینہ سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ان کا ہنستا بستا گھر اجڑ رہا تھا۔
”فاز عالم بیٹا ہے میرا“۔۔بہت دقت سے انھوں نے یہ جملہ ادا کیا تھا۔
”کیا؟وہ لڑکا؟وہ.. وہ تمہارا بیٹا ہے؟“۔۔پھوپھی ریحانہ بےیقینی سے بولیں۔علینہ زاہد نے آبرو اچکائے۔فاطمہ کمال کے پرسکون ہونے کی وجہ آہستہ آہستہ سمجھ آنے لگی تھی۔
”گھٹیا ماں کی گھٹیا ہی اولاد ہونی تھی۔کیسی تربیت کی اس نے، غنڈہ گردی…“۔۔دادی سکینہ طنزیہ انداز میں ناگواری سے کہنے لگیں۔ماریہ نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں۔
”بس۔۔بہت ہوگیا۔گھٹیا فاز اور اس کی ماں نہیں،آپ ہیں۔ آپ کا یہ پوتا عابد ہے۔خبردار جو آئندہ آپ لوگوں نے میری خالہ اور فاز کے بارے میں کچھ بھی کہا تو“۔۔فاطمہ کمال کی بلند آواز،مضبوط لہجہ ایک بار پھر انھیں ورطہ حیرت میں ڈال گیا۔اس وقت کسی کا دھیان اس کے ”خالہ“ کہنے پر نہیں گیا،سوائے علینہ زاہد کے،جو بغور فاطمہ کو دیکھنے لگی تھی۔
”ماریہ بیٹا یہاں آؤ“۔۔ شمائلہ چچی ممتا لیے اسے اپنے پاس بلائیں،لیکن وہ فاطمہ کے ساتھ ہی کھڑی رہی۔سب یکدم خاموش ہوگئے۔ٹھنڈے پڑ گئے۔اس انکشاف نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔لیکن اگلے ہی لمحے چنگھاڑتی ہوئی آواز گونجی۔
”یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔تمہارے قدم ہی منحوس ہیں۔ جب جب آتی ہو،اپنے ساتھ کئی مصیبتیں لے آتی ہو“۔۔ دادی سکینہ غم و غصے سے پاگل ہوتے اس کی جانب لپکیں۔ اس سے پہلے وہ کچھ کرتیں،فاطمہ کمال ایک مہربان وجود کے پیچھے چھپ سی گئی۔
”بھول رہی ہیں شاید آپ،اب یہ صرف فاطمہ کمال نہیں، مسز فاز عالم بھی ہیں۔اپنی زبان کو لگام دیجیے۔میری بیوی کو اگر کسی نے کچھ کہا تو اچھا نہیں ہوگا“۔۔اس کا بھاری سنجیدہ لہجہ لاؤنج میں گونجا۔دادی جذبذب ہوتی وہیں ٹھہر گئیں۔
فاطمہ کی آنکھیں نم ہوئیں۔سب کی نظریں اس کے بائیں طرف موجود ایک اور شخص پر گئیں۔بالکل فاز کے جیسا حلیہ تھا۔
”احسن…. احسن تم؟“۔۔ شمائلہ بیگم دیوانہ وار اس کی جانب بھاگیں۔
”میرا بچہ… تم ٹھیک ہو؟ تم ٹھیک ہو نہ؟“۔۔ اس کے چہرے کو دیوانہ وار چھوتی وہ آنسوؤں کے ساتھ پوچھ رہی تھیں۔ وہ اسپاٹ چہرے کے ساتھ کھڑا رہا۔اس کے ہاتھ پہلو میں گرے رہے۔سب نے حیرانگی سے فاز عالم کے ساتھ کھڑے احسن ابراہیم کو دیکھا تھا۔اتنے ماہ بعد اسے سامنے دیکھ کر یقین نہیں آرہا تھا۔بس ابراہیم عالم مصطفیٰ تھے، جو فاز عالم کو دیکھے چلے جا رہے تھے۔
”میرا پوتا۔۔۔میرا بچہ۔۔۔تم نے اسے اغوا کیا تھا نا؟“دادی سکینہ کی آواز درد اور غصے سے کانپ رہی تھی،ان کی آنکھوں میں دہکتی نفرت کسی الاؤ کی مانند محسوس ہو رہی تھی۔
فاز عالم نے ایک طویل سانس کھینچا،پھر آہستگی سے قدم آگے بڑھایا۔روشنی میں اس کا چہرہ جیسے چمک رہا تھا، لیکن آنکھیں سرد اور بےرحم تھیں۔”آپ کا پوتا؟“۔اس نے استہزائیہ انداز میں دہرایا۔”یاد کریں،یہ بھی اسی عورت کا بیٹا ہے،جسے آپ نے بےدردی سے دھتکار دیا تھا“۔۔اس کا لہجہ خطرناک حد تک سرد تھا۔وہاں موجود سبھی لوگ دم بخود رہ گئے۔
”یہ آج کیسے انکشاف پہ انکشاف ہو رہے ہیں؟“تایا علی عالم مصطفیٰ جھنجھلا کر گویا ہوئے۔
فاز عالم کے لبوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ ابھری۔”ابھی تو اور بھی ہیں،علی عالم مصطفیٰ۔ذرا صبر تو کریں“۔اس کی آواز میں گہری سرسراہٹ تھی۔
کمرے میں موجود باقی سب کے چہروں پر حیرت اور خوف کی پرچھائیاں ابھرنے لگیں۔شمائلہ بیگم کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بےچینی تھی۔وہ سہمی ہوئی نظروں سے احسن کو دیکھ رہی تھیں۔جس کا چہرہ اسپاٹ تھام
فاز نے چہرہ جھکا کر انہیں بغور دیکھا،پھر ذرا سا جھک کر مسکراتے ہوئے بولا۔”مسز ابراہیم،آپ کو نہیں لگتا کہ اگر اس گھر میں سب کے دل اتنے سیاہ ہیں،تو آپ کے یہ دو بچے اتنے صاف دل کے مالک کیسے ہو سکتے ہیں؟“۔اس نے ہاتھ کے اشارے سے احسن اور ماریہ کی طرف اشارہ کیا۔”آپ،آپ کے شوہر،بچوں کی دادی، تایا، تائی، اور کزن زوہیب۔۔۔کوئی ایک بھی تو صاف دل کا نہیں،تو آخر یہ بچے کن پر چلے گئے؟“۔اس کی گہری نگاہوں اور انداز پر شمائلہ بیگم گھبرا سی گئیں۔
فاطمہ نے بمشکل اپنی ہنسی روکی۔بھلا اس کا یہ روپ کب دیکھا تھا؟اس کی تیز،چبھتی ہوئی باتیں سب کو بےنقاب کر رہی تھیں۔
”تم کہنا کیا چاہتے ہو، لڑکے؟“دادی سکینہ نے گرجدار آواز میں پوچھا۔
”آپ خود بتانا پسند کریں گی،یا یہ فریضہ بھی میں ہی انجام دوں؟“۔فاز نے گہری سانس لی،پھر ایک نگاہ شمائلہ بیگم پر ڈالی۔
ابراہیم صاحب کی پیشانی شکن آلود ہو گئی۔”فاز،یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟“ان کی آواز میں حیرت اور الجھن تھی۔
فاز نے ایک زخمی نگاہ ان پر ڈالی۔”میرا نام مت لیں آپ، پلیز“۔سختی سے وہ انھیں ٹوک گیا۔اس کے لب کپکپا گئے۔احسن نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
”اوکے،یہ کام بھی میں ہی کر دیتا ہوں۔مسز ابراہیم،افسوس کے ساتھ،یہ دو جڑواں بچے احسن اور ماریہ آپ کے نہیں ہیں۔اور شاید نہیں،یقیناً،آپ اس سچائی سے واقف ہیں“۔اس کے الفاظ بم کی طرح پھٹے،اور فضا جیسے ساکت ہو گئی۔ریحانہ پھوپھی اور تائی کا ہاتھ بےساختہ منہ پر گیا۔
“یہ۔۔۔ یہ میرے بچے ہیں!”شمائلہ بیگم نے تڑپ کر احسن اور ماریہ کو دیکھا،ان کا چہرے زرد پڑ گیا۔
”یہ دونوں، شازمہ شاہ کے بچے ہیں۔میرے سگے بھائی بہن۔ اور بدقسمتی سے،ہم تینوں کے باپ،ابراہیم عالم ہیں“۔۔فاز کی مسکراہٹ تلخی سے بھر گئی۔
”یہ۔۔۔ یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟ ہماری تیسری اولاد تو مر چکی تھی۔۔۔“کمرے میں جیسے وقت تھم گیا۔ابراہیم عالم کے لبوں سے سرگوشی نکلی۔
”آپ کی اولاد بالکل مری تھی، لیکن وہ تیسری نہیں بلکہ آپ کی دوسری بیوی کی پہلی اولاد تھی“۔فاز کی آواز میں ٹھنڈک تھی،جیسے پتھر پر گرتی برف۔
”ماریہ۔۔۔ میں۔۔۔“شمائلہ بیگم بےچین ہو کر آگے بڑھیں۔ماریہ لرزے ہوئی ایک قدم پیچھے ہٹی،آنسو بےدریغ اس کے گالوں پر بہہ نکلے۔
”رک جائیں وہیں“۔ماریہ نے ہاتھ اٹھا کر انہیں روک دیا،اس کی آواز زخمی تھی۔”آپ نے میری ماں کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔آپ دونوں نے ظلم کیا ہے“۔۔وہ تکلیف سے سب کو دیکھتے ہوئے چلائی تھی۔
”ماریہ۔۔بچے میں“۔۔انہوں نے آگے بڑھ کر اسے چھونا چاہا۔
”دور رہیں مجھ سے۔مجھے چھونے کی کوشش مت کریے گا“۔روتے ہوئے اس نے پوری شدت سے کہتے ہوئے انھیں قریب آنے سے روکا۔اتنے دن سے وہ راتوں کو سو نہیں پارہی تھی۔جسے آج تک ماں سمجھی وہ تو اس کی ماں تھی ہی نہیں۔اذیت کی انتہا تھی کہ وہ اب بھی ان سے محبت کرتی تھی۔ان سے نفرت نہیں کرپارہی تھی
شمائلہ بیگم کی آنکھوں میں دکھ تھا،لیکن ماریہ نے ایک جھٹکے سے چہرہ موڑ لیا۔ اس کی روح زخمی تھی۔
”بس، چپ ہو جاؤ“۔فاز نے نرمی سے ماریہ کو اپنے قریب کرتے ہوئے اس کے آنسو پونچھے۔”اب ہر ظلم کا جواب دینے کا وقت آ گیا ہے“۔اس کی نگاہیں فولاد کی مانند سخت تھیں۔ ”ماریہ، ساری چیزیں پیک کر لو۔میں کل تمہیں لینے آؤں گا“۔۔ماریہ نے اثبات میں سر ہلایا،تو فاز نے اس کا ماتھا چوم لیا۔فاطمہ نے اب محسوس کیا تھا کہ وہ دیکھ نہیں رہا تھا۔وہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہورہا تھا۔
اسی لمحے، احسن آگے بڑھا۔اس کی نظروں میں چنگاریاں سی بھڑک رہی تھیں۔
”زوہیب عابد“۔وہ غرایا،اور اگلے ہی لمحے،ایک زناٹے دار تھپڑ کی گونج پورے ہال میں پھیل گئی۔
”اگر آئندہ فاطمہ کمال یا ماریہ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا،تو اس بار وارننگ نہیں دوں گا بلکہ جان سے مار دوں گا“۔زوہیب کے چہرے پر جیسے آگ برس گئی۔احسن نے اس کا گریبان پکڑ لیا۔
”تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے شوہر پر ہاتھ اٹھانے کی؟“۔علینہ غصے میں بپھر گئی۔
”شوہر؟“۔احسن ابراہیم ہنس دیا۔ویسے ہی جیسے فاطمہ کمال ہنسی تھی۔”یو ٹو ڈیزرو ایچ اڈر“۔۔پھر استہزایہ انداز میں مسکراتے ہوئے بولا۔علینہ زاہد کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔
”بہت فخر ہے نا آپ سب کو اپنے اس بڑے پوتے اور بیٹے پر؟تو سنیے یہ وہی شخص ہے جس نے مجھے اغوا کروایا تھا۔کیونکہ مہندی سے ایک روز پہلے میں اس کی حقیقت جان گیا تھا۔۔آپ سب کا یہ شریف قابل بیٹا اصل میں اسمگلر ہے“۔۔عابد احسن کو مارنے لپکا تھا لیکن اس سے پہلے ہی فاز اسے روک گیا تھا۔”لوگوں کی عزتوں کو یہ پیسے کے عوض بیج دیتا ہے“۔۔احسن نے ایک نفرت بھری نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی۔”اور اس کا اگلا ہدف فاطمہ کمال تھیں۔میں یہ بات جاننے کے بعد اس انسان کو وارن کیا تھا اس کام سے بعض رہنے کا کہا تھا اور یہ جانتے تھے میرا اگلا اقدام یہی ہوتا کہ میں آپ سب کو ان کی حقیقت بتا دیتا اور اس سب سے بچنے کے لیے اس شخص کے مجھے ہی راستے سے ہٹانا چاہا“۔۔۔احسن بولتا جارہا تھا اور سب حیرت کا مجسمہ بنتے جارہے تھے۔
”تھیکس ٹو یو فاطمہ اگر آپ فاز بھائی کے پاس نا جاتی تو شاید آج میں یہاں نہیں ہوتا“۔۔۔اب کی بار احسن فاطمہ کی طرف مڑا۔۔نرمی سے مسکرا کر اسے دیکھا۔فاطمہ جواباً مسکرائی تھی۔۔اور یہ طمانچہ تھا ان سب کے چہروں پر جنہوں نے اس روز فاز کے گھر جانے پر فاطمہ کمال کو بعزت کیا تھا۔۔دادی سکینہ اہانت حسد غصے سے سرخ ہوئی۔۔عزت تو اللّٰہ دیتا ہے۔۔اور اللّٰہ نے فاطمہ کمال کو عزت سے نوازا تھا اور اس سے اس کی یہ عزت کوئی نہیں چھین سکتا تھا۔
”احسن اتنے عرصے میں تمہیں دادی ماں کسی کی یاد نہیں آئی؟“۔۔دادی سکینہ نے اپنے غصے کو دبانا چاہا لیکن لہجے سے پھر بھی واضح تھا۔
”ماں؟میں تو اپنی اماں سے عرصے میں ملتا رہا ہوں“۔۔ماں کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں عقیدت اور لبوں پر پرسکون مسکراہٹ ابھری۔شمائلہ بیگم تڑپ کر اسے دیکھی تھیں۔
”اور رہی بات دادی کی تو میری اماں کے ساتھ جو ہوا اس کے بعد تو مجھے نہ کوئی باپ یاد آیا نہ ہی کوئی دادی“۔۔اس نے ایک شکوہ کرتی نظر ابراہیم صاحب پر ڈالی تھی۔وہ نظریں چرا گئے۔۔
”احسن چلو“۔۔فاز اسے پکارا۔وہ دھیرے سے سر ہلایا۔
”بیوی کو یہی چھوڑ کے جاؤ گے؟ابھی کے لیے یا ہمیشہ کے لیے؟“۔۔وہ دونوں جانے کے لیے مڑے،مگر پھوپھی ریحانہ کی زہر بھری آواز پر انہیں رکنا پڑا۔
”فاطمہ کمال میری بیوی ہیں۔میرے دل کی اکلوتی حقدار“۔اس نے ایک گہری نگاہ فاطمہ پر ڈالی۔وہ جو اسے ہی دیکھ رہی تھی فوراً سے رخ موڑ گئی۔”چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آپ شاید جانتی نہیں ہیں لیکن میں بتادیتا ہوں اپنا کر بزدل چھوڑتے ہیں،محبت کرنے والے نہیں۔اور محبت کرنا بزدلوں کا کام نہیں“۔۔ریحانہ بیگم سے کہتا ہوا وہ آخری جملہ خاص ابراہیم صاحب کی جانب دیکھ کر کہا تھا۔یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا،اور فاطمہ کی دھڑکنیں جیسے لمحہ بھر کو تھم گئیں۔
علینہ زاہد نے نفرت سے فاز کی پشت کو دیکھا پھر فاطمہ کو۔فاز احسن کے ساتھ باہر کی جانب قدم بڑھا چکا تھا۔فاطمہ کے اشارہ کرنے پر ماریہ فوراً فاز کے پیچھے بھاگی۔ ”بھائی رکیں“۔۔بھاگتے ہوئے وہ ان تک پہنچی۔فاز نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔”آپ لوگ پورچ میں انتظار کریں،میں پانچ منٹ میں آتی ہوں“۔۔اس کے کہنے پر کوئی سوال کئے بغیر سر ہلایا۔پھر نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا۔ماریہ فاطمہ کے ساتھ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔اسی لمحے فاطمہ نے بھی پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔شکوہ بھری نگاہوں سے اسے دیکھتی وہ چہرہ موڑ گئی۔فاز کے لبوں پر ذرا کی ذرا مسکراہٹ ابھری۔پھر اس نے قدم پورچ کی جانب بڑھا دیے۔
”یہ فائنل دینی تھی آپ کو“۔۔ماریہ تیز قدموں سے ان کے پاس آئی۔جہاں وہ دونوں اس کا انتظار کررہے تھے۔
”یہ فائل آپ کے پاس کیسے آئی،ماریہ؟“۔فاز کے لہجے میں حیرانی تھی۔اس نے ماریہ سے فائل لیتے ہوئے اسے بغور دیکھا۔
”عابد کے پاس تھی۔اس کی الماری سے نکالی ہے“۔سانسوں کو معمول پہ لاتے ہوئے وہ بولی۔۔
”آپ کو کیسے معلوم یہ اس کے پاس تھی؟“فاز نے سوال کیا، اس کی آنکھوں میں ایک تجسس تھا جو ابھی تک ماریہ کے جواب کا منتظر تھا۔اس کے ساتھ ہی احسن ابراہیم کی نظریں ماریہ اور فاز کے درمیان بات چیت کی گہرائی کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
”مجھے نہیں،آپ کی بیوی کو معلوم تھا۔یہ فائل وہ ہی نکالی ہے وہاں سے۔سارا پلان ان کا ہی تھا“۔ماریہ نے ایک نرم مسکراہٹ کے ساتھ اسے بتایا اور پھر تفصیل سے بتانے لگی۔بالوں میں اٹکی چین، فون پر ہوئی بات، سب کچھ۔
”میری ضدی بیوی، ہر کام بس خود کرنے کا سوچتی ہیں“م فاز نے دھیرے سے ہنس دیا،اس کی ہنسی اتنی مدھم اور پر اثر تھی کہ اس کی مٹھاس فضا میں پھیل گئی۔
”سب آپ کے لیے کیا ہے انہوں نے“۔ماریہ نے اسے جتایا،اور فاز کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔
”اب تم لوگوں نے پہلے سے زیادہ الرٹ رہنا ہے۔ جیسے ہی اسے فائل کی گمشدگی کا پتا چلے گا،وہ یقیناً کچھ الٹا سیدھا کرنے کی کوشش کرے گا۔اگر ایسا کچھ ہوا تو پہلی فرصت میں مجھے کال کرو گی۔ان شاء اللہ کل یہاں سے آپ دونوں کو لے جاؤں گا“۔فاز کی آواز میں سنجیدگی تھی، لیکن اس کے لہجے میں ایک نرم سی فکر بھی تھی کہ ماریہ اور فاطمہ دونوں محفوظ رہیں۔
”آپ نے فاطمہ سے بات نہیں کی،خفا ہے وہ“۔۔ماریہ نے شکایتی نگاہوں سے دیکھا۔اس کا لہجہ خفیف سا تھا،گویا وہ دونوں کے بیچ موجود خاموشی کو محسوس کر رہی تھی۔
”تھوڑا خفا رہنے دو“۔فاز مسکراتے ہوئے بولا۔
”میں اپنی بہن کی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں کر سکتا“۔احسن ابراہیم نے فوراً سے اسے ٹوک کر باور کروایا تھا۔
”اچھا بھئی،میں جانتا ہوں تم دونوں مجھ سے پہلے ان کے بھائی ہو“۔فاز نے ہنستے ہوئے کہا،اور پھر اپنی نظریں اوپر اٹھائیں۔اسی لمحے کھڑکی سے ایک ہلکا سا آئس بلو رنگ کا آنچل نظر آیا۔ فاز کا دل ایک لمحے کے لیے دھڑک کر رک گیا۔ موبائل نکال کر اس نے فوراً ایک پیغام لکھا اور سینڈ بٹن پر کلک کیا۔پیغام بھیجتے ہوئے اس کا رخ واپس ہو گیا۔
دوسری طرف،فاطمہ کا موبائل رنگ کیا تھا۔فاز کا پیغام تھا۔ ”بغیر چپل کے پورے گھر میں گھومنے کی کوئی ضرورت نہیں“۔پیغام پڑھتے ہی فاطمہ کی نظریں فوراً اسکرین سے ہٹ کر اپنے ننگے پاؤں پر گئیں۔وہ ٹھر سی گئی۔اس کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا۔ وہ لمحہ بھر کے لیے وہیں رکی،جیسے اس کے اندر سوالات کی ایک لامتناہی لہر دوڑ گئی۔
وہ کہ رہی تھی وہ اس سے ناراض تھا۔کیا وہ واقعی ناراض تھا؟وہ کہ رہی تھی وہ اسے نظر انداز کررہا تھا۔کیا وہ اسے نظر انداز کر رہا تھا؟۔۔۔
”اماں،بتانا پسند کریں گی؟فاز نے کیا کہہ کر گیا ہے؟“ابراہیم صاحب کمرے میں غصے اور غیض و غضب میں ٹہل رہے تھے۔
”کیا بتاؤں؟“۔سکینہ بیگم کی آواز سرد تھی۔ان کے چہرے پر ندامت کا کوئی نشان نہ تھا،بس ایک چیز تھی جو حسد کی بادلوں کی طرح ان کے چہرے پر چھائی ہوئی تھی۔
”تم بتاؤ!جلدی سے سب بتاؤ مجھے“۔ابراہیم صاحب غصے سے شمائلہ کی طرف بڑھے۔۔شمائلہ بیگم نے بےبس نظر ساس پر ڈالی پھر شوہر کو دیکھا جو آنکھوں میں طیش لیے انہیں دیکھ رہے تھے۔لب تر کرتی وہ آہستگی سے بتاتی چلی گئی۔
ماضی۔۔کئی سال پہلے۔۔
“اماں،میرے بچے…”ہسپتال کے بیڈ پر سفید گاؤن میں لپٹی شمائلہ کی آنکھیں سوج چکی تھیں۔درد اور غم کی ایک گہری کھائی میں وہ نڈھال ہو کر رو رہی تھی،آپریشن کی پیچیدگیوں کے دوران ان کے بچہ کی وفات ہو چکی تھی۔ اس کے ساتھ ایک اور بری خبر بھی آئی تھی شمائلہ بیگم کبھی ماں نہیں بن سکیں گی۔
“کیا رو رو کر دماغ خراب کیا ہوا ہے؟”دادی سکینہ کی آواز میں بیزاری تھی،سکینہ بیگم نے شمائلہ کو غصے سے دیکھا۔ وہ سب بھول بھال کا ساس کا چہرہ دیکھنے لگیں۔ان کا بچہ مر گیا ہے،اب وہ کبھی ماں نہیں بن سکیں گی۔کیا اب بھی وہ نہ روئیں؟۔۔وہ یک ٹک ان کو دیکھتی چلی گئیں۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟” دادی سکینہ سخت لہجے میں بولی۔
“آپ کو ذرا افسوس نہیں؟”شمائلہ کی آواز میں کرب تھا۔
“میں تمہاری طرح بیوقوف نہیں ہوں۔رونے سے کچھ حاصل ہوتا تو میں بھی ضرور روتی۔ابھی کچھ دیر میں ابراہیم اسلام آباد سے کراچی پہنچ جائے گا،اور جب اسے یہ خبر ملے گی تو وہ کبھی بھی اُسے نہیں چھوڑے گا۔بلکہ ممکن ہوا تو تمہیں ہی چھوڑ دے گا“۔۔
“اماں،پھر کیا کروں؟”شمائلہ کی آنکھوں میں ایک خوف اور بے بسی کی گہری جھلک آئی۔
“ابراہیم کی پہلی بیوی بھی اسی ہسپتال میں ہے”۔دادی سکینہ نے بالکل پرسکون لہجے میں کہا۔”اس کے یہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہونے والی ہے۔نرس اور ڈاکٹر کو ایک خطیر رقم دے کر یہ طے کر لیا کہ تمہارے بچے وہ اسے دے دیں گی اور اس کے جڑواں بچے تمہیں مل جائیں گے“۔ان کی آنکھوں میں ایک چالاک شیطانیت تھی،اور وہ اتنی بے رحمی سے ساری بات کر رہی تھیں جیسے یہ معمول کا واقعہ ہو۔
شمائلہ کچھ دیر کے لیے ہچکچائی،لیکن پھر دادی سکینہ کی چالاکی میں ایسا سحر تھا کہ وہ جلد ہی رضامند ہو گئی۔یہ اتفاق تھا کہ دونوں کے یہاں ٹوئنز تھے۔


”کس قدر ظالم ہیں آپ لوگ؟“ابراہیم کی آواز میں درد کی گہرائی تھی۔”اس کے بچے کو چھین لیا،پھر اسے طلاق دلوادی۔ذرا دل نہیں کانپا آپ لوگوں کا؟“۔ان کی آواز نم ہو گئی،آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔”ٹھیک کہا ہے فاز نے، بزدل مرد محبت نہیں کر سکتے۔میں بزدل ہوں،اماں۔میں نے آپ کے ڈر سے اسے چھوڑ دیا،آپ کے ڈر کی وجہ سے دوسری شادی کر لی۔لیکن میں اسے کبھی دل سے نکال نہیں سکا، کبھی نہیں“۔وہ درد بھرے لہجے میں ماں سے شکوہ کر رہا تھا۔آنسو داڑھی میں جذب ہو گئے اور وہ تیز قدموں سے کمرے سے نکل گئے۔شمائلہ صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔ ان کی دنیا ایک پل میں جیسے تباہ ہو گئی تھی۔دنیا کے تمام رنگ ایک پل میں مانند پڑگئے۔نہ شوہر ان کے رہے،نہ بچے۔۔سب کچھ چھن کھو دیا تھا۔وہ تنہا رہ گئی تھیں۔
”آپ نے مجھے فخر سے شادی کرنے سے روکا۔آپ نے میرے دل میں ابراہیم کی محبت ڈالی۔ابراہیم تو میرے کبھی ہوئے ہی نہیں“۔شمائلہ نے غم اور غصے سے رو کر کہا،اور پھر اس کی آواز میں ایک بے آواز شکایت چھپ گئی تھی،وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں ہوئی تکلیف کو بے نقاب کر رہی تھی۔”آپ نے اپنی ضد اور انا کی خاطر سب کچھ تباہ کر دیا،اماں۔۔سب کچھ“۔وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی،ساس اور بہو کے علاوہ ان کے درمیان پھوپھی بھتیجی کا بھی رشتہ تھا۔لیکن اب جیسے ہر رشتے میں دڑار آگیا تھا۔سکینہ بیگم کچھ کہے بغیر رخ موڑ گئی۔شمائلہ ان پر شکایتی نظر ڈالتی ہوئی کمرے سے چلی گئی۔
رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے،ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی۔ایک سنسان گودام،جہاں صرف چند سرخ اور پیلی روشنیوں کے عکس نظر آ رہے تھے۔باہر کچھ گاڑیاں کھڑی تھیں،اور اندر ایک بڑی میز پر فاز عالم،عرف “وائے ڈی”، سگار گھماتا بیٹھا تھا۔وہ انتظار میں تھا،پرسکون،ایک شکاری اپنے شکار کو قریب آتا دیکھ رہا تھا۔
دروازے پر دستک ہوئی،اور پھر دھیرے سے کھل گیا۔شاہد عباسی اندر داخل ہوا،کالے کوٹ میں،چہرے پر وہی روایتی زہریلی مسکراہٹ،مگر آنکھوں میں غیر یقینی کے سائے۔اس کے پیچھے اس کے تین باڈی گارڈز موجود تھے،جو ہر چیز کا جائزہ لے رہے تھے۔
“وائے ڈی۔۔۔”شاہد عباسی نے قدم آگے بڑھائے،نظریں فاز پر جمی ہوئی تھیں۔
“کافی دیر لگا دی تم نے،شاہد عباسی۔وقت کی قیمت تمہیں معلوم ہے نا؟”فاز نے سگار کی راکھ جھاڑی اور ہلکی مسکراہٹ سجا لی۔
“تم جانتے ہو،مجھے تمہارے جیسے چھوٹے گینگسٹرز پر یقین نہیں۔لیکن جو خبر تم نے بھجوائی ہے،وہ اگر سچ ہوئی تو میں تمہارے ساتھ ڈیل کرنے کے لیے تیار ہوں”۔شاہد عباسی نے گہری نظر وائے ڈی پر ڈالی۔
“اوہ،تو اب میں چھوٹا گینگسٹر ہوں؟ولیم کا ایک سگنل اور تمہاری گردن کسی اور کے ہاتھ میں ہوگی۔پھر سوچو،چھوٹا کون ہے؟” فاز نے ایک طنزیہ ہنسی ہنسی۔
“میں یہاں صرف سچ جاننے آیا ہوں،دھمکیاں سننے نہیں”۔شاہد عباسی کی پیشانی پر ایک ہلکی سی شکن ابھری، مگر وہ جلد ہی خود پر قابو پا گیا۔کمرے کا ماحول بدلنے لگا تھا۔
دوسری طرف،کونے میں کھڑا ایک شخص خاموشی سے تمام صورتحال کا جائزہ لے رہا تھا۔اس کی مٹھی بھینچی ہوئی تھی۔یہ وہی شخص تھا جس کا باپ اس سامنے کھڑے شخص نے قتل کیا تھا،اور آج وہ اسے یہاں تک لے آیا تھا،ایک خاموش جال میں۔
”میں نے تمہیں ریکارڈنگ بھجوائی تھی اس میں واضح ہے کہ ولیم تمہیں قتل کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔اب تم فیصلہ کرلو میرے ساتھ ڈیل کرکے بچنا چاہتے ہو یا پھر ولیم کے ہاتھوں مرنا“۔
”چلو، مان لیتے ہیں کہ تم مجھے بچا سکتے ہو،تو پھر مجھے کیا کرنا ہوگا؟”شاہد عباسی نے ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھا۔
“تمہیں بس اتنا کرنا ہوگا کہ ولیم کی اگلی کھیپ کی لوکیشن میرے ساتھ شیئر کرو۔ میں تمہیں ولیم ست بچا لوں گا،اور تمہارا سارا مال بھی محفوظ رہے گا۔” وائے ڈی نے ایک لمحے کو نظریں ارمان پر دوڑائیں،جو اب تک شاہد عباسی سے پوشیدہ تھا۔پھر کرسی سے اٹھ کر شاہد کے قریب آ گیا۔
“بہت چالاک ہو وائے ڈی۔۔۔لیکن میں تمہیں اتنا بے وقوف نہیں سمجھتا کہ تم مجھے یہ آفر صرف ایک لوکیشن کے بدلے دے رہے ہو۔تمہارا اپنا فائدہ کیا ہے؟” شاہد عباسی کچھ دیر چپ رہا،پھر ہلکا سا قہقہہ لگا کر بولا
“میرا فائدہ بس اتنا ہے کہ ولیم کی گیم ختم ہونی چاہیے۔ اور اس کے لیے تمہیں میرے ساتھ شامل ہونا ہوگا۔۔۔یا پھر ولیم تمہاری لاش کا سودا کرے گا”۔چند لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔
“ٹھیک ہے،میں اپنے بندے سے کال کرکے کہتا ہوں وہ تمہیں لوکیشن سینڈ کردے گا“۔شاہد عباسی نے گردن موڑی،جیسے کچھ سوچ رہا ہوپھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
“بالکل، کرلو۔”فاز نے کندھے اچکائے۔
شاہد عباسی نے ہی اپنی جیب سے فون نکالا،کال ملا کر حکم دیا اور جیسے ہی موبائل جیب میں رکھا ایک لمحے میں ماحول بدل گیا۔فاز نے ایک خفیہ اشارہ کیا،اور اگلے ہی پل،شاہد کے تینوں آدمی زمین پر ڈھے چکے تھے۔خاموش گولیاں،بغیر کسی آواز کے۔
شاہد عباسی نے تیزی سے پلٹ کر فاز کی طرف دیکھا،مگر تب تک مراد نے اس کے سر پر گن تان لی تھی۔
“کوئی چالاکی نہیں،شاہد عباسی۔تمہارا کھیل ختم ہوچکا ہے۔” مراد کی آواز میں ایک عجیب ٹھنڈک تھی۔شاہد عباسی کا چہرہ فق ہوگیا۔اسے اب سمجھ آ گیا تھا وہ خود چل کر اپنے جال میں آ چکا تھا۔وہ طلال جو کئی مہینے سے ان کے ساتھ تھا۔۔جو ان کے بگڑے کام منٹوں میں سنوارنے لگا تھا وہ اصل میں ان کا مخلص تھا ہی نہیں۔۔وہ تو ایک جال تھا جس میں کئی ماہ سے پھنستے پھنستے بلآخر پورا پھنس چکے تھے۔۔آج وہ اس کے کہنے پر یہاں آگئے تھے۔ان کے سر پر ولیم کی تلوار لٹک رہی تھی اور وہ اسی خوف میں وائے ڈی سے مدد لینے کو تیار ہوگئے تھے۔
“اب چلو ہمارے ساتھ،تمہیں ولیم کے بارے میں سب کچھ بتانا ہوگا۔۔۔ورنہ تمہاری کہانی یہیں ختم کر دی جائے گی۔”
خاموشی گہری ہو چکی تھی۔باہر کھڑی گاڑی کے دروازے کھلے، اور اگلے لمحے شاہد عباسی کو وہاں لے جایا جا چکا تھا، جہاں سے واپسی ممکن نہیں تھی۔

جاری ہے

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on