بری طرح جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا۔________________۔اسپتال کی ان سرد و طویل راہداریوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین کی آمد معمول کے مطابق جاری تھی۔۔۔ وہاں سب ہی پریشان تھے لیکن پھر بھی کسی کو کسی سے کوئی غرض نہ تھی کہ انھیں بس اپنے ان پیاروں کی ہی فکر تھی جن کے ساتھ وہ وہاں موجود تھے۔۔۔ ان سب میں صرف ایک ابراد تھا جو پتھر کا بت بنا بیٹھا تھا۔۔۔ ایک وہی تھا جو اپنے ساتھ لائے گئے مریض کو لے کر بھی بھاگ دوڑ نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔ یہ سب بھی سمیحہ دیکھ رہی تھی۔۔۔ اس کے ساکت بیٹھے وجود میں جنبش شیریں کرمانی کے ساتھ آتے وجود کو دیکھ کر ہوئی تھی۔”ڈیڈ!“ وہ یوں ہی ساکت و جامد بیٹھا کسی غیر مرئی نقطے پہ نگاہیں ٹکائے ہوئے تھا جب ایک مانوس سی آواز نے اس کے سوچوں کو منتشر کیا اور اس نے نگاہوں کا زاویہ بدلا تھا۔ انقہ کی والدہ کی معیت میں آنے والے پرویز عثمانی کو دیکھتے ہی اس کے ہونٹوں نے بے آواز جنبش کی تھی۔”ڈیڈ! ایک بار میری بات تو سن لیں۔“ قریب تھا کہ وہ اٹھ کر ان کے سامنے جا کھڑا ہوتا لیکن ماضی میں کہے گئے اپنے ہی الفاظ کی بازگشت اسے واپس بیٹھنے پر مجبور کر گئی تھی۔”ہمارے بیچ سب کچھ اسی رات ختم ہو گیا تھا، جب تمھاری وجہ سے تمھاری ماما کی جان گئی تھی۔“ کیسی سفاکیت تھی ان کے لہجے میں جس نے ابراد کے جسم سے سارا خون ہی نچوڑ لیا تھا۔۔۔۔ یہ الفاظ ایسے نہ تھے کہ وہ مزید وہاں رک سکتا۔۔۔ پچھلی بار وہ ان الفاظ کو سنتے اپنے ہی گھر کو خیر باد کَہ آیا تھا اور آج وہ ان کی نظروں میں آئے بنا ہی اسپتال سے نکل گیا تھا۔”ابراد! کہاں چلے گئے ہو تم؟“ وہ ابھی اپنی گاڑی مرکزی شاہ راہ پہ لایا ہی تھا جب اس کا فون بج اٹھا اور حسبِ توقع فون کے دوسری جانب سمیحہ تھی۔”جب مریضہ کے اصلی لواحقین آ گئے ہیں تو میری وہاں موجودگی کا کوئی جواز نہیں۔“ اس کے لہجے میں ویسی ہی سرد مہری تھی جو پچھلے کئی سالوں سے اس کی ذات کا خاصہ تھی۔”وہ تمھاری منکوحہ ہے۔“ سمیحہ کو ایک پل لگا تھا سمجھنے میں کہ واپس اپنی ذات کے خول میں سمٹ چکا ہے لیکن اس نے اس پہ ضرب لگانے کی ایک کوشش ضرور کی تھی۔”میں گھر جا رہا ہوں۔۔۔ تم بھی گھر جا کر آرام کرو۔۔۔ ہم کل شادی کی خریداری کے لیے جائیں گے۔“ اس نے یوں کہا جیسے سمیحہ کی بات سنی ہی نہ ہو۔”عجیب انسان ہے۔“ اپنا وار خالی جاتا دیکھ وہ بڑبڑا کر رہ گئی جب کہ دوسری جانب گھر کو جاتا ابراد ایک بار پھر ماضی کے اذیت ناک سفر پہ نکلا تھا۔_____________________۔
Barang E Khwab E Seher By Saira Naz Part 2
