This is one of the best Urdu Novel Free of cost In PDF. The Writer Is Extremely Well known For Her Best Urdu Novels Like Social, Heartfelt, and romantic. Here is her another outstanding novel Complete PDF in NEXT PAGE….
”انقہ! یہ کیا بدتمیزی ہے؟ تمھیں پتا نہیں کہ کسی کے کمرے میں دستک دے کر داخل ہوتے ہیں۔“ وہ جو کچھ دیر قبل ہی تازہ دم ہو کر نکلا تھا، انقہ کے بنا اطلاع منھ اٹھا کر اندر داخل ہونے پر اس کا مزاج برہم ہوا۔۔۔ وہ بستر سے اپنی قمیض اٹھا کر پہنتے خاصا غصے سے بولا تھا لیکن مقابل تو کسی اور ہی دھن میں تھی۔”ابراد! مجھے کچھ کہنا ہے آپ سے!“ اس کے لہجے کی سختی کو خاطر میں لائے بنا وہ اپنی ہی بات کر رہی تھی۔۔۔ ابراد نے بھنویں اچکا کر اسے یوں دیکھا گویا اسے بولنے کا عندیہ دیا ہو۔”مجھے آپ سے محبت ہے۔“ ابراد کو لگا کہ یہ انگریزی میں کہے گئے تین لفظ نہیں بلکہ پگھلا ہوا سیسہ ہو جو کسی نے اس کے کانوں میں انڈیل دیا ہو۔”تمھارا دماغ ٹھیک ہے؟“ درشتی سے کہتے وہ دو قدم آگے آیا تھا۔”محبت کرنا کوئی جرم تو نہیں۔“ وہ بے خوفی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بول رہی تھی۔”کیا عمر ہے تمھاری؟“ ابراد تندہی سے پوچھتا چند قدم مزید آگے آیا تھا۔”سترہ کی ہونے میں سات دن بچے ہیں بس!“ اس کے اپنے مقابل آ جانے پر بھی وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئی تھی۔”اور میری عمر جانتی ہو کیا ہے؟“ وہ اب براہِ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جتاتے لہجے میں استفسار کر رہا تھا۔”مجھے پتہ ہے آپ ایک دو ماہ پہلے ہی ستائیس کے ہوئے ہیں۔۔۔۔ محبت میں عمروں کا فرق کوئی معنی نہیں رکھتا۔“ ڈھٹائی کے اس مظاہرے پر ابراد کا خون کھول کر رہ گیا۔۔۔ اسے کیا علم کہ یہ بہادری اس کے دوستوں کی یقین دہانی کی بدولت تھی جو ابراد کی توجہ کو اس کی محبت پر محمول کرتے، اسے بھی اس راہ پہ ڈال گئے تھے۔۔۔ اس کی بات پر چکرا تو دروازے پہ دستک دینے کے لیے کھڑی اریکہ بھی گئی تھی۔۔۔ وہ ابراد کو کیا بتانے آئی تھی؟ اور اب یہاں اسے ایک نئی کہانی سننے کو مل رہی تھی۔۔۔ اس کی بہن کب اتنی بڑی ہوئی کہ وہ یوں بے دھڑک اپنی زندگی کے فیصلے لینے لگی تھی۔”کیا تم جانتی ہو کہ ہمارے والدین اس وقت کہاں اور کیوں گئے ہیں؟“ ابراد نے غصے کو پرے دھکیلتے اب اسے حقیقت سے آگاہی دینا چاہی تھی۔”ماما نے کہا تھا کہ وہ مجھے آ کر بتائیں گی۔۔۔ انھوں نے کہا کہ میرے لیے ایک حیرت انگیز خبر ہے۔“ وہ نا سمجھی سے اسے دیکھتے ہوئے گویا ہوئی، یوں جیسے یہاں اس سوال کا مقصد سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔”دو دن بعد میرا اور اریکہ کا نکاح ہے۔۔۔ وہ لوگ سب کو اسی کی دعوت دینے گئے ہیں۔“ آسمان گرا، نہ زمین پھٹی لیکن انقہ حیران ضرور ہوئی تھی۔”اریکہ آپی آپ کو پسند کرتی ہیں؟“ اس کا لہجہ بالکل بے تاثر تھا۔”ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں اور یہ نکاح ہماری مرضی سے ہو رہا ہے۔“ ابراد نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا تھا۔”آپی نے مجھے بتایا ہی نہیں! تو پھر اب میں آپ سے محبت نہ کروں؟“ اس کے لہجے میں بے یقینی و بے بسی ایک ساتھ گھلی تھی۔۔۔ ابراد کے لیے اس کا ردعمل خاصا غیر متوقع تھا۔۔۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اپنی بات رد ہو جانے کے بعد وہ یوں پرسکون رہے گی۔”بتایا تو تم نے بھی نہیں گڑیا!“ باہر کھڑی اریکہ نے خود کلامی کی تھی۔”ہرگز نہیں!“ ابراد نے اس پہ حد نافذ کرنا لازم سمجھا جو بظاہر کوئی واویلا نہیں کر رہی تھی لیکن اس کے دل میں ایک کہرام مچا تھا۔”ٹھیک ہے! میں آپی کے لیے بہت خوش ہوں۔“ وہ اپنی بات کَہ کر واپسی کے لیے مڑ گئی لیکن ابراد کی پکار نے اس کے قدم زنجیر کیے تھے۔”انقہ!“ اس نے ترچھا رخ ہوتے ابراد کو دیکھا لیکن مکمل نہ مڑی، شاید اسے پتھر ہو جانے کا خوف تھا۔”تم ایک بہت اچھی لڑکی ہو۔۔۔ تمھارے لیے ضرور کہیں نا کہیں، کوئی نا کوئی ضرور بنا ہوگا جو تمھارا بہت اچھے سے خیال رکھے گا۔۔۔ اپنے دل میں اپنی آپی کے لیے کوئی عناد نہ رکھنا۔۔۔ لازمی نہیں! کہ ہمیں زندگی میں ہر وہ چیز ملے جس کی ہم نے خواہش کی ہو۔۔۔ اللّٰه پاک نے تمھارے لیے بھی کچھ بہترین سوچ رکھا ہوگا۔“ ابراد اسے تسلی دینے کے ساتھ ساتھ اس کے دل سے اریکہ کے لیے کوئی بھی غلط خیال نکال دینا چاہتا تھا۔۔۔ دروازے پر کھڑی اریکہ اس کی محبت کی قائل ہوئی تھی۔”ٹھیک ہے! ویسے بھی میں آپی سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔۔ آپ کے لیے ڈھیروں نیک خواہشات!“ اس پل ابراد کو لگا کہ اس کے کمرے میں آنے والی انقہ یہاں سے جانے والی لڑکی سے قدرے مختلف تھی۔۔۔ وہ ان پلوں میں شاید اپنی عمر سے کئی گنا بڑی ہو گئی تھی۔۔۔۔ وہ پلٹ گئی تو ابراد نے اس بار اسے پکارنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔۔۔ اس سے بات کرنے کی غرض سے وہاں موجود اریکہ اس خاموشی سے واپس پلٹ گئی، جیسے وہ یہاں آئی ہی نہ تھی۔۔۔ ابراد نے بھی نادانی کے اس باب کے یوں ہی بند ہو جانے پر شکر ادا کیا لیکن کیا سچ میں یہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا تھا؟ اس سوال کا جواب جلد ملنے والا تھا۔