”دکھاؤ مجھے۔“ ابراد نے اپنے لہجے کو حتی المقدور نرم رکھتے ہوئے اس کے پیر کو تھامنا چاہا مگر وہ روتے ہوئے پاؤں واپس کھینچ گئی تھی۔ ”نہیں! آپ مجھے ڈانٹیں گے۔“ اس نے سوں سوں کرتے اپنی بات مکمل کی تو اس کی معصومیت پر ابراد کے چہرے پر ایک بےساختہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔۔ یعنی کہ اسے ابراد کے غصے کا اندازہ تھا۔ ”میں کچھ نہیں کہوں گا۔۔۔۔ شاباش! اب دکھاؤ اپنا پیر۔“ اس نے پیار سے اسے پچکارتے ہوئے کہا کہ وہ اریکہ کو عزیز تھی تو اسے بھی ہر حال میں اس کی خوشی کو مقدم رکھنا تھا۔ ”سچی!“ اس کے حیرانی بھرے استفسار پر ابراد نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا تو وہ جھجھکتے ہوئے اپنا پیر اس کے گھٹنے پر ٹکا گئی۔۔۔ ابراد نے اسے تھامتے، ہلا جلا کر دیکھا تو انقہ یک دم چیختے ہوئے، اس کا بازو اپنے ہاتھوں میں دبوچ گئی۔۔۔ ابراد نے بےساختہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے، اس کا سر تھپتھپایا تھا۔ ”ڈاکٹر کے پاس جانا پڑے گا۔“ تینوں خواتین پر ایک نظر ڈالتے، اس نے انھیں مطلع کیا کہ اس کے مطابق انقہ کے پیر کی سوجن بتا رہی تھی کہ ہڈی کو کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور ہوا ہے۔ ”میں نہیں جاؤں گی۔۔۔ ڈاکٹر ٹیکا لگائے گا۔“ انقہ نے تو ڈاکٹر کا نام سنتے ہی مزید اونچا رونا شروع کر دیا۔۔۔ وہ مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی۔ ”شش! انقہ تو بہت بہادر ہے۔۔۔ اسے کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔۔ میں بھی تو ہوں گا ناں تمھارے ساتھ!“ ابراد نے اسے پیار سے پچکارا کہ وہاں موجود باقی تینوں خواتین بھی انقہ کے رونے میں شامل ہو چکی تھیں۔۔۔ یہ وہ گڑیا تھی جس میں ان سب کی جان بستی تھی سو اس کی تکلیف پر انھیں درد ہونا لازم تھا۔۔۔ ابراد جانتا تھا کہ انھیں چپ کروانے کے لیے اس گڑیا کا پرسکون ہونا ضروری ہے سو وہ اسے ہی رام کر رہا تھا۔ ”میں پھر ٹیکا لگواتے وقت آپ کا ہاتھ پکڑوں گی۔“ اس کی فرمائش پر ابراد نے جھٹ اثبات میں سر ہلایا۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ اریکہ کے ہمراہ، یہ جانے بنا ہی اسے بازوؤں میں اٹھائے گاڑی کی طرف جا رہا تھا کہ اس کے حصار میں موجود سولہ سالہ لڑکی کے دل میں اپنے سے گیارہ سال بڑے ابراد کے لیے محبت کی ایک کونپل پھوٹ پڑی ہے۔۔۔
Now click on the DOWNLOAD button below, wait few second, and enjoy reading.