پرتھ کے ساحل پر شوٹنگ جاری تھی اور داؤد گھوڑے کو ساحل پر ہوا کی رفتار سے دوڑا رہا تھا۔۔ لگتا تھا اسے گھڑ سواری میں کافی مہارت تھی اور اس بات کا اندازہ اس لمحے اس کی گھڑ سواری دیکھ کر ہو رہا تھا۔ جب ہی نہ جانے کیا ہوا اور گھوڑا بدک کر ہنہنانے لگا۔۔ داؤد نے بھرپور کوشش کی کہ وہ اسے قابو کر لے، لیکن گھوڑا اس وقت کسی صورت قابو میں نہیں آ رہا تھا۔ اس نے اپنی اگلی دونوں ٹانگوں کو اٹھاتے ہوئے داؤد کو پیچھے گرانا چاہا لیکن داؤد کو بھی جیسے اب ضد سوار ہوگئی تھی۔۔ اسے اس گھوڑے کو اب قابو کرنا ہی تھا۔ کریو نے حفاظتی اقدامات کے لئے لوگوں کو پیچھے ہٹانا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔ ڈائرکٹر کا کہنا تھا کہ سین کٹ کر دیا جائے۔۔۔ لیکن میڈ اس پورے سین کو فلمانا چاہتا تھا۔۔ کیونکہ سین جہاں تناؤ کا شکار ہو رہا تھا۔۔۔ وہیں اس میں لوگوں کی دلچسپی بھی بڑھنا شروع ہو گئی تھی۔۔۔۔ ہر شخص اب یہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر اب کیا ہوگا۔ جب ہی لوگوں نے دیکھا کہ گھوڑا آہستہ آہستہ پرسکون ہوتا جا رہا ہے۔ داؤد اس پر آگے کو جھکا اس کی گردن سے چپکا ہوا تھا۔۔ وہ اسے آہستہ آہستہ تھپک رہا تھا۔۔۔ بالآخر سین کٹ کیا گیا اور اسٹنٹ مکمل ہوا۔ گھوڑا اب خراماں خراماں چل رہا تھا اور داؤد کسی فاتح کی طرح اس کی پیٹھ پر سوار تھا۔۔۔۔
“ویلڈن!” سب سے پہلے میڈ تالیاں بجاتا آگے آیا۔۔ یہ نخریلا اور اکڑو ہیرو ہی یہ کام کر سکتا تھا۔ سوچتے ہوئے اس نے داؤد کی پیٹھ تھپکی۔۔ داؤد نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور گھوڑے کی باگ قریب کھڑے آدمی کو تھما کر آگے بڑھ گیا۔۔۔ اس کا سین مکمل ہو گیا تھا اور اس سے زیادہ وہ میڈ سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔۔ نہ جانے کیوں اسے پہلی ہی نظر میں یہ شخص سخت زہر لگا تھا۔۔۔ لیکن اس کی اپنی کچھ مجبوریاں تھیں جو وہ اس کام کے لئے راضی ہو گیا تھا۔۔۔۔ میڈ کی بھی گہری نگاہیں اس کا تعاقب کر رہی تھیں جو آہستہ آہستہ بھیڑ سے دور جاتا دکھائی دے رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔